New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 07:08 PM

Urdu Section ( 9 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

The Meaning of Establishing Salat اقامت صلوٰۃ

 

 

وحید رضوری

آج دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں  جس کا معاشرہ انحطاط پذیر نہ ہو۔ اس کی وجہ اس میں اجتماعی اور انفرادی طور پر اخلاق اور کردار کا فقدان ہے۔ اچھے معاشرے کے لئے اجتماعی اور انفرادی طور پر ہر مومن او رپوری امت کا اولین  فریضہ ہے کہ وہ ان صفات کو اپنائے جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔

ایک  اچھے اور صاف ستھرے معاشرے کے بغیر نہ ہی سکون میسر  ہوتا ہے اور نہ ہی افراد معاشرہ کی زندگیوں میں توازن  بر قرار رہتا ہے۔ جس کے نتیجے میں قومی زندگی فتنہ فساد، لوٹ مار، قتل و غارتگری اور ہڑ بونگ کی نظر ہوجاتی ہے ۔ بلکہ کم و بیش دنیا کے مسلمانوں کا عموماً او رہمارا خصوصاً یہی حال ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد آیتوں کے ذریعہ اقامت صلوٰۃ کی تلقین فرمائی  ہے۔ اقامت   صلوٰۃ وہ معاشرہ ہی تو ہے جس کو مومنین  اپنے حسن کردار  اور پاکیزہ عمل کے ذریعے قائم کرتے ہیں اور اس کو تمام برائیوں  سے پاک و صاف رکھتے ہیں۔ جس کا انحصار ان کے انفرادی اور اجتماعی طور پر روز مرہ کے معاملات ، باہمی سلوک اور آپس کے روابط  اور تعلقات پر ہوتا ہے۔ ان معاملات ، روابط اور سلوک کی حد کا کوئی تعین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ زندگی  کی روانی کے ساتھ ساتھ ان میں بھی روز افزوں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کے بنیادی اصول اور ضوابط و قوانین  کو قرآن کریم میں بہ صراحت او رکھول کھول کر بیان فرمایا ہے۔ جن پر کار بندر ہنے سے نہ صرف قومی زندگی جنتی بن جاتی ہے، بلکہ دنیا ئے انسانیت کے قدم بھی عروج پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ اور امت مسلمہ اقوام  عالم کی امامت پر فائز ہوجاتی ہے۔

رسول اکرم سے منسو ب ایک حدیث  جس کا ہر اجتماع میں ذکر کیا جاتا  اور جس کو پابند ی سے ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے کہ ‘‘ صلوٰۃ جنت کی گنجی ہے’’ یہاں صلوٰۃ کا ترجمہ نماز کیا جاتاہے۔ اس کا مفہوم و معانی درحقیقت معاشرہ ہے اور یہ بالکل درست ہے  کہ قیام معاشرہ ( یعنی  ایسا معاشرہ جیسا کہ اللہ چاہتا ہے) ہی ایسی گنجی ہے جس سے دنیا میں مومن کی زندگی بحیثیت مجموعی جنتی بن جاتی ہے۔ اقوام عالم کے عروج زوال کے کوائف و حالات کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مختلف مقامات پر ذکر فرمایا ہے جس قوم نے اچھے اخلاق و کردار کو اپنایا اور ان پر عمل پیرا رہی ، اس کی دنیا وی زندگی جنت ہی رہی اور جب اس کے اخلاق و کردار و عادات و اطوار  زوال پذیر ہوگئے تو وہ قوم قعر مزلت میں جا گری ۔ جو قوم اپنے معاشرے کو اللہ کے بتائے ہوئے اقدار ، اصول ، ضوابط اور قوانین پر قائم کرے گی او رانہی پر کار بند رہے گی ، وہ دنیاکے اعلیٰ مقام و منصب پر فائز رہے گی اور اس قوم کی کیفیت ‘‘فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ’’ ( 2:38)  کی طرح رہے گی۔

