certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (17 Nov 2018 NewAgeIslam.Com)



Significance of Mawlid Nabi In Islam جشن میلاد النبی کی شرعی حیثیت

 

کنیز فاطمہ، نیو ایج اسلام

نثار تیری چہل پہل پر ہزا عیدیں ربیع الاول

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں

میلاد النبی کی آمد آمد ہے ماہ ربیع الاول اپنے نام کے لحاظ سے ہر پل ہر سو خوشیاں اور بہار برسائے ہوئے ہے اور کیوں نہ ہو تشریف آوری جو جان بہار کی ہے کیوں بہار کا وجود بھی ظہور سرکار کا محتاج تھاجیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود حضور کو مخاطب کر کے فرما یا محبوب ‘‘لو لاک لما خلقت الافلاک و الارضین ’’ لہٰذا  جب زمین و آسمان ہی نہ ہوتے تو  خزاں و بہار ، شمس و قمر ، برق و ثمر اور دیگر موجودات کہاں ہوتے ۔

اس لیے ہر عقلمند کو تو اس حدیث قدسی سے ہی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ آمد رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے کتنی مسرت و شادمانی کا سبب ہے ویسے بھی کسی ایک نعمت کے حصول سے ہی کبھی ہم اتنے خوش ہو جاتے ہیں کہ اس کے پیچھے اس کی پیدائش پر اور نہ صرف پیدائش کے دن بلکہ ہر سال گرہ پر نہ جانے کتنےپیسے بلا حساب پانی کی طرح بہا دیتے ہیں جبکہ اس کا قرآن نے یوں تعارف کروایا  ہے ‘‘المال و البنون فتنۃ ’’ یعنی مال  اور اولاد دونوں فتنہ ہیں ان دونوں کی محبت میں آکر بہت سے لوگ اکثر اپنے ایمان تک کو کھو دیتے ہیں ۔

لیکن اس نعمت عظمیٰ پر خود خالق کائنات اس آیت کو نازل فرما کر تمام عالم کو یہ درس دے رہا ہے کہ یہ نعمت ان کی سب دولت سے بہتر ہے۔ ‘‘ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ’’۔

(ترجمہ) تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ، اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں، وہ ان کی سب دولت سے بہتر ہے۔

سورۃ یونس آیت۵۸                          

مفسرین کرام  جیسے علامہ ابن جوزی ، امام جلال الدین سیوطی، علامہ محمود آلوسی اور دیگر نے مذکورہ آیت مقدسہ کی تفسیر میں فضل اور رحمت سے نبی کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔

اب جب ہم نے سرکار کو دوعالم ﷺ کے بارے میں یہ جان ہی لیا ہے کہ آپ ہی ہمارے لئے سب بڑی نعمت ہیں تو پھر اس نعمت کی ولادت کو بھلا دھوم دھام سے کیوں نہ منائیں اسے ہی عیدوں کی عید کیوں نہ مانیں خواہ وہ چودہ سو سال پہلے کی ولادت کا دن ہو یا ہر ربیع الاول کی بارہویں تاریخ ہو جیسا کہ اس آیت مبارکہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔‘‘ اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنْکَ۔’’

(ترجمہ) اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی ۔

سورۃ المائدہ آیت۱۱۴                           

اس آیت  پر عمل کرتے یہود ونصاریٰ آج  تک اس دن کو عید کا دن سمجھ کر خوشیاں مناتے ہیں  جب کہ ایک خوان نازل ہوا تھا اور ہم بھلا اس دن کو عید کا دن سمجھ کر شرک کیسے کر سکتے ہیں جن کی ذات با برکات خود سبب نزول قران ہوئی جو شب لیلۃ القدر سے بھی افضل ہے۔

شب میلاد رسول خدا ﷺ لیلۃ القدر سے بھی افضل ہے:

