New Age Islam
Tue Jan 18 2022, 11:01 AM

Urdu Section ( 3 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ala Hazrat Imam Ahmad Raza, As a Naat Poet امام احمد رضاؒ بحیثیت ایک نعت گو شاعر

وسیم نذیر بٹ

26 دسمبر،2021

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیامیں تشریف آوری سے لے کر آج تک ہزاروں کی تعداد میں ایسے خوش قسمت لوگ آئے ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح او ران کی نعت خوانی او رنعت گوئی کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ ان خوش بختوں میں شاعر رسول صلی اللہ علیہ وسلم حسان بن ثابت کانام نامی سر فہرست ہے۔ حسان وہ خوش قسمت ہیں جن کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نعت خوانی کے لئے اپنے ممبر منور پر رونق افروز ہونے کی اجازت خسروانہ مرحمت فرماتے۔

بر صغیر ہندو پاک میں نعت کے حوالے سے سیکڑوں بلکہ ہزاروں کہنہ مشق شعر ا کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے شعر و ادب کی اس صنف کو مالا مال کیا اور رہتی دنیا تک مدحت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے خود کو دوام بخشنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ انہی شعرا کے صف اوّل میں ماضی قریب کے ایک مشہور عالم نعت گو امام احمد رضا (بریلوی) کا اسم گرامی قطی ستاروں کی مانند ممتاز نظر آتا ہے۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے اس جید عالم دین فقیہ اور مصنف نے نعت گوئی میں وہ کمال حاصل کیا کہ شاید وباید! ایسا شازی دیکھنے میں آتا ہے کہ تحریر و تقریر اور شاعری ایک ہی شخصیت میں پورے آب و تاب کے ساتھ جمع ہوئی ہوں۔

احمد رضا خاں کی ایک بہت بڑی وصف جس میں وہ ممتاز نظر آتے ہیں وہ ان کا عشق رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اس نازک اور مشکل راہ میں وہ بے ہمتا دکھائی دیتے ہیں ایک ایسے سپاہی کی طرح جو اپنے شہنشاہ او روطن مالوف کی محبت میں خون کا آخری قطرہ بھی نہایت ہی بہادوری اور ثابت قدمی کے ساتھ بہا دینے میں فخر محسوس کرتاہے۔ اس میدان میں احمد رضا صاحب کا بھی یہی حال ہے لیکن زمانے کی ستم ظریفی دیکھئے کہ نام نہاد ادبا اور شعرا کو بلا استحاق وہ مقام دیا گیا جس اس طرح ان کے مناسب حال نہ تھا اور امام احمد رضا کو انصاف کا خون کرتے ہوئے منسب شہود سے دور رکھنے کی دانستہ کوششیں کی گئیں ۔ خود احمد رضا صاحب کو اس کا احساس او ررنج تھا۔ فرماتے ہیں۔

سنیت سے کھٹکے سب کی آنکھ میں پھول ہوکے بن گئے کیاخار ہم

حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت عزت، رفعت تعظیم و توقیر اور عشق گہر بار کا جذبہ صادق امام احمد رضا کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ اپنے قلم و زبان کو جنبش دے۔ چنانچہ نتیجتاً وہ دربے بہا معرض وجود میں آتے ہیں جن کی چمک دمک سے آنکھوں کو نور اور دل کو سرور حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کلام ایسا سد ا بہار اورعطر بیز ہے کہ دل کی دنیا معطر او رمنور ہوتی ہے۔ خود رضا صاحب کو اپنی نعت گوئی کی بلندی کا اندازہ ہے اور خود کو انس سبب سے سگ حسانؒ (شاعر رسولﷺ ) میں شمار ہونے کی امید باندھی ہے۔

کرم نعت کے نزدیک تو کچھ دور نہیں کہ رضائے عجمی ہوسگ حسان عرب

جمال مصطفیﷺ کے روح افزا مناظر اہل دل حضرات کیلئے یہر آن ہر زبان مہمیز کا کام کرتے ہیں جو شخص جتنا زیادہ اس بحر نا پیدا کنار میں غوط زن ہوتاہے وہ اتنا ہی زیادہ حیرت میں مبتلا ہوتاہے او رلمحہ بہ لمحہ حیرت کی اخزدگی اس کانصیب بن جاتی ہے۔ باوجود حقیقت کے کہ خالق ازلی نے جمال مصطفیﷺ کو حجاب بشریت میں مستور کردیا ، ورنہ حقیقت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی کلیات کو درکنار جزئیات بھی کسی بشر کو کما حقہ معلوم ہوناممکن نہیں، جیسا کہ مولوی محمد قاسم ناناتوی نے مدحت مصطفیٰ میں یوں بیان کیا ہے۔

ربا جمال پر تیرے حجاب بشریت نہ جانا کون ہے کسی نے بجز ستار

سوائے خدا کے بھلا کوئی تجھ کو کیا جانے تو شمس نو رہے سپر غلط اولوالابصار

بہر حال اس وقت میں صاحب لولاک مدنی آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت گوئی کے سلسلے میں امام احمد رضاؒ کے گلہائے عقیدت سے بغیر کسی تشریع و تفسیر ک جستہ جستہ نمونے پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے جودوکرم کاذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

