New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 05:49 AM

Urdu Section ( 15 Sept 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Xenophobia and Religious Intolerance in Islamic Societies اسلامی معاشروں میں غیر ملکیوں سے نفرت اور مذہبی عدم رواداری اسلامی صحیفوں کی قصداً غلط تشریح کا نتیجہ ہے، سلطان شاہین کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب

سلطان شاہین ، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام کے خطاب کا مکمل متن

 اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، 21واں سیشن، جینیوا 10 ۔ 28 ستمبر، 2012

ایجنڈا آئٹم 3 :  تمام انسانی حقوق ،  شہری، سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق   بشمول ترقی کے حق کا  فروغ اور تحفظ۔ ورلڈ انوائرنمنٹ اینڈ ریسورسز کونسل (World Environment and Resources Council (WERC) کی جانب سے

14 ستمبر، 2012

محترم صدر صاحب!

سول سوسائٹی کی جانب سے کی جانے والی تمام  ترکوششوں کے باوجود، مغرب میں اسلاموفوبیا میں  اضافہ ہو رہا ہے۔   جزوی طور پر  مسلسل  دہشت گردانہ حملوں،   انحصارپسندانہ   (exclusivist ) رویوں اور مسلمانوں کے درمیان زینو فوبیا  (xenophobia )اور  مسلم دنیا میں توہین رسالت جیسی فرضی  بنیادوں پر  مذہبی اور فرقہ وارانہ اقلیتوں کے ساتھ بد سلوکی کے سبب  اسے بڑھاوا مل رہا ہے۔

 گزشتہ سال ہم لوگوں کو  ناروے میں 77 معصوم لوگوں کے قتل کا  سامنا کرنا پڑا تھا۔   اب  فن لینڈ  کی خفیہ ایجنسی  سےایک رپورٹ آ ئی ہے جس میں انہوں نے  ہم لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ  ناروے میں بڑے پیمانے پر قتل کرنے والے دہشت گردوں   کی طرح   ایجنڈہ اور نظریات  کے حامل کچھ      اسلامو فوبک  انتہا پسند گروپ موجود ہیں۔  SUPO  (Finnish Security Intelligence Service)  کوپتہ چلا ہے کہ "یہ گروپ  نظریاتی طور پر    پرتشدد  کارروائی کے لئے تیاری ہے"  اور یہ  گروپ اپنے  منشور کے مطابق اسلام کو خاص طور پر  بطور ثقافت نشانہ بنائے ہوئے ہے۔

 مغربی سول سوسائٹی اور حکومتوں کو  جہادیوں  کو تقویت پہنچانے ، سیکولر مسلم حکومتوں کے بجائے   اقتدار میں ان کو شامل کرنے  اور سعودی عرب میں جہاد کے نظریاتی  منبع  کی حفاظت کرنے سے  گریز کرنا ہوگا ،اور اسی کے ساتھ ساتھ  ہم مسلمانوں کو  بھی محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آخراسلامی دنیا میں ہم بطور افراداور ہماری حکومتیں  اسلام کے خلاف اس بڑھتے ہوئے خوف  کو فروغ   دینے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟   اگر اسلامی ممالک سے آنے والی خبریں  مسلسل نفرت ، قتل اور  تبدیلئ مذہب   پر مجبور کرنے والی کہانیاں بیان کرتی ہیں، تو پھر یہ دنیا میں  اسلامو فوبیا کو بڑھاوا  دینے  کاباعث  کیوں نہیں بنیں گی؟

  آج مصر، لیبیا، ایران اور عراق جیسے کئی مسلم ممالک  ایسی بری خبروں کے مستقل ذرائع بنے ہوئے ہیں اورسب سے  بدترین حالات پاکستان میں  ہیں۔  عیسائی،  ہندو،  شیعہ،  احمدی،  تمام مذہبی اور فرقہ وارانہ اقلیتوں کو مظالم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اغوا اور جبراً مذہب تبدیل کرنے کی ایک لہر کے بعد بد قسمت ہندوؤں  نے ملک چھوڑنا بھی  شروع کر دیا ہے۔  پاکستان کے  نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس (NCJP)  نے پایا ہے کہ  اسکول کی نصابی کتابوں میں  نفرت پھیلانے والے مواد میں  مزید اضافہ ہوا ہے۔

