New Age Islam
Sat Mar 02 2024, 05:38 AM

Urdu Section ( 29 Oct 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why this madness in Pakistan? آخر پاکستان میں یہ جنون کیوں؟

A medieval state

By Zafar Agha

October 16, 2009

Thank God, I am not a citizen of the Islamic state of Pakistan. Imagine if my parents had been enamoured of Jaswant Singh's newfound hero Mohammad Ali Jinnah and migrated to the Islamic State of Pakistan.


What a tragedy could have befallen my family and me! I could have either myself turned into a bigot or my kids could have taken up guns in the pursuit of a puritanical Islamic state like Saudi Arabia. I am extremely indebted to my parents for sticking to their roots in Allahabad and happily accepting the citizenship of 'Hindu India' instead of saltanat-e-khudadad-e-Pakistan (godly kingdom of Pakistan).

Ironically, there is nothing godly or saintly about Pakistan today. Pakistan could never become a modern republican state. So the state eventually withered away and got out of everyone's control. There was a time not too long ago when the world believed that it was the Pakistan army whose writ ran the country. How naive was this understanding.


Once considered the most powerful power centre, the Pakistan army headquarters in Rawalpindi is now under attack from Pakistani jihadis. The world also thought that the Punjabi elite had a tight grip over Pakistan establishment. Now the Punjabis themselves are not secure in their beloved town of Lahore where terrorists' strike at will.

Who then controls Pakistan? Is it the democratic establishment led by Asif Zardari? No, not at all! There is no consensus between Zardari and Mian Nawaz Sharif, the two leading rival democratic parties, even in these moments of grave internal crisis. Are the executive and judiciary now acting as the watchdog? Well, both sympathise with the likes of Hafiz Saeed and nuclear technology smuggler AQ Khan more than the state of Pakistan. Saeed and Khan are the two ideological masters of Pakistani jihadi philosophy.


All the Pakistani terror groups revere them. So it is neither army, nor the Punjabi elite that controls Pakistan any longer. Instead it is men like Saeed and Khan who do, ideologically at least.

You cannot arrest Saeed in Pakistan because he is the ideological pope of jihad. You cannot prosecute him either. The police would make such a weak case that it won't stand in a court of law for a minute. The judiciary would let him walk out because of his 'heroic services' in 'destabilising India'. And even America cannot harm Khan.


After all, he delivered a nuclear bomb to the insecure Pakistanis, stealing and smuggling nuclear technology from all over the world. The world is convinced that he smuggled dreaded technology to North Korea and Iran. He is the last hope of the jihadis who believe that Khan would one day deliver them a nuclear device to destroy their hated enemy, America.

Pakistan is today controlled by the syndicate of Taliban, al Qaeda and Punjabi terror outfits like Jaish e Mohammad. But why is it that Pakistan has failed in modern sense of the word state? A modern state in the post renaissance and post industrial revolution world is essentially run by the will of the people through democracy.


Pakistan has nothing to do both with renaissance and industrial revolution. Its ideological frontier very soon after its inception was a medieval Islamic state whose only function was to destroy India.

So the people were always kept at the margin of state affairs. Pakistan elite facilitated the military takeover of the establishment to fight India and 'liberate Muslim Kashmir from Hindu hands'.

When the entire Pakistani establishment failed to harm an emerging modern Indian state and got truncated in 1971, it vengefully came up with the idea of jihad against India 'to bleed India in Kashmir'.

A jihad genie like Jaish e Mohammed was created with the ideological training from men like Saeed and Talibani madrasas spread across the tribal belt of Pakistan to harm India. The genie is now out of the bottle consuming the state that created it.

A medieval Pakistani state, run by an army and ideologically driven by myopic people like Saeed and terror outfits like Jaish, has had to finally come to this pass where no one now understands who runs Pakistan.


Pakistan shunned renaissance wisdom and post-industrial democratic institutions.Such a medieval state has had to run out of steam sooner or later. So it is now implodingand being consumed by the medieval and tribal hatred it nurtured against India.

Thank you mom and pop, for not migrating to Islamic state of Pakistan because I would have also exploded if not imploded by the jihadi forces that are consuming Pakistan now.

ظفر آغا

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے اورآپ کے والدین نے 1947میں بٹوارے کے بعد پاکستان جانا گوارانہیں کیا۔ذرا سوچئے اگر ہمارے والدین غلطی سے پاکستان چلے گئے ہوتے تو آج ہمارا اور ہمارے بچوں کاکیا حال ہوتا؟ شاید ہم بھی دیوانے پاکستانی جہادیوں کی طرح ہاتھ میں ایک AK-47لٹکا ئے اسلامی مملکت کی جستجو میں دیوانہ وار معصوموں کا خون بہا رہے ہوتے ۔ اگر ہم اس دیوانگی نے خود بچ بھی جاتے تو بہت ممکن تھا کہ ہمارے بچے طالبانیوں کے بہکاوے میں خود کش بمبار بن کر خدا نخواستہ خود بھی جان سے گئے ہوتے اور نہ جانے کتنے معصوموں کا خون بہایا ہوتا ۔

اللہ ہمارے اس مملکت خداداد پاکستان سے کہ جہاں اسلام نعوذ با اللہ ایک تماشہ بن گیا ہے۔ آج ایک اسلامی حکومت، کے نام پر پاکستان میں جو دیوانگی ہورہی ہے ،کیا کوئی ذی ہوش شخص کسی بھی مذہب اور عقیدے سے اس کو تعبیر کرسکتا ہے؟ دنیا کا کوئی بھی مذہب کیا خون خرابے کی اجازت دے سکتا ہے؟ اور وہ بھی اسلام ،جس کا رب اللہ رب العالمین ہو، اس  اسلام کے نام پر مسلمان خود مسلمانوں کا خون بہائے اور پھر یہ کہے کہ یہ تو جہاد ہے اور ہم خدمت اسلام بجا لارہے ہیں ۔ کیا کوئی ذی ہوش اس کو اسلام کہے گا؟اگر یہی اسلام نعوذ بااللہ ہوتا تو رسولؐ مکہ کی زندگی میں سوڈیڑھ سوسر پھرو ں کے ہاتھوں میں تلوار تھما دیتے اور کہتے جاؤ سوتے ہوئے کافروں کے گھر میں گھس کران کا قتل کردو۔ بس پھر مکہ میں اتنی دہشت پھیل جائے گی کہ لوگ خود بخو د اسلام قبول کرلیں گے، لیکن محمد مصطفیٰؐ پیام رحمت پھیلارہے تھے ، پیغام زحمت لے کر نہیں آئے تھے، لیکن آج کے پاکستان میں جہادی جس اسلام پر گامزن ہیں، وہ پیغام زحمت ہے ،اللہ کا پیام رحمت تو قطعاً نہیں ہے۔

آخر یہ مملکت خداداد پاکستان کو ہوا کیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ اب پاکستان پر کس کی حکومت ہے؟ کیا آج پاکستان میں ابھی فوج کا سکہ چل رہا ہے؟اگر فوج اپنے بیرکوں میں پہنچ چکی ہے تو پاکستان میں موجود جمہوری نظام میں صحیح معنوں میں ملک کے نظام پر قادر ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابھی چند برسوں  تک ساری دنیا یہ سمجھتی تھی کہ حاکم کہنے کو کوئی بھی ہو، سکہ پاکستان میں فوج کا ہی چلتا ہے ،حقیقت بھی یہی تھی۔ پاکستان کی قلیل 62۔60برس کی عمر میں کوئی 45۔40برس تو فوج ہی پاکستانی نظام پر قابض رہی، لیکن ابھی دوہفتے قبل اسی پاکستانی فوج کے ہیڈ کواٹر پر راولپنڈی میں جہادیوں کا قبضہ ہوگیا تھا او رکوئی 24گھنٹے سے زیادہ یہ نام نہاد جہادی پاکستان کے ہیڈ کواٹر پر نہ صرف قابض رہے،بلکہ پاکستانی فوج سے لڑتے بھی رہے۔آخر کار نام نہاد ی مارے گئے ،لیکن ایک بار ان نام  نہاد جہادیوں نے دنیا کو بتادیا  کہ اب وہ پاکستانی فوج کو خود اس کی ماند میں بھی گھس کر چیلنج دے سکتے ہیں ، یقیناً پاکستانی نظام پر اب فوج کی پکڑ بھی ڈھیلی ہوچکی ہے۔

تو پھر کیا آصف زرداری کی پیپلز پارٹی کا اس وقت پاکستان میں ڈنکا بج رہا ہے او رپاکستان میں جمہوری قوتیں حاوی ہوچکی ہیں۔یہ عالم ہے پاکستانی جمہوری نظام کا کہ ان ہنگامی حالات میں بھی آصف زرداری اور میاں نواز شریف آپس میں لڑرہے ہیں ۔ پاکستان کی دوسب سے بڑی جمہوری پارٹیوں کو اپنے ذاتی اقتدار کی زیادہ فکر ہے، پاکستان کی فکر ڈھیلے برابر نہیں ہے، تب ہی تو بھلے ہی آصف زرداری صدر پاکستان ہوں ، لیکن ایک حافظ سعید کو چاہتے ہوئے بھی وہ قید نہیں کرپارہے ہیں۔ حافظ سعید کا یہ عالم ہے کہ ادھر حکومت نے ان کو گرفتار کیا اور ادھر عدالت نے ان کو رہا کرکیا۔ سچ پو چھئے تو موجودہ پاکستان نہ فوج کے بس کا بچا ہے اور نہ ہی جمہوری نا م کا ۔ فی الوقت اگر پاکستان پر صحیح معنوں میں قبضہ ہے تو وہ حافظ سعید او را ے کیو  خان جیسے افراد کا۔ بھلے ہی ان جہادی نظریوں میں یقین رکھنے والوں کا حکومت پر قبضہ نہ ہو، لیکن حافظ سعید پاکستانی عوام کے دلوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ تب ہی تو حافظ سعید اگر گرفتار بھی ہوتے ہیں تو پولس ان کے خلاف اتنا معمولی کیس دائر کرتی ہے کہ وہ منٹوں میں رہا ہوجاتے ہیں اور اگر حکومت سعید کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھاتی ہے تو عدالت کو حافظ سعید سے اتنی ہمدردی ہوتی ہے کہ جج صاحب اس پاکستانی جہادی علمبردار کو کسی نہ کسی بہانے رہاکردیتے ہیں۔

ادھر اے کیو خان صاحب کا یہ عالم ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ان کا بال بیکا نہیں کرسکتا ۔ یہ کون اے کیو خان ہیں؟ یہ وہی اے کیو خان ہیں، جنہوں نے اپنے علم اور صلاحیت سے نہیں، بلکہ ساری دنیا سے نیوکلیئر ٹکنالوجی اسمگل کر کے پاکستان کو ایک نیوکلیئر بم دے دیا، جس کو پاکستانی ‘‘اسلامی بم’’ کہتے پھرتے ہیں ۔ یہی نیوکلیئر  ٹکنالوجی اسمگلر کا پاکستان میں ایسا رتبہ ہے کہ خان صاحب کو پاکستانی نظام تو کیا امریکہ بھی ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا ہے، یعنی پاکستانی نظام کے دل ودماغ پر فی الحال اگر کسی کا دبدبہ ہے تو وہ حافظ سعید اور اے کیو خان جیسے جہادیوں کا ہے۔ پاکستان پر عوامی سطح پر اب نہ تو فوج کا اثر بچا ہے او رنہ ہی جمہوری قوتوں کو کوئی پوچھ رہا ہے۔ بس اب جہادیوں کے ہاتھوں میں ہتھیار ہیں اور ان کے لئے صاحب عزت ومہرثبت اگر کوئی بچا ہے تو حافظ سعید اور اے کیو خان جیسے جہادی ذہنیت کے افراد بچے ہیں۔

آخر پاکستان میں یہ جنون کیوں اور پاکستان میں یہ جہادی اس قدر طاقتور کیوں ہیں؟ یہی پاکستان ابھی 1947تک اسی ہندوستان کا ہی تو حصہ تھا۔ اسی ہندوستان کا یہ عالم ہے کہ ساٹھ باسٹھ برسوں میں دنیا کی ایک قوت بنتا جارہا ہے ۔ یہاں 1952سے آج تک سکون سے جمہوری نظام چل رہا ہے۔ بھلے ہی کچھ عرصہ کے لئے ملک میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی ہند و جہادی تنظیموں کا زور ہوگیا ہو، لیکن انتخاب او رجمہوری طریقوں سےہندوستان نے ان ہندو جہادی قوتوں کی چہیتی پارٹی بی جے پی پر قابو پالیا۔ آج بی جے پی کا ہندوستانی سیاست میں یہ عالم ہے کہ اڈوانی جیسوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ادھر پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ پاکستانیوں نے پہلے جناح کو چھورا محض اس لئے کہ وہ پاکستان کو ایک جدید سیکولر اور جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے ،پھر پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو جیسوں کو پھانسی چڑھا کر جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا اور پاکستان کو فوج کے حوالے کردیا۔ جب اسی فوج نے پرویز مشرف کے وقت سے ہندوستان سے امن وآشتی اور صلح کی بات کرنی شروع کی تو جہادی اسی فوج کے خلاف کھڑے ہوگئے اور پاکستان کا اب یہ عالم ہے کہ پاکستان سول وار کی کگار پر کھڑا ہے۔ ہندوستان او رپاکستان میں یہ فرق کیوں؟ بات بہت تلخ ہے، لیکن حقیقت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ 1947میں ہندوستان نے یہ طے کیا کہ وہ ایک ایسی ریاست کا قیام کرے گا، جس کی بنیاد پر کسی عقیدے پر نہیں ، بلکہ عوامی مرضی یعنی جمہوری اصولوں پر ہوگی۔ ادھر پاکستان نے یہ طے کیا کہ وہ ‘‘ہندو بھارت’’ کے مقابلے ایک ایسی ریاست بنائےگا، جس کی بنیاد عقیدے پر ہوگی اور اس عوام کی آواز کوکوئی جگہ نہیں دی جائےگی۔کہنے کو تو جنرل ضیا الحق نے پاکستانی ریاست پر اسلام کا لیبل لگایا ،لیکن 1947سے آج تک پاکستانی نظام کے عصاب پر ہندوستان سوار ہےاور بس پاکستانی نظام کو اپنے قیام سے آج ‘‘ہندو بھارت’’ سے بدلہ لینے کی جستجو تھی او رپاکستانی نظام اسلام کو اپنے بدلے کے لئے استعمال کرتا رہا ۔ وہ کسی بھی طرح ‘‘ہندو بھارت’’ سے ‘‘مسلم کشمیر’’ حاصل کرنا چاہتا تھا ۔

