New Age Islam
Mon Oct 26 2020, 02:50 AM

Urdu Section ( 14 Apr 2010, NewAgeIslam.Com)

Objectives Resolutions and Secularism-XII (قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط12


وجاہت مسعود

دو ہفتے بعد بہار کے مسلم اقلیتی صوبے میں ‘یوم نواکھلی’ منایا گیا ۔ اس روز یعنی 25اکتوبر 1946کو بہار کے مسلمانو ں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ بہار میں مذہب کے نام پر مسلمان  پاشندوں کے ساتھ جو سلوک ہوا،اس کا ذکر بھی انسانیت کی توہین کے زمرے میں آتا ہے ۔پٹنہ، مونگیر اور بھاگل پور کے اضلاع بھی  ا س کی لپیٹ میں آگئے۔بہار میں فسادات کے بعد باچاخان مہاتما گاندھی کے ساتھ بہار کے دورے پر گئے اور وہاں قتل وغارت کے مناظر دیکھ کر کانگریسی قیادت پر برس پڑے تھے ۔ اگست 1947سے فروری 1948تک حسین شہید سہر وردی سائے کی طرح گاندھی جی کے ہمراہ رہے تھے تو یہ محض امن کی محبت نہیں تھی۔ انہیں امید تھی کہ گاندھی جی کے ساتھ رہنے سے شاید ان کی جان بچ جائے۔

فسادات کا دوسرا خوناب دھارا پنجاب کے شمالی علاقوں سے پھوٹا ۔بنگال او ربہار کی طرح پنجاب کے فسادات میں بھی تاریخوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔خضر حیات کی وزارت 2مارچ کو مستعفی ہوئی۔ گورنر جین کنز نے مسلم لیگ کو حکومت سازی کی دعوت دینے کی بجائے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935کی دفعہ 93کے تحت پنجاب میں گورنر نافذ کردیا۔ شوکت حیات لکھتے ہیں کہ ‘‘مسلمانوں کو نظر انداز کر کے پنجاب میں حکومت بنانے کا یہ بدقسمت واقعہ پنجاب میں مشکلات اور ہندوستان بھر میں قتل عام کی وجہ بنا....وہ( گورنر) اس عمل کے متوقع خوفناک نتائج کوبھانپ نہ سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں مسلمان پنجاب میں شہید ہوئے اور بہت سے ہندو مغربی پنجاب میں مارے گئے’’۔

سردار شوکت حیات کا حافظہ یہاں زیادہ مستعد نہیں کیو نکہ انہوں نے یہ نشاندہی کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ وہ ٹیکسلا ، کہوٹہ، جہلم، راولپنڈی ،کیمبل پور او چکوال میں یہ فسادات 4مارچ 1947کو (گویا مسلم لیگ حکومت نہ بن سکنے کے عین دو روز بعد) شروع ہوئے۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی نہیں کی کہ مسلم لیگ کی حکومت نہ بننے اور پوٹھو ہار کے ناخواندہ اور پسماندہ خطے میں شروع ہونے والے فسادات میں علت ومعلول کا کیا رشتہ تھا جب کہ وہاں کے بیشتر باشندے تو انتخابات میں ٹیکس ،تعلیم اور جائیداد جیسی شرائط پوری نہ کرنے کی بنا پر ووٹ دینے کے اہل ہی نہیں تھے۔

سردار شوکت حیات ، جنہیں 1943میں نامناسب رویے کے الزام میں 28برس کی عمر میں صوبائی وزارت سے برطرف کیا گیا تھا ، خود پوٹھو ہار کے علاقے واہ میں کھڑ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ۔ سابق وزیر اعظم پنجاب سکندر حیات کے بیٹے تھے۔ بائیں بازو کے گل تازہ انقلابیوں کے محبوب رہنما محترم طارق علی صاحب کے ماموں تھے ۔ بادی النظر میں یہ شک کیا جاسکتا ہے کہ مارچ 1947کے پہلے ہفتے میں شروع ہونے والے ان فسادات کے پیچھے سردار شوکت حیات کا ہاتھ تھا۔ تاہم ایسا الزام بغیر سوچے سمجھے عائد نہیں کرنا چاہئے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مشتاق احمد وجدی (تب ریلوے میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے) اس ضمن میں اپنی خود نوشت میں کیا کہتے ہیں۔

