New Age Islam
Mon Sep 27 2021, 10:15 PM

Urdu Section ( 13 Apr 2010, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

OBJECTIVES RESOLUTION AND SECULARISM—XI (قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط11



وجاہت مسعود

تبادلہ آبادی کا بنیادی محرک مسلمانوں اور ہندو سکھ آبادی کے مابین تقسیم ہند کے آس پاس وقوع پذیر ہونے والے فسادات تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ فسادات آزادی کی جد وجہد کاحصہ نہیں تھے۔ ہماری نصابی کتابوں میں بار بار دہرائے جانے والا جملہ ‘‘ لاکھوں جانیں دے کر آزادی حاصل کی’’ قطعی طور پر حقیقت سے خالی ہے ۔ آزادی کا فیصلہ مئی 1947کے آخری ایام میں مذاکرات کی میز پر ہوچکا تھا اور تین جون 1947کو آزادی کے منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیا جاچکا تھا ۔ فسادات کے زیادہ تر واقعات اس تاریخ کے بعد پیش آئے۔ آزادی انگریز سے لی جارہی تھی اور فسادات ہندوستان میں بسنے والے مختلف مذہبی گروہوں میں ہورہے تھے ۔ 47۔1946میں ہونے والے فسادات کا آزادی کی جد وجہد سے تعلق بعید از قیاس ہے۔

یہاں فسادات کی حتمی ذمہ داری کا تعین کرنے کی گنجائش ہے اور نہ اس کا محل ۔ تاہم بعض حقائق اور اشارات کا بیان ضروری ہے تاکہ تاریخ کے طالب علم ان کی روشنی میں مزید تحقیق کرسکیں ۔ ہندو مسلم اور مسلم سکھ فسادات مختلف مرحلوں میں پیش آئے ۔ ہندوستان کے مشرق میں مسلم اکثریتی منطقہ میں فسادات 16اگست 1946کو کلکتہ میں شروع ہوئے ۔ مشرقی بنگال کا علاقہ نواکھلی 10اکتوبر 1946کو فسادات کی لپیٹ میں آیا ۔ یہاں کی اکثریتی آبادی بھی مسلم تھی۔ ملحقہ صوبے بہار میں فسادات 25اکتوبر 1946کو شروع ہوئے جہاں ہندو آبادی اکثریت میں تھی۔ پنجاب کے شمال مغربی علاقوں مثلاً راولپنڈی ،ٹیکسلا ،واہ ،کہوٹہ، جہلم اور گوجر خان وغیرہ میں فسادات 4مارچ 1947کو شروع ہوئے اور رفتہ رفتہ مرکزی پنجاب کی طرف بڑھتے گئے۔ مشرقی پنجاب میں فسادات اواخر جون 1947میں شروع ہوئے اور  ستمبر بلکہ اکتوبر 1947کے وسط جاری رہے ۔ مشرقی پنجاب میں مسلمان اقلیت میں تھے۔ وسطی ہندوستان کے ان علاقوں میں جہاں مسلمان تہذیبی اور معاشی طور پر بالادست لیکن عددی اقلیت میں تھے( مثلاً دہلی، پانی پت، گڑگاؤں ،لکھنؤ ، میرٹھ ،بلند شہر، بدایوں، مظفر نگر) فسادات جولائی ،اگست 1947میں شروع ہوئے ۔ یہ امر معنی خیز ہے کہ ہندوستان کے متعدد جنوبی صوبوں میں جہاں مسلمانوں کی تعداد بے حد کم تھی مثلاً کیرالہ ،گجرات ،کرناٹک وغیرہ ،وہاں فسادات بالکل رونما نہیں ہوے۔

