New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 06:45 PM

Urdu Section ( 29 Sept 2009, NewAgeIslam.Com)

Modern Karjism is Wahhabism جدید خار جیت

ذیشان احمد مصباحی

جدید خوار ج کون ہیں؟ کہاں، کب اور کیسے پیدا ہوئے؟ ان سوالات کا جواب تعین کے ساتھ دینا مشکل ودشوار بھی ہے اور اس سے بہت سے آبگینوں کے ٹوٹ جانے کا خوف بھی ہے۔ ویسے یہ طے ہے کہ قدیم خوارج جمہوریہ کے موقف وطریق کے مخالف ایک متشدد جماعت تھی، حضرت علی نے جس کا خاتمہ کر کے امت کو ایک فتنۂ عظیم سے محفوظ کیا۔ اس تناظر میں جدید خوارج کا جائزہ لیجئے تو ان کے بارے میں بھی یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ جدید خوارج بھی جمہور کے موقف وطریق کے خلاف ایک متشدد جماعت ہیں۔ البتہ جدید خار جیت کو ہم قدیم ابتدائی خارجیت کی طرح کسی ایک لڑی میں نہیں پروسکتے ،بلکہ جس طرح قدیم خوارج بعد میں مختلف فرقوں اور  جماعتوں میں بٹ گئے تھے ، جو جزوی اور فروعی مسائل میں مختلف ہوتے ہوئے بھی کچھ خاص مسائل مثلاً تکفیر علی ومعاویہ وغیرہ میں مشترک تھے، اسی طرح جدید خوار ج بھی مختلف شکل اور رنگ میں پائے جاتے ہیں،مختلف ناموں سے جانے جاتے ہیں ،لیکن اس کے باوجود بعض امور مثلاً جارحیت وعسکریت پسندی وغیرہ قدر مشترک کے طور پر ان میں پائے جاتے ہیں ۔ جدید خوارج میں ایک قدر مشترک دینداری ہے۔ خاکم بدہن! ہم دینداری یااتباع شریعت کے خلاف لب کشائی کا تصور نہیں کرسکتے ، یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ جدید خارجیت کی کوئی شکل شاید ایسی نہیں مل سکتی جو دین داری اور اتباع احکام شرع میں تساہل برتنے والی ہو۔ بلکہ وہ اس معاملے میں تصلب بلکہ تشدد وتطرف پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ قدیم خارجیت کے اندر بھی وہ و صف بطور قدر مشترک تھا ، اسی لیے عبدالکریم شہرستانی نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ‘‘ یہ وہی لوگ تھے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ان کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے’’۔جدید خوارج میں دوسرا صف مشترک یہ ہے کہ ان کی سوچ پر بھی سیاست و حکومت کا غلبہ ہے اور قدیم خوارج کی طرح یہ بھی ایک طرح سے متطرفانہ سیاسی نظریے پر قائم ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ دین کا سیاست سے کوئی رشتہ نہیں، یاسیاست مذہب سے باہر کی کوئی شئے ہے، مسئلہ سیاست میں جدید خوارج سے جمہورامت مسلمہ کا اختلاف صرف دوبنیادوں پر ہے۔ پہلی شئے یہ ہے کہ جمہوریت سیاست کو مذاہب کا حصہ سمجھتے ہیں جب کہ جدید خوارج قولانہ سہی ،عملی طور پر مذہب کو سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔

 دوسری بات یہ ہے کہ جمہور سیاست وحکومت کے لئے دین اور اہل دین کی قربانی کو درست نہیں سمجھتے ،بلکہ دین اور اہل دین کی مصلحت کے لیے وہ سیاست وحکومت سے دست برداری کو ضرور ی سمجھتے ہیں، جب کہ جدید خوارج سیاست وحکومت کے لیے مذاہب اور اہل مذہب کی قربانی کو نہ صرف جائز سمجھتے ہیں بلکہ آج پوری دنیا میں سیاست و حکومت کے لیے اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کی قربانی کا فریضہ بڑی خوشی سے جہاد اور احقاق سمجھ کر ، انجام دے رہے ہیں۔ خوارج کی پیدائش واقعہ تحکیم (37ھ) کے بطن سے  ہوئی تھی۔ اتفاق سے آج پوری دنیا میں تحکیم کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے ۔تحکیم کی یہ شکل پارلیمنٹ ہے۔ مسلم اور غیر مسلم ،تمام ہی ملکوں میں ،جہاں جمہوریت نافذ ہے، عوام اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے پارلیمنٹ بھیجتے ہیں ،جہاں پہنچ کر وہ نظام حکومت کے لیے قانون سازی عمل کرتے ہیں۔ایسا کرنا موجود دنیا کی مجبوری ہے۔ کیونکہ مسلم مماک میں یا تو شخصی اور خاندانی حکومت ہے جو اسلام کی ترجیح نہیں ہے، یا پھر جمہوری ، ایسے ہی اکثر غیر مسلم ملکوں میں بھی جمہوری حکومت ہے۔ جمہوری حکومت شخصی اور خاندانی حکومت سے بہر کیف بہتر ہے کہ وہاں شخصی رائے کو دین ، قانون اور شریعت نہیں سمجھا جاتا۔البتہ یہ ضرور ہے کہ اسلامی شورائی نظام ، جو اسلام کا مطلوب ہے، جدید جمہوریت اس مختلف ہے۔ لیکن سوال ہے کہ اسلامی شورائی نظام کے فقدان کے وقت مسلمان کیا کریں؟جدید جمہوریت کو قبول کرلیں یا شورائی نظام کی تشکیل کریں؟ ہونا تو یہ چاہئے کہ مسلمان مسلم ملکوں میں شورائی نظام کے لیے کوشاں ہوں اور شریعت کے ماہرین ہی قانون بنائیں۔

لیکن یہ بات کہنے اور سننے میں جتنی بھلی معلوم ہوتی ہے عملی طور پر اتنی ہی مشکل ہے۔ کیونکہ اگر اسلامی ملکوں میں شورائی نظام کا قیام ہوتو سوال ہے کہ موجودہ فرقہ بندی کے دور میں ارباب شوریٰ کون ہوں گے؟ یہاں تو حال یہ ہے کہ ہر گروپ دوسرے گروپ کے خارج از اسلام ہونے کا فتویٰ دے چکا ہے ۔پہلے تو موجودہ کثیر آبادی اور کثیر مسلکی دور میں ارباب شوریٰ کا انتخاب ہی قریبا محال ہے اور اگر کسی طرح کسی دن یہ انتخاب عمل میں آبھی جائے تو دوسرے دن ہی ارباب شوریٰ قتل کردیے جائیں گے۔ اور بصورت دیگر وہ تیسرے دن اپنے مسلک مخالف افراد کو پھانسی پر لٹکا دیں گے۔ افغانستان وپاکستان کی مسلکی جنگیں اس کی واضح مثالیں ہیں کہ معمولی قوت ملتے ہی مسجدوں اور مزاروں پر بم باری شروع ہوجاتی ہے۔ ایسے میں نمائندوں کے انتخاب میں موجود ہ جمہوری طریقہ ہی آئیڈیل نہ سہی ،قابل عمل ہے۔ غیر مسلم ملکوں میں جہاں مسلمان اقلیت کی زندگی گزار رہے ہیں، امور حکومت میں ان کےلئے چند آپریشن ہے(الف) جمہوری حکومت کو قبول کرلیں اور اپنے ووٹ کا استعمال کر کے کوشش کریں کہ ایسے نمائندے منتخب ہوں جو ان کے حق میں نسبتاًٰ بہتر ہوں۔ (ب)جمہوری حکومت میں رہیں مگر ووٹ کا استعمال نہ کریں۔ اس سے دو نتیجے سامنے آئیں گے ۔اول یہ کہ نسبتاً بہتر لیڈروں سے محروم ہوجائیں گے۔ ثانیاً جب حکومت کو یہ معلوم ہوگا تو ان کی وطن دوستی مشکوک ہوگی، وہ بہت سی مراعات سے محروم ہوجائیں گے اور بالآخر قید وبند یا ہجرت وغیرہ پر مجبور ہوں گے۔(ج)غیر مسلم ممالک ،مثلا یورپی وامریکی ممالک، یا ہندوستان اور نیپال جیسے ممالک میں مسلمان بغاوت کردیں اور اسلامی حکومت قائم کریں، ظاہر ہے ،ایسی جدوجہد کو بس ایک ہی نام دیا جاسکتا ہے اور وہ ہے ‘‘خود کشی’’۔موجودہ دور میں سیاست و حکومت کے تعلق سے ممکنہ صورتوں اور رویوں کو سامنے رکھنے کے بعد جدید خارجیت کے حامل افکار پڑھے ۔ دارالعلوم نددۃ العلما لکھنؤ کے ایک استاذ شیخ محمد علا الدین ندوی، ماہنامہ اللہ کی پکار دہلی شمارہ مئی 2009کے مہمان اداریہ میں لکھتے ہیں‘‘ کیا اسلام کی تقدیر کو سیکولر جمہوریت سے وابستہ کردیا جائے گا اور ایسا کرنے سے ایک مسلمان کا عقیدہ توحید ذرہ برابر داغ دار نہیں ہوگا؟ کیا یہ نظام جمہوریت انسانوں کے لئے طوق غلامی نہیں؟ جس کو اتارنے کے لئے ہر زمانے میں انبیا تشریف لائے۔’’(ص۔7) ‘‘ حیرت کی بات یہ ہے کہ سکۂ رائج الوقت جمہوری سیاست کی آب وہوا میں کتاب وسنت کے حوالوں سے اسلامی رجحان کا اظہار کیجئے یا باطل سیاست سے کنارہ کشی کا تذکرہ کیجئے ،لوگوں کی نوک زبان پر یہ جملہ آجاتا ہے کہ ‘‘ الیکشن سے کنارہ کشی یا بائی کاٹ امت مسلمہ کے لیے خود کشی کےمترادف ہے۔’’

