certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (22 Jan 2014 NewAgeIslam.Com)



History of Namaz in Islam: Friday Namaz (17) (اسلام میں نماز کی تاریخ - نمازِ جمعہ (17

 

ناستک درانی ، نیو ایج اسلام

22 جنوری، 2013

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قباء سے جمعہ کی صبح مدینہ جانے کا قصد کیا تو راستے میں بنی سالم بن عوف کی ایک وادی جسے وادی رانونا کہا جاتا ہے جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا، یہ اسلام میں پہلا جمعہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا، اس جمعہ میں آپ نے خطبہ فرمایا جو آپ کا سب سے پہلا خطبہ تھا 1، اس طرح یہ آپ کی سب سے پہلی نمازِ جمعہ تھی جو آپ نے قائم فرمائی، یہ جمعہ آپ کے مدینہ داخل ہونے سے پہلے ہجرت کے پہلے سال پڑھایا گیا اور اس موقع پر آپ کا خطبہ اسلام میں جمعہ کا پہلا خطبہ تھا۔

نماز جمعہ کے آغاز کے حوالے سے روایات یہی کہتی ہیں، کچھ دیگر روایات بتاتی ہیں کہ حضرت اسعد بن زرارۃ رضی اللہ عنہ اپنے دوستوں کے ساتھ مربد میں نماز پڑھا کرتے تھے جو بغیر چھت کے ایک دیوار تھی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل اپنے دوستوں کو جمعہ کی نماز کے لیے جمع کرتے تھے 2، یہ بھی مروی ہے کہ مدینہ میں انصار اسعد بن زرارہ کے ہاں جمع ہوئے، ان کی کنیت ابو امامہ تھی، اور کہا: چلو ایک دن مقرر کریں جس میں ہم جمع ہوں اور اللہ کو یاد کریں اور نماز پڑھیں، یہودیوں کا ہفتہ ہے، نصاری کا اتوار ہے، تو تم اسے عروبہ کا دن بنا لو، چنانچہ اسعد بن زرارہ نے اس دن ان سب کو دو رکعت نماز پڑھائی اور انہوں نے اس دن کا نام جمعہ رکھ دیا کیونکہ وہ اس دن جمع ہوئے تھے اور اللہ تعالی نے اس پر جمعہ کی آیت نازل فرمائی، چنانچہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد سے قبل اسلام کا پہلا جمعہ تھا 3۔

ایک اور خبر میں ہے کہ عبد الرحمن بن کعب بن مالک نے کہا کہ: جب میرے والد کی بینائی جاتی رہی تو (نمازِ جمعہ) کے لیے میں اپنے والد کی رہنمائی کرتا تھا، جب میں ان کے ہمراہ جمعہ کے لیے نکلتا اور وہ جمعہ کی اذان سنتے تو ابو امامہ اسعد بن زرارہ کے لیے بخشش کی دعا کرتے، چنانچہ جب میں یہ سنتا رہا تو میں نے (دل میں) کہ کہ یہ بڑی نکمی سی بات ہے کہ میں اس بارے میں کچھ دریافت نہ کروں، پھر میں حسبِ عادت ان کے ہمراہ (جمعہ کے لیے) نکلا تو جب انہوں نے جمعہ کی اذان سنی تو حسبِ معمول اس کے لیے استغفار کیا، میں نے عرض کیا آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں آخر اس کا سبب؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے، اسعد پہلا آدمی تھا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل مدینہ کے (علاقہ) میں حرہ بن بیاخہ کے ویرانے میں جمعہ پڑھایا جو ایک بقیع (قبرستان) میں واقع تھا اور جسے بقیع خضمات کہتے تھے، میں نے پوچھا آپ لوگ ان دنوں کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا کُل چالیس آدمی 4۔

اور مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جمعہ کے بعد اسلام کا پہلا جمعہ بحرین میں عبد القیس کے ایک گاؤں میں ہوا تھا 5۔

ابن سعد نے نمازِ جمعہ کے آغاز پر ایک اور روایت سند کے ساتھ بیان کی ہے جس میں آیا ہے کہ: مصعب بن عمیر انصار کے پاس جاتے اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے اور ان پر قرآن کی تلاوت کرتے تا آنکہ اسلام ظاہر ہوگیا اور انصار میں پھیل گیا ما سوائے حطمہ، وائل اور واقف کے، مصعب انہیں قرآن پڑھاتے اور سکھاتے تھے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھ کر انہیں جمع کرنے کی اجازت طلب فرمائی تو آپ نے اجازت دے دی اور لکھا: جس دن یہود اپنے ہفتہ کی عبادت کریں تو جب سورج غروب ہوجائے تو اللہ کے لیے دو رکعات پڑھو اور ان سے خطاب کرو، چنانچہ مصعب بن عمیر نے انہیں سعد بن حیثمہ کے گھر جمع کیا، وہ بارہ لوگ تھے اور ان کے لیے ایک بھیڑ ذبح کی چنانچہ انہوں نے اسلام میں سب سے پہلے جمعہ جمع کیا 6۔

