New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 02:27 AM

Urdu Section ( 12 Apr 2010, NewAgeIslam.Com)

Objectives Resolution and Secularism—X قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط10)


وجاہت مسعود

یہاں یہ ذکر بے جانہ ہوگا کہ چوہدری خلیق الزماں نے جن رضوان اللہ صاحب کا ذکر کیا ہے وہ اس صورت حال سے اس قدر بدظن ہوئے کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی خیر باد کہہ دیا اور آسٹریلیا جاکر آباد ہوگئے۔

ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے بارے میں مسلم لیگ کی قیادت کے رویے پر جامع و مانع تبصرہ مولانا غلام رسول مہر نے بھی کیا ہے جو  عاشق حسین بٹالوی کی کتاب ‘چند یادیں، چند تاثرات’ میں مرقوم ہے۔ فرماتے ہیں۔

‘‘ ایک ضرو ری بات یہ ہے کہ پاکستان کی اسکیم کی اصل غرض وغایت صرف یہ نہ تھی کہ مسلمانوں کے لیے آزاد حکومت کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ (ہندوستان میں رہ جانے والی) مسلم اقلیتوں کی حفاظت کاپختہ بندوبست ہوجائے ۔ تقسیم ملک کا فیصلہ ہوجانے کے بعد مسلم اقلیتوں کی حفاظت کا محکم تر انتظام حد درجہ ضروری  تھا ۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں تقسیم کی پوری داستان میں اس اہم ترین قومی غرض کے لیے کسی کوشش کاکوئی ثبوت اب تک نہیں مل سکا اور نہ میں سمجھ سکا ہوں کہ اس بنیادی ضرورت سے اجتناب کی وجہ کیا تھی؟’’

فسادات اور ان کے نتیجے میں  بڑے پیمانے پر تبادلہ آبادی کے علاوہ دوسرا اہم عامل یہ فیصلہ تھا کہ مرکزی حکومت کے سرکاری ملازمین کو ہندوستان یا پاکستان میں ایک ریاست کے انتخاب کا اختیار دے دیا گیا ۔ 30مئی 1947کو دہلی میں شجاعت علی حسنی کی قیام گاہ پر مسلمان  افسروں سے مختصر خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا تھا، ‘‘پاکستان کامسئلہ طے ہوچکا ہے اور اب اس کے انتظار اور اس کی ترقی کا بوجھ مسلمان افسروں پر پڑنے والا ہے۔ جنہیں تندہی سے کام کرنا ہوگا۔ مرکزی حکومت کے ملازمین کو اختیار ہوگا کہ وہ خواہ ہندوستانی حکومت کی ملازمت میں رہیں خواہ پاکستانی حکومت کے تحت چلے آئیں ۔ اس میں مذہب یا جائے پیدائش کی قید نہیں ہوگی’’۔یہاں پر یہ نکتہ قابل غور ہے کہ قائد اعظم نے پاکستان کا انتخاب کرنے والوں پر مذہب کی شرط عائد نہیں کی۔ غالباً قائد اعظم یہ پیش بینی نہیں کرسکے کہ  پاکستان میں مسلمان مذہبی پیشوا غیر مسلموں کو ‘‘کلید ی عہدے ’’ دینے سےانکار کریں گے۔

حسب توقع مسلمان اہل کاروں کی بھاری اکثریت نے پاکستان کا انتخاب کیا۔ پاکستان ایک نیا ملک تھا جہاں تجربہ کار اور اہل افسروں کی کمی تھی۔ یہ امر قرین قریب ناگزیر تھا کہ نئے ملک میں انہیں جلد از جلد ترقی کے مواقع ملیں گے۔انہیں یہ اطمینان بھی تھا کہ پاکستان میں انہیں اپنے سے زیادہ تجربہ کار، سینئر اور اہل ،غیر مسلم افسروں سےمقابلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے حصوں میں آنےو الے علاقوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ افسروں کی تعداد نہایت محدود تھی۔چنانچہ مسلم اقلیتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان افسروں کی یہ توقع بے جا نہیں تھی کہ نئے ملک میں انہیں ترقی کے بے پناہ مواقع ملے گے۔ اس میں یہ زاویہ بھی شامل تھا کہ پاکستان میں آنے والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم سرکاری افسر قابل فہم وجوہ کی بنا پر بھارت کا انتخاب کریں گے۔ چنانچہ ان کی خالی کی ہوئی جگہیں بھی نووارد مسلمان اہل کارو ں کے ہاتھ آئیں گی۔مزید براں مسلم اقلیتی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان افسر بخوبی سمجھتے تھے کہ مسلم لیگ قیادت کی اکثریت انتظامی امور سے نابلد ہے چنانچہ وہ جلد ہی سیاسی قیادت پربالادستی حاصل کرلیں گے۔ جیسے جیسے مغربی پنجاب اور دوسرے علاقوں میں فسادات اور ان کے نیتجے میں غیر مسلم آبادی کے زبر دستی انخلا کی خبریں آنا شروع ہوئیں ،مسلم سرکاری اہل کاروں کو ان عالی شان مکانوں، دکانوں، کارخانوں اور زرخیز زمینوں کا خیال ستانے لگا جو غیر مسلم آبادی اپنے پیچھے چھوڑ ے جارہی تھی۔ یہ درست ہے کہ ان  محرکات کا اطلاق سب مسلم اہل کاروں پر کرنا درست نہیں ہوگا تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ مسلم اہل کاروں کی اکثریت نے  اعلیٰ اخلاق کردار کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بہت سے دانشور وں کا خیال ہے کہ پاکستان میں سیاسی افراتفری ، اخلاقی انحطاط اور بدعنوانی کا آغاز مترو کہ جائیداد وں کی چھین جھپٹ سے ہوا۔