ہم سمجھتے ہیں کہ خود کشی تودین سے انحراف میں ہے۔ ’’ ‘‘ایک اور بات جو بڑی شد ومد کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات اور مصلحت دین کا تقاضا یہ ہے کہ جمہوری نظام کی پشت پناہی کی جائے، پھر ان خاص حالات اور مخصوص مصلحت دینی کی وضاحت نہیں کی جاتی۔’’‘‘پھر اھون اللیلتین کےفلسفے کاسہارا لیا جاتا ہے اور اھون الشرکبن پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے آیات قرآنیہ کی ایسی تعبیر وتشریح کی جاتی ہے کہ تحریف قرآن کا شبہ ہونے لگتا ہے۔’’(ص:8) ‘‘الیکشن کی حیثیت کو جو لوگ ایک دینی اور شرعی فریضہ سمجھتے ہیں ، وہ اللہ کے روبرو روز محشر میں کھڑے ہوں گے تو گھاٹے کاسودا کرنے والوں اور شرک کی ہم نوائی کرنے والوں کی قطار میں نظر آئیں گے۔ دینی نقطۂ نظر سے سیاست والیکشن میں حصہ لینے کا سوال خالص عقیدہ ٔ توحید کا مسئلہ ہے۔ یہ کوئی بازیچہ اطفال اور شب وروز کا تماشا نہیں ہے۔ ’’(ص:9)اختصار کی کوشش کے باوجود یہ اقتباس تفصیل سے اس لیے نقل کردیے گئے تاکہ وہ واضح ہوجائے کہ میرا دعویٰ ہوا میں نہیں ہے بلکہ جدید خارجیت ایک زمینی حقیقت ہے جسے جھٹلا یا نہیں جاسکتا ۔ ان اقتباسات میں جو استدلال پیش کیے گئے ہیں وہ اپنے آپ میں اتنے پھسپھسے ہیں کہ ان کے رد کی ضرورت نہیں ہے۔ معمولی فہم کا مسلمان بھی ان دلائل پر صرف ایک اہانت آمیز تبسم کے ساتھ گزر جائے گا۔

