New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 12:45 PM

Urdu Section ( 4 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

The Rights of Non-Muslims in Islam -Part II اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق ۔ قسط ۔ دوم

 

وائل سالم

21 جون، 2013

( انگریزی سے ترجمہ  ،  نیو ایج اسلام  )

ان لوگوں پر یہ  وضح کرنا ضروری ہے جو  یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ قرآن اور  ساتھ ہی ساتھ نبی صلی اللہ علیہ کی روایات اور اقوال اس  حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ اسلام (جس کا لفظی مطلب "امن" ہے) عالمی امن اور خوشحالی کا داعی ہے اور اس کا مقصد  عام طور پر انسانیت کی ترقی ہےکہ قرآن کے اس پیغام امن کا مخاطب پوری نوع  انسانی ہے صرف  مسلم ہی نہیں  ۔

اسلام مسلمانوں کو تمام غیر مسلموں کے ساتھ اس وقت تک حسن معاشرت اور انصاف کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے  جب تک وہ مسلمانوں کی مخالفت یا ان پر ظلم نہیں کرتے اور اسلام کی اشاعت  کی راہ میں رکاوٹیں نہیں پیدا کرتے ۔ مذہبی اختلافات خدا کے فیصلہ سازی کے معاملات میں  سےہیں، ہمیں ایک دوسرے کافیصلہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم مذہب کی وجہ سے نہ تو کسی کو  سزا اور نہ ہی کسی کو جزا دینے  کے لئے ذمہ دار ہیں۔ اسلام دیگر مذاہب  کے لوگوں کو مذہب  تبدیل کرنے کے لئے مجبور نہیں کرتا ۔ اس نے لوگوں کو  اپنے مذہب کو  قائم رکھنے کی  مکمل آزادی دی ہے، اور اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے  ۔ یہ آزادی قرآن اور نبوی تعلیمات جنہیں سنت کہا جا تا ہے  دونوں میں ثابت ہے۔ خدا قرآن میں نبی محمد سے اس طرح خطاب فرماتا ہے :

"اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں؟ (یونس: 99)

اسلام نہ صرف یہ کہ غیر مسلموں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے، بلکہ ان کی عبادت گاہوں  کے تحفظ کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے ۔ اللہ (عزوجل) قرآن مجید میں فرماتا ہے :

"یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے۔ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے۔ "(قرآن 22:40)

مندرجہ ذیل نقطہ پر زور دینا اہم ہے۔ صدیوں سے تمام  مسلم ممالک ،مورش اسپین اور سب صحارا افریقہ سے مصر، شام، ہندوستان اور انڈونیشیا تک ، میں غیر مسلموں کا وجود دیگر مذاہب کے لوگوں کو اسلام کے ذریعہ فراہم کردہ مذہبی رواداری کا واضح ثبوت ہے۔ یہاں تک کہ اس طرح کی آزادی اسپین سے  مسلمانوں کے خاتمے کا  باعث بنی ، جہاں کے باقی عیسائیوں نے مسلمانوں کی  کمزوری کا فائدہ اٹھایا، ان پر حملہ کیا، اور  یا تو انہیں مار کر یا  مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر کے یا انہیں وہا ں سے نکال کر اسپین سے مسلمانوں کو ختم کر دیا ۔

ایٹینی ڈنائر نے لکھا، ‘‘ مسلمان اس کے برعکس ہیں جیسا کہ  بہت سے لوگوں کا یقین ہے۔ انہوں نے حجاز (شہر مکہ اور مدینہ کو شامل عرب کا مغربی حصہ) سے باہر کبھی طاقت کا استعمال نہیں کیا  ۔ عیسائیوں کی موجودگی اس حقیقت کا ثبوت تھی ۔ مسلمانوں نے آٹھویں صدی کے دوران، جب وہ ان کی زمینوں پر حکومت کرتے تھے ،ان کے مذہب کو مکمل حفاظت کے ساتھ  برقرار رکھا ۔ ان میں سے کچھ کوقرطبہ (قرطبہ کی تاریخی خلافت کا دارالحکومت) میں اعلیٰ  عہدے حاصل تھے  لیکن جب انہی عیسائیوں نے ملک میں اقتدار حاصل کر لیا  تو فوراً ان کی پہلی تشویش مسلمانوں کا قلع قمع  کرنا تھی۔’’                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                       غیر مسلموں کو اسلامی ممالک میں تمام قسم کی جارحیت سے تحفظ کا  حق حاصل ہے خواہ وہ  داخلی ہوں یا خارجی ۔