جس کے اوصاف جمیلہ کے ذکر اور خلق عظیم کو بیان کرنے والی کتاب کے اترنے سے رمضان کو اتنی فضیلت ملی کہ اس  کی صرف ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ٹھہری تو اس ماہ مقدس یعنی ربیع الاول کی عظمت و فضیلت کا کیا عالم ہو گا جس کو صاحب کتاب کے ماہ میلاد ہونے کا شرف حاصل ہے۔  جس رات یہ کلام الٰہی یعنی ذکر خلق عظیم اترا، اللہ تعالیٰ نے اس رات کو قیامت تک انسان کے لیے لیلۃ القدر کی صورت میں بلندی درجات اور شرف نزول ملائکہ سے نوازا اور فرمان خداوندی ہے کہ:

لَيْلَۃُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ

لیلۃ القدر ہزار راتوں  سے بھی بہتر ہے۔

تو جس رات صاحب قرآن یعنی مقصود و محبوب کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ورود ہوا اور اس زمین و مکاں کو ابدی رحمتوں اور لا زوال سعادتوں سے منور فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی کتنی قدر و منزلت ہو گی ۔شب قدر کو یہ رتبہ نزول قرآن کی وجہ سے ملاجوکہ صاحب قرآن کی سیرت اور خصوصیت کو بتاتا ہے اور اس ماہ مبارک میں خود صاحب قرآن کی ولادت ہوئی ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو نہ قرآن ہوتا اور نہ ہی شب نزول قرآن لہٰذا  شب میلاد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شب قدر سے بھی افضل ہے۔ ہزار مہینوں سے افضل کہہ کر باری تعالیٰ نے شب قدر کی فضیلت کی حد مقرر فرما دی جبکہ شب میلاد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی فضیلت زمان و مکان کے اعتبار سے نا محدود و بے حساب ہے۔امام قسطلانی ، امام زرقانی اور امام نبہانی

نے بہت صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ سب راتیں فضیلت والی ہیں مگر شب میلادرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سب سے افضل ہے۔

طریقہ میلاد سنت یا بدعت ؟

میلاد منانا اس میں شریک ہونا ایمان کی علامت ہے اور اس کا ثبوت قرآن مجید ، احادیث شریفہ اور اقوال بزرگان دین سے ملتا ہے۔ ‘‘لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُوْمِنِیْنَ رَؤُوْفٌ الرَّحِیْم۔’’

(ترجمہ) بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے۔ تمہاری بھلائی کے بہت چاہنے والے ہیں اور مسلمانوں پر کمال مہربان۔

۱۲۸سورہ توبہ

اس آیت کریم کو بغور دیکھنے سے طریقہ میلاد ہمیں سنت الٰہیہ نظر آتا ہے نہ کہ متعصبین کی طرح بدعت اس لئے کہ اس ابتدائی حصہ میں اللہ رب العزت نے آپ کی میلاد کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد نسب کا کہ تم میں سے ہی ہے پھر صفت بیان کیا بالکل اسی طرح میلادی بھی آپ کی آمد آمد کی خوشی میں جشن مناتے ہیں اور تعریف و توصیف کرتے ہیں خوشیاں بانٹتے اور خوش رہتے ہیں حکم خدا کی بجاآوری اور  محبت محبوب خدا میں شرشار ہو کر اپنے ایمان کو جلا دیتے ہیں ۔ جس میں نہ کچھ بدعت ہے اور نہ ہی خلاف شریعت ۔

ولادت کی خوشی میں خرچ کیے ہوئے کی فضیلت :

ابو لہب مشہور کافر اور سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا رشتے میں چچا بھی تھا ۔ جب رحمۃ للعالمین کی ولادت مبارک ہوئی تو ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے آپ کی ولادت با سعادت کی خوش خبری اپنے مالک ابو لہب کو سنائی، تو ابو لہب نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی کو آزاد کر دیا۔

جب ابو لہب مر گیا تو کسی نے خواب میں دیکھا اور حال دریافت کیا۔ تو اس نے کہا کہ کفر کی وجہ سے دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہوں مگر اتنی بات ہے کہ ہر پیر کی رات میرے عذاب میں کمی ہوتی ہے اور جس انگلی کے اشارے سے میں نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا تھا اس سے مجھے پانی ملتا ہے جب میں انگلی چوستا ہوں۔