 البتہ قدیم خارجیت کی اس سے مماثلت کیاہے، چند جملوں میں پیش کی جارہی ہے۔ (1) قدیم خوارج نے تحکیم کو توحید کے خلاف ایک شرکیہ عمل قرار دیا تھا، جدید خوارج بھی پارلیمنٹ کو توحید کے خلاف شرکیہ عمل سمجھتے ہیں۔(2)قدیم خوارج تحکیم کو یہ سمجھتے تھے کہ یہ خدا کی جگہ بندوں کو حاکم بنانا ہے جدید خوارج بھی پارلیمنٹ کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہاں خدا کی جگہ بندوں کو حاکم بنایا گیا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تحکیم کا معاملہ اس لیے ہوا تھا کہ حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان مصالحت ہو، یہ مصالحت قرآن وسنت کی روشنی میں کرنی تھی۔ لیکن کتاب وسنت حکم خود نہیں بتاتے ،ان سے حکم نکال کر بتانے والا کوئی انسان ہی ہوگا اور چونکہ وہاں اختلاف اور جنگ کی صورت تھی، ایسے میں یہ انسان وہی ہوسکتے تھے جن پر فریقین راضی ہوں۔ لہٰذا فریقین نے اپنا ایک ایک نمائندہ پیش کیا جن پرفرض تھا کہ کتاب وسنت کی روشنی میں فیصلہ کریں۔ اس طرح تحکیم توحید کے خلاف غیر خدا کی حاکمیت کا اقرار نہیں تھا۔ لیکن خارجیوں نے اپنی کج فہمی کی وجہ سے اسے شرک قرار دیا ۔اسی طرح موجودہ عہد میں جمہوریت سب سے پہلے مسلمانوں سمیت تمام انسانوں کو مذہبی آزادی عطا کرتی ہے۔البتہ حکومت کے جودوسرے معاملات ہیں، ان کو طے کرنے کےلئے ملک کے ہر گوشے اور ہر طبقے سے نمائندے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ تمام مسائل حل کرنے کے لئے کسی ایک مذہب کی کتاب کو اور اس کے نمائندوں کو اس کا حق نہیں دیا جاسکتا ، اگر ایسا کیا گیا تو کوئی مسلمان اقلیت میں رہتے ہوئے کسی اکثریت کی مذہبی کتاب اور مذہبی افراد کو اپنے لیے تسلیم نہیں کرسکتا اور جب مسلمان اقلیت میں رہتے ہوئے اکثریتی مذہب کے قانون کو تسلیم نہیں کرسکتا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اکثر یتی طبقہ اقلیتی طبقہ کے مذہبی قانون کو اپنی زندگی کا دستور بنائے ۔