ایک اور روایت بھی انہوں نے نقل کی ہے جسے انہوں نے ”عطاء سے ابن جریج“ سے منسوب کیا ہے، کہتے ہیں: مدینہ میں سب سے پہلے بنی عبد الدار کے ایک آدمی نے لوگوں کو جمع کیا: کہا: میں نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے، کہا: ہاں، وہ کون تھا؟ سفیان نے کہا: وہ کہتے ہیں وہ مصعب بن عمیر تھا 7۔

ایک اور روایت ہے کہ: مصعب بن عمیر اوس اور خزرج کی امامت کرتے تھے کیونکہ آپس کی نفرتوں کی وجہ سے انہیں ایک دوسرے کی امامت سے نفرت تھی، مصعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد سے قبل اسلام کا پہلا جمعہ جمع کیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں جمعہ قائم نہ کر سکے تھے، لہذا آپ نے انہیں مدینہ میں اسے قائم کرنے کا حکم دیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب کو لکھا: اس دن کو دیکھو جس میں یہود اپنے ہفتہ کے لیے جہر کرتے ہیں، یعنی جس دن کے بعد ہفتہ کا دن آتا ہے، تو اپنی عورتوں کو اکٹھا کرو، اور جب دن آدھا ہوجائے تو اللہ سے دو رکعت پڑھ کر قرب حاصل کرو، تو زوال کے وقت مصعب بن عمیر نے لوگوں کو جمع کیا، یعنی انہیں جمعہ پڑھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تک یہ سلسلہ چلتا رہا 8۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ: مشہور یہ ہے کہ سب سے پہلے لوگوں کو اسعد بن زرارۃ رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا، اس میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ابی امامہ اسعد بن زرارۃ کے پاس تھے اور وہ جمعہ کی اقامت میں معاون تھے، اگر حضرت اسعد بن زرارۃ نہ ہوتے تو وہ اسے قائم نہ کر پاتے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ خطیب وامام حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے اسی لیے جمعہ کی اقامت کبھی ان سے منسوب ہوئی تو کبھی اُن سے، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جمعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بغیر اپنے اجتہاد سے قائم کیا جوکہ غلط اور مردود ہے 9۔

مندرجہ بالا توجیہ دونوں روایتوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے، اہل مدینہ کی روایت جو نمازِ جمعہ کی اقامت کو حضرت اسعد بن زرارۃ رضی اللہ عنہ سے منسوب کرتی ہے جو یثرب کے سادات میں سے تھے، اور اہلِ مکہ کی روایت جو نمازِ جمعہ کی اقامت کو حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے منسوب کرتی ہے جو انہی میں سے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر شہر کے لوگ اپنے اپنے شہر کے لیے متعصب تھے اور چاہتے تھے کہ نمازِ جمعہ کی اقامت کی فضیلت ان کے حصہ میں آئے، اسی طرح انہوں نے دیگر کئی امور پر تعصب سے کام لیا کیونکہ ان امور کی اسلام میں بڑی فضیلت ومنزلت تھی۔

سورہ جمعہ میں نمازِ جمعہ کی طرف اشارہ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ (ترجمہ: مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو) 10، سورہ الجمعہ مدنی سورت ہے، آیت کے نزول کی وجہ یہ تھی کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آیا جس کی سربراہی دحیہ بن خلیفہ الکلبی یا کوئی اور کر رہا تھا، یہ قافلہ تیل یا کھانے کا سامان لایا تھا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ فرما رہے تھے، جب لوگوں کو قافلہ کی خبر ہوئی تو اس ڈر سے کہ کہیں کوئی اور ان سے پہلے نہ پہنچ جائے اور مال فروخت ہوجائے وہ خاموشی سے اٹھ کر جانے لگے حتی کہ ان میں سے صرف بارہ مرد وعورتیں ہی باقی رہ گئے، جب قافلے آتے تھے تو ان کا استقبال ڈھول اور تالیاں بجا کر کیا جاتا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ نمازی چلے گئے تو ان پر سخت ناراض ہوئے اور ان کے حق میں جمعہ کے وقت خرید وفروخت ترک کرنے کی آیت نازل ہوئی: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ۚ قُلْ مَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ۚ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ (ترجمہ: اور جب یہ لوگ سودا بکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں اور تمہیں (کھڑے کا) کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ کہہ دو کہ جو چیز خدا کے ہاں ہے وہ تماشے اور سودے سے کہیں بہتر ہے اور خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے) 11۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر چڑھتے تھے تو سلام کرتے تھے، جب بیٹھ جاتے تھے تو مؤذن اذان کہتا تھا، آپ دو خطبے پڑھا کرتے تھے، دو جلسے کیا کرتے تھے، اپنی انگلی سے اشارہ کیا کرتے تھے اور لوگ آمین کہا کرتے تھے، جمعہ کے روز آپ اپنے عصا پر جو درخت شوحط کا تھا (درخت شوحط سرو کی شکل کا ایک پہاڑی درخت ہے جس کی لکڑی کی کمانیں بنائی جاتی تھیں) تکیہ لگا کر خطبہ پڑھا کرتے تھے، دورانِ خطبہ لوگ اپنے چہرے آپ کے رو برو رکھتے تھے اور اپنے کان لگا دیتے تھے، آنکھوں سے آپ کو دیکھا کرتے تھے، جب آفتاب ڈھل جاتا تب آپ نمازِ جمعہ پڑھاتے تھے، آپ کی ایک یمنی چادر تھی جو چھ ہاتھ لمبی اور تین ہاتھ اور ایک بالشت چوڑی تھی، عمان کی بنی ہوئی ایک تہمد تھی جس کی لمبائی چار ہاتھ اور ایک بالشت تھی، جمعہ وعید کے روز آپ ان دونوں کو استعمال فرماتے تھے پھر تہ کر کے رکھ دی جاتی تھیں 12۔