اسلامی صحیفوں کے منتخب حصوں میں جان بوجھ کر غلط تشریحات اور ان کی تبلیغ  کی وجہ سے   تمام اقلیتوں کے خلاف نفرت  میں  کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ مرکزی دھارے میں شامل مسلمان جو اسلام کو  انسانیت  کے لئے ایک نعمت کے طور پر دیکھتے ہیں ، ان کے پاس  کوئی اور راستہ نہیں ہے کہ وہ   ان exclusivist  وہابی دہشت گرد گروپوں کے ذریعہ اسلام کے  غلط استعمال کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں جنہیں  پاکستانی فوج کی انٹیلی جنس ایجنسی، بدنام  زمانہ آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے۔

 درحقیقت مسلمانوں کو ہر جگہ قرآن پاک کی  exclusivist  لغوی تشریح کرنے والوں کی مخالفت کرنا ضروری ہے، جو یہ دعوی ٰ  کرتے ہیں  کہ سیاق و سباق سے قطع نظر   قرآن کی تمام آیات  کا اطلاق ہمیشہ  اور ہر جگہ کیا جا سکتا ہے۔

چند  جدید دور کے  قرآن کے مفسرین   نے  مقدس کتاب کا مطالعہ کیا ہے اور پایا ہے کہ  اس میں کچھ بھی ایسا  نہیں ہے جو مسلمانوں کو دیگر  غیر مسلم طبقوں کے ساتھ   یا تو خود  ایک اقلیت کے طور پر یا   ایک مسلم اکثریت والے ملک میں پر امن طریقے سے بقائے باہم  سے روکتا ہو۔ لیکن موجودہ دور کے  زیادہ تر   مسائل  انحصار پسندانہ وہابی نظریہ کی دین ہیں جنہیں پوری دنیا میں  بڑے پیمانے پر سعودی پیٹرو ڈالرس  کی مالی مدد سے فروغ دیا جا رہا ہے۔  یہ نظریہ  شیخ محمد بن عبدالوہاب کے  مندرجہ ذیل فتوی پر مبنی ہے ، جو کہتے ہیں کہ : " کسی بھی مسلمان کا ایمان صحیح ہوہی نہیں سکتا خواہ وہ موحد اور شرک کو ترک کرنے والا ہی کیوں نہ ہو، جب تک کہ وہ مشرکین کے ساتھ عداوت نہ رکھے اور ان کے تئیں بغض وعداوت کا اظہار نہ کرے (مجموعہ الرسائل والمسائل النجدیہ   4/291)

ایک قرآنی آیت  جسے  شیخ عبد الوہاب کے  پیروکار حضرات کثرت سے اور بغیر کسی سیاق و سباق کے   بطورحوالہ  پیش کرتے ہیں اوریہ  چاہتے ہیں کہ اسے  ہر زمانے میں قابل اطلاق آیت تصور کیا جائے۔،  وہ آیت   (سورۃ آل عمران: 28)کہتی ہے،  " مسلمانوں کو چاہئے کہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کواولیاء (حمیات، مدد کرنے والے)  دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کے لئے اﷲ (کی دوستی میں) سے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ تم ان (کے شر) سے بچنا چاہو، اور اﷲ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے، اور اﷲ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے"۔

ایک دوسری آیت جس کا حوالہ بھی بار بار دیا  جاتاہے،  وہ آیت  مندرجہ ذیل ہے:

 "اے مسلمانو!  تم اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کے ساتھ (بھی) جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق (یعنی اسلام) اختیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ (حکمِ اسلام کے سامنے) تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں"(سورۃ التوبہ ، آیت، 29)۔

محترم صدر صاحب!

یہ اور اسی طرح کی جنگ سے متعلق   دیگر  exclusivist  آیات کا مقصد  اسلام کے ابتدائی دور میں  مسلمانوں  کو   ہدایت  دینا تھا ،  جب  اس نئے مذہب  پر چاروں جانب سے حملے ہو رہے تھے  اور اس کو محض باقی  رکھنے  کے لئے  اضافی تحفظ کی ضرورت  تھی۔  مسلمانوں   کو  قرآنی آیات کے نزول کے  13برسوں بعد  ہتھیاروں سے اپنادفاع کرنے کی اجازت  صرف اسی وقت حاصل ہوئی جب ان  کے پاس کوئی اور  راستہ نہیں رہ گیا تھا۔  ان حالات میں غیر مسلموں کے ساتھ ان کے باہمی تعلقات  بھی   فطری طور  پرمحدود کر دئے گئے تھے، خاص طور پر دشمنان اسلام مسلمانوں کے درمیان  اپنے جاسوس  داخل کر رہے تھے جنہیں بعد میں قرآن نے  خود منافق کہا ہے۔   اس وقت بھی انہیں قرآن  میں  بتایا گیا کہ وہ  نہ صرف  اپنی مذہبی آزادی بلکہ  تمام مذہبی طبقات کی  مذہبی آزادی کا دفاع کریں۔  خدا  چاہتا تھا کہ  اس کی عبادت نہ صرف مساجد میں جاری رہے بلکہ  گرجا گھروں، کلیسائوں، خانقاہوں، مندروں اور  ہر جگہ جاری رہے ۔  اس سلسلہ میں قرآن مجید  میں مذکور خدا کے الفاظ  (اردو ترجمہ)  مندرجہ ذیل ہیں:

 " اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے۔" (قرآن 22:40)

یہ 1400 سال پہلے کی بات ہے۔ عرب کے صحرا میں،انتہائی ناہموارحالات کےباوجود، اسلام اتنی تیزی سے  پھیلا کہ  یہاں تک کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو جیسےملحدانہ نظریات رکھنے والوں  (agnostics)  نے بھی  اسے ایک معجزہ کہا  ہے۔   لیکن بعض مسلمان  ہمیشہ اسی  زمانے میں   رہنا چاہتے ہیں اور اس زمانے میں لڑی جانے والی  جنگیں بار بار لڑنا چاہتے ہیں۔ اس گروپ نے  اپنے  وجود کو  مختلف ناموں کے تحت  قائم رکھا۔   جب  یہ لوگ پہلی بار   چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سامنے آئے تو  مسلم اسلاف کی پہلی اور دوسری نسل نے  انہیں  خوارج (اسلام  سے تعلق ختم کرنے والا  )قرار دیا  ۔   لیکن آج کے نام نہاد سلفی وہابی مسلمان  (جو اسلاف یا اسلام کی پہلی نسلوں کی پیروی کرنے کا دعوی کرتے ہیں) خوارج کو اپنا آئڈیل مانتے  ہیں اور ان کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں۔   سعودی عرب کی مالی مدد سے چلنے والے مدارس کی نصابی کتابیں پوری دنیا کے مسلمانوں  کے درمیان  خوارج اور وہابیوں  کی اس طفلانہ  Exclusivism  کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ وہی نظریاتی تربیت ہے جس نے  9/11 کے دہشت گردوں کوتیار کیا،  19 میں سے 16  دہشت گرد سعودی عرب کے رہنے والے  اور تین مصری تھے ، جنہوں نے  تقریبا 3  ہزار  امریکیوں کو ہلاک کر دیا۔   یہ وہی نظریاتی  تربیت ہے  جس نے کچھ دنوں قبل  9/11  کی 11ویں  سالگرہ کے موقع پر اقاعدہ کے اتحادی دہشت گردوں کے ذریعہ    لیبیا میں امریکی سفیر  اور دیگر سفارت کاروں کو قتل کر دیا۔    لیکن ناقابل تشریح  امریکی تحفظ کے بل بوتے پر سعودی عرب نے  دنیا بھر کے  دور دراز علاقوں میں   اپنے نظریات کے فروغ کو   جاری  رکھا ہواہے اور عالمی مسلم کمیونٹی کو بنیاد پرست بنانے میں  کافی حد تک کامیاب ہے۔

محترم صدر صاحب!

خوش قسمتی سے دنیا بھر میں کچھ اسلامی  اسکالرس اور دانشور اپنے محدود وسائل کی حد تک اس بڑھتی ہوئی لعنت کا مقابلہ کرنے میں فعال طور پر مصروف ہیں۔  تیل کی دولت   اور دنیاکے  واحد سپر پاور کے فراہم کردہ تحفظ کے تحت پھیل رہےنظریات کا مقابلہ آسان نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ لوگ  اس علمی وفکری  جہاد میں  ہمہ تن مصروف ہیں۔