اس نزاع کو ختم کرنے کاممکنہ راستہ وہی ہے جو جمہوریت کا راستہ ہے۔ اب اگر اس ممکنہ راستہ کو کوئی مسلمان قبول کرتا ہے تو اس کے اس عمل کو شرک اور اس کو مشرک قرار دینا صرف خارجیت کا ہی نقطہ نظر ہوسکتا ہے ، جس کا انجام تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔(3)خوارج کا نظریہ تھا کہ خلیفہ اگر شریعت سے ذرہ برابر روگردانی کرے تو اسے معزول بلکہ قتل کردینا چاہئے ۔ جدید خوارج بھی آج پوری دنیا میں حکمرانوں کو قتل کرنے پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔ موجودہ حالت میں جبکہ عوام کیا خواص بلکہ علما تک سے سوفیصد استقامت علی الشریعت کی امید نہیں رکھی جاسکتی۔ ایسے میں جو حاکم بھی شریعت سے یا جدید خوارج کی مفروضہ شریعت سے معمولی انحراف کرتا ہے یہ اس کے قتل کے درپے ہوجاتے ہیں، اس پر خود کش حملے کرتے ہیں، اسے گولیوں اور بموں کا نشانہ بناتے ہیں ۔(4)خوارج کے یہاں ہر گناہ گار کافر تھا۔ حتی کہ اگر کوئی اپنے اجتہاد سے ان کے خلاف کوئی راستے قائم کرلیتا اور ایسا عمل کرتا جو اس کی نظرمیں گناہ نہیں ہوتا صرف خوارج کی نظر میں گناہ ہوتا ، خوارج کے نزدیک ایسا شخص بھی کافر تھا۔ موجودہ خوارج کا رویہ بھی تقریباً یہی ہے ۔ وہ اپنی ہر بات کو نص قطعی سمجھتے ہیں اور اس کےلئے کسی طرح کی علمی واجتہادی خطا کو گوارا نہیں کرتے۔ اس وقت میرے سامنے ‘‘جماعت المسلمین’’ نامی تنظیم کے کسی مسعود احمد کی کتاب ہے جس کا عنوان ہی ہے ‘‘ترک سنت گناہ ہے’’ اس میں شدومد کے ساتھ مطلقاً یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کے ترک سنت گناہ اور گمراہی ہے۔((5)حضرت علی نے خوارج کے استدلال  ان الحکم الاللہ ،حکم صرف اللہ کا ہے، پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا ‘‘ کلمتہ حق اریہ بہا الباطل ’’ ایک اچھی بات بول کر غلط معنی مراد لیا گیا ہے ۔ جدید خوارج کے بارے میں بھی ہم یہی کہہ سکتے ہیں ،کیونکہ وہ خلافت کی بات کرتے ہیں ، خدا کی حاکمیت کی بات کرتے ہیں، توحید کی بات کرتے ہیں، اور نتیجہ کے طور پر تمام امت کی تکفیر کرتے ہیں اور تمام حکومتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی احمقانہ بات کرتے ہیں ۔ ان پر بھی صرف یہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے :‘‘ کلمۃ حق ارید بہا الباطل ’’(6) خوارج امربا المعروف اور نہی عن المنکر کے لیے کامیاب راستہ تلوار کو سمجھتے تھے۔ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا تھا کہ ‘‘برائی کو ہاتھ سے مٹاؤ ،استطاعت نہ ہوتو زبان سے روکو اور اس کی بھی نہ ہو تو دل سے برا مانو’’ عملاً وہ اس کی مخالفت کرتے تھے ۔جدید خوارج بھی اصلاح کے صرف ایک راستے کو ردست سمجھتے ہیں ، جنگ اور قتل وخون ریزی کا راستہ وہ اس کی پروا نہیں کرتے کہ حالات اس کے موافق ہیں یا نہیں اور ایسا کرنے سے نتیجہ کیا سامنے آئے گا۔

جدید خوارج آج پوری دنیا میں اپنا نیٹ ورک قائم کرچکے ہیں، ان کی ہمنوائی کرنے والے تعلیم یافتہ بھی ہیں اور جاہل عوام بھی، مولوی بھی ہیں اور کالج کے تعلیم یافتہ جوان بھی ۔آج جب کہ ایک عام مسلمان کی سوچ یہ ہے کہ کس طرح جمہوری ملکوں کی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کو دینی تعلیمی اور معاشی طور پر مستحکم کیا جائے، کس طرح دعوت تبلیغ کے دائرے کوبڑھایا جائے، کس طرح حکومت کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کی پرامن شبیہ پیش کی جائے، ان خارجیت پسندوں کا وتیرہ یہ بن گیا ہے کہ وہ حکومتوں کے خلاف احمقانہ بغاوت کی سوچ میں جی رہے ہیں  ، انتخابات کا بائکاٹ اور عدلیہ وانتظامیہ کی مخالفت کررہے ہیں، وہ حکمرانوں ہر حملے کرنے کی باتیں کررہے ہیں ،وہ غیر مسلموں کو قتل کرنے کی سازشیں رچ رہے ہیں ،عام مسلمانوں کی پرامن زندگی کے لیے خطرات پیدا کررہے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کی دہشت گردانہ شبیہ تشکیل دے رہے ہیں اور ان سارے احمقانہ خیالات وحرکات کو عین اسلام بلکہ فریضہ اولین سمجھ رہے ہیں۔ خوارج کے بارے میں کتب تاریخ میں مذکور ہے کہ جو شخص بھی ان کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتا، وہ بے دریغ اسےقتل کردیتے ، اس ضمن میں نہ وہ صحابی اور غیر صحابی کا لحاظ رکھتے اور نہ مرد وعورت کا لحاظ، جدید خوارج کا حال بھی یہی ہے،کراچی پیشاور تک اور کابل سے مزار شریف اور قندھار تک اس کی درجنوں نہیں سیکڑوں مثالیں ہمارےسامنے ہیں، جدید خوارج نے اپنے فکر مخالف مساجد ومزارات اور علما ومسائخ کے ساتھ  جو کچھ کیا، عورتوں ،بچوں اور بچیوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ جگ ظاہر ہے۔ آج افسوس ہے کہ مسلم دنیا میں شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم جیسا کوئی مضبوط قائد نہیں جو اس نوپیدا شدہ خارجیت کو جڑے اکھاڑ پھینکتا ۔ ویسے بھی چونکہ آج مسلمان پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور مواصلات کی فراوانی نے قریب وبعید ہر شخص سےرابطہ کو آسان بنادیا ہے۔ ایسے میں جدید خارجیت بھی قدیم خارجتی کی بہ نسبت زیادہ وسعت اور تنوع اختیار کیے ہوئے ہے۔