حوالہ جات:

1- الطبری 349/2 دار المعارف، تفسیر النیسابوری 66/28 تفسیر طبری پر حاشیہ، ابن قیم الجوزیۃ، زاد المعاد 99/1، طبقات ابن سعد 236/1، ابن سید الناس، عیون الاثر 194/1۔

2- طبقات ابن سعد 239/1۔

3- تفسیر النیسابوری 66/28، تفسیر طبری پر حاشیہ۔

4- ابن قیم الجوزیہ، زاد المعاد 99/1۔

5- تفسیر النیسابوری 66/28، تفسیر طبری پر حاشیہ۔

6- طبقات ابن سعد 119/3۔

7- طبقات ابن سعد 119/3۔

8- سیرۃ ابن دحلان 305/1، السیرۃ الحلبیۃ پر حاشیہ۔

9- سیرۃ ابن دحلان 305/1۔

10- سورہ الجمعہ آیت 9۔

11- سورہ الجمعہ کی آیت 9 اور اس سے آگے، تفسیر الطبری 66/28، تفسیر النیسابوری 68/28، تفسیر الطبری پر حاشیہ، تفسیر ابن کثیر 366/4، الواحدی: اسباب النزول صفحہ 320، مسند الامام ابی حنیفہ 73، عقود الجواہر 27/1، آثار السنن 88/2، تیسیر الوصول 182/1۔

12- طبقات ابن سعد 250/1 ”صادر“۔

URL for Part 1:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam--part-1-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(1/d/14330

 

URL for Part 2:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-2-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-(2/d/34490

 

URL for Part 3:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam-part-3--(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ-–-نماز-کی-شکل-اور-با-جماعت-نماز-(3/d/34528

 

URL for Part 4:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-4--(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-کے-اوقات-اور-ان-کی-تعداد-(4/d/34567

 

URL for Part 5:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--part-5-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---اسلام-میں-نماز-(5/d/34616

 

URL for Part 6:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam-ناستک-درانی/history-of-namaz-in-islam--part-6-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---اسلام-میں-نماز--(6/d/34778

 

URL for Part 7:

http://newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam-part-7--performing-tahajjud-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---رات-كا-قيام-(7/d/34836

URL for Part 8:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namza-in-islam-(part-8)--namaz-of-two-reka-ats-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---دو-رکعت-کی-نماز-(8/d/34896

 

URL for Part 9:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam--ناستک-درانی/history-of-namza-in-islam-(part-9)--first-ever-offered-namaz--(اسلام-مں--نماز-کی-تاریخ---پہلی-نماز۔-حصہ-(9/d/34960

 

URL for Part 10:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namza-in-islam-(part-10)--namaz-of-a-traveller-and-that-of--a-settled-person-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---مقیم-اور-مسافر-کی-نماز-(10/d/35015

 

 URL for Part 11:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namza-in-islam-(part-11)--azaan-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ-–-اذان-(11/d/35032

 

 URL for Part 12:

http://www.newageislam.com/urdu-section/history-of-namaz-in-islam-(part-12)--minaret-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---مینار-(12/d/35071

 

URL for Part 13:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam-(part-13)---purification,-ablution-and-tayammum-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---طہارت-وضوء-اور-تیمم-(13/d/35144

 

URL for Part 14:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-islam--qiblah-(part-14)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---قبلہ-(14/d/35182

 

URL for Part 15:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--the-arch,-reciting-surah-e-fatiha-and-speaking-during-namaz-(15)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---محراب،-نماز-میں-فاتحہ-پڑھنا-اور-بولنا-(15/d/35248 

URL for Part 16:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--namaz-and-prohibition-of-alcohal-(part-16)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نماز-اور-شراب-کا-حرام-قرار-دیا-جانا-(16/d/35352

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--friday-namaz-(17)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نمازِ-جمعہ-(17/d/35376

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content