New Age Islam
Sun May 26 2024, 05:13 AM

Urdu Section ( 6 Apr 2010, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Congratulation to Shaheed Bhutto شہید بھٹو کو مبارکباد ہو

By Zahida Hena, Karachi

(Translated from Urdu by Sohail Arshad)

As soon as we alighted from the lift, drops of rain fell on our bluish raincoats. We were standing on the wall which was spread across hundreds of miles like a ferocious cobra and whose foundation was laid on the dust of bones of thousands of human beings.

This wall of China and the pyramids of Egypt which were associated with the names of the emperors of China and the pharaohs of Egypt were built with the blood of millions of farmers and slaves. We stood dumbfounded and looked at the valleys and hills which were far far away. That moment I had seen Mr Abdullah and Mr Malik take off their glasses and wipe off tears. There was surprise and question in my eyes. Mr Malik said, "He remained unmoved like this wall. He was born to free the farmers and slaves but the tyrants hanged him."

He was remembering Bhutto. During this 15-day tour, he had talked about the China of Mao and Chu en Li and the friendship of Pakistan and China with reference to Mr Bhutto a number of times. China of Mao was the realisation of his childhood dream a reflection of which he was trying to see in 1998. And Bhutto was the person who had lent a new direction, a new hue to the China-Pakistan friendship and had given the power of voice to the voiceless with the kind of his politics.

Malik Sahib was one of those who were admirers of Bhutto, who had suffered Zia-gardi. He had documented the last moments of Bhutto inside the prison:

How black the night was

The eyes could see nothing

The story was repeated the very night

It was penned in the darkness of night

The night when they took you to the altar

You were tired, subdued

But not deterred

You ascended the altar

With a smile on your face

They were happy

And content

They thought they defeated you

Your last words were lost in their moment of joy

You had said

It's they who are ascending the altar, not me

It's they who are dying, not me

I have achieved immortality.

Bhutto was hanged and became immortal. Many among those who got lashes, were dumped in jails, swallowed humiliations and were exiled are still alive, many have died. These people did not see any difference between the tyranny of Nadir Shah and Zia. In the 18th century, the army of Nadir Shah had unleashed a reign of terror from Delhi to Peshawar.

In the second half of the 20the century the whole body and soul of the country went through the tortures of Zia's military dictatorship. There were many writers who had refused to put down their pens. They wrote and wrote. Across the length and breadth of the country there was a caravan of undaunted writers. Pamphlets and magazines were being published and circulated in every city, in every street and were being seized. The censorship was doing its work and the writers were doing theirs and paying the price too.

 On the other hand, in the shadow of Bhutto's impending death, a lavish banquet was arranged in the presidential hall on April 11, and hundreds registered their presence there. On April 14, Zulfiqar Ali Bhutto son of Shah Nawaz Bhutto was not hanged but it was justice who was hanged. The soil of Nawdera had embraced her son affectionately and had also dug the graves of the usurpers, the ruling elite. This grave has been waiting for the last 31 years and now an independent judiciary is going to bury an unbridled and corrupt despotism who hangs intellectual politicians like Bhutto and polishes the shoes of dictators, in that grave.

 Britain has ruled this region directly and indirectly for centuries. Our generals joined their army. I wish if they had remembered their master, their prime minister and the victor of Second World War, Winston Churchill's words:" Dabbling in politics could be fatal for soldiers because in this way they tread on such a path whose values are quite different than those they have been familiar with."

If we had had kept the words in our mind, we would not have ended up in the vise of dictatorship as early as in 1958. We would have been living in an independent and sovereign state; our country would not have split into two. Our history would not have had the 'honour' of our 90 thousand soldiers surrendering, our towns and cities would not have been hijacked by terrorists, our sovereignty would not have been pledged to Washington and our people would not have been condemned to live with poverty, unemployment, diseases and illiteracy.

Bhutto had written in " My Pakistan": I think that the place of the mullah is in the mosque, you want to make him the master of your fate; I have  faith in the Constitution and you consider it a mere piece of paper; I am a flag-bearer of the freedom of women, you want to wrap them up in the cover of darkness.".....

Congratulations to Bhutto, the architect of the Constitution of 1973 that when on April 14, 2010 tons of flowers will be laid on his grave, the insult meted out the Constitution of 1973 will reach its culmination. A broadminded and conscientious man called Reza Rabbani and a confident woman called Fahmida Reyaz, who is the custodian of the Pakistani Parliament, will come to present the 18th amendment of the Constitution, a colourful bouquet of political unity. The paper has the signatures of all the political parties of Pakistan. This document reminds us of the fact that ultimately dictators are defeated, their shameful lust of power has to retreat. Democratic politics has the last laugh.