ابن جوزی نے لکھا ہے کہ جب ابو لہب کافر ( جس کی مذمت میں سورہ لہب نازل ہوئی ) کو یہ انعام ملا تو بتاو اس مسلمان کو کیا صلہ ملے گا جو اپنے رسول کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی منائے گا۔

اس کی جزاء خداوند کریم سے یہی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل عمیم سے اسے جنت النعیم میں داخل فرمائے گا اور اس پہلے ساری امت مسلمہ کو حق سیکھنے سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/kaniz-fatma,-new-age-islam/significance-of-mawlid-nabi-in-islam--جشن-میلاد-النبی-کی-شرعی-حیثیت/d/116902

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-   6


  • ہم کسی کو مجبور نہیں کرتے کہ وہ میلاد النبیﷺ کو مانیں یا اسکا انعقاد کریں۔ یہ تو اپنی اپنی قسمت ہے۔ لیکن اگر تم نے ہمیں عید میلاد النبیﷺ منانے پر مشرک یا بدعتی کہا تو پھر ہم تمکو قبر تو کیا حشر تک نہیں چھوڑیں گے۔ ہم رسول پاک ﷺ کے غلام ہیں سمجھ لو اس بات کو۔ نبیﷺ کا غلام پکا توحید پرست ھوتاہے مشرک یا بدعتی ھو ہی نہی سکتا۔ تمہارے جھوٹ اور بہتان کے جواب میں ہمیں سچ کا دفاع کرنا ھو تا ہے۔
    We do not force anyone to celebrate our Prophet's (peace be upon him) birthday. Its your choice. But when someone calls us Pagan (Mushrik) Innovator (Bidatee) because we love to celebrate the birth of our prophet (pbuh) then we will expose and oppose that person until his grave and also on the Judgement Day. We are the servants of Prophet Muhammad (peace be upon him). We cannot be Mushrik OR Bidatee. We have to defend the truth against the lies and false accusations. Stop the hate and lies.

    By Syed Soharwardy - 11/18/2018 7:34:08 PM



  • The Saudi hate towards Eid Milad un Nabi ﷺ is the root cause of extremism & intolerance among some Muslims. Those Muslims who celebrate Eid Milad un Nabi ﷺ (Prophet Muhammad's (pbuh) Birthday) the Saudi Clergy and their followers call them pagans (Mushrik), Innovators (Bid'atee). This is where the division among Muslims starts. This is what creates extremism, intolerance and violence towards fellow Muslims which spreads out towards non-Muslims as well. This is the starting point of ISIS, Taleban, AlQaedah, Al Shabab, Lashkar Taibah, Lashkar Jhangvi, Boko Haram, etc.. All these terrorists are the followers of Saudi Clergy. But all Western countries including my country Canada is selling lots of weapons to Saudi Arabia. Saudi Arabia is still exporting Wahabism. No one dare to stop it. Insha Allah we will do everything in our power to expose and oppose these hate mongers.
    By Syed Soharwardy - 11/18/2018 5:55:34 PM



  • Mohammad Shabbir:
    سوال ارباب افتاء وقضاء سے
    _____________________
    جس طرح شہادت ہلال سلسلے میں 'ٹی وی' ویڈیو' تصویر' موبائل فون کالینگ' موبائل ویڈیو کالینگ' اوڈیو تقریری اعلان یہاں تک کہ لیٹر پیڈ بذریعہ میڈیا جو وائرل کیا جاتا ہے'یہ سب جدید ذرائع دلیل شرعی کے طور پر نہ مقبول و محمود نہ قابل اعتماد ہو تا ہے تو کیا کسی پر حکم کفر جیسا عظیم فتوی لگانے کیلئے یہ سب دلیل شرعی بن سکتا ہے؟اگر بن سکتا ہے تو انکے لئے کن کن شرائط سے گذرنا ہوگا؟اور جو مفتیان کرام حضرات کسی کی صرف ویڈیو دیکھکر کسی کی صرف تقریر سن کر کسی کی صرف تصویر دیکھکر کسی کی صرف  موبائل کالینگ رکارڈینگ سن کر کسی کی صرف موبائل کالینگ ویڈیو سن کر حکم کفر لگادیں نہ صاحب معاملہ سے اسکی تصدیق کرے نہ تحقیق کرے اور کفر و فسق وفجور وغیرہ کا حکم لگا دے تو ایسے مفتیوں پر کیا ہوگا؟ اور جو حضرات لوگوں کو اعتماد دیلانے کیلئے کسی کی ویڈیو خوب عام کرے تصویریں خوب عام کرے کسی کی ویڈیو نیٹ پر خوب تلاش کرے اور پھر اسکو لوڈ کرکے  میڈیا میں خوب پھیلائے ایسے لوگوں پر کیا حکم 
    ہے 
    سائل محمد کلیم رضا/