 اس کی جڑیں زیادہ گہرائی تک اتر  ی ہوئی ہیں۔ایسے میں اس جدید خارجیت کی خاتمہ اور بھی مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پوری دنیا کے جمہور مسلمان امن پسند ہیں اور دنیا کے بڑے بڑے دانش ور اپنی تقریر وتحریر کے ذریعے ان خوارج کی تفہیم کی کوشش کررہے ہیں مگر جس طرح قدیم خوارج ، گفتگو اور افہام وتفہیم کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے،جدید خوارج بھی مکمل ڈھٹائی کے ساتھ ہٹ دھرمی پر آمادہ ہیں اور افہام وتفہیم کی ہر کوشش کو وہ ایک مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔افسوس بالائے افسوس کہ جس طرح مٹھی بھر خوارج کی شرپسندی کے سبب حضرت علی کے عہد میں بے شمار مسلمانوں کی جانیں تلف ہوئیں، آج مٹھی بھر شرپسند جنگجو عناصر پوری دنیا میں مسلمانوں کے قتل وبربادی ،قید وبند اور جو روستم کا باعث بن رہے ہیں او رکئی مقامات پر مسلمان آپس میں دست گریبا ں ہیں، حتیٰ کہ فروعی اختلاف کو گفتگو اور تحریر وتقریر سے حل کرنے کی بجائے بم اور بارود سےحل کرنے کا مزاج پروان چڑھنے لگا ہے۔ اس زویے سے غور کیجئے تو بڑی مایوسی  ہوگی کہ جنگ نہر وان میں صرف چند خوارج بچ گئے تو اموی اور عباسی دور تک ان کی فتنہ انگیزیاں جاری رہیں تو جدید خوارج جن کے خاتمے کے آثار کم نظر آرہے ہیں ، ان سے امت مسلمہ کتنے سالوں یا صدیوں تک زخمی کھاتی رہے گی، کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ ویسے جدید خارجیت کے خاتمے کےتعلق سے ہمیں بہت زیادہ ناامید ی نہیں ہے، کیوں کہ عصری جدید میں امن پسندی کا جو ظاہرہ سامنے آیا ہے ، کہ لوگ تیزی سے اسلام کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں اور اسی تیزی سے شدت پسندی اور جارحیت کے خلاف امن کا علم بھی بلند کررہے ہیں۔ مسلمانو ں نے پوری شدت کے ساتھ یہ محسوس کرلیا ہے کہ اگر پوری دنیا میں ہمیں اسلام کی دعوتی و تبلیغی بالادستی منظور ہے تو اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے، پر امن راستہ۔ پرامن طریقے سے ہم ان ملکوں میں بھی اسلام کی تبلیغ کرسکتے ہیں جنہیں بالعموم اسلام دشمن سمجھا جاتا ہے، جب کہ شدت پسندی کی وجہ سے ہم خود بھی پریشان ہوں گے، امت مسلمہ بھی پریشان ہوگی اور اسلام کے پھلنے پھولنے کےراستوں میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔دنیا بھر میں پیدا شدہ اس جدید ظاہرہ سے امید کی جاتی ہے کہ یہ براہ راست نہ سہی، بالواسطہ طور پر جدید خارجیت کا خاتمہ کردے گا۔ لیکن اس میں کتنا وقت لگے گا، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ عرب قلم کار عبد القادر صالح لکھتے ہیں ‘‘خوارج کی ابتدائی نشو ونما قرا( حفاظ قرآن ،عباد وہاد)کی ایک جماعت کی شکل میں ہوئی ۔ اسلامی ثقافت میں علم فقہ، علم حدیث اور علم اصول وغیرہ کے رواج پانے سے قبل قرا کو ہی علمائے امت سمجھا جاتا تھا ۔ ان خارجی قرا کا علمی، فقہی معیار ناقص تھا، اسی لیے یہ لوگ حضرت علی ومعاویہ کے درمیان احتلاف سے پیدا شدہ نئی سیاسی صورت حال کو نہیں سمجھ سکے اور نہ وہ اس جنگ کے انداز کو سمجھ سکے۔’’