زاہدہ حنا

مینہ کا جھالا لفٹ سے اترتے ہی ہم پر برس گیا تھا اور بوندیں ہماری تیلگوں ہر ساتیوں پر پھسل رہی تھیں، ہم سب اس دیوار پر کھڑے تھے جوکسی مہیب اڑدھے کی طرح سینکڑوں میل دور تک پھیلی چلی گئی تھی اور جس کی بنیادوں میں ہزاروں انسانوں کی ہڈیوں کا برادہ تھا ۔چین کی یہ دیوار اور مصر کے وہ اہرام جوچینی شہنشاہوں اور مصری فراعنہ کے نام سے موسوم ہوئے، درحقیقت لاکھوں کسانوں اور غلاموں کے بد ن کی بوند بوند مشقت سے کشیدگی گئے ۔ہم سب مبہوت کھڑے تھے اور ان  وادیوں اور پہاڑیوں کو دیکھ رہے تھے جو ہم نے نہ جانے کتنی دور ی پر تھے۔ اس لمحے میں نے عبداللہ ملک صاحب کو اپنی عینک اتار کر آنسو خشک کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ میری آنکھوں میں حیرت تھی، سوال تھا، ملک صاحب نے گلو گیر آواز میں کہا ‘‘ وہ اسی دیوار کی طرح اٹل رہا’’ وہ کسانوں اور غلاموں کو ازاد کرانے کے لئے پیدا ہوا تھا لیکن ظالموں نےاسےسولی چڑھا دیا۔’’ وہ بھٹو صاحب کو یاد کررہے تھے۔ پندرہ روز کے اس سفر کے دوران انہوں نے ماؤاور چو این لائی کے چین اور بھٹو صاحب کے حوالے سے چین اور پاکستان کی دوستی کا بار بار ذکر کیا تھا ۔ ماؤ کا چین ان کی جوانی کے خوابوں کی تعبیر تھا جس کاعکس وہ 1998میں ڈھونڈ نے کی کوشش کررہے تھے اور بھٹو وہ شخص تھے جنہوں نے پاکستان اور چین کی دوستی کو ایک نیارنگ ، ایک نئی جہت دی تھی اور اپنی سیاست سے پاکستان کے بے زبانوں کو قوت گویائی بخش دی تھی۔ ملک صاحب ان لوگوں میں سے ایک اہم نام تھے جو بھٹو کے عاشق تھے،جنہوں نے ضیا گردی بھگتی تھی۔ جنہوں نے کال کوٹھری میں ذوالفقار علی بھٹو پر گزر نے والی آخر ی گھڑیاں لکھی تھی:

وہ رات کتنی بھیانک تھی

اور تاریک بھی

ہاتھ کو ہاتھ سجھا ئی نہیں دیتا تھا

یہ قصہ اسی رات دہرایا گیا

یہ داستان اسی اندھیرے میں

اسی شب کی سیاہی میں رقم ہوئی

یہ وہی شب تھی جب وہ تم کو سوائے دار لے کر چلےتھے

تم تھکے ہوئے تھے ، نحیف ونزار تھے لیکن تم گھبرائے نہیں

تم مسکراتے ہوئے دار چڑھ گئے وہ خوش تھے

وہ مطمئن تھے

وہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے تمہیں شکست دے دی

وہ اپنی خوشیوں ،اپنی مسرتوں میں تمہارے آخری الفاظ بھی بھول گئے تم نے کہا تھا

‘‘سولی پر  میں نہیں وہ چڑھ رہے ہیں

میں نہیں وہ مررہے ہیں میں آج امر ہوگیاہوں’’