دنیا کے تمام لوگوں کے ساتھ  قریبی  باہمی تعلقات رکھنے   کے جواز میں دلائل پیش کرنے والے اسلامی اسکالرس میں    ہندوستانی  عالم وارث مظہری نے   بھی اہل کتاب کے  ساتھ  ازدواجی تعلق کے بارے میں قرآن  کی عطاکردہ اجازت  کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ  " حقیقت یہ ہے کہ موالات کی یہ تشریح انسانی عقل اور فطرت دونوں سے معارض ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اسلام میں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے۔ جس پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہا  کے وقت سے لے کر آج تک عمل ہوتا چلا آرہا ہے۔ انسان فطری طور پر مجبور ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور ماؤں سے قلبی لگاؤ اور دلی محبت کا تعلق قائم کرے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورت میں اسلام ایک مسلمان کو روک دے گا کہ وہ اپنی غیر مسلم بیوی یا ماں سے محبت کرے؟اور یہ کہ ‘‘ صرف ظاہری خوش خلقی’’ (مدارات)سے کام چلائے ؟ کیا ایسی صورت میں خوشگوار ازدواجی زندگی کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک فطری دین ہے۔ وہ فطرت انسانی کے خلاف نہیں جاسکتا “۔ (4فروری، 2012، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

اصل بات یہ ہے کہ قرآن میں موالات کی آیات کا تعلق نہ تو تمام مسلمانوں سے ہے اور نہ تمام غیر مسلموں سے ، ان کےاصل مخاطب وہ مسلمان ہیں جن کے اور غیر مسلموں کی کسی جماعت کے درمیان کشیدگی اور جنگ کی صورتحال قائم ہو۔ اس پر بھی اس حکم کے اطلاق کی صحیح شرط یہ ہے کہ یہ جنگ خالص اسلامی بنیادوں پر لڑی جارہی ہو۔ یعنی وہ حقیقی معنوں میں اسلام کے کلمے کی حفاظت اور اس کو بلند کرنے کے لئے لڑی جارہی ہو نہ کہ صرف اپنے قومی مقاصد ومفادات کے لیے ۔

قابل احترام  مانے جانے والے  اسلامی سکالر مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ بھی کہا  ہے  کہ( جیسا کہ  وارث مظہری نے  ان کا حوالہ دیا ہے): " کفار کو دوست اور حلیف بنانا اسی حالت میں ممنوع ہے جب وہ مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ آرا  ہوں۔  اگر یہ صورت نہ ہوتو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے’’ (تدبر قرآن  412/2)۔  انہوں نے سورہ آل عمران  کی آیت 28 کی وضاحت  میں  اس بات پر زور دیا ہے،  "مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کافروں کو اپنا ولی بنائیں لیکن اسی کے ساتھ ‘‘من دون المؤمنین ’’ کی قید ہے ۔ یعنی کافروں کے ساتھ صرف اس قسم کی موالات ناجائز ہے جو مسلمانوں سے متصادم اور ان کے مفاد اور مصالح کے خلاف ہو (صفحہ 67)۔  وہ مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : موالات سے متعلق ان آیات میں اگر چہ مسلمانوں سے خطاب کیا گیا ہے لیکن اس میں اصل خطاب منافقین سے ہے جو  یہود مدینہ کی اسلام مخالف سازشوں میں ان کے آلۂ کار بنے ہوئے تھے ۔ جب اپنے وجود اور ایمان کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کی جنگ ان کے دشمنوں کے ساتھ چھڑ گئی تو مسلمانوں کو   مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ دوستی رکھنے کی قطعی طور پر ممانعت کردی گئی ۔

سورۃ الممتحنہ  اس کے لئے سب سے بہترین مثال ہے۔  آیت  8 اور 9 میں بحث مزید توسیع پاتی ہے جو   مندرجہ ذیل ہے (4 فروری، 2012 ، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام ):

"اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے" (سورۃ الممتحنہ  آیت  8)

"اللہ تو محض تمہیں ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں (یعنی وطن) سے نکالا اور تمہارے باہر نکالے جانے پر (تمہارے دشمنوں کی) مدد کی۔ اور جو شخص اُن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں" (سورۃ الممتحنہ  آیت  9)

وارث مظہری اس پر تبصرہ کرتے ہیں کہ : "یہی وجہ ہے کہ مولانا امین احسن اصلاحی نے  متعلقہ آیات کے سلسلہ میں اپنی  رائے کا اظہار کیا، " موالات کی یہ ممانعت تمام کفار کے حق میں نہیں ہے بلکہ صرف ان کے حق میں ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم (مسلمانوں ) سے جنگ کی۔ اور تم (مسلمانوں ) کو جلاوطن کیا۔"( تدبر قرآن :334/8)

 محترم صدر صاحب!