(العقایدو الادیان،ص :124)عبدالقادر صالح نے قدیم خوارج کے فساد نظر پر جو تبصرہ کیا ہے، وہی تبصرہ حرف بہ حرف جدید خوارج پر بھی صادق آتا ہے۔ خوارج کے پیدا ہونے کے سلسلے میں یہ بتصرہ نہایت جامع ہے۔اس کی روشنی میں جدید خارجیت کے خدوخال بخوبی سمجھے جاسکتے ہیں۔ جدید خارجیت بھی بڑی سادہ اور قابل رحم ہے۔ جو لوگ شروع میں اس کاعلم لے کر اٹھے وہ خوارج کی طرح ہی ،بہت ہی عابدہ زاہد اور سادہ لوح تھے۔ وہ اسلام کے لیے او رقرآن کے لیے صرف مرنا جانتے تھے ،اسلام وقرآن کامطلوب ان کی فہم وفراست سے کوسوں دور تھا۔ اور جس طرح قدیم خوارج جب نئے حالات سے دوچار ہوئے اور ان کے سامنے پہلی بار یہ صورت سامنے آئی کہ دوفریق نے اپنے معتمد کو فیصلہ کرنے کے لیے آگےبڑھایا تو انہیں اچانک یہ لگا کہ یہاں قرآن کو فیصل ماننے کی بجائے انسان کو فیصل مانا جارہا ہے اور خدا کی حاکمیت کی جگہ انسانوں کی حاکمیت تسلیم کی جارہی ہے۔ انہیں اچانک ایسا لگا کہ اسلام کی بنیاد توحید اس سے متزلزل ہوگئی جس کے بعد وہ حواس یافتہ مرنے مارنے پر تل گئے۔ جدید خوارج کی جماعت بھی سادہ لوحوں کا ایک ٹولہ ہے جو اسلام کے تئیں شدید جذباتی ہے۔ وہ سخت ترین نفسیاتی ردعمل کا شکار ہے ۔عصری حاضر میں اسے اچانک یہ لگنے لگا ہے کہ مسلمان خدا کی حاکمیت تسلیم کرنے سے مکر گئے ہیں ، اس لیے وہ مسلمانوں اور غیرمسلموں سے خلاف ننگی تلوار بنے پھررہے ہیں ۔ انہوں نے دیکھا کہ خلافت کا خاتمہ ہوگیا، مسلم سلطنت کا خاتمہ ہوگیا، اب جمہوری ریاست قائم ہے۔اس جمہوریت کو اس زاویہ نظر سے دیکھنے کی بجائے کہ مسلمان اقلیت میں ہوتے ہوئے بھی پوری دنیا میں مذہبی آزادی اور تبلیغ اسلام کےامکانات سے بہر ہ در ہوگئے ہیں، وہ اس انداز سے سوچنے لگے کہ جمہوریت میں مسلمان پارلیمنٹ کو تسلیم کر کے خدا کا انکار کر بیٹھے ہیں۔