سابق صدر ایوب خان نے اپنی خود نوشت سوانح ‘‘جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی’’ میں لکھاتھا کہ ‘‘تقسیم سے پہلے ایک مسلمان فوجی افسر کی زیادہ سے زیادہ امید یہ تھی کہ وہ کرنل یا بریگیڈیئر کے عہدے سے ریٹائر ہوسکے گا۔ مگر پاکستان بننے کے بعد ہر افسر کو خیال پیدا ہوگیا کہ فوج کا سربراہ بن سکا تو گویا کچھ نہیں کرسکا’’۔بقول ایوب پاکستان میں جلدی جلدی ترقیاں ملنے سے سرکاری افسروں میں ہوس اقتدار کی کوئی حد نہ رہی۔ خود ایوب خاں 20برس کی ملازمت کے بعد 1947میں بریگیڈیر کے عہدے پر فائز تھے اور عین ممکن تھا کہ پنجاب باؤنڈ ری فورس میں اپنے فرائض ٹھیک سے ادا کرنے کی بجائے مہاراجہ پٹیالہ کی منظوری نظر کی زلف میں ا لجھنے کے الزام میں برطرف کردیے جاتے کہ انہیں جی او سی مشرقی پاکستان کا عہدہ جلیلہ مل گیا اور پھر انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ غلام محمد اور چوہدری محمد علی محکمہ اکاؤنٹس کے گم نام افسر تھے ۔ ڈھلتی ہوئی عمر میں غلام محمد حیدر آباد دکن میں مشیر مالیات ہوگئے تھے۔ پاکستان میں ہردو حضرات برسوں کا سفر دنوں میں طے کرتے بالترتیب گورنر جنرل اور وزیر اعظم کے مناسب تک پہنچے۔ 1947میں سکندر مرزا پشاور کے ڈپٹی کمشنر تھے ۔ انہیں پاکستان کا پہلا صدر مملکت بننے کا اعزاز نصیب ہوا۔

اس ضمن میں مولانا غلام رسول مہر نے لکھا ، ‘‘ میرے نزدیک ایک خوفناک غلطی یہ ہوئی کہ طول وعرض ملک کے ہر مسلمان ملازم کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان میں آجائے ۔ میں نے اپنی بیس بائیس برس کی سرگرم سیاسی زندگی میں مسلمانوں کی تکلیفوں اور پریشانیوں کا سرچشمہ اس کے سوا کوئی نہ پایا کہ ملازمتوں میں ان کی تعداد کم تھی اور حکومت نام ہی ملازمتوں اور پارلیمنٹ میں رکنیت (وضع قوانین اور نظم ونسق ) کا ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ تقسیم ملک کے ساتھ ہی ( ہندوستان کی) مسلم اقلیتوں کو تحفظ کے ہر وسیلہ سے محروم کردیا گیا ۔ میں نے  پے درپے اس کے خلاف مقالات لکھے ۔ذاتی طور پر ارباب اختیار سےالتجا ئیں کیں ۔ لیکن کسی نے کچھ نہ سوچا ۔ ہر شخص کو صرف یہ خیال تھا کہ بیچ میں نے غیر مسلم نکل جائیں گے ، تو زیادہ سے زیادہ ترقی حاصل کرلینے کا موقع ہوگا۔ آپ جانتے ہیں کہ قومی فرائض کو پورا کرنے کا یہ کوئی مناسب معیار نہ تھا’’۔(جاری)

Related Articles:

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 1)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 2)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 3)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 4)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 5)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 7)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 8)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط9)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط10)

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/objectives-resolution-and-secularism—x--قرار-داد-مقاصد-اور-سیکرلرازم--(قسط10)/d/2690


Loading..

Loading..