New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 05:48 AM

Urdu Section ( 30 March 2010, NewAgeIslam.Com)

OBJECTIVES RESOLUTION AND SECULARISM—PART 4 قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 4)


وجاہت مسعود

برصغیر میں انگریزوں کی آمد کے بعد ان کی علمی، تکنیکی اور انتظامی برتری نے مذہبی پیشواؤں کے علمی تبحر ، سیاسی بصیرت اور انتظامی اہلیت کا پول کھول دیا۔ مذہبی پیشواؤں نے صدیوں سے علم، حکمرانی اور تقسیم وسائل پر آسمانی احکامات کا قفل لگا کر انسانی امکان کا راستہ مسدود کررکھا تھا۔ ان تبدیلیوں نے مذہبی پیشواؤں میں ماضی کے جاہ و حشم کے احیا کی خواہش بیدار کی۔ یورپی نو آباد کاروں کی آمد نے مقامی پیشواؤں کے مفادات تہ وبالا کردیے ۔جدید سائنسی انکشافات ،نظریات اور ایجادات کے نتیجے میں عوام کے ذہنوں پر مذہبی پیشواؤں کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔ مذہبی پیشواؤں نے جدید فکر اور صنعتی تہذیب پر تنقید نیز تاریخی حقائق کی تاویل و تنسیخ کے ذریعے اپنا اثر و نفوذ بحال کرنا چاہا۔ یورپی حملہ آوروں کی فوجی ،سیاسی اور انتظامی کامیابیاں ،جدجد فکری منہاج اور سائنسی طریقہ کار کی مرہون منت تھیں ۔چنانچہ مقامی مذہبی پیشواؤں کی جدیدیت کے خلاف رد عمل پیدا ہوا ۔

جدید تعلیم اور صنعتی پیداوار کے نتیجے میں نئے معاشرتی ڈھانچے سامنے آئے۔ قدیم تہذیبی اقدار کا زور ختم ہوگیا۔ دوسری طرف نئے نئے مسائل منظر عام پر آئے خواندگی اور متبادل سماجی ارتقا کی رفتار علوم اور معیشت میں آنے والی تبدیلیوں سے کہیں سست تھی۔ چنانچہ قدیم اور جدید دنیا کے عبوری عہد میں پیدا ہونے والے مسائل سے گھبرا کر پیوستہ مفادات رکھنے والے بہت سے حلقو ں میں قدیم فکری سانچوں اور سماجی ڈھانچوں سے رغبت پیدا ہونے لگی۔

جب مسلمانوں میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ ابھر اتو اس نے بھی ہندو تعلیم یافتہ طبقہ کے اتباع میں اپنے سیاسی حقوق کی بات کرنا شروع کردی اور 1906میں اپنی سیاسی جماعت مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ۔ اس طرح سے مسلمانوں میں سیاست اور مذہب کے راستے علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔ سیاسی رہنمائی کی ذمہ داری نئے تعلیم یافتہ طبقے نے اٹھالی جب کہ علما مذہبی معاملات کے ذمہ دار ہے۔ چنانچہ اس زمانے میں جو بھی سیاسی مسائل تھے ، مثلاً شملہ وفد، مسلم لیگ کا قیام، بنگال کی تقسیم ،میثاق لکھنؤ یا اردو ہندی تنازع ، ان سب میں علما کو باہر رکھا گیا اور مسلمانوں کی سیاسی قیادت نے اس مسائل کا خالص سیاسی اورطبقاتی مفادات کی روشنی میں حل نکالنے کی کوشش کی۔

1907میں اہل تشیع مسلمانوں نے آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے نام سے اپنی تنظیم کا اعلان کیا۔1914میں سنی علما نے جمعیت الہند کے نام سے جماعت بنائی جسے پانچ برس بعد جمعیت علمائے ہند کا نام دیا گیا۔ مولانا آزاد نے بھی 1914ہی میں دارالا رشاد کی بنا ڈالی ۔سوال یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ کےنام سے مسلمانوں کی جماعت موجود تھی تو علما نے اپنی جماعتیں کیوں بنائیں ؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ دینی علوم میں درک رکھنے کے دعویدار اصحاب جبہ ودستار کو انگریزی دان طبقے کی قیادت قبول نہیں  تھی۔