اوائل زمانہ اسلام میں امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے قوانین، اصول و اقدار کی بلکلیہ پابند تھی ۔ نتیجتاً اسلام کا نہ صرف بول بالا ہوا بلکہ دین کے دائرے میں جو بھی شامل ہوا، وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک ایسے نظام زندگی سے وابستہ ہوگیا کہ جس کے باعث لوٹ کھسوٹ ظلم و ستم و تشدد او ر ملوکیت  و سرمایہ داری کا خاتمہ ہوگیا۔ اس وقت مفاد پرست قوتیں بے بس ہوکر رہ گئیں تھیں ۔ انہیں قوتوں اور اسلام دشمن عناصر نے جن میں یہودی ، مجوسی وغیرہ  شامل تھے ۔ مسلمانوں کا روپ دھار کر قرآن کی اکثر آیتوں کے معانی و مفہوم میں شبہات پیدا کردیئے ۔ قرآن  میں تبدیلی و تحریف ان کے بس سے باہر تھی کیونکہ  نص قرآن کے مطابق جس اللہ نے اس کو نازل فرمایا ہے وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ نتیجتاً ان غیر مسلم و اسلام دشمن عناصر نے اکثر احکامات اور قوانین  الہٰی  اور ہدایات ، اصول کو بدل ڈالا او رمومنین کو ان پر عمل پیرا ہونے کا حکم تھا ۔ انہیں صرف پڑھنے اور پھونکنے پر ڈال دیا ظاہر ہے کہ بجائے عمل کے صرف پڑھنے لگ جائیں تو انحطاط اور زوال کے علاوہ اور کیا نتیجہ بر آمد ہوسکتا ہے۔

جب انسان نے معاشرتی زندگی کا آغاز کیا اسی وقت سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بہتر بندوں کے ذریعہ بہتر معاشرہ کے قیام کےلئے رہنما اصول و اقدار ، قوانین ، ضوابط اور ہدایات نازل کرنا شروع کردیا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ذہن ، عقل، حافظہ و حواس  اختیار و ارادہ جیسی صفات سے نواز ا اورپھر رشد و ہدایات سےسرفراز فرمایا تاکہ وہ ان عطا ء کردہ صفات کے ذریعہ اپنی زندگی کی راہ خود  مقرر کرے ۔ جو راہ وہ اختیار کرے گا اسی کے پیداکردہ نتیجہ سے وہ دو چار ہوگا۔ انسان کو اللہ کی عطا کردہ ذہانت ، عقل و فراست پر بڑا ہی ناز ہے اور بزعم خویش وہ اپنی عقل و ذہن کے بل بوتے پر ایسے کام سر انجام دیتا ہے جو بظاہر اس کو بڑے ہی خوش آئند نظر آتے  ہیں او رپھر وہ ان سے اچھے نتائج کی امید اور توقع رکھتاہے ۔ مگر اس کے ذہن رسا کے بہت سے کام موجب ہلاکت  ہوتے ہیں۔ ان کو قرآن کریم نے حبط اعمال سے تعبیر کیا ہے۔ ابن فارس نے اس لفظ حبط کے بنیادی  معنی صرف باطل  نہیں بلکہ الم اور تکلیف  کے بھی  بتلائے ہیں ۔ گویا اعمال کا محض رائیگاں جاناہی حبط نہیں ہوتا بلکہ باعث  الم اور تکلیف  دہ بھی ہوتا ہے ۔ یعنی یہ احساس کیا کچھ کم باعث  الم اور تکلیف دہ ہے کہ جن کاموں کے خوشگوار نتائج کی تو قع تھی وہ بالآخر بے نتیجہ اور نقصان   دہ ہوں؟۔ ایسے ہی افراد اور اقوام کے بارے میں قرآن کریم نے کہا ہے  ان کے اعمال بے نتیجہ  ہوتے ہیں۔ ‘‘فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (2:217) ’’  یعنی وہ جن کے اعمال دنیاا ور آخرت دونوں میں رائگاں جاتے ہیں۔’’ یعنی اچھے اعمال وہ نہیں جنہیں ہم اپنے عقیدہ اور تصور کے بموجب اچھے سمجھیں ۔ اچھے اور برے اور صحیح اور غلط کا معیار صرف اللہ کی کتاب ہے۔ اس کے مطابق جو اعمال اچھے ہوں گے وہ کبھی برے نتائج نہیں پیدا کرسکتے ۔ اس لئے قرآن نے صرف اچھے اعمال کی  نشان دہی نہیں کی بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ تاکہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہیں اور دیکھتے رہیں کہ  ہمارے اعمال کا وہ نتیجہ نکل رہا ہے یا نہیں اور اگر وہ نتائج نہیں نکل رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ ہمارے اعمال رائیگا ں جارہے ہیں اور اس  طرح انفرادی اور اجتماعی طور پر وقت، توانائی اور دولت کا ضیاع ہورہا ہے۔

