New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 08:13 PM

Books and Documents ( 27 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 13

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام
تعقلی روح یا غیر تعقلی روح / لا تعقلی روح
تعقلی روح کا تصور عقل انسانی نہیں کرپاتی۔ سوائے اس کے کہ وہ اسے فلسفیانہ اخلاق کے تحت بسر ہونے والی زندگی کا تصور اپنے ذہن میں پہلے قائم کرلے۔
تعقلی روح
انسانی زندگی کی مخصوص فطرت کا اصول اس تعقلی روح کے ماتحت قائم ہے۔ 
ثانوی روح کے تعقلی نظام میں ہی یہ امر پوشیدہ ہے کہ انسان کی آخری منزل خدا کی صفات کے اکتساب سے وابستہ ہے۔
(
تمام مذاہب اور کلچر کے پابند معاشرے میں یہ اعلان ہوتا رہتا ہے کہ فلاں ابن فلاں کو خدائی کے کچھ حصے اس کی اپنی کوششوں کے نتیجے میں حاصل ہوگئے ہیں۔ امام احمد سرہندی سے کچھ لوگوں نے جب یہ معلوم کیا کہ کیا وہ خود کو ’مجدد‘ تسلیم کرتے ہیں کیا لوگوں کے انھیں مجدد تسلیم کرلینے سے انھیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی مجددیت کے مقام پر فائز ہوگئے ہیں۔ اس کے جواب میں ا نھوں نے کہا: ہاں مجھے ایسا لگتا تو ہے!
صوفی مذہب میں بھی اولیاء اللہ کے اکتسابی مقامات اور ان کے درجوں کے ناموں کا ذکر ملتا ہے۔ جیسے قطب، ابدال، اوتاد، وغیرہ مقامات الٰہیہ کی درجہ بندی کی تفصیلات صوفیوں کے ملفوظات میں دیکھی جاسکتی ہیں)۔
تعقلی روح بدن سے الگ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بدن کی موت کے بعد یہ اس وقت تک علیحدہ باقی رہ جاتی ہے جب تک اسے دوسرا کوئی جسم قبول نہیں ہوتا۔ 
یہ کسی سوال کا فوری جواب حاصل نہیں کرسکتی۔ اس کے لیے بہت غور و خوض اور فکری محنت کی انجذابی قوت درکار ہوتی ہے۔ روح اول تک رسائی قدم بہ قدم چل کر ہی مل سکتی۔ پہلے تشکیک پھر تعقل اس کے بعد ہی کسی معقول نتیجہ کا حصول ممکن ہوتا ہے۔
روح انسانی ثانوی درجہ میں تین تعقلی شعبے رکھتی ہے۔ شعبۂ ارادہ، تصور اور حافظہ۔
شعبہ تعقلی تصور اور حافظہ نچلے درجہ کے تصور اور حافظہ کی فیکلٹی سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ احساسات کے تعقلی عمل کو ایک فلسفی کی نیم روحانی زندگی میں اعلیٰ درجہ کے شعبہ میں رد و قبول کے لیے بھیجتے رہتے ہیں۔ سب سے نچلے طبقہ میں غیر تعقلی روح رہتی ہے، جس کا تعلق جانوروں کی زندگی سے ملحق ہوتا ہے۔ جسم سے وابستگی کے ساتھ یہ روح انسانی روح سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کے تعلق سے حیوانات کا وجود میں لایا جانا مقصود ہوتا ہے۔
لا تعقلی روح کا شعبہ جذبات اور احساسات کو صورت پذیر بناتا ہے۔ وہ خواہشات جن کی جڑیں گوشت پوست میں نصب ہوتی ہیں اور وہ جو احساسات کے شعبہ کو غذا اور تولید سے وابستہ رکھتی ہے۔وہی لا تعقلی روح کہلاتی ہے۔
روح کل نچلے طبقہ میں نباتاتی زندگی کے نظام کو تعقلی روح کے ماتحت کرتی ہے۔
لاہوتی روح وہ روح ہے جس میں ناسوتی، حیواناتی اور نباتاتی قوت عمل کو اپنا اپنا مقام حاصل ہے۔ یہ سب ارواح اس لیے کہی جائیں گی کہ یہ سب روح کل کا حصہ ہوکر اس کے اختیار کلی کے حصہ میں رہتے ہیں۔
