New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 01:51 PM

Urdu Section ( 19 May 2010, NewAgeIslam.Com)

Objectives Resolution and Secularism-Part 19 (قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط19


وجاہت مسعود

تاریخ سے ہم وہ شعور حاصل کرتے ہیں جس کی

مدد سے مستقبل کی راہیں روشن کی جاسکتی ہیں

بیرسٹر آصف علی بھی مسلم لیگی مؤرخین کی چاند ماری کاپسندیدہ ہدف رہے ہیں۔ یہ وہی آصف علی ہیں جنہیں کانگریس کی طرف سے عبوری حکومت میں شامل کرنے کے رد عمل میں مسلم لیگ نے جو گندر ناتھ منڈل کو وزارت میں شامل کیا تھا۔ ڈاکٹر فاخر حسین لکھتے ہیں کہ تقسیم ہند کے بعد ان کی ملاقات آصف علی سے ہوئی تو انہوں نے فرمایا‘‘ اب جب آپ  نے پاکستان بنالیا ہے تو اسے احسن طریقے سے مینج (Manage)کرنے کی کوشش کیجئے’’۔جمہوری ذہن اور جاگیر دارانہ ذہن میں بنیادی فرق یہ ہے کہ جمہوری ذہن یہ سمجھتا ہے کہ سیاسی مکالمے کی مدد سے کسی معاملے کے تمام فریقوں کے لیے سود مند راستہ نکالا  جاسکتا ہے جسے انگریزی میں  win winیعنی‘‘سب کی کامیابی’’کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف جاگیر دارانہ ذہن خیال کرتا ہے کہ جہاں ایک فریق کو فائدہ پہنچتا ہے وہاں دوسرے کو نقصان پہنچنا گزیر ہے۔اسے انگریزی میں Zero sum یعنی ‘یاہم جیتیں گے یا آپ جتییں گے’ کہا جاتا ہے ۔اب تک کی بحث میں پڑھنے والے خود یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ تقسیم ہند کے جملہ فریقوں میں کس کا طرز عمل جمہوریت پر مبنی تھا اور کون جاگیر دارانہ ذہنیت کا اسیر تھا۔

گاندھی جی کی عدم تشدد او ر فرقہ وارانہ بھائی چارے سے وابستگی کے بارے میں ٹھیک سے جاننا ہوتو 1946کے موسم خزاں میں ان کی بہار اور بنگال میں امن مہم کا احوال پڑھیے ۔دہلی میں قتل عام روکنے کے لیے ان کے مرن برت (تادم مرگ بھوک ہڑتال ) کی کہانی پڑھے ۔ سردار پٹیل نے پاکستان کے حصے میں آنے والے 55کروڑ روپے روک لیے تو گاندھی جی نے پھر ہڑتا ل کی۔ اعلیٰ اخلاقی اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی کا سب سے بڑا ثبوت تو خود گاندھی جی کی المناک موت ہے جو پاکستان اور مسلمانوں کے مفادات کی آواز بلند کرنے کے جرم میں ہندو مہا سبھا انتہاپسندوں کے ہاتھوں جان سے مارے گئے۔

14اگست 1947کومسلم اکثریتی لاہور جل رہا تھا ۔شہر کے اندر لاکھوں غیر مسلم اپنے ہی شہر میں پناہ گزین کیمپوں میں پہنچ چکے تھے ۔غیر مسلم اکثریتی امرتسر جل رہا تھا مسلمانو ں کے محلے قتل گاہوں میں بدل چکے تھے ۔آزاد ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں فسادات کے شعلے بھڑک رہے تھے ۔دلی کاپرانا قلعہ لاکھوں بے خانما مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ میں بدل چکا تھا۔ اس روز ہندوستان کے غیر مسلم اکثریتی شہر کلکتہ میں ایک انوکھا منظر دیکھنے میں آیا ۔‘فریڈم ایٹ مڈ نائٹ’ سے ایک اقتباس  ملاحظہ فرمائیں۔

‘‘کلکتہ جسے تشدد اور انتقام کے آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑنا چاہئے تھا، ایسے دور سے گزر رہاتھا جسے دیکھ کر حیرت ہوتی تھی ۔ شام سے پہلے شہر میں ایک ایسا جلوس نکالا گیا جس میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے برابر حصہ لیا۔ یہ جلوس گاندھی کی رہائش گاہ حیدری ہاؤس تک پہنچا ۔ اس جلوس سے ہی شہر کی فضا بدل گئی ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں نےاپنے اپنے خنجر میان میں رکھ دیے اور بجلی کےکھمبوں اور بالکنیوں پر قومی جھنڈے لگانے میں مصروف ہوگئے ۔ ہندوؤں کے لیے مسجدوں کے دروازے  کھل گئے اردو ہندوؤں نے خلوص اور محبت سے مندروں میں مسلمانوں کا خیر مقدم کیا۔ صرف چوبیس گھنٹے پہلے جو لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے تھے وہی اب سڑکوں اور گلیوں میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے خوش خوش گھوم رہے تھے ۔ ہندو مسلمان عورتوں اور بچوں نے اپنے مذہب کو بھلا کر ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلائیں ’’۔کلکتہ اور دوسرے شہروں میں ایک ہی فرق تھا۔کلکتہ میں گاندھی جی اور حسین شہید سہر وردی اپنی جان ہتھیلی پر رکھے اپنی مذہی وابستگی سےبالا ہوکر امن قائم کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ جدید تاریخ ہند کے بلند پایہ مؤرخ اور شکاگو یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ایمر یٹس سی ایم نعیم لکھتے ہیں کہ ‘‘ سہر وردی کے استثنیٰ کے ساتھ مسلم لیگ کے کسی معروف رہنما نے کسی فساد زدہ علاقے کا دورہ نہیں کیا’’۔