اس تمہید و تصریح کے بعد آئیے دیکھیں کہ ہم جس طریقہ سے اقامت صلوٰۃ ادا کررہے ہیں کیا وہ وہی طریقہ ہے جو قرآن نے بتلایا ہے اور پھر اپنا محاسبہ کرکے دیکھیں کہ کیا ہمارے اس عمل کا وہی نتیجہ  نکل رہا ہے جو قرآن نے بتلایا ہے؟ یعنی ‘‘إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ( 29:45) صلوٰۃ فحشاء۱ ور منکر سےباز رکھتی ہے؟ کہیں ابلیس ہمارے اس عمل کو مزین کر کے یہ تو  نہیں بتلا رہا ہے کہ اس کے نتائج درخشاں نکلیں گے! آئندہ سطور میں کوشش کی گئی ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اقامت صلوٰۃ کے حکم کا  منشاء و مفہوم کیا ہے او ر کیا ہم اس کی صحیح ادائیگی کررہے ہیں؟ اور کیا اس سے قرآن کریم کا منشاء اور مفہوم پورا ہورہا ہے ؟ اور اگر نہیں ہورہا ہےتو قرآن کریم  نے ‘‘ اَرَءَیْتَ الَّذِیْ ’’ کی صورت میں جو یہ ‘‘ فَوَیْلّ لِّلْمْصَلِّینَّ ’’ کہا ہے کیا ہم ہی وہ مصلین تو نہیں ہیں؟

اقامت صلوٰۃ پر بات کرنے سے قبل دین او رمذہب کے فرق کو سمجھ لینا ضروری ہے ۔ زبان عربی  میں لفظ دین کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً غلبہ، اقتدار، حکومت، مملکت، آئین و قانون ، نظم و نسق وغیرہ۔ دوسری  طرف یہ لفظ اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔علماء نے بھی اس کے معنی غلبہ ، تدبیر اور اطاعت  کے لکھے ہیں ۔کتاب الاشقاق میں اس کے معنی  اطاعت اور روش کے لکھے ہیں ۔ قرآن کریم میں یہ لفظ تمام معنوں   میں استعمال ہوا ہے۔ ان معنی او رمفہوم کے اعتبار سے قرآن کریم نے ‘‘یوم الدین ’’ کے معنی خود ہی واضح کردیئے ہیں جہاں کہا  کہ تجھے کیا معلوم کہ یوم دین کیا ہے؟  اور جواب میں کہا ۔ ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ۔  يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا ۖ وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ ( 82:18:19) ( جس دور میں کوئی انسان دوسرے انسان کے لئے کچھ اختیار و اقتدار نہیں رکھے گا اور تمام معاملات  قوانین  الہٰی  کے مطابق طے ہوں گے) حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں نظام معاشرہ ، ضابط زندگی، قانون، حکومت، مملکت کا آئین  اور عدل وغیرہ کی مختلف اصطلاحات رائج ہیں ۔ قرآن کریم نے ان سب کی جگہ ایک جامع اصطلاح دی ہے۔ وہ ہے الدین ۔ اور  یہی ہمارے معاشرے کا نظام ، ہماری زندگی  کا ضابطہ ، ہماری حکومت کا قانون او رہماری مملکت  کا آئین ہے۔