    By محمد کلیم رضا - 11/17/2018 7:57:54 AM



  • میرا سوال یہ ہے کہ ‘‘النعمۃ الکبری علی العالم فی مولد سید ولد آدم ’’ کیا واقعی علامہ ابن حجر ہیتمی علیہ الرحمہ کی ہے ؟

    یا کسی نے اس کتاب کو ان کی طرف منسوب کرد یا ہے ؟

    سوال یہ ہے کہ انتساب درست ہے کہ نہیں؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں


    By Khalid - 11/17/2018 3:36:48 AM



  • شفا شریف کی روشنی میں یہ واضح کردیں کہ علامہ نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ کی مذکورہ تفسیر اور شفا شریف میں کی عبارت میں بظاہر تضاد اس میں کیسے  مطابقت ہوگی ؟


    By Bassam Shafi - 11/17/2018 3:34:12 AM



  • ھاروت اور ماروت کا جو یہ واقعہ مشہور ہے کہ ان سے بد فعلی ہوئ جس کی سزا میں ان کو بابل کے کنویں میں لٹکا یا گیا حالانکہ دونوں فرشتے تھے جیسا کہ تفسیر نعیمی میں درج ہے یہ سب باتیں معتبر ہے یا نہیں اور دیگر تفسیر وں سے اس کو ثابت فرما کر شکریہ موقع فراہم کریں –

    ایک جگہ میں نے جواب میں پڑھا

             صورت مستفسرہ میں سیدی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تعلیمات اسلاف کرام کی روشنی میں یوں تحریر فرمایا ہے :

    قصہ ہاروت وماروت جس طرح عام میں شائع ہے ائمہ کرام کو اس پرسخت انکارشدید ہے، جس کی تفصیل شفاء شریف اوراس کی شروح میں ہے، یہاں تک کہ امام اجل قاضی عیاض رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا:

    ھذہ الاخبار من کتب الیھود وافتراأتھم۔

    یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اوران کی افتراؤں سے ہیں۔ ان کوجن یاانس ماناجائے جب بھی درازی عمرمستبعدنہیں۔ سیدناخضروسیدناالیاس وسیدناعیسٰی صلوات ﷲ تعالٰی وسلامہ علیہم انس ہیں اورابلیس جن ہے۔

     الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی، فصل فی القول فی عصمۃ الملائکۃ، المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ،۲/ ۱۷۰

    اورراجح یہی ہے کہ ہاروت وماروت دوفرشتے ہیں جن کو رب عزوجل نے ابتلائے خلق کے لئے مقررفرمایاکہ جو سحرسیکھناچاہے اسے نصیحت کریں کہ :انما نحن فتنۃ فلاتکفر۔ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔ 📚 القرآن الکریم،۲/ ۱۰۲

    اورجونہ مانے اپنے پاؤں جہنم میں جائے اسے تعلیم کریں تووہ طاعت میں ہیں نہ کہ معصیت میں۔

    بہ قال اکثرالمفسرین علی ماعزاالیھم فی الشفاء الشریف۔

    اکثرمفسرین نے یہی کہاہے جیساکہ شفاشریف میں ان کی طرف منسوب ہے(ت)

     الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی، فصل فی العقول فی عصمۃ الملائکۃ، المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۱۷۱ (📘بحوالہ فتاویٰ رضویہ ،کتاب الفرائض، جلد ٢٦، صفحہ نمبر ٣٩٥)) والله و رسوله عزوجل و ﷺ أعلم بالصواب

    برائے کرم کیا بہتر ہے ضرور جواب عنایت فرمائیں


    By Bassam Shafi - 11/17/2018 3:31:49 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content