New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 02:09 AM

Books and Documents ( 16 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 10

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

طوفان نوح کے آثار
اس طوفان کا قصہ حضرت ابراہیمؑ کے وقت سے پہلے لکھا گیا تھا۔ یہودیوں نے یہ قصہ بابل کے مظاہر پرستوں سے اخذ کیا اُر شہر میں کھدائی کے بعد جو آثار ملے ہیں ان کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ یہ واقعہ یا قصہ حضرت مسیح علیہ السلام سے ۲۸۰۰ سال قبل کا معلوم ہوتا ہے۔تقریباً آٹھ فٹ گہری کھدائی کے بعد ایک خالی جگہ کے ملنے کے بعد طوفان کے آثار ملے ہیں۔ یہ اُر کا مقام اسرائیل اور شام کے سمندر کے کنارے بہت قریب ہے۔ ڈسکوری چینل کے محققین کے مطابق بحر متوسط کے شمال مشرقی حصہ میں پوشیدہ ایک آتش فشاں کے پھٹ جانے سے ایک زبردست سمندری طوفان پیدا ہوا تھا، جس کی لہریں ستر اسّی فٹ اونچی اٹھی تھیں، جس کے نتیجے میں سمندری کنارے پر آباد بستیاں غرقاب ہوگئی تھیں۔ مذہبی کتابوں میں غالباً اسی واقعہ کو طوفان نوح کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ اسرائیل کے قریبی سمندر کی تہہ میں کچھ ایسے آثار ملے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ اس دور کے لوگ کھونٹوں سے اپنے جانوروں کو باندھتے تھے اور پتھر کی ناندوں میں انھیں کھانا دیا کرتے تھے۔
فلاطینوس کا مختصر تعارف
ورودِ اسلام اور نزولِ قرآن سے پورے تین سو سال قبل فلاطینوس اہل علم و بصیرت کی دنیا پر سایہ فگن تھا۔
اعلیٰ درجہ کے مفکرین کی زبان ان کی فکر کی نمائندگی مشکل الفاظ میں کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ لہٰذا اوسط درجہ کی فکری صلاحیت والے دماغوں کو انھیں سمجھنے اور قبول کرنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اعلیٰ فکری صلاحیت والے ہی ان کے خیالات کو سمجھتے ہیں اور انھیں اس بات کا شوق دامن گیر ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے علمی اور فکری بزرگوں کے خیالات کو سہل زبان میں بیان کر کے انھیں مقبول عام بنائیں۔
فلاطینوس نے انید لکھ کر یہی کام کیا ہے۔ اس کی کتاب کا یہی نام ہے۔ لفظ انید یونانی زبان میں ایک شماری عدد کا نام ہے جس کا مطلب ہے نہم یا نو۔ اس کتاب میں ۹ ابواب یا فصلیں ہیں۔ ان میں کائنات اور اس کے مادّے اس کی روح اور تخلیق و تشکیل اجسام، خیر کل، روح کل، مقداریت اور صفات وغیرہ کی تعریفیں بیان کی گئی ہیں۔ فلاطینوس نے سقراط کی اتباع کو تحصیل علم میں اپنا مسلک بنایا ہے۔ وہ ہر چیز کے بارے میں پہلے سوال کرنا اس لیے ضروری سمجھتا ہے کہ حقیقی طور پر ہر علم کسی نہ کسی سوال کا جواب ہی ہوتا ہے۔ فلسفہ کی دنیا میں جواب سے کہیں زیادہ اہمیت ایک مدلل جواب طلب سوال کو دی جاتی ہے۔ دنیا کو سوال کی مدد سے مدلل علم کے حصول کا سبق سب سے پہلے سقراط نے سکھایا جس کی قیمت اسے زہر کا پیالہ پی کر چکانی پڑی تھی۔ محکوموں اور مقلدین کی دنیا میں حاکم سے سوال کرنے کی قیمت اسی طرح ادا کرنی پڑتی ہے۔ 
فلاطینوس نے یہی نہیں کہ دائمی سوالوں کے معقول اور مدلل جوابات فراہم کرنے کی مخلصانہ کوششیں کرنے میں پوری عمر صرف کی، بلکہ اپنے شاگردوں اور بعد میں آنے والے طالبانِ علم کو سوال پیدا کرنے کی تہذیب بھی سکھائی ہے۔
میں نہیں سمجھتا ہوں کہ علم کی دنیا میں کسی اور نے ایسی کوئی مبارک محنت کی ہے۔ عیسائی، یہودی اور مسلمان علمائے دین و دنیا پر اس نے گہرے نقوش پیدا کردیے۔ مثلاً سینٹ آگسٹائن عیسائی دنیا میں اور اسلامی دنیا میں امام غزالی جیسے جلیل القدر علماء اس کے زیر اثر آنے سے آج بھی باوقار اور مقبول ہیں۔
میں نے کئی بار وقفہ وقفہ پر انید کو سمجھنے کی کوشش کی۔آج بھی یہ اعتراف کرنے میں قطعی سبکی محسوس نہیں کرتا کہ میں بہت اچھی طرح یا پوری طرح فلاطینوس کی فکر و بصیرت کو جذب نہیں کرسکا۔ بہت سے ایسی سطریں در پیش آتی رہی ہیں جن کی وضاحت کے لیے کوئی مددگار کہیں نہیں مل سکا۔
فلاطینوس نے جس طرح افلاطونی فکر کو عام کرنے کی کوشش کی ہے اسی طرح میرے اندر بھی یہ جذبہ پیدا ہوا کہ میں نے جو کچھ سمجھا ہے اسے لوگوں تک پہنچا کر فلاطینوس کو ان سے متعارف کراؤں۔ میں نے جو کچھ قلم بند کیا ہے وہ فلاطینوس کی عبارتوں کا لفظی ترجمہ نہیں ہے۔ لفظی ترجمہ میری محنت کو رائیگاں کر دے گا اسی اندیشہ کے تحت میں نے اپنی صواب دید اور محدود علم کی مدد سے اس کی ترجمانی کا مسلک اختیار کیا ہے۔ اپنی اس تصنیف ’تلاش حق کیوں؟‘ کا اسے ایک اہم حصہ بنا کر مجھے خوشی ہوئی۔ امید ہے قارئین کو اسے پڑھ کر فلاطینوس کی فکری عظمت کا احساس ضرور ہوگا۔ 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL for Part-6: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-7/d/9668

 

URL for Part-8:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-8/d/9680

 

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-9/d/9699

 

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-10/d/9712

 

 

Loading..

Loading..