پنڈت نہرو کی تشدد روکنے کی کوششوں کے بارے میں ایک گواہی تو آپ مشتاق احمد وجدی کی پڑھ چکے ۔ اب اس شاعر بے مثل او رصاحب طرز نثر نگار جو ش ملیح آبادی کی شہادت بھی لے لیجئے جسےپاکستان میں ایک صالح وزیر موسوم بہ محمود اعظم فاروقی نے اپنے سرکاری اختیارات کی مدد سے عہد شکنی کر کے زندہ درگور کردیا تھا۔

‘‘تقسیم ہند کے فوراً بعد سردار پٹیل نے اس وقت کے دلی کے مسلمان چیف کمشنر کو جو علی گڑھ کے صاحبزادہ آفتاب احمد خان کے فرزند تھے معطل تو نہیں کیا لیکن زبانی احکام کے ذریعے سے ان کے تمام اختیارات سلب کر کے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر مسٹر رندھاوا کے سپرد کردیے ۔بڑی دھوم دھام کے ساتھ مسلمان لوٹے اور قتل کیے جا رہے تھے ۔ اس بھیانک دور میں اگر جواہر لال (نہرو) کھل کر میدان میں نہ آجاتے اور خوفناک گلیوں میں گھس گھس کر ہندوؤں کے منہ پر تھپڑ مار مار کر اس آگ کو بجھانہ دیتے تو دہلی میں ایک مسلمان بھی زندہ نہ رہتا ’’۔

عبدا لولی خان فرمایا کرتے تھے کہ تاریخ گڑے مردے اکھاڑنے کا نام نہیں ،لیکن تاریخ بڑے کام کی چیز ہے۔ تاریخ سے ہم وہ شعور حاصل کرتے ہیں جس کی مدد سے مستقبل کی راہیں روشن کی جاسکتی ہیں۔ 1940سے 1947تک مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کا ترجیحی طریقہ کار یہ تھا کہ مطالبہ پاکستان کے یک نکاتی ایجنڈے پر توجہ مرکوز کی جائے۔اس کی تفاصیل میں جانے سے گریز کیا جائے۔ متعین نقطہ نظر اختیار نہ کیا جائے۔ یہ مقبولیت پسند سیاست کا معروف طریقہ کا رہے ۔ اس کی مدد سے متنوع گروہوں ،مکاتب ہائے فکر اور طبقات کی حمایت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے لیکن اس طریقہ کار میں چند در چند خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ سیاست انسانی اجتماع کے خدوخال تراشنے کا نام ہے۔ انسانی معاشرہ ایک نہایت پیچیدہ ،سیال اور گتھا ہوا مظہر ہے ۔ سیاست کو یک نکاتی پروگرام کے تابع کرنے کا نتیجہ ناگزیر طور پر بہت سے  حقیقی اور اہم عوامل کو نظر انداز کرنے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ جب یک نکاتی سیاست اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو جن پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا تھا، وہ سراٹھا تے ہیں اور ایسی  پیچیدگیاں جنم لیتی جن کا قبل ازیں تصو ر نہیں کیا گیا تھا۔ خرابی کا ایک پہلو یہ برآمد ہوتا ہے کہ یک نکاتی سیاست اپنی تحدیدات کے باعث موعودہ نتائج دینے سے قاصر رہتی ہے۔ ایسی یک رخی اور جزوی سیاست کا ایک نہایت خطرناک نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کو عملیت پسندی کی بجائے عوامی جذبات سے کھیلنے کی عادت ہوجاتی ہے ۔ اس کی وضاحت کے لیے اخلاق احمد دہلوی کی تصنیف ‘‘یادوں کاسفر’’ سے  ایک کسی قدر طویل اقتباس پیش خدمت ہے لیکن اس  سے یہ اندازہ ضرور ہوگا کہ تقسیم سے قبل مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت پاکستان کے خدوخال کے بارے میں کس قدر غیر واضح خیالات رکھتی تھی اور مسلم عوام کے جذبات سے کس غیر ذمہ دارانہ طریقے سے کھلواڑ کررہی تھی۔(جاری)

Related Articles:

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 1)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 2)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 3)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 4)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 5)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 7)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 8)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط9)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط10)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط11)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط12)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط13)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط15)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط17)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط18)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط19)

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/objectives-resolution-and-secularism-part-19--(قرار-داد-مقاصد-اور-سیکرلرازم--(قسط19/d/2865

 

Loading..

Loading..