مسلم لیگ نے 29جولائی کو بمبئی میں اپنے سالانہ اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ 16اگست کو مطالبہ پاکستان کے حق کے میں ملک گیر مظاہرے کیے جائیں گے۔ حسین شہید سہروردی بنگال کی مسلم لیگی وزارت کے وزیر  اعظم تھے۔ بنگال کا صدر مقام کلکتہ تھا جہاں ہند وآبادی کی اکثریت تھی۔ اگر چہ 29جولائی 1946کو راست اقدام کا اعلان کرتے ہوئے قائد اعظم نے پرامن مظاہروں کا عندیہ دیا تھا تاہم صحافیوں کے سوالات کا جواب دتیے ہوئے وہ خاصے جارحانہ موڈ میں تھے ۔ ایک روایت کے مطابق قائد اعظم نے کہا تھا ‘‘ ہم ہندوستان کو تقسیم کریں یا اسے تباہ کردیں گے’’۔(We shall have India divided or India destroyed)۔بنگال کے گورنر فریڈ رک جان بیروز نے 22اگست 1946کو وائسر ائے لارڈویول کے نام خفیہ چٹھی (IOR:L/P&J/8/655f.f95,96-107)میں 16اگست اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کی کچھ تفصیل بیان کی۔ ان کے مطابق مسلم لیگ نے کلکتہ میں اوچر لونی کی یاد گار کے پاس شام چار بجے جلسے کا اہتمام کررکھا تھا جس سے وزیر اعظم حسین شہید سروردی اور خواجہ ناظم الدین کو خطاب کرنا تھا ۔ تاہم صبح دس بجے ہی سے پولیس ہیڈ کواٹر میں کشیدگی کی اطلاعات آنا شروع ہوگئیں ۔ شہری میں مسلم لیگی کارکن زبردستی دکانیں بند کرارہے تھے ۔ جلسہ گاہ کی طرف آنے والے بیشتر افراد نے لوہے کی سلاخیں ،لاٹھیاں اور  بلم اٹھارکھے تھے۔ مسلم لیگی وزیروں نے اپنی پارٹی کے عہدایداروں کے لیے پٹرول کے کوپن بڑی تعداد میں تقسیم کیے تھے تاکہ ہندوؤں کی دکانوں اور مکانات کو نذر آتش کیا جاسکے ۔ دس ہزار کارکنوں کے لیے ایک مہینے کا راشن جمع کر لیا گیا تھا ۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے شہروردی اور ناظم الدین نے بیک وقت امن اور فساد کی باتیں کیں۔ سہر وردی کا ایک جملہ یہ تھا کہ وہ ‘پولیس اور فوج کو مداخلت نہیں کرنے دیں گے’ ۔ اس بظاہر سادہ جملے کا مشتعل اور ان پڑھ ہجوم نے یہ مطلب لیا کہ انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوگا۔ مرنجان ہونے کےشہرت رکھنے والے خواجہ ناظم الدین نے حاضرین کو یہ بتا نا ضروری سمجھا کہ ‘صبح سے اب تک ہونے والے لڑائی جھگڑے میں مجروح ہونے والے تمام افراد مسلمان ہیں’۔

جلسہ ختم ہوتے ہیں تقریباً ایک لاکھ نفوی کا ہجوم کلکتہ کی تنگ گلیوں اور گنجان علاقوں میں پھیل گیا۔ دن ختم ہونے سے پہلے چار سے چھ ہزار غیر مسلم شہری مارے جاچکے تھے۔ وزیر اعظم سروردی خود پولیس کے کنٹرول روم میں بر اجمان تھے۔ وزیر اعظم کی موجودگی میں کمشنر پولیس مناسب احکامات جاری کرنے سے قاصر تھا۔ گورنر جان بروز وزیر اعظم کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کے حق میں نہیں تھا۔ بالآخر 21اگست 1946کوفوج طلب کی گئی ۔ اس وقت تک امریکی ہفت روزہ ٹائم کی 22اگست 1946کو رپورٹ کے مطابق ‘‘کلکتہ کی گلیاں لاشوں سے پٹ چکی تھی۔ نالیاں انسانی لہو اور انسانوں کے کٹے پھٹے اعضا سے بند ہوچکی تھیں۔ دریائے ہگلی میں پھولی ہوئی لاشیں تیررہی تھیں۔ ہاتھ گاڑی کھینچنے والے غریب گاڑی بانوں کی لاشیں ان کے تانگوں پر آڑی ترچھی پڑی تھیں۔ جن عورتوں کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی ان کی ادھ جلی لاشوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔’’ابتدائی مار دھاڑ کے بعد فسادات کا سلسلہ دو طرفہ ہوگیا ۔ اب مرنے والوں میں ہندو مسلم کی تمیز نہ رہی۔

یوم راست اقدام سے شروع ہونے والی چنگاری سلگتی رہی۔ فسادات کا اگلا اہم واقعہ نواکھلی میں پیش آیا( جواب بنگلہ دیش کا حصہ ہے) ۔10اکتوبر 1946کو اس مسلم اکثریتی علاقے میں شروع ہونے والے فسادات کو اخبارات میں ‘‘مسلم ہجوم کا منظّم غیظ وغضب ’’ قرار دیا گیا۔ جلدی فسادات کی یہ آگ رائے پور، لکشمی پور، بیگم گنج، سندیپ ،فرید گنج، چاند پورمیں پھیل گئی ۔ ہندو اخبارات نے مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں بیان کی۔ مسلم اخبارات نے سرے سے فسادات ہی سے انکار کردیا۔ سرکاری طور پر 200افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ۔ تاہم فسادات کے بعد نواکھلی میں کوئی ہندو شہری نسخے میں ڈالنے کو نہیں ملتا تھا۔(جاری)

Related Articles:

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 1)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 2)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 3)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 4)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 5)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 7)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 8)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط9)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط10)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط11)

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/objectives-resolution-and-secularism—xi--(قرار-داد-مقاصد-اور-سیکرلرازم--(قسط11/d/2694


Loading..

Loading..