مذہب کے معنی ہیں راستہ، طریقہ وہ عقیدہ جس کی طرف کسی کا رجحان ہو ۔ قرآن شریف میں مذہب کا لفظ کہیں نہیں پایا جاتا ۔ اسلام کے لئے دین کا لفظ آیا ہے۔ درحقیقت مذہب کے معنی مکتب فکر School of Thought  ۔ کے ہیں ابتداً اسلام صرف دین تھا بعد میں جب آئمہ فکر وفقہ کے مختلف طریقے پیدا ہوئے تو دین کی جگہ مذہب نے لے لی، چنانچہ  ذھبہ فی الدین مذھباً ۔ کے معنی ہیں ‘‘ اس نے دین میں فلاں عقیدہ اختیار کیا’’ اور فلان یذھب الیٰ قول ابی حنفیہ ۔

‘‘ فلاں شخص ابو حنیفہ کے مسلک کے مطابق چلتا ہے ’’ اس طرح دین ( یعنی  وہ ضابطہ حیات جو اللہ کی طرف سے ملا تھا ) گم ہوگیا اور مختلف شخصیتوں سے منسوب مذاہب آگے چل پڑے۔ (لغات القرآن) مغرب میں چونکہ عیسائیت  ایک مذہب کی حیثیت  رکھتی تھی اس لئے وہاں اسلام کا ترجمہ (Religion of Islam) یعنی مذہب اسلام ہوگیا ۔ اس طرح دین کا تصور مٹنے لگا تا کہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک مذہب  سمجھا جانے لگا۔ حالانکہ اسلام دین یعنی ( ضابطہ حیات) کا نام تھا ۔ مذہب نہیں  تھا ۔ لفظ  Religion ۔ کے بنیادی معنوں کے متعلق علماء لغت میں اختلاف ہے۔ لیکن اس پر عمومی اجماع ہے کہ اس کے اصلی معنی  ‘‘ دیوتاؤں کی تعظیم ’’ کے ہیں ۔ اس کے بعد کسی مافوق الفطرت ہستی کی پرستش کے قواعد اور ضوابط کے مجموعے کا نام Religion ۔ ہو گیا اور انہی معنوں میں یہ لفظ عموماً رائج ہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام ان معنوں میں Religion  نہیں ہے۔ یہ ایک مکمل ضابطہ  حیات ہے زندگی کا قانون ہے لہٰذا اسلام کو مذہب Religion۔ نہیں کہنا چاہیے دین اور مذہب سے متعلق اس مختصر سی صراحت کے بعد دیکھیں کہ دین میں صلوٰۃ ( جس  کا ترجمہ نماز کیا جاتا ہے) کیا مقام رکھتا ہے۔ دین الہٰی کی بہ طیب خاطر اطاعت کا نام اسلام ہے۔ دین کے معنی ہیں قانون ۔ قانون وہی ہوتا ہے جس کی اطاعت ہو رہی ہو۔ اس جہت سے قرآن  کریم کا حکم مطلق  (Imperative Supreme ) جماعتی زندگی کا قیام ہے۔ ایسی جماعتی زندگی ( Community Life) جس میں قرآن کے دیئے ہوئے اقدار  حیات ( Values) اور قوانین کی اطاعت  ہورہی ہو۔ جس میں صفت رب العالمینی کی نمود ( Manifestation) ہورہی ہو ۔ اس طرز کی جماعتی  زندگی کے قیام و استحکام کا نام اقامت صلوٰۃ ہے۔ یعنی ایسے  معاشرے کا قیام جس میں  بطیّب خاطر قوانین الہٰی  کی اطاعت ہورہی ہو۔