برطانوی ہند میں اوآخر انیسویں صدی سے روایتی علمانے جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی مخالفت کی ہے۔ روایتی علما کی تعلیم اور مہارتیں جدید علوم سے عاری ہیں اور عصر حاضر کی پیچیدگیوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ علم کو جامد سمجھتے ہیں۔ معاشرتی تحریک سے نابلد اور اس کے نتیجے میں اقدار میں آنے والی ناگزیر تبدیلیاں تسلیم کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ انہوں نے ڈٹ کر سرسید احمد خان کی مخالفت کی۔ آج سبھی کو اعتراف ہے کہ سرسید کے علی گڑھ کالج (بعد ازاں یونیورسٹی) کے تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود نہ ہوتی تو شاید پاکستان کی تحریک کامیاب نہ ہوسکتی بلکہ پورے ہندوستان میں مسلمان تعلیم اورمعاش میں  پسماندہ رہ جاتے۔

بظاہر سرسید کی مخالفت مذہبی بنیادوں پر کی گئی لیکن درحقیقت مذہبی پیشوا کو یہ احساس کمتری چین نہیں لینے دیتا کہ وہ آج کی دنیا سے بچھڑ چکا ہے۔ اس کے علمی نظریات اور سماجی رویے بری طرح پٹ چکے ہیں ۔ کل تک ریلوے انجن کوشیطانی چرخا قرار دینے والے آج ٹھسے سے قیمتی گاڑیوں اور جہازوں میں اڑے پھرتےہیں ۔ اپنے بچوں کو غیر ملکی تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں۔ ٹیلی فون کو شیطان  کی آواز قرار دینے والے ٹیلی فون پر اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے ہیں۔ لاؤڈ اسپیکر کو بدعت قرار دینے والے لاؤڈ اسپیکر پردن رات وعظ کرتے ہیں۔ مسجدوں میں ایئر کنڈیشنر نصب کئے جاتے ہیں۔ طالبان جہادی عامتہ الناس کے پاس ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر دیکھنے کے روادار نہیں لیکن خود اپنے ٹیلی ویژن چینلز اور ریڈیو (عموماً غیر قانونی ) کھول رکھے ہیں۔ دہشت گردی کی موجود مہم میں پیغام رسانی اور ابلاغ کا کام بنیادی طور پر برقیاتی ذرائع ابلاغ اور انٹر نیٹ ہی کے ذریعے آگے بڑھا یا گیا ہے۔ کل تک تصویر کشی کو حرام قرار دینے والے اخباروں کے دفاتر میں دھمکی آمیز پیغام بھیجتے ہیں کہ ان کی تصاویر نمایاں طور پر شائع کی جائیں۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاست کا رخ موڑ نے میں تحریک خلاف نے ایک اہم کردار ادا کیا ۔ تحریک میں مختلف فریق اپنے اپنے مقاصد کے ساتھ شریک ہوئے۔ مہاتما گاندھی ایک طرف تو اس بے سرد پا تحریک کی مدد سے کانگریس کی تنظیمی قوت اور احتجاجی استعداد کا امتحان کرنا چاہتے تھے دوسری طرف ایک بظاہر ‘اسلامی’ تحریک میں شریک ہوکر بلا امتیاز مذہب پورے ہندوستان کے متفقہ رہنما کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کرنا چاہتے تھے ۔ ادھر مسلمان علما جو علی گڑھ تحریک اور تقسیم بنگال کے مسئلے پر ہزیمت اٹھا کر کسی قدر پس منظر میں چلے گئے ، ایک دوراز کا ر مسئلے پر پھر سے اپنی اشتعال انگیز خطابت کو سان پر  رکھنا چاہتے تھے۔

کیا یہ امر تعجب انگیز نہیں کہ ہندو مذہبی پیشوا تحریک خلافت سے لاتعلق رہے لیکن کانگریس اس تحریک میں پیش پیش تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح جیسے روشن خیال اور بین الاقوامی سیاست سے باخبر رہنماؤں نے اس تحریک میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ چنانچہ کہناچاہئے کہ تعلیم یافتہ اور پیشہ ورانہ مسلمان طبقے کی بجائے مذہبی رہنماؤں یعنی علما کو مسلمانوں کا رہنما بننے کا موقع مل گیا۔ ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں کہ ‘‘تحریک خلافت میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ایک ایسے مسئلے پر ابھارا گیا جس کی کوئی سیاست اہمیت نہیں تھی اور جو اپنی موت آپ مرنے والا تھا’’۔(جاری)


Related Articles:

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 1)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 2)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 3)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 4)

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/objectives-resolution-and-secularism—part-4--قرار-داد-مقاصد-اور-سیکرلرازم--(قسط-4)/d/2637


Loading..

Loading..