سب سے نچلا طبقہ روح اعلیٰ سے ملحق رہتا ہے وہ نباتاتی حیات کا شعبہ ہے۔ اس میں بیج سے درخت کے لمبے سفر کی پھر ان کی پروش کی دیکھ ریکھ شامل ہے۔ 
روح اعلیٰ/ روحِ کامل اپنے نظام کو مادے کے اوزان اور اس کی ٹھنڈک اور گرمی کی متوازن سپلائی سے منسوب رکھتی ہے۔
مادہ ایک طرح سے خیال کی طلب ہے بجائے اس کے کہ ہم اس کو ایک آزاد وجود حقیقی سمجھیں۔ مادہ کمترین درجہ میں روح کل کے تخلیقی اختیار کے اظہار کا ذریعہ کہا جاسکتا ہے۔
یہ امکان کی آخری حد ہے۔ یہ تقریباً لاموجود ہے اس لیے کہ مطلق موجود اس سے قبل ہے۔
خیرِ کل اور عقلِ کل سے ہر شئے وجود میں آئی ہے
انسانی وجود کی گہرائی سے جو آواز اٹھتی رہتی ہے اس کا تقاضہ بس یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود کی ساری محنت خود کو وجود مطلق سے قریب کرنے میں صرف کرے۔ اور اسی سے ہم آہنگ کرے۔ اس کوشش میں آزار اور مشکلات گرچہ بہت ہیں لیکن مقصد کے حصول کی ہر منزل پر ایک لازوال بے مثال مسرت کی تحصیل بھی پوشیدہ ہے۔ یہی مسرت اگلی منزل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ بہم پہنچائی ہے۔ اور زندگی کے دوسرے مقاصد کی طلب کو سچ ثابت کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ ایسی دنیوی زندگی میں ایک موقع ایسا آسکتا ہے کہ وہ آدمی جو شعور حق سے مستفیض ہے وہ ایسی قوت اور صفات کا حامل ہوسکتا ہے۔
شاید اس افلاطونی نظریہ حیات سے متاثر ہوکر ایک روایت صوفیوں کے یہاں حدیث قدسی کے نام سے مشہور ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’بندہ ذاتِ الٰہی کی تسبیح اور تذکیر میں نہایت انہماک کے ساتھ غرق ہو جاتا ہے تو خدا کہتا ہے کہ پھر میں اس کے ہاتھ پاؤں اور کان ہو جاتا ہوں یعنی وہ میری آنکھوں سے دیکھتا اور میرے کانوں سے سنتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس کی زبان ہو جاتا ہوں۔ وہ جو کہہ دیتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔ صوفیائے اسلام اس کی سند میں قرآن کی وہ آیت پیش کرتے ہیں، جس میں جنگ بدر میں بہت کم مسلمانوں کو مشرکین کی بڑی تعداد پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس آیت میں خدا کہتا ہے کہ جب رسول نے مٹھی بھر خاک دشمنوں کی طرف اس کے حکم سے پھینکی تھی تو وہ اس نے نہیں بلکہ خود اللہ نے وہ خاک پھینکی تھی۔ اس کے علاوہ شجر بیعت کے واقعہ سے متعلق بھی ایک آیت میں خدا کہتا ہے کہ جن لوگوں نے پیڑ کے نیچے رسول کے ہاتھ پر بیعت کی تھی تو دراصل وہ ہاتھ رسول کا نہیں بلکہ اللہ کا ہاتھ تھا، جو شرط میثاق کی سند اور تصدیق کے طور پر بیعت کرنے والوں کے ہاتھ پر تھا۔ چوں کہ رسول اللہ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ خدا سے قربت حاصل کرنے کے لیے وقف کر دیا تھا اس لیے ان کو یہ فضیلت حاصل ہوگئی تھی۔ وہ اگر خود یہ کہتے کہ میں اللہ کی صفات سے متصف ہوگیا ہوں تو لوگ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ اس لیے یہی بات ایک دوسرا کہہ رہا ہے تاکہ اس پر اعتماد کیا جانا زیادہ معقول لگے۔