صلوٰۃ کے معنی ہیں اللہ کے قوانین  کے پیچھے پیچھے چلنا ‘‘ مصلی’’ اس گھوڑے کو کہتےہیں جو ریس ( Race) میں اوّل گھوڑے کے پیچھے لیکن متصل بھاگ رہا ہو۔ اس جہت سے قرطبی نےاپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ صلوٰۃ کے معنے ہوں گے احکام الہٰی  سے وابستگی ،حدود اللہ کے اندر رہنا ، کتاب اللہ کے متمسک ، اس سے چمٹے رہنا ۔ ( لغات القرآن) اس وصاحت سے صلوٰۃ کا بنیادی مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کے اس ارشاد سےبھی صلوٰۃ کے اس معنی  کی توثیق ہوجاتی ہے۔  الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ ( 22:41) ‘‘یہ وہ لوگ ہیں جنہیں زمین پر اقتدار حاصل ہوتو ( نظام صلوٰۃ) قائم کرتے ہیں ۔ قانون کوئی بھی ہو اس کی اطاعت انفرادی طور پر ممکن نہیں ۔ اجتماعی زندگی میں ہی ہوسکتی ہے ۔ اجتماعی زندگی یا معاشرے کے لئے مملکت اور اقتدار کا ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا مومنین کو اقامت صلوٰۃ کا جو حکم دیا گیا ہے۔ وہ اسی صورت میں ممکن ہے جب انہیں اقتدار حاصل ہو اور ان کی اپنی  مملکت ہو ۔ اس کے بعد حکم ہے آتَوُا الزَّكَاةَ ( 22:41) زکوٰۃ کا انتظام کرو۔ زکوٰۃ کےمعنی ہیں نشو و نما۔ (Development, Growth) نوع  انسانی نما کے لئے سامان فراہم کرنا ۔ اس نشو ونما  میں انسان کی طبیعی زندگی کی پرورش اور اس کی ذات کی نشو و نما دونوں داخل ہیں۔ قرآن کریم نے کہا کہ یہ سامان وہ لوگ فراہم کریں گے جنہیں اقتدار حاصل ہو ۔ ( یعنی  ایتائے زکوٰۃ حکومت کا فریضہ ہے) انفرادی    طور پر  2/1۔2 فیصد خیرات دینے کا نام زکوٰۃ  نہیں ۔ایک دوسری جگہ ہے کہ ‘‘ زکوٰۃ کا انتظام کرتے ہیں وہ نوع انسانی کی نشو نما کے لئے جدوجہد کرتےہیں ( 13:2) آیت ( 41:2) میں آگے کہا کہ ‘‘ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ( 22:41) ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو معروف کا حکم دیتے ہیں او رمنکر سے روکتے ہیں ۔ حکم دینا اور روکنا انفرادی زندگی میں ممکن نہیں ۔ جماعتی زندگی  میں اقتدار  کے حامل لوگ ہی ایسا عمل بجا لاسکتے ہیں ۔

