certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (28 Dec 2009 NewAgeIslam.Com)



عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط 48

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم  کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا  جائے گا۔ایڈیٹر

 

مثلاً کہا کہ مجھے اس طرح ایک غیر معمولی خرچ پیش آگیا ہے۔ تم اپنا زیور دوتو میں رہن رکھ کر روپیہ لے لوں۔ اس سے یہ مقصود ہوتا ہے کہ دیکھیں بیوی ہماری ضرورت کا کہاں تک خیال رکھتی ہے اور ہماری تکلیف کا دور کرنا زیور پہننے پر مقدم رکھتی ہے یا نہیں ۔ اس قسم کی آزمائش ہر گز مناسب نہیں نہ مرد کو عورت کے ساتھ، نہ عورت کو مرد کے ساتھ ۔ہمیشہ حسن ظنی سے کام لینا چاہئے ۔

5۔ میاں بیوی میں اگر اتفاقاً کوئی نا چاقی پیدا ہوجائے اور شوہر بیوی پر خفا ہو یا غہد کے الفاظ سے کام لے تو اس بات کا خیال چاہئے کہ دیگر مستورات کے سامنے اس طرح نہ کیا جائے۔ بلکہ تنہائی میں جو چاہئے کہے سب کے روبرو کہنے سے بیوی کی وقعت میں فرق آتا ہے اوراس کو اپنے ہم چشمو میں خفت اٹھانی پڑتی ہے ، جس کا اس کو ہمیشہ رنج رہتا ہے ۔ گھر میں جو مائیں یا انائیں ملازم ہوتی ہیں ان سے آرام یا تکلیف خود مستورات کو ہی زیادہ پہنچتی ہے اور گھر کی بیوی کے ہاتھ پاؤ ہوتے ہیں جن سے وہ کام لے کر اپنے شوہر کو آرام پہنچاتی ہیں پس کسی خادمہ کو رکھنے یا موقوف کرنے پر مردہ کو کوئی اصرار مناسب نہیں ہے۔ کسی خاص خادمہ کی طرفداری کرنے سے بیوی کو ضرور کچھ نہ کچھ شبہ شوہر پر ہوتا ہے جس کا پیدا ہونا اچھا نہیں ہے ایسی عورتیں شاذ ونادر ہیں کہ شوہر پر ایسی بدظنی سے بچیں یہ بدظنی کی عادت خود مردوں کے چال چلن نے پیدا کی ہے جس کا خمیازہ کچھ زمانہ تک ہم کو صبر سے بھگتنا چاہئے۔

7۔ایک بڑا بھائی سبب ناموافقت زوجین کا یہ ہوتا ہے کہ شوہر وزوجہ اپنے اپنے اقربا کے ساتھ تعلق اعتدال سےنہیں رکھتے اور بلکہ رکھنا بھی نہیں چاہتے ۔مثلاً  بیوی چاہتی ہے کہ شوہر اپنے سب عزیزوں کو میری خاطر چھوڑ دے اسی طرح شوہر چاہتا ہے کہ بیوی جو کچھ دل میں محبت رکھتی ہے سب کچھ مجھ پر خرچ کرے۔ اس کے دل میں کسی دوسرے کی جگہ نہ ہومگر یہ خواہشیں ناجائز اور خلاف فطرت ہیں ہر شخص کا ہر عزیز کے ساتھ جدا جدا تعلق اور جدا جدا حقوق ہیں اور تلف کئے جاسکتے ہیں اس کا امتحان زوجین اپنی اپنی حالت میں خود کرلیں۔ مثلاً بیوی اگر اپنی نند سے ناراض ہے اور یہ چاہتی  ہے کے شوہر اپنی ہمشیرہ سے قطع تعلق کردے تو اس کو سوچنا چاہئے کہ اگر ایسی ہی فرمائش شوہر مجھ سے کرے تو کیا میں اپنی بہن کو چھوڑ دوں گی۔ اگر وہ اپنی بہن کو نہیں چھوڑ سکتی تو شوہر اپنی بہن کو کس طرح چھوڑ دے گا۔