‘‘(انہی ایام میں) سردار شوکت حیات نے مجھے طلب کیا او رکہا کہ سخت فسادات ہونے والے ہیں۔ ان کے لیے ہتھیار جمع کرنے ضروری ہیں ۔ یہ صوبہ سرحد آئیں گے۔ لیکن ریلوے اسٹاف کی مدد ضروری ہے۔ میں نے لائن اسٹاف کے مسلمانوں کو جمع کیا۔ سب نے انتہائی مستعدی کا اظہار کیا اور قسم کھائی کہ اس کام میں جیل جانا تو کیا جان بھی دینی پڑی تو ثابت قدم رہیں گے۔ کمیٹی بنی ،فرائض تقسیم ہوئے ۔ میں نے حاضر ہوکر سردار شوکت حیات کو تفصیل بتائی۔ انہوں نے کہا فوراً دلی جاؤ اور لیاقت علی خاں صاحب کو بتاؤ ۔ میں دوسرے ہی دن دلیّ پہنچا ۔لیاقت علی خاں اس وقت کانگریس او رمسلم لیگ کی مخلوط وزارت میں وزیر خزانہ تھے۔ غالباً میرے آنے کی اطلاع ان کو پہلے سے تھی۔ کارڈ ملتے ہی فوراً طلب کیا۔ غور سے تفصیلات سنیں۔ مزید ہدایات کا وعدہ کیا اور خفا ئے راز کی تاکید کی ۔ اسی زمانے میں وزارت خزانہ میں میرا تقرر بحیثیت ڈپٹی سیکریٹری کے ہوگیا۔ اور میں لاہور سے دلی چلا گیا۔ معلوم نہیں میری بنائی تنظیم کہاں تک مفید رہی۔ بعد میں وسیع پیمانے پر جو کشت و خون ہوا ، اس کے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس نے کچھ نہ کچھ ضرور مدد کی ہوگی’’۔

خیال ہوسکتا ہے کہ ایک اہم سیاسی رہنما پر اتنا بڑا الزام محض ایک سرکاری افسر کی شہادت پر نہیں لگانا چاہئے ۔ مناسب ہوگا کہ اس پر میجر جنرل ریٹائر ڈ شاہد حامد سے بھی گواہی لے لی جائے۔ اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھتے ہیں۔

‘‘ہندوؤں او رسکھوں کے خلاف فسادات پنڈی میں شروع ہوئے ۔ اس وقت لوگوں کو بالعموم معلوم تھا کہ ایک نوجوان مسلم لیگی لیڈر نے جو فوج کا ایک ریٹائر ڈ افسر اور علاقے کے ایک بڑے جاگیر دار خاندان کا فرزند تھا، ‘قوم کی محبت اور اسلامی فریضے’ پر مبنی اس کا م کا آغاز کیا۔ مسلمان ان دنوں عام طور پر اسے ملک سے محبت کا کام سمجھتے تھے۔ زیر نظر کتاب کے ضمن میں جب میں نے بریگیڈئیر نور احمد حسین سے ملاقات کی تو انہو نے بتایا کہ محض اتفاقاً لندن میں ان کی ملاقات اس لیڈر سے 1980کے عشرے میں ہوگئی جو اس  زمانے میں سال خوردہ سیاست دانوں میں شمار ہوتاتھا۔ بریگیڈئیر نے انہیں ساتھ لیا اور ہائیڈ پارک سے اپنے فلیٹ میں لے گئے ۔ بزرگ سیاست دان نے اپنے اس فعل سے نہ تو انکار کیا اور نہ افسوس کیا اور نہ انہیں  ان فسادات پر کوئی ندامت تھی۔ بلکہ نور احمد حسین کو حیرت ہوئی  کہ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی انہوں نے اس کا دفاع کیا اور بھلا کیوں نہ کرتے انہیں ان فسادات سے ذاتی طور پر بہت فائدہ پہنچا تھا’’۔

خود سردار شوکت حیات اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں ‘‘ بہار میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعداچانک قواعد او رمعمول سے ہٹ کر ان مسلم فوجیوں کو جن کا تعلق راولپنڈی ڈویژن سے تھا فوری طور پر رخصت پر بھیج دیا گیا تاکہ وہ بہار کے قتل عام کواپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد رد عمل کے طور پر اس سپاہی خیز خطہ میں قتل ،لوٹ مار اور عصمت دری شروع کردیں’’۔کم از کم سردار شوکت حیات نے یہ تو تسلیم کیا کہ غیر مسلم آبادی مسلم آبادی کو تہہ تیغ کرنے میں مسلم سپاہی ملوث تھے۔

ایک قابل غور پہلو یہ ہے کہ گورنر پنجاب نے فسادات کو روکنے کے لیے پنجاب کانگریس کے سابق صدر مولانا داؤد غزنوی کو پنڈی روانہ کیا تو اس پر سردار شوکت حیات خاصے سیخ پا ہوئے ۔ انہیں اعتراض تھا کہ مولانا کی اس علاقے میں ‘‘کوئی پہچان نہیں تھی’’ البتہ جب سردار شوکت حیات کو موقع دیا گیا تو بقول ان کے ‘‘میں نے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اس قتل وغارت کو بند کرادیا’’ ۔ سبحان اللہ! ایسی کیا گیڈر سنگھی تھی کہ پوٹھو ہار کے طول وعرض میں بھڑ کتے شعلے 24گھنٹے میں سرد پڑگئے اوروقت پڑنے پر پشاور کالج کے خزانچی کا داماد نہ سنبھا لا گیا۔(جاری)

Related Articles:

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 1)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 2)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 3)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 4)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 5)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 7)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 8)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط9)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط10)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط11)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط12)

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/objectives-resolutions-and-secularism-xii--(قرار-داد-مقاصد-اور-سیکرلرازم--(قسط12/d/2700


Loading..

Loading..