ان تصریحات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ صلوٰۃ کےمعنی وحی کے ذریعہ دیئے ہوئے قانون پروگرام  پر عمل پیرا ہونے کے ہیں ۔قرآن نے جمع کے صیغے استعمال کئے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ صلوٰۃ قانون الہٰی  کی اطاعت ( عبادت) صرف اجتماعی نظام کے تحت ہوسکتی ہے۔ انہیں لوگوں کو دوسری جگہ،  ‘‘ الژکِعُوْنَ الشجدُوْنَ ’’ کہا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے مقام پر اقامت صلوٰۃ  او رباہمی مشاورت کا اکٹھے ذکر کیا گیا ہے ‘‘وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ ( 42:38)’’ وہ اقامت صلوٰۃ کرتے ہیں اور ان کے معاملات باہمی مشورے سےطے ہوتےہیں ۔ چونکہ جماعت مومنین  کے تمام معاملات زندگی قوانین  الہٰی او رکتاب اللہ کے مطابق طے پاتے ہیں ۔ اس لئے اقامت صلوٰۃ اور تمسک بالکتاب کو ساتھ ساتھ رکھا گیا ہے ( 7:17) لہٰذا اقامت صلوٰۃ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جس میں تمام افراد قرآن کریم کے قوانین و احکام کی اتباع کرتے چلے جائیں اور یوں کتاب اللہ سے وابستہ رہیں ۔ اس مقصد کی مزید وضاحت کے لئے ‘‘صلی’’ کے مقابلے میں  ‘‘ تولی ’’ کا لفظ آیا ہے۔ تولی کےمعنی ہیں صحیح راستہ سے رو گردانی  کرنا، صلی کے معنی ہیں قوانین  الہٰی کے مطابق صحیح راستہ پر چلنا ۔ نظام الہٰی کے متعین  کردہ فرائض  ادا کرتے چلے جانا ۔ اسی اعتبار  سے مولانا حمید الدین فراہی نے کہا  ہے کہ صلوٰۃ کے ایک معنی  بڑھنے او رکسی کی طرف متوجہ ہونے کے ہیں ۔ سورۃ  علق  میں ہے۔  أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ ۔ عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰ ( 96:9:10) جب بندہ اپنے فرائض منصبی ادا کرنا چاہتا ہے تو یہ مخالف  قوتیں اس کے راستے میں رکاوٹیں  ڈالتے ہیں ۔ ان فرائض منصبی  کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا  نہیں کہ جس کو یہ محیط  نہ ہو۔ چنانچہ سورۃ ہود میں ہے کہ ۔ حضرت شعیب سے ان کی قوم نے کہا کہ کیا تیری صلوٰۃ تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم اسے چھوڑدیں کہ جس کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے چلے آرہے ہیں ۔ یا ہم اپنے مال و دولت کو ہی اپنی مرضی کے مطابق خرچ نہ کریں ۔ یعنی یہ  بات ان کی سمجھ میں نہیں  آتی  تھی کہ یہ کیسی صلوٰۃ ہے جو معاشیات کو بھی اپنے دائرے میں لے لیتی ہے اس سے صلوٰۃ کامفہوم  واضح ہو جاتا ہے ۔ سورۃ انعام میں  ‘‘ صلاتھم یحا فظون ’’ کو آخرت او رکتاب اللہ  پر ایمان کے مترادف قرار دیا گیا ہے ( 6:92) اسی بنا پر علماء نے اقامت صلوٰۃ  یعنی معاشرے کو در حقیقت دین کا قیام کہا ہے۔

سورۃ عنکبوت میں اقامت صلوٰۃ  کا جو نتیجہ بتایا گیا ہے اس میں اقامت صلوٰۃ کے معنی  او رمفہوم نکھرکر سامنے آجاتے ہیں ۔ اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (29:45)  فحش کے معنی ہیں حد سے بڑھ جانا زیادتی  کر بیٹھنا ۔ قرآن کریم میں فحشاء عدل کے مقابلے میں بھی آیا ہے ( 16:90) اور قسط کے مقابلے میں بھی  (7:28:29) اس لئے فحش کے معنی ہیں حد و د اللہ  سے تجاوز اور سر نشی ۔ یعنی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرنافحش میں داخل ہے۔ ( تاج اور راغب) منکر کے معنی ہیں بہت زیادہ چالاکی، عقل کی فریب کاری ( تاج)

ان معنوں کے لحاظ سے قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ( اے رسول) تم ان قوانین کو جو تمہیں  بذریعہ وحی دئیے گئے ہیں لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہو اور خود ان کے مطابق نظام صلوٰۃ قائم کرو یقیناً یہ نظام لوگوں کو اس روش  سے روک  دے گا جس کی رو سے ہر شخص سب کچھ اپنے لئے سمیٹنے کی فکر میں لگا رہتا ہے ، اور دوسروں کی پرورش کا خیال کسی کو نہیں آتا۔ اور آگے فرمایا اور اس مقصد کے  حصول کےلئے عقل خود بین کی فریب  کاریاں انہیں عجیب عجیب طریقے سمجھائی  رہتی ہیں ۔ یہ نظام اس صورت میں قائم ہوسکتا ہے کہ معاشرے میں اقتدار اعلیٰ اللہ  کے قانون کو حاصل ہو ۔ اس کے مقابلے میں تمہارے خود ساختہ قوانین اور نظام کیا کرتے ہیں اس کا علم اللہ کو ہے ۔ ( مفہوم القرآن)