اس تناظر میں، اسلامی اسکالر  اور قرآن  کے مفسر  محمد یونس  (شریک مصنف (اشفاق اللہ سید کے ساتھ)، اسلام کا اصل پیغام، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے  2009)  نے اسلامی ویب سائٹ  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام کے لئے    اسلام اور  تکثیریت کے اپنے مطالعہ میں مندرجہ ذیل متعلقہ قرآنی آیات کے ساتھ ہی وحی کے اختتامی مرحلے کی آیات  (5:48، 49:13) کا بھی حوالہ  دیا  ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آیات   اپنی بات بذات خود ثابت کرتی ہیں:

"اور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت (مقرر) ہے وہ اسی کی طرف رُخ کرتا ہے پس تم نیکیوں کی طرف پیش قدمی کیا کرو، تم جہاں کہیں بھی ہوگے اﷲ تم سب کو جمع کر لے گا، بیشک اﷲ ہر چیز پر خوب قادر ہے" (2:148)۔

 "اور (اے نبئ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف (بھی) سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس (کے اصل احکام و مضامین) پر نگہبان ہے، پس آپ ان کے درمیان ان (احکام) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمائے ہیں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اس حق سے دور ہو کر جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے" (5:48)۔

"اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے"(49:13)۔

محترم صدر صاحب !

اخیرمیں ، میں  اس پر وقار فورم  کے ذریعہ  لوگوں کو یاد دلانا چاہوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ میں کیا فرمایا تھا:

"پوری انسانیت  آدم اور حوا  کی اولاد ہیں ، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے؛ اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں ہے، سوائے تقویٰ اور نیک اعمال کے، اس لئے  اپنے ساتھ ناانصافی مت کرو۔  یاد رکھو ، ایک دن تم اللہ سے ملو گے اور اپنے اعمال کے لئے  جواب دو گے۔  اس لئے  خبر دار رہو: میرے جانے کے بعد   نیکو کاری کی راہ  سےبھٹک مت جانا۔"

 کوئی بھی سمجھ سکتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ    نہیں کہا کہ ایک مسلمان کو  کسی غیر مسلمان  پر  کوئی برتری حاصل ہے۔  نبی کریم صلی اللہ  علیہ وسلم کے نزدیک  برتری کا  دار ومدار  مکمل طور پر "تقوی اور نیک اعمال"  پر  تھا۔   یہی سب کچھ ہے۔ آئیے  ہم  اسے  یاد کریں اور اسلام فوقیت  کے نقصان دہ نظریات کی بڑھتی ہوئی طاقت کے خلاف  جدو جہد کریں۔ کیوں کہ   یہ نظریات ہم سےآج  کی گلوبلائزڈ کثیرثقافتی دنیا میں  ایک خاطر  خواہ جز وکے طور پر رہنے کی اہلیت ختم کر دیتے ہیں ۔  ہم مرکزی دھارے میں شامل مسلمان ہمیشہ سے ہی  ایک پرامن  طبقہ رہے ہیں لیکن   آج بہت کم   لوگ   دوسروں کے ساتھ   پر  امن  بقائے باہم  کی ہماری صلاحیت  پر اعتماد کرتے ہیں۔  اور اب   ہمارے ساتھ  بد اعتمادی  کی ان لوگوں کے پاس جائز وجوہات   بھی ہیں۔

آئیے ! ہم مسلم معاشروں میں غیر مسلموں کے ساتھ کی جانے والی  نا انصافیوں کے خلاف  جدو جہد کے لئے کمر کس لیں۔  ایسا کر کے ہم اپنے مذہبی فریضہ کو ہی  پورا کریں گے۔  اور یہ   عمل  غیر مسلم اکثریت والے ممالک میں   اقلیت میں  رہنے والے مسلمانوں کے لئے انصاف  کی ہماری آواز  کو طاقت بخشے گا۔  حال ہی میں ہم نے  برما کے روہنگیا  مسلمانوں کےحق میں  آواز  اٹھائی ، جنہیں بڑے پیمانے پر مظالم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔  لیکن یہ  آواز دنیا کے ضمیر پر اثر نہیں کر سکی، کیونکہ جس طرح سے ہم اپنی اقلیتوں کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں وہ   اخلاقی طور پر صحیح نہیں ہے  اور خاص طور   سےان ممالک میں جو  اسلامی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔

 اس طرح کم از کم ہمیں اس فکری  جہاد میں  شامل ہونا چاہئے جو جہاد کی ایک عظیم شکل  ہے اور وہ  یہ  ہےکہ ہم  اسلامی ہونے کا دعوی کرنے والے  پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک میں اقلیتوں کے حقوق کے لئے  جدو جہد کریں۔  مثال کے طور پر،  ایک طبقہ کے طور پر ہمیں  سعودی عرب  سے یہ مطالبہ کرنا  چاہئے کہ وہ  اپنے ملک میں کام کرنے والے  غیر مسلم حضرات کو اپنے  عبادت گھروں کی تعمیر کی  اجازت  دے۔ پاکستان میں توہین رسالت کے  بدنام زمانہ قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے کےلئے بھی ہمیں  متحد ہونا ضروری ہے۔ حالاں کہ  پاکستان کی موجودہ حکومت میں  شامل   کچھ لوگ  بھی اس کی منسوخی  چاہتے ہیں لیکن  اس مسئلے پر  دو اہم رہنماؤں  کے قتل کے بعد   وہ اپنی بات کہنے کی  بھی ہمت نہیں جٹا پا رہے  ہیں۔

مغرب میں  بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کو لعن طعن کرنے اور سازشی نظریات  کا شکار ہونے کے بجائے، ہمیں شرمندگی کا احساس کرنا  شروع  کردینا چاہئے  اور یہ  سوچنا چاہئے  کہ ہر کسی کے پاس اسلام سے ڈرنے کی کوئی نہ کوئی  وجہ ہے  اور خدا بہتر جانتا ہے  کہ آج اسلام سے ڈرنے کی لوگوں کے پاس وجوہات ہیں۔ در اصل اسلام کی اس شکل سے  غیر مسلموں سے کہیں زیادہ اعتدال پسند اور  مرکزی دھارے جڑے مسلمان خائف ہیں  اور ان کے پاس اس  ڈرکی  زیادہ وجوہات ہیں۔ فرق صرف یہ  ہے کہ غیر مسلم حضرات  ،اسلام اور  تمام مسلمانوں کو ایک مانتے ہیں؛    وہ مسلمانوں اور انتہا پسندوں  یا جہادیوں کے درمیان فرق نہیں کر سکتے ۔  ان کے لئے ہم سب ایک جیسے ہیں۔  اس لئے یہ لوگ  مذہب کی ایک مخصوص تشریح سے نہیں بلکہ  تمام مسلمانوں  اور بحیثیت مذہب اسلام سے خوف کھانے کی وجوہات تلاش کر لیتے ہیں۔  ہم لوگ اسے بہتر جانتے ہیں لیکن  پھر بھی یہ لا حاصل ہے ۔

 خدا نے  اسلام کو دنیا میں  ایک نعمت کے طور پر  بھیجا تھا؛  یہ ہم مسلمان  ہیں جنہوں نے اسے   خوفناک شئ میں تبدیل کر دیا۔  9/11 کے حادثہ کے باوجود   امریکہ اور مغربی ممالک  کے عام طور پر جہادی نظریہ کو تقویت دینے کے پیچھے   اپنے  کچھ اسٹریٹیجک وجوہات ہیں، لیکن یہ بنیادی طور پر اسلام ہی  کی ایک داخلی  جنگ ہے اور ہمیں اپنے محدود وسائل کے ساتھ اپنی اس جنگ کو لڑنا ہوگا۔  اپنی پوری تاریخ میں ہم نے ہمیشہ خارجیوں اور جہادیوں کو شکست دی ہے، اورشدید ترین  مشکلات کے باوجود   ہمیں  پوری امید  ہے کہ   ہم ایسا دوبارہ کریں گے۔

URL for English article: Xenophobia and Religious Intolerance in Islamic Societies Is a Result of Misinterpretation of Islamic Scriptures, Sultan Shahin Tells UNHRC

URL for Hindi article: Xenophobia and Religious Intolerance in Islamic Societies इस्लामी समाजों में विदेशियों से डर और धार्मिक असहिष्णुता इस्लामी ग्रंथों की गलत व्याख्या का परिणाम है, सुल्तान शाहीन का संयुक्त राष्ट्र मानवाधिकार परिषद में भाषण

URL for Arabic article: Xenophobia and Religious Intolerance in Islamic Societies کراھیۃ الأجانب في المجتمعات الإسلامیۃ نابعۃ من سوء فھم بعض العبارات المحددۃ من الکتب الإسلامیۃ ونشرھا عمدا، یقول سلطان شاھین لمجلس الأمم المتحدۃ لحقوق الإنسان

URL for this article: https://www.newageislam.com/urdu-section/xenophobia-religious-intolerance-islamic-societies/d/8679

Loading..

Loading..