بھٹو وار پر کھینچے گئے اور امر ہوگئے ۔وہ لوگ جنہوں نے ان کے بعد کوڑے ،جیلیں ،ٹکٹکیاں ،توہین ، تذلیل سہی، ملک بدر کئے گئے، ان میں بہت سے رخصت ہوئے، بہت سے موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ضیا گردی اور نادر گردی میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ اٹھارہویں صدی میں نادر شاہی لشکر نے پشاور سے دلی تک کون سا ظلم نہیں ڈھایا تھا ۔ یہ بیسویں صدی کا نصف آخر تھا جب ضیا کی فوجی آمریت کو سارے ملک نے اپنی روح اور اپنے تن پر جھیلا ۔ ان گنت لکھنے والے تھے جنہوں نے اپناقلم رکھنے سے انکار کردیا تھا ،وہ لکھتے رہے تھے اور لکھتے ہی رہے تھے ۔ جی دار لکھنے والوں کا ایک قافلہ تھا، ایک قبیلہ تھا، سارے ملک میں پھیلا ہوا ۔ شہر ، شہر، گلی گلی رسالے او رپمفلٹ شائع ہورہے تے ، ضبط ہورہے تھے ،سنسر کی قینچی اپنا کام کررہی تھی اورلکھنے والے اپنے کام میں جٹے ہوئے تھے اور اس کی قیمت ادا کررہے تھے ۔ دوسری طرف بھٹو صاحب کی سولی کے سائے میں شاعروں ،ادیبوں اور دانشوروں کے کئے 11اپریل کو قصر صدر میں بڑے کھانے کا دستر خوان بچھا تھا اور وہاں سیکڑوں نے حاضری دی تھی ۔4اپریل 1979کو پوچھٹے ذوالفقارعلی بھٹو ولد شاہ نواز بھٹو کو  دار پر نہیں کھینچا گیا تھا، اس روز عدل اور انصاف سولی پر جھول گئے تھے۔ نوڈیرو کی زمین نے بیٹے  ذولفقار کو اپنی مہربان آغوش میں لے لیا تھا اور اسی لمحے اسی وقت اسی زمین میں پاکستان کی غاصب حکمراں اشرافیہ کی قبر بھی گہری کھودی تھی،یہ قبر منہ کھولے انتظار کرتی رہی اور اب 31برس بعد ایک آزاد عدلیہ نے اس قبر میں بیلگام ،بدعنوان اور فرعون افسر شاہی کے اختیارات کودفن کرنا شروع کردیا ہے جو بھٹو  جیسے دانشور سیاستداں کو پھانسی چڑھاتی اور آمرو کے جوتے چمکاتی ہے۔برطانیہ نے اس خطے پر بالواسطہ اور بلاواسطہ سیکڑوں برس حکمرانی کی ہے۔ہمارے جرنیل اسی کی فوج میں بھرتی ہوئے تھے، کاش ان جرنیلوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ اور اس کے اتحاد یوں کو فتح سے ہمکنار کرانے والے اپنے آقا اپنے وزیر اعظیم ونسٹن چرچل کا یہ جملہ یاد رکھا ہوتا کہ ‘‘سیاست میں ہاتھ ڈالنا فوجیوں ،بحریہ یا فضائیہ کے افراد کے لئے ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس طرح وہ ایک ایسے گوشے میں قدم رکھتے ہیں جس کی اقدار ،ان کی جانی پہچانی اقدار سے قطعاً مختلف ہوتی ہیں’’۔یہ جملہ اگر یاد رکھا گیا تو ہم 1958سے آمریت کے شکنجے میں نہ کسے جاتے ،ہم ایک آزاد خود مختار ملک میں ہوتے ، ہماری ملک دولخت نہ ہوا ہوتا ، ہماری تاریخ 90ہزار فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کی ، ‘‘ سعادت ’’ کا اندراج نہ ہوتا اور آج ہماری بستیاں اور شہر دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہ ہوتے ،ہماری خود مختاری واشنگٹن میں گروی نہ ہوتی اور ہمارے لوگوں کے حصے میں بھوک ،بیروز گاری ، بیماری اور ناخواندگی نہ آتی۔ بھٹو نے ‘‘میرا پاکستان ’’ میں لکھا تھا ‘‘میں سمجھتا ہوں کہ ملا کی جگہ مسجد میں ہے تو اسے پاکستان کے مقدر کا مالک بنانا چاہتے ہو۔ میں آئین میں یقین رکھتا ہوں ،تم آئین کو کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ کچھ اور نہیں سمجھتے ،میں عورتوں کی آزادی کا علمبردار ہوں ، تم انہیں تاریکی کے خلاف میں چھپا نا چاہتے ہو۔’’ اسی روشن دماغ کا نوحہ مسعود منور نے لکھا تھا:

‘‘لہو،  صلیبوں کی پھیلی بانہوں میں تمتما تاہوا لہو ہے

لہو، جو پنڈی کی قتل گاہوں میں لہلہاتا ہوا لہو ہے

لہو جو غربت کی مثنوی ہے ،لہو جو عزت ہے آبرو ہے

لہو، جو صبحون کا سرخ سورج ہے،مشکل ضر غام تندخو ہے

لہو ،چٹانوں پہ عکس زریں ہے، تازہ نسلوں کی آرزو ہے

لہو مئی کی تمازتوں کےحجاب اول کا سرخ عنوان

لہو، شہیدوں کا ہم پر احسان ،لہو ،فروزاں ،لہو درخشاں

لہو، صداقت ، لہو شرافت، لہو دیانت، لہو امانت

1973کے آئین کو تشکیل دینے اور منظور کرانے والے ذوالفقار علی بھٹو کو مبارک ہوکہ 14اپریل 1973کے آئین کے ساتھ کی جانی والی بے حرمتی اپنے انجام کو پہنچے گی۔ ان کی قبر پر رضا ربانی اور فہمیدہ مرزا ، ایک روشن خیال اور باضمیر مرد اور پاکستانی پارلیامنٹ کی کسٹوڈین ایک پر اعتماد عورت، آئین کی 18ویں ترمیم کا مسودہ ،سیاسی اتفاق رائے کا رنگا رنگ گلدستہ نذر کرنے آئیں گے۔ اس کاغذ پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں۔ یہ دستاویز یاد دلاتی ہے کہ آمر ہار جاتے ہیں ، ان کی شرم ناک ہوس اقتدار کو پسپا ہونا پڑتا ہے۔آخر ی فتح جمہوری سیاست کی ہوتی ہے!

URL for this article: