New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 01:20 AM

Urdu Section ( 26 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Wave of Vulgarity and Nudity فحاشی اور عریانی کا سیلاب

 

یاسر پیر زادہ

11 جون، 2013

ہمارے ملک  میں دو چیزوں کی مارکیٹ سب سے زیادہ ہے، ایک ، فحاشی کے خلاف تحریری اور تقریری  مواد کی ، اور دوسرے ، خود فحاشی  کی۔ جہاں فحاشی اور عریانی کے خلاف لکھی گئی تحریریں ہاٹ کیک  کی طرح بکتی ہیں وہیں اس جنس کے خریدار بھی چپے چپے پر موجود ہیں۔ نہیں یقین  تو کسی دن اس عورت سے پو چھیں جو روزانہ گھر سے نکل کر اپنے کام کاج کے لئے  باہر جاتی ہے، دفتر میں ملازمت  کرتی ہے، روز مرہ  معالات نمٹانے کی  خاطر مجھ جیسے مردوں کی نظر کا سامنا کرتی ہے یا پھر اپنے ہی گھر میں تشدد کا سامنا کرنے پر مجبور ہے، وہ عورت بتائے گی کہ اس ملک میں فحاشی  کی کتنی اقسام ہیں اور ان کے خریدار کتنی قسموں کے ہیں!

جسے ہم فحاشی اور عریانی کا سیلاب کہتے ہیں ، یہ آخر ہے کیا؟ قابل اعتراض ڈرامے، ناچ گانوں  کے پروگرام ، اشتہارات میں عورت بطور ماڈل پیش کیا جانا، بازار میں دستیاب فحش  سی ڈیز یا پھر انٹر نیٹ پر موجود فحش مواد تک  بلا روک ٹوک رسائی؟  قطع  نظر اس بات سے کہ اٹھارہ  کروڑ آبادی کےاس ملک میں فحاشی کا کوئی ‘‘ معیار’’ مقرر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہر شخص اپنی تعلیم، خاندانی تربیت، سماجی پس منظر او رمذہبی رجحانات کے مطابق ہی فحاشی کی درجہ بندی کرتا ہے، یہ بات البتہ طے ہے کہ کوئی کسی کی کنپٹی پر پستول رکھ کر فحاشی فروخت نہیں کرسکتا ۔بازار میں انگریزی بھارتی یا پشتو فلمو ں کی جو ‘‘ نارمل’’ یا فحش  سی ڈیز دستیاب ہیں ان کے خریدار آخر کون لوگ ہیں ، آسمان سے اترتے ہیں یا بلیک واٹر کے ایجنٹ  انہیں خرید کر دیکھتے ہیں ؟ انٹر نیٹ کی صورتحال  تو سب  سے دلچسپ  ہے، فحش ویب سائٹس کا بلاک کرنا یقیناً پی ٹی اے کا کارنامہ ہے مگر جذبے سے سر شار اگر کوئی نوجوان تُل جائے تو اس کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا ۔ کیا یہ سب لوگ عوام میں شامل نہیں، کیا  انہیں کوئی مجبو ر کرتا ہے کہ وہ پیسے دے کر فحاشی خریدیں؟ نہیں حضور ، یہ سب لوگ ہم  میں سے ہی ہیں اور اگر نا گو ار نہ گزرے تو یہ ہم ہی ہیں جو بر ضاو رغبت فحاشی خریدتے ہیں اور اس سے استفادہ کرنے کےبعد با وضو ہو کر ان لکھاریوں کی حمایت میں جُت جاتے ہیں جنہوں نے ملک میں فحاشی کے خلاف جنگ  جاری رکھنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ یہ بیڑا وزنی ہے اور نہ اس کی کوئی قیمت  ادا کرنی پڑتی ہے کیونکہ یہ وہ مقبول عام نظریات ہیں جنہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔

فحاشی کی لکیر کھینچنا بے حد مشکل کام ہے تاہم یہ لکیر زمانہ خود ہی واضح کردیتا ہے ۔ مجھے سب سے دلچسپ بات یہ لگتی ہے کہ وہ نوجوان جو اپنے فیس بک پیج پر جنیفر لوپز  اور کترینہ کیف کو ‘‘ لائک’’ کرتےہیں  ، ان کی ہوشر با  تصاویر پر فقرے چست  کرتے ہیں  ، اپنی پسندیدہ اداکار اؤں  کی ایک ایک ادا پر ان  کی نظرہوتی ہے ، ان سب  کے ساتھ ہی انہوں نے ‘‘آئی لوگرلز ان حجاب’’ ٹائپ  کا کوئی پیج  بھی لائک کیا ہوتا ہے ! یہ وہ لوگ ہیں جن سے اگر سروے کے دوران پوچھا جائے کہ کیا آپ ملک میں اسلامی نظام کے حامی ہیں تو ز ور سے سر ہلاکر ہاں میں جواب دیں گے لیکن اگر وہی  نظام انہیں خود پر نافذ  کرنے کو کہا جائے تو آئیں بائیں  شائیں کریں گے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو اپنی گرل فرینڈ  کو کرینہ کپور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں ، یورپی ملک کی شہریت لینا چاہتے ہیں ، دبئی ایئر پورٹ پر اترتے ہی سیدھا کسی نائٹ کلب کا رخ کرتے ہیں ، لاس ویگاس میں جوا کھیلنے کا بھی شوق ہے ،بنکاک میں مساج کروانے کا افضل قرار  دیتےہیں ، امریکہ میں بیٹھ کر ہمیں مذہب کے مروڑ اٹھتے ہیں اور یہ تمام فرائض انجام دینے کے بعد پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی پر ٹسو  ے بہاتے ہیں ۔