اگر دیگر ممالک سے دشمن ایک اسلامی ریاست میں کسی بھی فرقے کےغیر مسلموں پر حملہ کرتا ہے تو مسلمانوں کو غیر مسلموں کی مذہبی عبادت کی آزادی کی حفاظت کے لئے لڑنے کا حکم دیا گیا  تھا ۔

مشہور اسلامی اسکالر احمد بن حنبل اپنی کتاب  علی النہاء میں  فرماتے ہیں : "مسلم کمیونٹی کے حکمران غیر مسلموں کو تحفظ فراہم کرنے اور جارحیت سے ان کو بچانے کے پابند ہیں ۔"

غیر مسلموں کی جائیداد کی حفاظت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ شہر ی یا فوجداری کے قانون کے  تناظر میں مسلم اور غیر مسلم شہری کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اگرچہ ایک اسلامی ریاست کو غیر مسلموں کے ذاتی حقوق میں مداخلت کرنے کا کوئی  حق نہیں ہے ۔ اگر کوئی مسلم غیر مسلموں کے حقوق میں کمی کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اس  مسلمان کے خلاف شکایت کرنے والے ہوں گے۔ اسلامی ریاستوں میں غیر مسلموں کو  ملکیت، فروخت، منتقلی، عطیہ اور کسی بھی مسلمان کی طرح ان کی جائیداد کو رہن رکھنے کے ان کے تمام حقوق حاصل ہیں ۔

چوتھے خلیفہ علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) نے  ایک بار ان غیر مسلموں کی املاک پر ان کے حقوق کے بارے میں کہا: " انہوں نے  واضح طور  پر ذمی (عیسائیت کو قبول کر لیں ) کی پوزیشن کو قبول کر لیا ہے اب  ان کی ملکیت اور زندگی ہماری(یعنی مسلمانوں) کی طرح مقدس رہے گی۔

اسلامی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جہاں عام طور پر مسلمانوں کی آبادی کو غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کا علم تھا اور وہ اپنے حکمرانوں سے ان کے لئے انصاف کا مطالبہ کرتے تھے ۔ ایک اموی  خلیفہ ولید ابن یزید نے  قبرص کے باشندوں کو جلاوطن کر دیا اور انہیں شام میں بسنے پر مجبور کر دیا ۔ اسلامی علماء کرام نے اس وقت اس اقدام کو مسترد کر دیا اور اسے ظلم قرار دیا ۔ لہٰذا  جب اس کا بیٹا خلیفہ بنا تو انہوں نے اس  کے پاس اس مسئلے کو پیش کیا  تاکہ  انہیں  ایک بار پھر ان کے آبائی ملک میں دوبارہ آباد کیا جا سکے ۔ انہوں نے اس تجویز پر اتفاق کیا، اور اس طرح انہیں  اموی خاندان کے سب سے  عادل حکمرانوں میں سے ایک جانا جاتا ہے۔

سیکولر ادباء اور مورخین غیر مسلموں کے تئیں اسلام کے انصاف کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں ۔ برطانوی مؤرخ، ایچ، جی ویلز نے اس طرح لکھا ہے:

 "انہوں  (مسلمانوں) نے  رواداری کی عظیم روایات قائم کی ہے ۔ انہوں نے سخاوت اور رواداری کے جذبے سے لوگوں کو متأثر کیا، اور انسانیت کے تئیں ہمدرد اور عملی ہیں۔ انہوں نے ، ان  سے پہلے کی کسی بھی کمیونٹی کے برعکس، ایک ایسی انسانی برادری کی بنیاد رکھی  جس میں ظلم اور سماجی ناانصافی کا مظاہرہ  نایاب تھا ۔ "

ماخذ:

http://213.158.162.45/~egyptian/index.php?action=news&id=29288&title=The%20rights%20of%20non-Muslims%20in%20Islam%20(Part%20II)

URL for part-1

http://newageislam.com/islamic-ideology/wael-salem/the-rights-of-non-muslims-in-islam-(part-i)/d/12256

URL for part-2

http://newageislam.com/islamic-ideology/wael-salem/the-rights-of-non-muslims-in-islam-(part-ii)/d/12265

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/wael-salem,-tr-new-age-islam/the-rights-of-non-muslims-in-islam--part-ii--اسلام-میں-غیر-مسلموں-کے-حقوق-۔-قسط-۔-دوم/d/12441

 

Loading..

Loading..