یہ ہے  فحشاء و منکر جس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ بے حیائی ( Indecency) او رکھلی برائی Evil Manifest او ریہ ہے وہ اقامت صلوٰۃ جس کا ترجمہ کیا جاتاہے ‘‘ نماز پڑھو’’ قرآن کریم میں اجتماعات کے لئے صلوٰۃ لفظ آیا ہے۔ چنانچہ سورۃ المائدہ میں کہا گیا ہے کہ ‘‘ اے ایمان والو’ ’ جب تم صلوٰۃ کے لئے کھڑے ہوتو اپنے منہ او رہاتھ کہنیوں تک دھولیا کرو  اور اپنے سروں کامسح کیا کرو ...... (5:6) سورۃ النساء میں ہے کہ اے ایمان والو! تم  صلوٰۃ کے قریب مت جاؤ جب تم حالت سکر ( نشہ یا نیند کی حالت) میں ہو، جو کچھ تم منہ سے کہو اسے نہ سمجھو کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اسی طرح دیگر مقامات پر بھی  یہ لفظ آیا ہے ۔ ان تصریحات سے واضح ہے کہ قرآن میں صلوٰۃ کا لفظ اجتماعات کےلئے بھی آیا ہے ۔ ہمارے ہاں! اجتماعات  کو نماز کہا جاتا ہے ۔ نماز عربی لفظ نہیں ہے فارسی او رپہلوی لفظ ہے جس کے معنی ہیں پرستش اور پوجا پاٹ ۔ اللہ کی عبادت کا مفہوم اس قسم کا نہیں ہے جو عام طور پر دوسرے مذاہب کے ہاں پایا جاتا ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ کی عبادت اور اطاعت کا مفہوم اس کے قوانین کی اطاعت اور اللہ کی محکومیت اختیار کرنا ہے۔ اس کی عملی شکل وہ نظام مملکت  ہے جو قرآنی  اصولوں کے مطابق متشکل کیا جاتاہے ۔ اور اس نظام کے حاملین  کے متعلق  کہا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے نشو و نما دینے والے کی اطاعت کرتے ہیں ۔ اور اقامت صلوٰۃ کرتے ہیں اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اور جو کچھ ہم انہیں  دیتے ہیں وہ اسے نوع انسانی کے لئے کھلا رکھتے ہیں ۔ اقامت صلوٰۃ  او رامور مملکت طے کرنے کے لئے باہمی  مشاورت کا ارتباط غور طلب ہے۔ ظاہر ہے کہ قوانین الہٰی کے نفاذ کے متعلق فیصلے اور ضروری  امور کا فیصلہ کرنے کےلئے  باہمی مشاورت کے اجتماعات ضروری ہیں  ۔ اس میں ہم آہنگی ہونا ضروری ہے ورنہ اجتماعی میں انتشار پیدا ہوتا دکھائی دے گا۔ احترام و ا طاعت  کے والہانہ جذبات کے اظہار میں نظم و ضبط کاملحوظ رکھنا ہی سب سے بڑی  تربیت ہے نفس ہے۔

إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ( 29:45)۔ صلوٰۃ فحشا ء و منکر سے باز رکھتی ہے۔

اس ارشاد  الہٰی  کی روشنی میں اقامت صلوٰۃ کے حکم کی تعمیل  ہم جس شکل میں کررہے ہیں ان کا جائزہ لیجئے تو بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ نمازیں پڑھی  جارہی ہیں، لیکن ساتھ ساتھ  قرآن کے دیئے ہوئے اقدار حیات بھی پامال ہورہے ہیں  تو یہ اقامت صلوٰۃ کے  حکم کی تعمیل تو نہ ہوئی اور صرف نمازیں پڑھتے رہنے  سےاس اقدار  کی حفاظت  ہو بھی نہیں سکتی ۔ ان کی حفاظت وہ اخلاقی نظام ہی کرسکتا ہے جن میں قانون الہٰی عملاً نافذ ہو۔ اقیمو الصلوٰۃ ۔ کے حکم سے مقصود  ایسے معاشرے کا قیام ہے اور اس میں صلوٰۃ جس کا ترجمہ  نماز کیا جاتا ہے ایک وقتی  فریضہ  ہے جب کہ صلوٰۃ ایک ایک ہمہ وقتی پروگرام ہے جس میں آئینی  الہٰی  نے یہ انتظام کر رکھا ہے کہ اس نظام کی یاد دہانی ہوتی رہے اس یاد دہانی  کا نام فریضہ موقت ہے۔سورۃ شوریٰ میں مومن   کی صفت  ہی یہ بتلائی گئی  ہے کہ وہ اقامت صلوٰۃ کرتے ہیں  اور اپنے معاملات  باہمی مشورے سےطے کرتے ہیں ۔ اقامت صلوٰۃ اور باہمی  مشاورت  کا یکجا  حکم اس کی غرض و غایت  کو واضح کردیتا ہے ۔ چنانچہ تاریخ  ہمیں بتاتی ہے کہ خلافت راشدہ میں کوئی اہم  معاملہ پیش  آتا تو خلیفہ کی طرف سے منادی  کردی جاتی  کہ ‘‘ الصلوٰٖۃ جامع ’’ خلیفہ  معاملہ پیش نظر کی وضاحت  کرتا او ر مجلس کے باہمی  مشورے سے فیصلہ کیا جاتا ۔ اسلام کی ساری تعلیمات  جس محور کے گرد گردش کرتی ہیں اس کے یہ دوسرے معانی ہیں ایک اخلاقی نظام اور دوسرا معاشی نظام۔ یعنی  صلوٰۃ کا نظام، اس صلوٰۃ کا نظام ( جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے)  دوسرا معاشی نظام یعنی  ایتائے زکوٰۃ ۔ ایتائے زکوٰۃ کا یہ مطلب  نہیں ہے کہ ہمیشہ  ایک طبقہ مالداروں  کا اور ایک طبقہ  غریبوں کا رہے  اور دولت مندوں کا ، ایک ہاتھ دینے والا ہو ایک ہاتھ غریبوں کا لینے  والا ۔ دولت مند طبقہ اپنے مال کا ایک مختصر سا حصہ نکال کر سال میں ایک مرتبہ محتاجوں او رفاقہ کشوں کو دیا کرے۔ زکوٰۃ کا مطلب  ایک ایسا معاشی نظام تشکیل دینا اور قائم کرنا ہے جس کا نتیجہ  یہ ہو کہ معاشرے کا کوئی فرد ضروریات  زندگی سے محروم نہ رہے۔ یہ دونوں سرے یعنی  ‘‘اقیمو الصلوٰۃ ’’ اور ‘‘ اتو الذکوٰۃ ’’ ایک دوسرے سے ایسے پیوست  ہیں کہ انہیں  ایک دوسرے  سے جدا نہیں   کیا جاسکتا ۔ اس لئے قرآن کریم نے اخلاقی نظام ( اقامت الصلوٰۃ) او ر معاشی نظام ( ایتائے زکوٰۃ) کو اسلامی حکومت   کا فریضہ بتایا ہے ۔ چنانچہ قرآن کریم کا یہ واضح  ارشاد ہے کہا  الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ ( 22:41) یہ وہ لوگ ہیں جنہیں زمین پر تمنکت حاصل ہو تو یہ صلوٰۃ کا نظام قائم کریں گے اور ایتائے زکوٰۃ ( معاشی نظام) قائم کریں گے۔

دسمبر، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/waheed-rizvi/the-meaning-of-establishing-salat--اقامت-صلوٰۃ/d/100402

 

Loading..

Loading..