واہ کیا جودوکرم ہے شہ بطحا تیرا نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا

فیض ہے یا شر تسنیم نرالا تیرا آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب یعنی محبوب و محّب میں نہیںمیرا تیرا

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دامن امید یوں وابستہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لطف ان کا عام ہوہی جائے گا شاد ہرناکام ہوہی جائے گا

سایلوا دامن سخی کا تھا م لو کچھ نہ کچھ انعام ہوہی جائے گا

یاد ابردکرکے تڑپو بلبلو ٹکڑے ٹکڑے دام ہوہی جائے گا

ان کی مشہور و معروف نعت وعربی ، فارسی ، اردو او رپنجابی زبانوں پر مشتمل ہے، ان کی زبان ہو بیان کی مبارک تار کے ساتھ اپنی روانی ترنم او رحسن بیان کا بے نظیر نمونہ ہے ملاحظہ فرمائے:

لم یات نظرکفی نظر مثل تو نہ شد پیدا جانا جگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا

الجُر و حدا الموج طفے من بکس و طوفان ہو شربا منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہو موری نیا پار لگا جانا

انافی عطش و نحاک اتم اے گیسوئے پاک ابرکرم بر سن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر گرا جانا

بس خانہ خام نوائے رضا نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ مرا ارشاد احبانا طق تھا نا چار اس راہ پڑا جان

احمد رضا صاحب کی شاعری ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں صد بار رنگوں کے پھول ہیں اور ہر پھول کی اپنی الگ اور منفرد مہک ہے۔ اب یہ بلبل کی اپنی پسند پرموقوف ہے کہ وہ کس کس پھول پر دارفتہ ہوکر چہکے اور سماں باندھے ایک نعت کے چند مصرعے ملاحظہ ہوں۔

سرتا بقدم ہے تن سلطان زمن پھو لب پھول دہن پھول ذقن پھول بدن پھول

صدقے میں ترے باغ تو کیا لائے ہیں بن پھول اس غنچہ دل کو بھی تو ایمان ہوکہ بن پھول

تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا تم چاہو تو ہوجائے ابھی کوہ محن پھول

کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول

رضا نعت لکھنے کے لئے درخت طوبیٰ کی شاخ کا قلم چاہتے ہیں تاکہ مدحت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر بھی دنیائے فانی کی کسی چیز سے نہ ہو، اس سلسلے میں احمد رضا روح القدس سے مدد طلب کرتے ہوئے کہتے ہیں : ’’طوبے‘‘ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ مانگوں نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے کو روح قدس سے ایسی شاخ اور حق یہ ہے کہ نعت لکھتے وقت ان کا قلم ’’غالب صریر خانہ نوائے سروش ہے‘‘ کا مصداق ہوتاہے۔

امام احمد رضا سلفِ صالحین کے طریقے پر شدت کے ساتھ کار بند تھے ۔توحید خالص کے سچے ترجمان عظمت رسول ﷺ کے بے باک وکیل، قرآن و حدیث کے پر جوش مبلغ اور داعی، جدیدیت کی ہر نئی تحریک کے دلائل قاہرہ کے ساتھ مخالف ، قدیم او رقدما کے شیدائی او رہر ایک چیز سے بے نیاز ہو کر او رہر کسی سے اپنا دامن چھڑا کر نور مجسم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق زار تھے ، دن رات محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالوں میں گم رہتے ،کوئی بڑے سے بڑاعالم کیا عربی کیا عجمی اگر نبی امی فداہ روحی کی شان اقدس میں ذرا سی بھی بے ادبی یا ایسی بات جس پر بے ادبی کا شائبہ کر گزرتا تو امام احمد رضا تڑپ اٹھتے، ان کی غیرت ان کو للکار تی اور وہ ایسے نام علماء وفضلا کی فوراً خبر لیتا اور اس سلسلے میں وہ کسی کا کوئی لحاظ نہ کرتے اس ضمن میں وہ اکیلے پوری دنیا سے لڑنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ،ان کامسلک اس سلسلے میں اس شعر کا مصداق تھا۔

توحید تو یہ ہے کہ بندہ حشر میں کہہ دے یہ بندہ خفا دونوں عالم سے میرے لئے ہے (جوہر)

احمد رضا ایک مسلم الثبوت شاعر کی حیثیت سے رہتی دنیا تک یاد رکھیں جائیں گے ۔ اگر وہ نعت گوئی کے سوا اپنی اعلیٰ درجے کی علمی تحقیقات کو منصہ شہود پر نہ بھی لاتے تب بھی علمی و ادبی دنیا کے افق پر دہ محض اپنی شاعری کی بنیاد پر آفتاب کی طرح چمکتے رہتے کہ عشاق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وافر سامان راحت فراہم کرچکے ہیں۔

26 دسمبر،2021 ، بشکریہ: روز نامہ چٹان، سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/ala-hazrat-imam-ahmad-raza-naat-poet/d/126093

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..