یہ اصول تقریباً سب جگہ کام آتا ہے اور اگر فریقین نزاع اس بات کو مدنظر رکھا کریں کہ وجوہات ہم دوسروں سے چاہتے ہیں اگر اسی ہی حالت میں ہم سے یہ بات چاہیں تو ہم بھی منظور کرسکتے ہیں یا نہیں تو کوئی نزاع طول نہ پکڑ ے اور ہر رنجش کا بآسانی فیصلہ ہوجایا کرے۔

8۔شوہر وزوجہ میں کسی امر یا عادت کی ناپسند یدگی پر جورنجش پیدا ہوتی ہے تو بعض اوقات مرد یہ کہہ اٹھتا ہے کہ اگر ہم ایسے تھے تو تم نے ہم سے نکاح ہی کیوں قبو ل کیا تھا۔ اور اسی طرح عورت کہہ دیتی ہے کہ مجھ سے نکاح کیوں کیا تھا۔ میں نے کب آپ کی منت کی تھی ۔کسی اور اچھی عورت سے نکاح کیا ہوتا  ۔ یہ طعن نہایت غیر مہذب او رنہایت گنواری بات ہے میاں بیوی میں ایسے طعنے ہر گز درمیان میں نہیں آنے چاہئیں ۔ ایسے میاں بیوی ملنے مشکل ہیں جن کے مزاج میں ذرا بھی اختلاف نہ ہوتب خوب چھان بین کر کے بھی نکاح کیا جاتا ہے تو اتنی حاصل ہوتی ہے کہ جو اہم صفات شوہر کو مطلوب ہوتی ہیں اس صفات کی بیوی مل جاتی ہے اور اسی طرح جو اہم صفات زوجہ کو مطلوب ہوتی ہیں ان صفات کا شوہر مل جاتا ہے۔ مگر ان مطلوبہ صفات کے ملنے       پر بھی بہت سی صفات ایسی ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کو پسند نہیں ہوتیں ۔ ان کی نسبت یہ امید کرلی جاتی ہے کہ چونکہ اصول مزاج میں اتفاق ہے اس لئے یہ جزوی اختلاف کچھ عرصہ بعد مزاج شناسی ہونے پر دور ہوجائیں گے لیکن جب یہ اختلاف دور نہیں ہوتے تب کبھی بھی خفیف ساملال پیدا ہوجایا کرتا ہے جس پر یہ کہنا کہ ہم ایسے تھے تو نکاح کیوں کیا نہایت ہی بیہودہ اور ذیلا نہ جواب ہے۔

9۔ اگر شوہر ایسا ہو کہ اس کی پہلی بیوی مرگئی ہو اور اب از دواج ثانی کیا ہوتو اس کو لازم ہے کہ اپنی زوجہ ثانی کے روبرو اپنی پہلی زوجہ کی تعریف کبھی نہ کرے زوجہ ثانی کو زو جہ اول کی تعریف سننا ہمیشہ ناگوار ہوتاہے شاید شوہر کی خاطر سے سن کر چپ ہورہیں لیکن ہم نے یہ تو کبھی نہیں پایا کہ زوجہ ثانی باوجود جاننے اس بات کے کہ زوجہ اول اچھے اوصاف (جاری) کی عورت تھی کبھی اپنے منہ سے اس کی تعریف کرے۔ ہم امتی تو کس شمار میں ہیں یہی جھیکنا سرورعالم کی ازواج مطہرات میں پڑا رہتا تھا۔ حضرت خدیجہ کی درد مندانہ خدمت گزاری اور دلی محبت اس درجہ کی تھی  کہ جناب رسول خدا ا سکو بھول نہ سکتے تھے اور ہمیشہ احسان مندی کے ساتھ اس کو یاد کیا کرتے تھے۔ مگر جناب حضرت عائشہ صدیقہ حضرت خدیجہ کی تعریف سن کر جل بھن جاتی تھیں او ر کہتیں کہ آپ اس بڑھیل کی کیا تعریف کیا کرتے ہیں جس کے منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت ۔عورتوں میں ان خیالات کا ہونا تعجب کی بات نہیں ۔ نہ محل شکایت ، مردوں کو اپنے نفس پرغور کرنا چاہئے کہ اگر وہ کسی بیوہ سے ازدواج کریں اور وہ شوہر جدید کے روبرو شوہر اول کی تعریف کرے۔ (جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط--48/d/2293


 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content