اصل میں ہم سب لوگ گناہوں میں لتھڑے ہوئے ہیں، ہماری بشری کمزوریاں  بھی ہیں اور معاشی مجبوریاں بھی ۔ ہمیں  پارسائی کا نشہ  بھی چاہئے اور گناہ کی لذت بھی ، ہمارے اندر کا شیطان اس قدر طاقتور ہوچکا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں  کا جو بھی جواز  فراہم کرتا ہے ہم اسے فوراً قبول کر لیتے ہیں ۔ لیکن پھر گناہ کی خلش ہمارا جینا حرام کردیتی ہے ، پیسہ  کمانے کے شارٹ  کٹ کی طرح ہمیں  ثواب کمانے کا بھی شارٹ چاہیئے ، اسی لئے ہم اپنی ذات پراسلام کی اصل روح نافذ کرنے کی بجائے وظیفوں کا شارٹ کٹ  اختیار کرتے  ہیں، ذخیرہ اندوزی کرنے کے بعد داتا صاحب  پر دیگیں چڑھاتے ہیں ،یتیم کامال ہضم  کرنے کے بعد حج کرنے  چلے جاتے ہیں اور دفاتر میں عورتوں کو ہراساں  کرنے کے بعد کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہائےملک میں کتنی فحاشی ہے! آپ اس ملک میں فحاشی کا چھابہ لگا لیں یا فحاشی  کے خلاف  چھابہ  لگالیں ،دونوں  طرح کا مال بکےگا ،دونوں شرطیہ مٹھے ہیں!

دم تحریر : مجھے یہ بتانے کاقطعاً کوئی شوق نہیں کہ میرے  فلاں کالم کا ریسپانس اس قدر شدید تھا بارک اوبامہ کی نیندیں اڑ گئیں  یا وہ میرا کالم پڑھ کر بستر سے الٹ گیا،البتہ ‘‘ اسلامی نظریاتی کونسل’’ والا کالم اس لحاظ سےقابل فخر ضرور تھا کہ ‘‘ مرشد اعلیٰ ’’ حسن نثار نے خاص طور سےاپنے کالم میں اس کا ذکر کیا ، ان کی تعریف میں محبت کی ملاوٹ تھی حالانکہ وہ خود ملاوٹ کےسخت خلاف ہیں۔ اس کالم کے رد عمل  میں ایک اعتراض یہ سامنے آیا کہ ڈی این اے ٹیسٹ  سے یہ ثابت نہیں  ہوتا کہ کسی زنا بالجبر  ہوا ہے یا بالرضا! درست بات ہے۔ عرض یہ ہے کہ گینگ ریپ کاشکار ہونے والی عورت جب ملزموں کی نشاندہی کرتی ہے تو وہ ملزم کہتا ہے کہ عورت جھوٹ بولتی ہے، میں تو اس کےقریب بھی نہیں  گیا ، وہاں  ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ آیا ملزم  جھوٹا  ہے یا سچا ۔ اگر وہ جھوٹا ثابت ہوجائے تو اس کے بعد اس بات کا تعین کرنے میں کوئی دقت نہیں کہ زنا  مرضی کےساتھ تھا یا جبر کےساتھ۔  بائی دی وے ،جن احباب نے ڈی این اے ٹیسٹ کے خلاف دلائل  دیئےہیں  انہیں  چاہئے کہ یہ دلائل اس اس نابالغ بچی کے لواحقین  کو سنائیں جسے چار مردوں نے بھنجھوڑ کر قتل کر ڈالا اور اب با عزت بڑی ہوئے  پھرتے ہیں !

11 جون ، 2013  بشکریہ : روز نامہ جدید خبر ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/yasir-pirzada--یاسر-پیر-زادہ/wave-of-vulgarity-and-nudity--فحاشی-اور-عریانی-کا-سیلاب/d/12299

 

Loading..

Loading..