New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 01:23 PM

Books and Documents ( 5 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 2

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

غبار خاطر
میں مسلمان اس لیے ہوں کہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا۔ بیس سال تک وہی تعلیم حاصل کرتا رہا جو میرے بزرگوں اور سماج کا تقاضہ تھا۔ اسی عقیدہ میں بندھا رہا جس میں وہ لوگ خود بندھے ہوئے تھے۔ میں ان کی نقل کرتا رہا مجھے یہ بالکل نہیں معلوم تھا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ جس طرح وہ دوسروں کے عقائد کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے میں بھی اسی نقطۂ نظر کا حامل بن گیا تھا ۔
۲۰ سال کی عمر کے بعد شادی شدہ ہوکر میں خود صاحب خاندان ہوگیا۔پھر مجھے اپنی بات کہنے کی آزادی نصیب ہوگئی۔ پہلے میں دوسروں کی دی ہوئی روزی پر زندہ تھا مگر اب میں اپنے علاوہ اپنے بیوی بچوں کا روزی رساں بن گیا تھا۔
پندرہ سال کی عمر سے ایک باشعور فرد کی طرح اپنے گردو پیش میں موجود ہر شے کا بغور مطالعہ شروع کرچکا تھا۔ انفرادیت کے بیج نے میرے ذہن میں ایک پودے کی صورت اختیار کرلی تھی ۔ وقت کے ساتھ اس کی نشو ونما میں توسیع ہوتی رہی۔ چودہ سال کی عمر میں ایک بڑا سانحہ مجھ پر گزر چکا تھا اس عمر سے قبل میں نہیں جانتا تھا کہ میرے ماں باپ مجھے جنم دینے کے دس ماہ بعد اس دنیا سے چل دیے تھے اور میں منہ بولے ماں باپ کے رحم و کرم پر پرورش پارہا تھا۔ اس حقیقت کے انکشاف کے بعد مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ میں جسے سچ سمجھ رہا تھا وہ سراسر دھوکہ تھا یا جھوٹ تھا۔ اس کے بعد میں ہر رشتہ کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ جھوٹ سبھی کو عزیز ہوتا ہے، اس لیے سچ پر قائم رہنے یا اس کا ساتھ دینے کی وجہ سے ہمیشہ نقصان ، چوٹ، درد ، زخم کے سوا اور کچھ نہیں ملتا ۔ اس لیے جھوٹ سب کا ساتھی اور مددگار نظر آتا ہے۔

میں چونکہ ایک زمیندار گھرانے میں پل رہا تھا اس لیے مزدوروں اور ملازموں کے ساتھ ہونے والی بد سلوکیوں اور خوش اخلاقیوں سے اچھی طرح واقف ہوتا رہتا تھا۔ اس کے علاوہ دینی کاروبار میں جن عقائد کے ساتھ میرے بزرگوں اور ہم عمروں کا واسطہ تھا اس پر بھی میری شک کی نگاہیں پڑنے لگی تھیں ۔ حالانکہ ان کے ساتھ میلادوں اور ماتمی مجلسوں میں شریک ہونے سے مجھے انکار نہیں تھا مگر میری تنقیدی نظران پر رہتی تھی۔ میں اپنی واقفیت میں ا ضافہ کا دھیرے دھیرے حریص ہوتا جارہا تھا۔ ثواب دارین بانٹنے والی مجلسوں، نعتیہ مشاعروں، تبلیغی اجتماع اور قوالیوں میں بھی شریک ہوتا تھا۔ ماہ ربیع الاوّل میں رات رات بھر جاگ کر علماء دین کی تقریریں بھی سنتا تھا۔ جس طرح میں مشاعروں میں پسندیدہ غزلیں نوٹ کیا کرتا تھا اسی طرح علماء دین کی تقریریں بھی قلم بند کیا کرتا تھا۔ یہ ساری مشق اٹھارہ سال کی عمر تک جاری رہی۔ شادی شدہ اور ملازمت زدہ زندگی میں داخلہ کے بعد میرا تعلق تقریروں سے ختم ہوکر تصنیفات کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہوئی کہ میری پہلی ملازمت کلکتہ میں بحیثیت پروف ریڈر شروع ہوئی تھی۔ مجھے ہر روز اردو اخبار کے چھتیس کالموں میں اصلاح کرنی ہوتی تھی۔ تقریباً ایک سال تک مطالعہ برائے شکم پروری کا نتیجہ یہ ہو اکہ تقریباً کتاب کے دو ہزار صفحوں کے برابر مجھے ہر ماہ مختلف مضامین اور خبروں کو پڑھنا ضروری تھا۔ اس طرح اس ملازمت کے دوران میں نے کم از کم ۱۸ ہزار صفحات پر لکھی عبارت کو پڑھا ہوگا۔ اس کے بعد آنکھ کی روشنی متاثر ہوئی تو یہ کام چھوڑ دیا۔ ایک سال بعد دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ میں ایک عارضی ملازمت ملی اس نے تقریباً دو سال تک پھر مطالعہ میں مصروف رکھا ۔ یہاں دینی اور ادبی کتابوں سے جو بھی استفادہ کرسکتا تھا وہ میں نے حاصل کیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم۔اے انگریزی ادب و لسانیات میں داخلہ لے لیا۔ یہاں تقریباً چار سال بحیثیت متعلم اور معلم مقیم رہا۔ یہاں کے قیام کے دوران اسلام ، تاریخ ، ادب ، سماجیات اور خرافات سبھی میرے مطالعہ کا حصّہ رہے۔
پاکستان سے اردو اخبارات کے آنے کا سلسلہ ۱۹۶۵ء کی لاہور والی جنگ کے بعد بند کردیا گیا۔ عام ہندوستانی مسلمان پاکستانی اردو اخباروں پر عاشق تھا۔ اس کے دیدار کا ہفتہ وار منتظر رہتا تھا۔ اس میں شایع شدہ ہر بات کو اسلامی نظر اور حمایتی عقیدہ کے ساتھ پڑھا جاتا تھا۔ میں چونکہ واضح طور پر جستجو ئے حق کے جذبہ سے متاثر تھا ، اس لیے مختلف عقائد، مذاہب اور فلسفیوں کا مطالعہ جاری رکھ رہا تھا۔ اس سے میں آگاہ ہورہا تھا کہ دوسرے پڑھے لوگ جن کو ہم علمی وقار کا حامل سمجھتے تھے وہ مسلمانوں اور اسلام اور قرآن کے بارے میں کیا رائیں رکھتے تھے۔ سب سے پہلے تو ان لوگوں کی کتابوں کی تلاش تھی جو قرآن پڑھ کر اسلام قبول کرچکے اور پھر اپنے مطالعہ اور تصانیف سے لوگوں کے ادیان کے تقابلی مطالعہ کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے مارمے ڈیوک پکتھال کا قرآن کا انگریزی ترجمہ پڑھا اسد لیوپولڈوئس کی کتاب اور دیگر تراجم پڑھے۔ مانٹے گومیری واٹ، نکلسن، آربری فرتھ شوعان، میک ٹگارٹ، گائی ایٹن، ایڈورڈ سیل ، راڈول وغیرہ کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد عہد نامہ قدیم یعنی تورات جو بازار میں انجیل یا بائبل کا ایک حصّہ بنا کر ملتی ہے اس کا مطالعہ کیا۔ ایک شیعہ عالم مولوی مہدی حسن کی آیات بینات ، ملا پیر داماد ، علامہ باقر مجلسی کی تصنیفات تاریخ الخلفاء مصنفہ علامہ جلال الدین سیوطی، تفسیر سید قطب شہید، تفسیر سید احمد خاں، تفسیر علامہ مودودی، اسلامی تصوف سے متعلق مثنوی مولانا روم، فتوحات مکیہ ، کشف المحجوب، گنج ارشدی ، کلیّات عبدالقادر بیدلؔ ، الاتقان فی علوم القرآن ، علامہ سیوطی، تاریخ فرشتہ (ابوالقاسم) وغیرہ۔ 
بدھ مذہب کی کتاب آخرت کا انگریزی ترجمہ، ویدوں کے ترجمے جو اقوام متحدہ کے ثقافتی تشہیری مشن نے کردیے، دی ہسٹری آف گاڈ مصنفہ کے وِن آرم اسٹرانگ، عبرانی ادب کے تین ہزار سال مصنف نتھانی ایک کیراوٹز اور بھی بہت ساری کتابیں جو جب اور جہاں سے مل سکیں ان کا مطالعہ جاری رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو ان کے علماء دین دھرم نے یہ یقین دلا یا ہے کہ حق پر ان کی اجارہ داری ہے جو ان کے جیسے عقائد کے حامل نہیں ہیں وہ سراسر گمراہ ہیں اور اپنی زندگی غارت کررہے ہیں۔
کوئی بھی فرد ہو یا جماعت وہ یہ پسند نہیں کرتی کہ اس پر کوئی بھی فرد یا جماعت گمراہی کا لیبل چسپاں کرے ۔ کیوں کہ ایسی صورت اور حالات کے پیدا ہونے سے سماجی رشتوں پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ شادی بیاہ اور کاروبار اور ملازمت میں ملنے والی سہولتوں اور مراعات سے محرومی کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی اپنے انفرادی اور سماجی تحفظ کے لیے خود کو کسی نہ کسی عقیدہ یا مذہب سے وابستہ رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے مشاہدے اور مطالعہ کی روشنی میں اپنے یقین و عقیدے میں تبدیلی تو کرلیتے ہیں مگر اس کا اظہار عام نہیں کرتے۔ جہاں کہیں اگر کرنا بھی پڑے تو کوئی محتاط طریقہ اختیار کرلیتے ہیں، مثلاً وہ لوگ جنھوں نے کارل مارکس اور لینن کے فلسفۂ حیات سے متاثر ہوکر اپنے عقائد میں تبدیلیاں کرلیں اور ذاتی طور پر روایاتی مذہب سے کنارہ کش ہوگئے، ان کو بیسویں صدی میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی مذمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کے خلاف مذہب پرستوں نے کوئی محاذ برائے اصلاح قائم نہیں کیا۔ وہ ’میرا دین میرے لیے اور تمھارا دین تمھارے لیے‘ کے موقف کے حامی ہونے کا اظہار کرتے رہے۔اور ان کو ان کے سماج نے کسی طرح بے عزت نہیں کیا ۔ حالانکہ کچھ ایسے لوگوں میں ایسے دلیر نکلے جنھوں نے تقریروں تحریروں کے ذریعہ اپنے سماجی مذہب کا مذاق اڑایا اور ان کے حامیوں کو بے بصیرت قرار دے کر خوش ہوئے۔ مسلمانوں میں جوشؔ ملیح آبادی، ساحرؔ لدھیانوی، کیفیؔ اعظمی، وامقؔ جونپوری، فیض احمد فیضؔ ، ن۔م۔راشد، مجید امجد جیسے اور بہت سے لوگ۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ روزمرہ کی زندگی میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سماجی تبدیلیوں کے حامی تھے۔ اس لیے کسی مذہبی رہنما کو ان کے خلاف عوام کو برہم کرنے میں کوئی کامیابی نہیں ہوسکی۔ پھر یہ کہ ادیبوں اور شاعروں نے وہ زبان اختیار کی تھی جس کا اثر دماغ پر کم دلوں پر زیادہ ہورہا تھا۔ کچھ ایسے بھی تھے جنھوں نے دل کی ضرورتوں پر کم دماغ کی طلب پر زیادہ توجّہ دی۔ تلاش حق کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ شاید ازل سے ہی میرے خمیر میں وہ مادّہ شامل ہے جو مجھے اس کے لیے کوشاں رکھتا ہے۔ اسی لیے مہاتما بدھ کا وہ قول مجھے بے حد پسند آیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جب تک تمھاری عقل اور تمھارا شعور کسی بات کو قبول کرنے کو تیار نہ ہو تم اس کو کسی کے کہنے سے یہاں تک کہ میرے کہنے پر بھی اس پر یقین نہ کرو۔ یہ بات کوئی بہت ہی معقول اور خود اعتمادی سے سرشار آدمی ہی کہہ سکتا ہے۔ میں ان کی اس خود اعتمادی اور رہنمائی کو صدق دل سے سلام کرتا ہوں۔ یہ بات اگرمیں متعصب اور تنگ نظر مسلمان ساتھیوں کے سامنے دہراؤں تو وہ برجستہ کہہ اٹھیں گے کہ میں نے اسلام ترک کردیا ہے اور بدھ مذہب اختیار کرلیا ہے۔ اپنے ایسے اعلان سے وہ خود اپنی عقل کے اندھے پن کا بلا احساس مظاہرہ کر بیٹھیں گے۔ ایک بار میں نے ایک یہودی شاعر کی ایک نظم سے متاثر ہوکر اردو میں ’کل آج اور کل‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی اور اس پر لکھا کہ ایک معروف یہودی شاعر حائم گوری کی ایک نظم سے متاثر ہوکر لکھی گئی۔ میرے چند ساتھیوں نے جو میرے ساتھ جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں لکچرر تھے، انھوں نے لوگوں کو طنزاً یہ بتانا شروع کیا کہ’’وہ آفاق جو یہودی ہوگئے ہیں ان کی بات کررہے ہیں‘‘ ہمارے اسلامی معاشرہ میں اس بات کی سخت ہدایت دی جاتی ہے کہ مخالف عقیدوں کے لوگوں کی مذہبی مجلسوں میں نہ شرکت کرو اور نہ ان کی کتابوں کو ہاتھ لگاؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو گمراہ ہوکر جہنم میں جاؤ گے۔ مجھ پر بھی پندرہ سولہ سال تک یہ پابندی تھی۔کبھی کبھی اس بات پر ہمارے عزیزوں کو حیرت ہوتی تھی کہ میرے سارے قریبی دوست میرے گھر والوں کے عقیدوں کے مخالف ہونے کے باوجود میرے دوست ہیں۔ میرے اپنے دوستوں میں جو لوگ تھے ان کو نہ جانے مجھ پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیوں تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ میں نے کبھی کسی غلط کام میں نہ ان کے ساتھ شرکت کی اور نہ کبھی ان کو کسی نامناسب یا غلط کام کا مشورہ دیا بلکہ ان کی آمادگی دیکھ کر ان کو غلط کام کرنے سے سختی سے منع کیا۔ اس وقت ان کو بُرا ضرور لگا۔ کچھ دنوں کشیدگی بھی رہی۔ مگر بعد میں پھر تعلقات استوار ہوگئے۔
مطالعہ اور مشاہدوں کی کثرت نے مناسب نتائج کے اخذ کرنے میں ہمیشہ میری مدد کی۔ اس طرح میرا دل اور دماغ اپنے لیے روایاتی مذہبی عقیدوں میں دلچسپی کھونے لگا۔ میں مذہبی کتابوں میں جھوٹے اضافوں کی گرفت کرنے کی صلاحیت اپنے اند رمحسوس کرکے خوش ہونے لگا۔ ۴۰ سال کی عمر تک پہنچنے پر میں اس پوزیشن پر آچکا تھا کہ بیباکانہ طور پر دوسروں کے سامنے اپنے خیالات رکھ سکوں اور ان کو بتا سکوں کہ میں ویسا نہیں ہوں جیسا وہ مجھے خیال کرتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی خوف نہیں آتا کہ میں اپنے گھر والوں کو یہ بتاؤں کہ وہ جس خدا کو پوجتے ہیں میں اس کو نہیں پوچتا۔ میرے اپنے عقیدے کا خدا عام روایاتی مذہبی عقیدہ والوں سے مختلف ہوچکا ہے۔ میری اپنی اس سے گفتگو اب ایک مختلف مقام سے ہوتی ہے۔
اب یہ بات اچھی طرح ذہن میں عقلی دلائل اور تاریخی حقائق کی بنیاد پر مجھ پر جم گئی کہ مذہب میں کچھ حق پرست لوگ ہمیشہ موجود تھے اور آج بھی ہیں کچھ لوگ اپنی حق پرستی کا بگل بجاتے گلی کوچوں میں گھومتے پھرتے ہیں اور کچھ ایسا کرنا بالکل پسند نہیں کرتے۔ ہماری دنیا کے ہر مذہب میں دونوں طرح کے لوگ ملتے ہیں جو لوگ اپنی شہرت چاہتے ہیں وہ عالم دین کہلاتے ہیں۔ مبلغ اور رہنما کہلاتے ہیں اور جو ایسا نہیں چاہتے وہ سادھو سنت اور صوفی کہلاتے ہیں۔ لیکن آج کی دنیا میں ٹی۔وی چینل نے صوفی سنتوں اور رشی منیوں کو اپنا آلہ کار بنا رکھا ہے۔ ایسے بہت سارے لوگ اب ان کے قبضہ میں ہیں۔ ان کے اوپر بھی دنیا سوار ہوچکی ہے۔ وہ اپنے تبلیغی مرکز اور عبادت خانوں کے لیے ہاتھ پھیلانے میں بے باکی کا مظاہرہ کرنے سے قطعی نہیں شرماتے۔ روحانی علاج کا یقین دلاکر لاکھوں روپے کی کمائی کا بندوبست کرچکے ہیں۔کچھ ہی لوگ ایسے ہیں جو ان کی جادو گری سے متاثر نہیں ہوتے۔ انھیں عقل اور سوجھ بوجھ پر بھروسا رہتا ہے۔ اہل علم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر عمل اپنا رد عمل ضرور رکھتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ عمل بے اثر اور بے سود ہوتا ہے۔ اسے عمل مہمل بھی کہہ سکتے ہیں۔ کبھی کبھی چوٹ لگتی ہے تو کسی نامعلوم وجہ سے ہمیں فوراً درد محسوس نہیں ہوتا مگر کچھ دیر بعد اس کا ثر ضرور محسوس ہوتا ہے۔ کسی کی غلط بات اگر فوراً سمجھ میں نہیں آتی تو اس کا فوری اثر بھی ظاہر نہیں ہوتا۔ مگر بعد میں جب سمجھ میں بات آجاتی ہے تو اس کا ثر ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہتا ۔آج دنیا میں کچھ لوگوں کے مظالم پر اب سینکڑوں برس بعد فیصلے لکھے جارہے ہیں اور مظلومین کی موجودہ نسلیں ظالموں کی موجودہ نسلوں سے جواب طلب کرنے لگی ہیں۔ حالانکہ ہماری نظر میںیہ کوئی معقول بات نہیں ہے مگر اب چونکہ مراسلت اور نقل و حرکت کی سہولتوں کی وجہ سے پوری دنیا ایک بڑے شہر جیسی ہوگئی ہے اور ممالک اس کے محلے جیسے، ہر ایک کو دوسرے کی تمام اچھی بُری خبروں اور واقعات کی چند گھنٹوں میں باتصویر خبریں دی جارہی ہیں۔ اب یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارا سماج ایک کوٹھری میں بند نہیں ہے۔ امریکہ ، چین اور روس میں جو کچھ اچھا یا بُرا ہورہا ہے اس سے ہم یا چھوٹے دوسرے ممالک متاثر ضرور ہورہے ہیں۔ سرحدیں اور زبانیں کاغذوں پر ہی رہ گئی ہیں ۔ نادانستہ ہم سب ایک مشترکہ زبان کی جانب بڑھتے چلے جارہے ہیں ۔ ہر ملک کے باشندے ان زبانوں کو بلا جبر سیکھتے جارہے ہیں جن سے ان کو مالی نفع ہونے کی راہیں کشادہ ہوتی نظر آرہی ہیں ۔ پہلے یونیورسٹیوں میں چین کی زبان سیکھنے کی کہیں بھی سہولت نہیں تھی مگر ابھی لکھنؤ میں ایک اسکول میں اس کا انتظام کردیا گیا ہے، اس کا اشتہار جاری ہے۔ 
اس دنیا میں ہم جو کچھ چاہتے ہیں اس میں سے بہت کم خواہشیں ہمارے چاہے وقت پر پوری ہوتی ہیں، وہ بھی ایک اتفاق ہوتا ہے کہ ہم نے جو چاہا تھا وہ اس وقت ہوگیا۔ جیسے اچانک بادلوں سے دھوپ کا نکل آنا۔ ہوا کا چل جانا۔ اسباب کے روبہ عمل ہونے پر نتائج کا نکالنا انسان کے اختیار سے قطعی باہر ہوتا ہے مگر وہ اس کی امید ضرور کرتا ہے۔ اسی لیے محاورہ بن گیا ہے کہ امید پر دنیا قائم ہے۔ یہ دنیا دراصل صرف ایک انتظار پر قائم ہے۔ ہر شخص کو کسی نہ کسی چیز یا حالات کا انتظار ہر وقت رہتا ہے۔ پوری زندگی ایک طویل انتظار ہی تو ہے ۔۔۔۔ ایک انتظار ختم ہوتے ہی دوسرا انتظار پیدا ہوجاتا ہے۔۔۔۔ ہزاروں سال سے آدمی انتظار کے خاتمہ کا طریقہ ڈھونڈ رہا ہے۔ اس کی ہر کوشش چاہے وہ نقل و حرکت کے ذرائع سے متعلق ہو یا حصول مدعا سے، اسے انتظار سے نجات کی راہیں تلاش کرنے کی بیماری شاید روز اوّل سے ہی لگی ہوئی۔ کسی شخص کو نہیں معلوم کہ اس کی دنیا میں اس کا کسی شے کا انتظار کب ختم ہوجائے گا۔ وصال کی تمنّا اور ہجر سے بیزاری عام ہے۔ وصال حصول مدعا کا دوسرا نام اور تمنا انتظار کی دوسری اصطلاح ہے ۔ سچ صرف یہ ہے کہ انسان کا اختیار صرف اس کی اپنی بنائی ہوئی چیز وں پر ہی رہتا ہے ہم کو اپنے مکانوں، فرنیچر اور مشینوں پر پورا اختیار ہے ہم جب چاہیں انھیں بنا بگاڑ سکتے ہیں، مگر جس تخلیق کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں اس پر ہمارا کچھ اختیار بھی نہیں ہے ۔ ہوا اور سمندر پر ہمارے جہاز چلتے ہیں مگر ان دونوں پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے۔ آندھی ، طوفان، بارش، زلزلہ ان سب پر اسی کا اختیار ہے جوانھیں پیدا کرتا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ کرلینے سے اس کے اختیارات میں اضافہ ہوجاتا ہے تو اس کی عقل کی خرابی ہے۔ علم میں اضافہ سے سہولتیں ضرور ملتی ہیں مگر اختیارات میں کوئی اضافہ ممکن نہیں ہے۔ صاحب قدرت کے ذرا سے ایک اشارہ پر ہمارا سارا علمی غرور غبار کی صورت اڑ جاتا ہے ۔ بے اختیاری کا شدید احساس ہی ہمیں ایک مختار کل کے وجود کا یقین دلاتا ہے۔ اب کوئی آدمی فرعون اور نمرود کے جھوٹے خدائی دعوؤں کی تائید نہیں کرتا۔ ہماری دنیا کی سب سے بڑی حقیقت موت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ ہر روز ہم سینکڑوں لوگوں کی موت کی خبریں سنتے ہیں اور کچھ لوگوں کو سپرد خاک و آتش بھی کرتے رہتے ہیں، ایسی صورت میں کسی چیز پر کسی طرح کا بھی غرور عقل سے خارج ہے۔ موت کے لیے صرف زندہ ہونے کی شرط کے علاوہ کوئی اور نہ شرط ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ تمام زندہ رہنے کی کوششیں محض فریب خیال و نظر کے اور کچھ نہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تسلی بخش باتیں ہر مذہب کے صوفیوں، رشیوں اور منیوں کے پندو وعظ اور ان کے اعتقاد کا ان کے گیتوں اور اشعار میں اظہار ہے۔ اس راہ میں عبدالقادر بیدلؔ کا فارسی کلام لاجواب ہے۔ اس کے بعد صوفی ابو سعید ابوالخیر کا کلام ہے۔ دونوں ہی کے کلام بہت مشکل سے دستیاب ہوتے ہیں۔ چونکہ فارسی زبان کے دلدادہ اب اس ملک میں نہیں رہے اس لیے ان بزرگوں کے کلام کو سمجھنے اور سمجھانے کا رواج ختم ہوگیا۔ میں بہت خوش نصیب ہوں کہ میرے اسکول کی تعلیم میں فارسی شامل رہی۔ ہمارے نانیہال (جونپور) میں ابتدائی تعلیم فارسی سے ہی شروع ہوتی تھی۔ سعدی شیرازی کی کریما سے شروع ہوکر اورنگ زیب کے فارسی خطوط جو اس نے اپنے والد شاہجہاں کو لکھے تھے اس پر ختم ہوئی تھی۔ اس کی وجہ سے فارسی شعر و ادب کی تفہیم کا باب کھل چکا تھا، پھر اپنی محنت سے میں نے اس صلاحیت کو زندہ رکھا۔
اورنگ زیب کی بیٹی زیب النساء جو مخفیؔ تخلص کرتی تھی، اس کی شاعری کے بارے میں صرف بزرگوں سے سنا تھا۔ اتفاقاً دہلی میں ایک جگہ سے دیوان مخفیؔ ہاتھ آیا۔ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی اس کی زبان بیدلؔ کے بالکل برعکس ہے۔ بیدلؔ کا کلام جتنا مشکل ہے۔ مخفیؔ کا کلام اتنا ہی سلیس اور آسان ہے ۔
سری نگر کشمیر یونیورسٹی میں ۱۹۷۰ء میں اپنے قیام کے دوران شعبۂ فارسی کی لائبریری سے جدید فارسی شعرا کا کلام پڑھنے کو ملا۔ ان سے اپنی ڈائری میں مَیں نے بہت سارے اشعار نقل کیے ہیں۔ بد نصیبی سے ہماری اولادوں میں کسی کو عربی فارسی کی شُد بُد بھی نہیں ہے۔ جو ان ہوتے ہی نوکری کی وہ مار پڑی ہے کہ دن کو تارے ہی نظر آتے رہتے ہیں، تفریح طبع کے لیے ایک فلمیں دیکھتا ہے اور دوسرا کریکٹ کے میچ میں مست رہتا ہے۔ 
مجھے نہیں معلوم کہ میں نے جو کچھ جمع کیا ہے وہ میرے بعد کس کے کام آئے گا۔ ۲۵ سال ہومیوپیتھی کا مطالعہ کیا اور علاج و معالجہ میں منہمک رہا ۔ شکر ہے خدا رب العزت کا کہ اس نے وہ عقل دی کہ اس فن سے متعلق چار کتابیں مرتب کیں جو پورے ملک میں اردو داں قارئین تک جاچکی ہیں۔ اس کے بعد اپنی کتابیں اپنے احباب میں تقسیم کردیں۔ اس لیے کہ میرے بعد میرے گھر میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ بہت ساری کتابیں امریکہ میں اپنی بیٹی کے سپرد کردی تھیں۔ ۲۰۰۲ء ؁ دسمبر میں امریکہ جاتے وقت میں وہ کتابیں ساتھ لے گیا تھا۔
زندگی سے متعلق بہت ساری کتابیں میں نے خریدیں اور پڑھیں۔ ہر ایک پر اپنی تنقیدی نظر رکھی۔ ان میں جو کچھ لکھا تھا اس کو اسی طرح تسلیم نہیں کیا ۔ صرف ایک ہی کتاب ایسی ہے جس کا مطالعہ کوئی بھی تا حیات جاری رکھ سکتا ہے ۔ اگر مسلمان ہے تو قرآن اور اگر ہندو ہے تو گیتا ہے۔ کتابی صورت میں مہاتما بدھ نے کچھ نہیں چھوڑا۔ جو کچھ ہم تک آیا ہے وہ ان کے خیالات ہیں جو ان کے عقیدت مندوں کے نقل کردہ ہیں۔ اور وہ بہت بعد کے مرتب کردہ ہیں۔ دنیا میں صرف قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے کہ جس کا لکھوانے والا اسے اپنی زبان میں اپنے سامنے لکھواتا رہا۔ اس میں اضافہ اور ترمیم کراتا رہا۔ اس نے اس کتاب کے ہر ایک جملہ کی ذمہ داری خدا کے نام کردی۔ اس نے اپنی مرضی سے اس کتاب میں کچھ نہیں لکھوایا۔ سب کچھ ایک غیبی طاقت اس پر اپنی مرضی ظاہر کرتی تھی ۔ جس کو ان کے ماحول کی یعنی مکہ اور مدینہ کے ان لوگوں کی اصلاح مقصود تھی جو اس کی دی ہوئی ہدایتوں کے خلاف عمل کرنے کو اپنا مذہب بنا چکے تھے۔
اسلام کے علاوہ دوسرے تمام مذاہب کی بنیادی کتابیں ان کے اصل رہنماؤں کی لکھی ہوئی پوری دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ہیں جو کچھ ہے ان کے عقیدت مندوں کے قلم سے گذر کر ہم تک آئی ہیں۔تورات ، انجیل ، وید اوستا کے لکھنے والوں کا یا انھیں کتابی صورت دینے کا ذمہ دار کون ہے اس کا یقین کے ساتھ کوئی نام کسی کو معلوم نہیں ہے ۔ یہ وہ کتابیں ہیں جو اپنے رہنماؤں کی زبان میں بھی میسّر نہیں ہیں۔ چار پانچ ہزار سال پہلے کی تعلیمات کا کسی کتابی صورت میں موجود ہونے کا امکان نہیں ہوسکتا جیسا آج کے لوگوں کے ذہن میں کتابوں کا تصور قائم ہے۔ پہلے جو کچھ بھی تھا وہ لوگوں کی اچھی قوت حافظہ کی بدولت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا تھا۔ قدیم طرز تعلیم یا پندو نصائح کا پورا دارومدار قوت گویائی اور لوگوں کی سماعت اور قوت حافظہ پر ہی منحصر تھا۔ لوگوں کے ذہن میں انھیں جما دینے کے لیے ہی ایسی عبارتوں یا کلام کو منظوم کردینے کا رواج قدیم زمانے سے آج تک رائج چلا آرہا ہے۔ نیکی اور اچھے عمل کی ترغیب دلانے کے لیے بچوں کو وہ نظمیںیاد کرائی جاتی ہیں جن میں اس کی ہدایات صاف سیدھے سادے لفظوں میں بیان کردی جاتی ہیں۔ 
قرآن کریم میںیہ اعلان ہے کہ خدا نے انسان کو قلم کے ذریعہ علم سکھایا ۔ اس کتاب میں بار بار لکھنے کا ذکر موجود ہے اور اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ حافظہ کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی کے روز مرہ کے کاروبار میں پیش آنے والے معاملات میں کتابت کی ہدایت موجودہ ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کسی اور کتاب میں کچھ یا سب کچھ لکھنے کی ہدایت اس طرح موجود ہے۔ جیسا کہ میں جانتا ہوں دیگر مذاہب کی کتابیں صرف سُننے اور سنانے پر ہی موقوف تھیں۔
ہزاروں سال کی قدیم دنیا میں نیکی کے تصور کی تبلیغی صورت کا پتا صرف ہندوستان میں ہی ملتا ہے۔ یہاں کا جین دھرم کہتے ہیں پچاس ہزار سال پرانا ہے۔ ویدوں کا تبلیغی کاروبار تو زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار سال قدیم سمجھا جاتا ہے۔ ابھی کچھ دنوں قبل جنوبی امریکہ کی ماچو پیچو تہذیب کے ایک کلینڈر کی دریافت سے پتا چلا ہے کہ ہر پانچ ہزار ایک سو پچیس سال بعد اس زمین پر ایک انقلاب رونما ہوتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں ایک تہذیب تہہ و بالا ہوجاتی ہے اور پھر سے ایک بڑی تباہی کے بعد اس دنیا میں تہذیب کا آغاز ہوتا ہے۔ ماہر فلکیات کے علم یا قول کے مطابق اتنی ہی مدت کے بعد زمین سورج کے اتنے قریب آجاتی ہے یا سیارہ زحل کے سورج کے بہت قریب آجانے سے زمین پر تباہ کن اثرات پیدا ہوجاتے ہیں۔
اگر اس قول میں کچھ صداقت ہے تو پھر کسی مذہب کا چار ہزار سال سے زیادہ قدیم ہونے کا دعویٰ ناقابل تسلیم ہوجاتا ہے۔ ہندوستان میں موجودہ علم نجوم کے ماہرین پرانے نجومیوں کے عقیدوں کو ہی ازلی اور ابدی سمجھتے ہیں۔ اس طرح وہ کائناتی وقت کو لاکھوں سال کے ادوار میں تقسیم کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ ان کے عقیدے کے مطابق اس وقت کلجگ کا دور چل رہا ہے جس کی مدت ایک لاکھ سال سے بھی بہت زیادہ بتائی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس یگ یا دور کے خاتمہ کے بعد پھر ایک برائیوں سے پاک دور آئے گا۔ کرشن جی کے اوتار میں خود خدا ظاہر ہوکر برائیوں کا خاتمہ کردے گا۔ اس طرح یہ برائیوں کے خاتمہ اور نیکی کے دور کے آنے جانے کی بات ہر مذہب میں موجود ہے ۔ مہاتما بدھ نے کہا ہے کہ ’’میں ہی صرف کوئی نجات دہندہ یعنی بودھ نہیں ہوں مجھ سے پہلے بہت سے بودھ آچکے ہیں۔ ایک کی دی ہوئی تعلیمات جب لوگوں کے ذہن سے فراموش ہوجاتی ہیں تو دوسرا بودھ آجاتا ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ روز قیامت یعنی مرکر دوبارہ زندہ ہونے کا تصور تمام مذہبی عقائد میں موجود ہے۔ اس کا مقصد کچھ الگ الگ طرح سے بیان کیا گیا ہے۔ دوزخ اور جنت کا بھی تصور موجود ہے۔ اچھے لوگوں کے لیے اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی کے ٹھکانے کو جنت اور برے لوگوں کے لیے ایک تکلیف دہ ٹھکانے کو دوزخ یا جہنم بتایا جاتا ہے۔ 
اس زندگی میں خیر یا نیکی کا تصور تمام انسانوں میں تقریباً ایک جیسا ہی ہے۔ اسی طرح برائی یا شر کے تصور میں بھی کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔جو بھی فرق ہے وہ غالباً ماحول کی مختلف صورتوں کی بدولت ہی ہے۔ ریگستانی، میدانی ، جنگلات سے بھری اور پہاڑوں کے درمیان زندگی بسر کرنے والے لوگوں کی زندگی میں یکسانیت صرف اس لیے دکھائی نہیں دیتی کہ زندگی کی بقا اور تحفظ کے لیے یہاں الگ الگ طریقے اختیار کرنے پر آدمی مجبور ہے لیکن اب ٹیکنالوجی نے یہ مجبوریاں ختم کردی ہیں۔ ٹھنڈک سے مجبور لوگوں کو اب گرم مکانوں میں رہنے کی سہولت حاصل ہے، اسی طرح نہایت گرم ریگستانی علاقوں میں برفیلی ٹھنڈک کا لوگ لطف اٹھا رہے ہیں۔ کھانے اور پینے کے طور طریقوں میں امتیاز دھیرے دھیرے ختم ہوتا جارہاہے۔ آج کوئی آدمی دنیا کے کسی بھی علاقہ میں سکونت اختیار کرسکتا ہے اور جو کچھ بھی چاہے وہ کھانے کے لیے حاصل کرسکتا ہے۔ اس طرح ماحول کے جبر کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ اب نیکی اور بدی کے تصور میں جو اختلاف تھا وہ بھی دھیرے دھیرے کم ہورہا ہے۔ تمام لوگ اب ایک ہی مقصد رکھتے ہیں اور وہ ہے اپنی آزادی کا تحفظ، نیکیوں کے لیے انعامات اور جرائم کے لیے سزاؤں کی یکسانیت پر برابر زور دیا جارہا ہے۔ ایک پسماندہ ملک دوسرے ترقی یافتہ ملک کی نقل کرکے ترقی یافتہ کہلانے کی سند حاصل کرنے کی دوڑ میں داخل ہوتا جارہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک وہی سمجھے جاتے ہیں جہاں زندگی میں تکلیف کم اور آرام زیادہ فراہم ہورہا ہے۔ آدمی کا دماغ کم سے کم تکلیف اور زیادہ سے زیادہ آرام کا طالب ہوتا ہے۔ اسی خواہش کی شدت نے تہذیب کی ارتقا کی بنیاد رکھی ہے۔ اس کی سب سے پہلی منزل ایک محفوظ اور آرام دہ گھر کی تعمیر تھی۔ یہ خواہش صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ ہر جاندار میں پائی جاتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ انسان اپنے بنائے گھر سے کچھ عرصہ بعد بیزار ہوجاتا ہے۔ اسے اور بہتر گھر کا خواب نظر آتا رہتا ہے لیکن جانور ایک گھر بنا کر دوسری طرح کے گھر کا خواب نہیں دیکھتا۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں چڑیاں لاکھوں برس بعد بھی اسی طرح کے گھونسلے بناتی ہیں جیسا پہلے بناتی تھیں۔ شیر اور لومڑی کروروں سال سے ایک طرح کے اپنے گھروں میں زندہ رہتے ہیں۔ یہ صرف آدمی ہے جسے خوب سے خوب ترکی ہمیشہ تلاش رہتی ہے۔ اور صرف یہ انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو زندگی کو دو سطحوں پر جیتی ہے، ایک فکری اور دوسری عملی۔ فکری زندگی اس کی خواب والی زندگی ہے جس کے لیے کسی مادّی ساز وسامان کی ضرورت اسے نہیں ہوتی ۔نہ تو خواب میں محل بنانے کے لیے اینٹ پتھروں کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی محل کو توڑ کر کوئی ملبہ پیدا ہوتا ہے۔ صرف فکر یعنی ذہنی عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کے ذہن کی صلاحیتیں غیر متناہی نظر آتی ہیں اور دوسرے جانداروں کے ذہن ایک محدود دائرہ میں کام کرتے ہیں ۔اپنے طرز زندگی کو بدلنے کی انھیں فکر نہیں ہوتی۔
انسانی دماغ کی فکری انتہا یہ ہے کہ وہ ہر طرح آزاد اور بے نیاز زندگی کے تصور سے ممتاز ہے۔ یہی وہ خدائی صفت ہے جس کے ساتھ وہ وجود میں آیا ہے۔ انسانی زندگی کی پہلی منزل بھوک سے شروع ہوتی ہے جس کا خاتمہ بے نیازی کی منزل پر ختم ہوتا ہے۔ مقام بے نیازی ہی وہ خدائی منزل ہے جہاں انسان کو آدمی والی منزل سے گذر کر آگے کا راستہ ملنے کا امکان نظر آتا ہے۔ یہ آدمی ہونے والی منزل کا تصور مجھے قرآن سے ملا ہے جب تک انسان حق و باطل میں تمیز کرنے کے لائق نہیں ہوجاتا وہ آدمی کہے جانے کا حق نہیں رکھتا۔اس منزل پر پہنچ کر حق و باطل میں تمیز کرکے حق کا ساتھ دینے کو تیار رہنے کے لیے آدمی عزم کرکے جب زندہ رہتا ہے تو وہ اپنے خالق یعنی اپنے خدا کا بندہ اور اس کا مدعا ہوجاتا ہے۔ پھر اس راہ میں طویل سفر کی مشقتیں اٹھا کر وہ اپنے خدا کی وہ صفت جس کی اس کے ذہن کو تلاش تھی یعنی آزادی اور بے نیازی وہ خود اسے حاصل ہوجاتی ہے۔ 
اس راہ پر چلنے والے مسافروں کے عقائد میں کچھ نسل، زبان یا ملک کا اختلاف کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ مگر یہاں درجہ بندیاں ضرور نظر آتی ہیں ایسی ہی جیسے نالے ندیوں سے ، ندیاں دریاؤں سے اور دریا سمندر سے جاملتے ہیں۔ لیکن یہ پانی ہی ہے جو مختلف صورتوں میں مختلف مقامات سے گذرتا ہوا سمندر میں چلا جاتا ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نہ تو سبھی نالے ندیوں سے مل پاتے ہیں اور نہ سبھی ندیاں دریاؤں سے ۔ کچھ نالے تھوڑی دور جاکر کسی میدان میں پھیل جاتے ہیں اور ان کا پانی غائب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کچھ ندیاں برسات میں جو لہراتی بل کھاتی کافی دور تک چلی جاتی ہیں مگر وہ بھی برسات کے کچھ دنوں بعد خشک ہوجاتی ہیں، صرف ان کے نشان باقی رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کی فکری صلاحیت نالوں کی سی اور کچھ کی برساتی ندیوں جیسی بھی ہوتی ہے۔ دریا بن جانے کی صلاحیت بہت کم دماغوں کو میسر ہوتی ہے۔ مگر جو بن گئے ہیں وہ دریا کی طرح پورے سال بہتے ہیں جو ان سے قریب ہوتے ہیں وہ ان سے اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں۔ مگر وہ خود دریا نہیں ہوسکتے۔
اس طرح ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ مذاہب کو قبول کرکے ہم ان سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ ہم دریا بننے کا خواب شاید ہی کبھی دیکھتے ہوں، یہ اختلاف حق و باطل ، خیر وشر ، فنا و بقا، ظلمت و نور کیا ہے اور کیوں ہے؟ یہ نہ ہو تو ہماری زندگی کا نقشہ کیا ہوگا؟ اس طرح کے سوالات بہتیرے لوگوں کے ذہن میں آتے رہے ہیں۔ کچھ ہی لوگ ایسے سوالات کا حل تلاش کرتے رہے ہیں ۔ عام انسانوں کو ایسے سوالات سے شاید ہی کبھی واسطہ پڑتا ہو۔ ہاں موت ہی ایک ایسی حقیقت ہے جو بلا امتیاز پست و بلند ہر ایک کو زندگی کی حقیقت پر تھوڑی دیر کے لیے سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔ لیکن ایسے خیال پر بہت جلد بھوک غالب آجاتی ہے اور موت کا خوف غائب ہوجاتا ہے یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں موت کا خوف خوراک نہ ملنے کے خوف سے اور بڑھ جاتا ہے۔ بھوک سے پیٹ میں جلن ہوتی ہے تو فوراً آدمی کھانے کے لیے کچھ تلاش کرنے لگتا ہے۔ اسے یہ خیال آتا ہے اگر کچھ نہ ملا تو بھوک موت کو دعوت دے سکتی ہے۔ خوراک نہ ملنے پر ہر زندہ چیز پر موت غالب آسکتی ہے۔ دا ل روٹی کا مسئلہ صرف دال روٹی کے میسّر آنے سے حل ہوتا ہے ۔ اس کا بدل دنیا میں اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ انسانی تمام کاروبار اس کی بھوک کے اردگرد ہی چکر کرتے ہیں۔ کوئی بھی نظام حکومت جو عوام کو اس کی ضروری خوراک فراہم کرنے میں ناکام ہوتا ہے وہ بہت جلد انقلاب کی زد میں آکر غارت ہوجاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھوکے آدمی کا ایمان بہت کمزور ہوتا ہے۔ پیٹ بھر ے ہونے کی صورت میںآدمی کو عیش و آرام کے طریقے سوچنے میں لطف آنے لگتا ہے۔ اسے راگ و رنگ کی محفلوں کو منعقد کرنے کی سوجھتی ہے۔ بھوک مٹنے کے بعد ہی حرص و ہوس کے جذبات اپنی گرمی کا مظاہرہ شروع کردیتے ہیں۔ تمام مذہبی لوگ بھی جن کو خوردونوش کی فکر سے آزادی مل جاتی ہے انھیں بھی رنگین خواب نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ بظاہر لوگوں کو راہ حق کی طرف بلاتے نظر آتے ہیں لیکن پس پردہ وہ لوگوں کو اپنی غلامی کی طرف دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ عوام کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے وہ اپنا تبلیغی مرکز قائم کرنے میں اپنی تمام کوششیں مرکوز کردیتے ہیں۔ پہلے ایک جھونپڑی پھر مکان اور پھر محل اور آخر میں اپنی اور اپنے خاندان کی بقا کے لیے قلعے تعمیرکرانے میں اپنا سارا علم اور تقدس صرف کر کے اس دنیا سے روانہ ہوجاتے ہیں۔ اپنے عقیدت مندوں یعنی فکری غلاموں کی ایک بڑی جماعت چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے پسماندگان کے لیے عیش و عشرت کا سامان فراہم کرنے میں اپنی عاقبت کو سنوارتے رہتے ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ لوگ اپنے رہنماؤں کے لیے خود اپنا خون پسینہ بہا کرجنتیں اسی دنیا میں بنا دیتے ہیں اور خود اس امید پر جیتے ہیں کہ وہ ان کے لیے دوسری آنے والی زندگی میں جنت فراہم کردیں گے۔ 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

URL:

 http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

 

Loading..

Loading..