چنانچہ اسی جستجو میں پاکستانی اعلیٰ طبقے نے سب سے پہلے جمہوریت کو دفن کر کے ملک کو فوج کے حوالے کردیا اور اس طرح پاکستان میں عوام کی آواز دب کر رہ گئی ،لیکن عوام غریبی اور بھکمری جیسے مسائل سے ہٹانے کو پاکستانی نظام نے اسلام کی آڑ میں ہندوستان کے خلاف نفرت کا ایک سیلاب بپا کردیا، لیکن ‘‘ہندو بھارت’’ سے نفرت کی آگ میں سلگتے پاکستان کےہاتھ آیا کیا؟وہ فوج جس پر پاکستان کو ناز تھا، وہی فوج 71۔1970میں مشرقی پاکستان کھو بیٹھی ،جو آج بنگلہ دیش کے نام سے ساری دنیا میں مشہور ہے، لیکن پھر بھی پاکستانی نظام کے سروں سے ‘‘ہندو بھارت’’ کا بھوت نہیں اترا۔ اب جنرل ضیا نے فوج کو یہ سبق سکھایا کہ وہ ہندوستان کو کشمیر میں ‘‘اندورونی طور پر لہولہان ’’ کرے گا، یعنی مسلم کشمیر میں ایسی ہنگامہ آرائی بپا کرے گا کہ ہندوستانی فوج وہاں پھنس کررہ جائے گی۔اس ہنگامہ آرائی کےلئے پاکستان نے ایک جہادی حکمت عملی تیار کی۔ ملک میں جہاد کا جن تیار کیا اور اس جہادی جن کو جہاد کی ٹریننگ دینے کےلئے حافظ سعید جیسوں کو ٹھیکہ دیا گیا، جنہوں نے سارے پاکستان میں ایسے مدرسے قائم کیے ،جہاں جہاد کے نام پر خود کش جہادی ٹریننگ دی گئی اور ان مدرسوں سے نکلنے والے لوگ آخر پاکستانی طالبان میں تبدیل ہوگئے ۔ اب عالم یہ ہے کہ وہ جہادی جن نہ تو پاکستانی جمہوری نظام کے ہاتھوں میں رہا اور نہ ہی اب اس کو پاکستانی فوج قید کرپارہی ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ اس جہادی جن کو خون منہ لگ گیا ہے ۔ ہندوستان نے امریکہ سے ہاتھ ملا کر وادی کشمیر اور ہندوستان کے دوسرے خطوں میں اس جہادی بم باروں کی آمد ورفت پر خاصی روک لگالی ہے، لیکن جہادی جن کو تو روز خون کی پیاس لگتی ہے ، اس لئے اب اسی جہادی جن پر یہ بھوت سوار ہوگیا کہ پاکستانی اقتدار فوج آیا آصف زرداری کے پاس کیوں ہے؟ یہ تو خود اس کے ہاتھوں میں کیوں نہیں ؟ فی الحال قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج اور جہادیوں کے درمیا ن جو جنگ چل رہی ہے، وہ پاکستانی اقتدار پر قبضے کی جنگ ہے اور حافظ سعید اور اے کیو خان جیسی ذہینت رکھنے والی قوتیں اب اس بات پر آمادہ ہیں کہ کسی طرح اقتدار ان کے قبضے میں آجائے ۔ ظاہر ہے کہ جہادیوں اور فوجیوں کی اس رسہ کشی میں نہ صرف معصوم پاکستانی موت کے گھاٹ اتریں گے، بلکہ خود پاکستان اور اس کا وجود بھی لہولہان ہوجائے گا۔ الغرض دیکھا آپ نے اندھے عقیدے پر ہنسنے والے پاکستان کا، اب کیا حشر ہورہا ہے؟ میری رائے میں اس ‘‘ہندو بھارت’’ میں رہنے والے پندرہ کروڑ مسلمان کم از کم فی الحال تو پاکستانی مسلمانو ں سے کہیں زیادہ محفو ظ ہیں، اسی لئے تو کہتا ہوں کہ ہمارے والدین کا ہم پر بڑا احسان ہے کہ انہوں نے عقیدے کے جنون میں پاکستان جانے کی  غلطی نہیں کی او رجمہوری ہندوستان کواپنا وطن قبول کیا، جہاں آج نہیں تو کل ہم ترقی کریں گے۔