فلاطینوس یہود و نصاریٰ کے اس عقیدہ کا مخالف ہے کہ ان کے تصور الٰہ کی کوئی بھی مخالفت انہیں قبول نہیں ہے چاہے وہ کتنی بھی معقول دلیل کی بنا پر کی جائے جسم اور روح کے رشتہ کی جو تعریف ان کے علما کرتے ہیں یا ان کی کتابوں میں درج ہیں وہ حتمی ہیں۔ فلطینوس ان کے اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتا۔
سقراط کے فلسفہ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ علم ہی خیر کل ہے۔ فلاطینوس اس کا ہم خیال ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عقل کل کے ساتھ روح ایک اعلی منزل پر اپنی زندگی میں اس سے وابستہ ہوتی ہے تو وہ گناہ سے قطعی پاک ہوتی ہے یہی نہیں بلکہ کوئی گناہ اس سے سرزد ہوجائے اس کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ بقول فلاطینوس ہمارا علم خودی ہی ’حسن‘ ہے اور ’’عدمِ علم‘‘ خود قبیح ہے۔
سینٹ آگسٹائن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی آشنائے خودی ہو جاتا ہے تو وہ خدا شناس بھی ہوجائے گا۔
خود کو مزکا کرنا یعنی تزکیہ نفس کرلینے کا مطلب ہے کہ روح میں باہر سے چپکی ہوئی گندگی دور کرلی گئی ہے۔ (فلاطینوس)
وہ علم جس کا تعلق عالم اسفل سے ہوتا ہے وہی برائیوں کا باعث ہوتا ہے۔ تعقلی اصول/ اصول تعقل وہ اپنے مقصد کو یا تو پوری طرح سمجھتا ہے یا پھر وہ اس سے قطعی ناواقف ہوتا ہے۔ یعنی اس اصول کا کوئی مقصود ہے تو وہ پوری طرح اس کے دائرہ ضبط میں ہے، اور اگر ایسا کچھ نہیں ہے تو پھر وہ معدوم ہے۔ اس تعقلی اصول میں تصور اور خطا کا سرے سے کوئی امکان نہیں ہے۔
کسی شئے کی تفہیم بھی تعقلی عمل ہے۔ اپنے بیشتر مظاہر میں یہ ظاہر اور باطن کا امتزاج ہوتا ہے۔
واہمہ
ادنیٰ درجہ کا علم واہمہ/ التباس ہے اور بیشتر خرابیوں کا سبب بنتا ہے۔
تعقلی اصول اپنے مقصد کو سمجھتا ہے یا پھر نہیں سمجھتا۔ اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔
تفہیم ایک تعقلی عمل ہے۔ اپنے بیشتر مظاہر میں یہ خارجی حقیقت کا داخلی حقیقت کے ساتھ اتحاد و امتزاج ہے۔
روح تعقلی فضیلت کی حامل ہوتی ہے۔ اور تعقل زندگی کا اعلیٰ ترین دور ہوتا ہے۔
تعقل ہمارے ذہن میں اصول تعقل کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے اس کا وجود بھی ویسا ہی ہے جیسے ہمارا روح سے تعلق۔ ہم ہمیشہ اس کی طرف بڑھتے ر ہتے ہیں۔
جہاں کہیں کسی شے میں کوئی خطرہ پوشیدہ ہوتا ہے ہمارا دل اس کے حاصل کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے۔
اس دنیا میں وہ روح اول و اعلیٰ ہی ہے جس سے ہم نظم، تقسیم اور توازن کی جیسی خوبیاں حاصل کرتے ہیں۔
عالم بالا میں ان خوبیوں کی کسی کو کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس لیے کہ اس عالم میں یہ تمام خوبیاں سبھی کو نصیب ہوں گی۔
کلام روح کے اندر خیال کی بازگشت ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خیال روح کے اندر ایک بازگشت ہے جو کہیں اور سے آرہا ہوتا ہے۔ اس کو اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ مبینہ خیال ایک روحانی خیال کی لفظی تصویر ہوتا ہے اور یہ تصویر بذاتِ خود ایک اعلیٰ مقام کے خیالات کی ترجمانی ہوتی ہے۔
فضیلت روح کا ایک خاصہ ہے اس کا تعقلی اصول سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ علم کلام عمل انسلاک اور تقسیم میں اس وقت تک معروف رہتا ہے جب تک وہ کمال تعقل کو نہ پہنچ جائے۔ یہی غور و خوض کی آخری منزل بھی ہوتی ہے جس کا نام مقام حکمت کہلاتا ہے۔ سب سے اعلیٰ طریقہ فکر ہونے کی وجہ سے اس پر لازمی ہوتا ہے کہ یہ وجود حقیقی سے ربط رکھے۔
علم کلام فلسفہ کا بہت ہی اہم حصہ ہے۔ جو قانون کائنات کا مطالعہ کرتا ہے۔ صنعت و حرفت کے فن میں علم ریاضی جس طرح مددگار ہوتا ہے اسی طرح قانون کے مطالعہ میں علم کلام کی ضرورت مستند مانی جاتی ہے۔ علم کلام کے ہی ذریعے فلسفہ تفکر تک پہنچتا ہے۔ گرچہ یہ ایک اخلاقی تصور خود ہی پیدا کرتا ہے۔ 
ہمارا توجیہی ذہن علم کلام کے ذریعہ فراہم کیے گئے اعداد و شمار کو اپنی ملکیت بنا کر اس کا استعمال کرتا ہے اور یہ اعداد و شمار مادے اور شکلوں کے ہی ہوتے ہیں۔ دانائی اور کلام کی ذمے داری ہے کہ وہ تمام چیزوں کو عالمی کلیہ کے تحت لاکر ایک مادہ کو اس کی صفات سے علیحدہ کر کے اس کی تفہیم کا راستہ روشن کریں۔ اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کے احساس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے وجود سے باہر کی دنیا سے باخبر رہیں اور ایسا ہونے کے لیے ہمارے لیے سب سے پہلے زندہ ہونا لازمی ہے۔ ایک فیصلہ کن شخصیت جس چیز کا فیصلہ کرتی ہے اس کا اس کے فیصلہ کنندہ سے اعلیٰ اور افضل ہونا لازمی ہے۔ یعنی ناقد کا مقام تنقید کنندہ سے بالاتر اگر نہیں ہے تو اس کی تنقید ناقص ہے۔‘‘ وہ شخص جو کسی کے بیان کو بلا نقد و تبصرہ تسلیم کرلیتا ہے وہ ادنیٰ درجہ کی روح کا حامل ہوتا ہے۔ (شاید انھیں کے بارے میں قران نے کہا ہے کہ یہ چوپایوں سے کم تر درجہ کی زندگی یا عقل کے حامل ہوتے ہیں)۔
لطف‘ ایک ذہنی کیفیت ہے۔
عقل سے محروم کبھی بھی ’خیر کل‘ کے قریب نہیں پہنچ سکتا۔
منطقی عقل خوشی کے شعور کے لیے لازمی ہے۔
ہر چیز ایک اعلیٰ خیر کی تصویر پیش کرتی ہے۔
جب ایک شخص عارف ہوجائے تو خوشی کے ذرائع اور خیر کل کا راستہ اس کی رسائی میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اور کوئی خیر اس کی رسائی سے باہر نہیں رہ جاتا۔ پھر وہ جو کچھ چاہتا ہے اسے دوسروں کے لیے جو کم علم ہیں، حاصل کرلیتا ہے۔ وہ اپنے لیے یعنی اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں چاہتا وہ صرف اتنا چاہتا ہے جتنی اس کی اپنی زندگی کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ جو کچھ دوسروں کو دیتا ہے یا پہنچاتا ہے اس سے اس کے بلند مقام میں کوئی کمی نہیں آتی یہ وہ اچھی طرح جان چکا ہوتا ہے۔
*
احساس اور شعور، حکمت اور دانائی کے لیے لازمی خوبیاں ہیں۔ تحصیل لطف و مسرت حکمت کے عمل میں تبدیل ہونے کا نتیجہ ہوتی ہے۔
*
نیند دانائی اور علم کو غارت نہیں کرسکتی۔
*
جہاں خوف ہے وہاں نہ لطف ہے نہ مسرت۔ خوف کی حالت میں آدمی کا وجود نصف رہ جاتا ہے۔
*
ادنیٰ روح کو غلاظت اور ناپاکی میں خوشی ملتی ہے۔ اسے پاکی اور تزکیہ نفس سے بیزاری ہوتی ہے۔
*
خیر ایک فطری عمل ہے۔ ہر شئے خیر سے وابستہ ہوتی ہے یہ اس دائرہ کا مرکز ہوتی ہے جو حرکت نہیں کرتا۔
حیات خیر سے علیحدہ نہیں ہوسکتی ہے اور مردہ ہونا خیر سے محروم ہونے کی حالت کا نام ہے۔ موت شر ہے اس لیے کہ وہ خیر کا خاتمہ کردیتی ہے۔ مگر ’خیر کل پر موت کا اثر نہیں ہوسکتا۔ 
تمام علوم اضداد کی بنیاد پر قائم ہیں۔ خیر کل وہ ہے جس پر ہر شئے کے وجود کا انحصار ہے۔ اس لیے کہ خیر کل کی اپنی کوئی نہ خواہش ہوتی ہے اور نہ ہی ضرورت۔ اسے کچھ اور بننا ہی نہیں ہوتا اس لیے کہ وہی عقل کل اور علم کل ہے اور تمام اصول حیات و ممات اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔
جب تک کوئی ذات یا شئے خیر کل تک رسائی نہیں پاتی اس وقت تک وہ ’حسین‘ نہیں ہوسکتی۔
ہماری عقل کی پرورش علم کلام کے اصولوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ہی یہ بحث و تنقید اور تحلیل کی صلاحیتوں سے بہرہ مند ہوتی ہے۔ عالم موجودات کی تفہیم بھی علم کلام کے اصولوں کے ذریعے ہی ہوتی ہے اور حقیقت تک رسائی کا زینہ بھی یہی اصول علم کلام ہے۔
افلاس نتیجہ ہے ’خیر کل‘ سے دوری کا اور یہ نتیجہ ہوتا ہے آئیڈیل فکر کی کمزوری کا۔ یہ نتیجہ ہے مادہ سے ہمیشہ وابستہ رہنے کا اور مادہ ہمیشہ اپنے وجود کے لیے اپنے غیر کا محتاج رہتا ہے۔ اسی محتاجی کا نام افلاس اور غربت ہے۔
*
شر اظہار خیر کی اپنی ضرورت ہے۔ اور یہی ضرورت ہر مادے کی بھی ہوجاتی ہے۔ 
*
صفت ہمیشہ اپنے غیر کو متصف کرتی ہے۔ مادہ اگر صفت سے محروم ہوجائے تو وہ شر ہو جاتا ہے۔
*
خیر کی کمی شر کے وجود کا باعث ہوتی ہے۔
*
خیر روح کا لازمی تقاضہ ہے، شر ایک حادثہ ہے۔
*
نیکی خیر مطلق نہیں ہوتی اسی طرح بدی بھی مطلق شر نہیں ہوتی۔
*
خیر کل/ خیر مطلق ہمیشہ نیکی سے مقدم ہوتا ہے۔
*
نیکی سے آگے بڑھ کر ہم حسن مطلق اور خیر مطلق کی طرف جاتے ہیں۔
*
ادنیٰ ارواح نہ تو صاف ہوتی ہیں اور نہ ہی پاک۔ ان کے اندرون ایک فساد کی موجودگی سے ناپاکی پیدا ہوتی رہتی ہے جیسے جسم کے اندر صفرا اور بلغم جیسے فساد پیدا کرنے والے مادے۔
*
کائنات پر وقت کا اثر نہیں ہوتا۔
*
آگ کا رجحان کبھی پستی کی طرف نہیں ہوتا۔
*
روح اور مادہ کے علاوہ کچھ بھی موجود نہیں ہے۔
*
اور یہ دونوں ایک ہی مکان میں رہتے ہیں۔
مادّہ مٹی میں اور روح ہوا میں رہتی ہے۔
روح اور مادے الگ الگ رہتے ہیں ان کا کوئی مرکب نہیں ہوتا
اور نہ ہی یہ ایک دوسرے میں تانے بانے کی طرح رہتے ہیں۔
مادہ روح کو ظہور بخشتا ہے۔ روح بغیر مادہ کی اعانت کے اپنی روشنی کا یا نور کا اظہار کرنے سے قاصر ہے۔
مادے کی زیادتی اس کی روشنی کو دھندلا کردیتی ہے اس لیے کہ مادہ روح کی روشنی کے کچھ حصہ کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ یہ روح کو اظہار کا موقع دینے کی اجرت ہوسکتی ہے۔ مادہ کے اندر روح کا نزول اس کی کمزوری ہے۔ لیکن روح کی اپنی اصل قوت اور فکری شعبے ضائع نہیں ہوتے برائی یا شر کی طرف رجحان اس کی اپنی فکری قوت کے مادے کی دھند میں گھر جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس دھند کے چھٹ جانے پر وہ پھر روشن ہوسکتی ہے۔
لہٰذا روحوں کی کمزوری اور شر کی طرف ان کا میلان مادہ کے غلبہ کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔
روحیں کبھی مادے کی طرف رخ نہ کریں اگر انھیں زمینی زندگی میں اُترنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
تمام تعقلی اعمال اور دانائی کو خیر و شر کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور یہ خیر کل سے وابستگی رکھتے ہیں۔
جب مادہ سے روح کا کوئی علاقہ نہیں رہ جاتا تو وہ اس سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ اگر جسم کے عناصر میں وہ توازن جس نے روح کو اس سے منسلک کر رکھا تھا وہ ٹوٹ جاتا ہے تو روح اس کے اندر ٹھہر نہیں سکتی۔
علم کامل میں فاعل اور مفعول ہم رتبہ ہوجاتے ہیں
*
مقداریت کو اجزاء سے خارج کردینے پر صرف قوت باقی رہ جاتی ہے
*
روح اور تعقلی اصول دونوں ہی مقداریت سے پاک ہوتے ہیں
**
ہمارا یقین ہے کہ نظام کائنات اپنے مادّی حجم میں ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا لیکن اس کے دوام کو خدا کے حوالہ کر کے اسے خدا کی مرضی قرار دینے کے لیے ہمارے پاس تسلی بخش ثبوت نہیں ہے۔
اس عالم موجودات میں مادہ صرف اپنی صورت بدل لیتا ہے۔ خدا کی مرضی اس دائمی تغیر میں نئی صورتوں کی تشکیل میں مصروف کار رہ کر ہی اس کا مقابلہ کر رہی ہے۔
انفرادی صورتیں گزرتی رہیں گی مگر ان کا وجود اصلی ختم نہیں ہوتا ہے۔ آئیڈیل صورت کو اصول تغیر سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
(
ہیئت جسمانی یعنی سر، سینہ، شکم، سرین یہ تمام جانداروں میں یکساں ہوتے ہیں۔ جانداروں کی اپنی شناختی صورتیں ختم ہوسکتی ہیں مگر ’صورت اصلی‘ ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ ڈائنا سار آج سے ۱۲ کروڑ سال پہلے اسی دنیا پر غالب تھے۔ اس کے بعد سے آج تک جانداروں کی صورت اصلی میں کوئی فرق نہیں ہوا۔ گرچہ ہمارے پاس اس کی ’نقلی صورت‘ بدل کر چھپکلی اور گھڑیالوں جیسی ہوگئی ہے۔ 
ہراقلیس نے کہا ہے کہ سورج ہر روز ایک نئی زندگی کی صورت لے کر ابھرتا ہے۔ گرچہ ہم اس کی بدنی شکل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے قاصر ہیں)۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL for Part-6: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-7/d/9668

 

URL for Part-8:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-8/d/9680

 

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-9/d/9699

 

URL for Part-10: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-10/d/9712

 

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-11/d/9728

 

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ12/d/9771

 

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-13/d/9820

 

Loading..

Loading..