 ان کی سادہ مزاجی پر انہیں للکار تی ہے اس لیے وہ ہمیشہ جنگ کے مسئلہ پر غور کرتے ہیں اور اس پر غور نہیں کرتے کہ جنگ کا انجام کیا ہوگا ؟ اس نازک صورت حال میں اسلام کے درد ماند ، مخلص ، باشعو ر اور رو شن دماغ دوستوں کی ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ اپنے سادہ لوح بھائیوں کی تفہیم کریں۔ انہیں یہ سمجھا نے کی کوشش کریں کہ جمہوریت کو قبول کر کے مسلمانوں نے ہر گز اللہ کی حاکمیت کا انکار نہیں کیا ہے بلکہ جمہوریت تو یہ موقع دیتی ہے کہ اقلیت میں ہوتے ہوئے، غیر مسلم ممالک میں ہم آزادانہ حاکم مطلق کے احکام کی پیروی کریں اور دوسروں کو بھی اس حاکم مطلق کی طرف دعوت دیں۔پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا قرآن کا انکار نہیں ہے، بلکہ پارلیمنٹ کو قبول کرنا تو ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ اگر قرآن کے  خلاف زبان کھولی گئی تو ہم اپنے نمائندوں کے ذریعے غیر مسلم ملکوں میں بھی اپنے موافق آوازبلند کرائیں گے۔ کوئی مسلمان پارلیمنٹ کو ایمانیات وعبادات کے معاملے میں فیصل نہیں مانتا ،بلکہ جو زندگی کے عام معاملات ہیں ان میں حتیٰ الامکان اپنی تمام تر مذہبی آزادی کو محفوظ رکھتے ہوئے ، اپنے لئے  بہتر او رممکنہ مواقع کے حصول کے لئے پارلیمنٹ کو تسلیم کرتا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ ندوۃ العلما کے استاذ شیخ علاؤالدین ندوی کو یہ بات کیوں کر سمجھ میں نہیں آتی کہ ‘‘الیکشن کا بائیکاٹ خود کشی کے مترادف ہے’’اگر آج دارالعلوم ندوۃ العلما الیکشن کا بائیکاٹ کردے، پارلیمنٹ کے خلاف علم بغاوت بلند کردے اور سپریم کورٹ کے فیصلےکو ماننے سے انکار کردے تو کیا ہوگا؟ کیا شیخ علاؤالدین اس کے تصور کے لیے تیار ہیں؟ غیروں کی کرم فرمائیوں کے سبب آج تک مسلمان اپنی وطن پرستی کی قسمیں کھارہے ہیں، بہتر ہوگا کہ ایسے وقت میں دیدہ ودانستہ مسلمان کو غدار وطن بنانے کا سبق پڑھانا چھوڑ دیا جائے ۔ ہمیں اس بات کا بھی افسوس ہے کہ مجلّہ ‘‘اللہ کی پکار’’کے ایڈیٹر جناب خالد حامدی (پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی ) مسلسل اس قسم کے واہیات اور مسلم کش مضامین اپنے مجلّہ میں شائع کرتے ہیں۔ شاید وہ بھی الیکشن میں حصہ لینے اور نمائندوں کو ووٹ دینے کو شرک  فی الحکم سمجھتے ہیں ۔ عالی جاہ سے سوال ہے کہ جس حکومت کے ایوان کو تسلیم کرنا شرک فی الحکم ہے، اسی حکومت کے فیصلے کو ماننا ، اسی حکومت کے ادارے میں پڑھا نا اور تنخواہ او ربھتہ کے نام پر ہر ماہ لاکھوں روپے حاصل کر کے شکم پروری کرنا ایمان کا کون سا حصہ ہے؟ سال میں تعلیم کے ایام ،اوقات تعلیم وتعلیم ، بلکہ سارا نظام اسی ایوان سے منظور شدہ ہے، اسے قبول کرنا ،زندگی کے عام مسائل میں حتیٰ کہ راہ چلنے میں بائیں جانب ڈرائیونگ کرنا ،یہ سب باتیں ،اسی ایوان کی منظوری کردہ ہیں، ان سب کو آپ تسلیم کریں تو یہ ایمان ہے، اور ایک عام مسلمان ،اپنی بھلائی کے لئے نسبتاً بہتر لیڈر کو منتخب کرنے کے لیے ، کسی لیڈر کو ووٹ دے تو وہ شرک کا مجرم ؟اس ذہینت کے لوگ فکری وعملی دہشت گردی سے توبہ کرلیں تو بہتر ہوگا ورنہ امت مسلمہ اب بیدار ہوچکی ہے اور دین کے نام پر بربادی کے اسباق بہت زیادہ دنوں تک پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/جدید-خار-جیت---modern-karjism-is-wahhabism/d/1820

 

Loading..

Loading..