New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 09:40 PM

Urdu Section ( 11 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Shari`ah: Bringing Value to Our Lives (Part 1) (ہماری زندگی کو با وقار بناتی شریعت (حصہ اول

 

وائل حمزہ

19 جون ، 2012

شریعت رہنمائی، تعلیمات ، احکام اور  اس  نظام حیات سے عبارت ہے جسے  اللہ نے اپنے کے  رسولوں کے ذریعے انسانیت کے لئے دنیاوی زندگی اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی خاطر بھیجا ہے ۔ اور اس سلسلے کی آخری کڑی وہ اسلامی شریعت ہے جو حضرت محمد (صلی علیہ وسلم) کو عطا کی گئی تھی  ۔

بہت سے مسلمان اور غیر مسلم لفظ ' شریعت ' کے تعلق سے غلط فہمی کا شکار ہیں اور اسے اکثر تعزیری  قانون تک ہی محدود سمجھتے ہیں۔ شریعت کی اس محدود سمجھ نے اسلام کی خوبصورتی، اس کے اقدار اور اس کی خوبیوں کو ختم کر دیا ہے۔ عام طور پر ہم  مسلمانوں اور خاص طور پر امریکی مسلمانوں لئے شریعت کو سمجھنا اس کی خصوصیات کو جاننا اور ان اقدار سے آگہی حاصل کرنا  جن کو  وہ فروغ دیتا ہے اور ان مقاصد کے بارے میں جاننا جسے حاصل کرنا شریعت کا منشا ہے انتہائی اہم ہے ۔ اس تحریری سلسلہ کا مقصد  شریعت اور فقہ کی تعریف اور ان کے درمیان تعلقات پر کچھ روشنی ڈالنا ہے۔ اس سے  ہمیں شریعت کی کچھ اہم خصوصیات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور یہ بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح وہ خصوصیات اسلام کو  دوسرے نظام حیات سے ممتاز کرتی ہیں ۔ اس میں مختصراً شرعی احکام کے بڑے مقاصد اور اسلامی فقہ میں ان کی اہمیت کو بیان کیا گیا  ہے اور اس کا مقصد مسلمان ہونے پر فخر کے احساس کو فروغ دینے میں مدد کرنا اور ہماری زندگی میں شرعی اقدار کو شامل کرنے کی تحریک دینا  ہے ۔

اس تحریری سلسلہ کے مطالعہ کے بعد امید ہے کہ  ہم اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بہتر طور پر اسلام پیش کرنے میں ان اقدار اور مقاصد کو استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں گے ۔ اس تحریری سلسلہ  میں اس قسم کے اقدار کو فروغ دینےاور ہمارے معاشرے میں ان اقدار کو شامل کرنے کے لئے  سخت محنت کرنے  میں ہاتھ بٹانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔

شریعت  کیا ہے؟

لغوی اعتبار سے شریعت ایک عربی لفظ ہے جس کے کئی معانی ہیں ان معانی میں کچھ یہ ہیں :

1) ابتدا یا کسی چیز کا آغاز ،

2)  شفافیت یا وضاحت

3)  پانی کے چشمہ تک کوئی راستہ ایک بہت بڑی بہتات اور

4)  کسی چیز تک پہنچنے کا واضح راستہ ۔ (عمر سلیمان العشقر، اسلامی شریعت اور فقہ کا تعارف)

شریعت قرآن میں

قرآن میں ، شریعت کا مطلب وہ  رہنمائی، احکام، تعلیمات اور نظام حیات ہے  اللہ جس کی ہدایت لوگوں کو دیتا ہے۔ قرآن کی کئی آیات واضح طور پر یہ معنیٰ بیان کرتی ہیں ۔ ہر پیغمبر ایک مخصوص شریعت کے ساتھ اپنی امت کی طرف  بھیجا گیا تھا۔ محمد (صلی علیہ وسلم ) اللہ کی آخری  شریعت کے ساتھ اپنی امت  اور باقی تمام انسانیت کی طرف بھیجے گئے تھے ۔

تمام انبیا کی شریعتوں کےدرمیان بڑی مماثلت پائی جاتی ہے خاص طور پر اللہ پر، غیب کی باتوں پر ، فرشتوں پر  اور قیامت کے دن پر ایمان کے تعلق سے  ،اور عقائد کے  دیگر  تمام پہلوؤں کے درمیان مماثلت پائی جاتی ہے ۔ اور ان کے  اخلاقی نظام میں بھی کافی مشابہت پائی جاتی  ہے۔ یہاں تک کہ  بنیادی مذہنی معمولات بھی تمام رسولوں  کی  شریعت کے درمیان مشترک  ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے،

‘‘اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔’’( الشوری 42:13 ) ۔

تاہم ہر ایک رسول کی شریعت  زمانے ، ان کی امت کے مزاج  اور یہاں تک کہ اس  مخصوص وقت میں انسانیت کے شعور کی بنیاد پر  مختلف تھی ۔ اللہ کا فرمان  ہے، { تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے}(آل عمران 5:48)  ۔ نبی محمد (صلی علیہ وسلم ) کو عطاکی گئی آخری  شریعت ہر زمانے اور  ہر جگہ  میں تمام انسانیت کے لئے ہدایت ہے ۔

علماء کی اصطلاحات

اسلامی علماء کرام لفظ شریعت استعمال کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد ایک  مختلف اصطلاح ہوتی ہے ۔دور اوائل کے  علماء کرام نے جب لفظ ' شریعت ' کا استعمال کیا تو انہوں نے بعینہٖ مذکورہ بالا قرانی تعریف مراد لیا  جو کہ اس طرح ہے : شریعت وہ رہنمائی، احکام اور نظام حیات ہے  جو اللہ نے محمد (صلی علیہ وسلم) کو عطا کیا  خواہ  اس کا تعلق عقائد سے ہو  اخلاقی کردار سے ہو  یا اعمال سے ہو ۔ (الاشقر )۔تاہم بعض علماء نے خاص طور پر بعد کے دور کے علما نے لفظ ' شریعت ' سے رہنمائی، احکام اور  وہ نظام حیا ت مراد لیا جس کا تعلق  صرف لوگوں کے اعمال سے ہے ۔ انہوں نے اپنی  تعریف سے  ایمانات اور اخلاقیات کوخارج کر دیا ۔ (الاشقر ) [2]

اس تحریری سلسلہ  میں شریعت کا مطلب

شریعت ہمارے تمام ذاتی خاندانی اور اجتماعی مسائل کا حل ہے۔

اس تحریری سلسلے کے مقصد کی وجہ سے اصطلاحات کا انتخاب اہم نہیں ہے اس لئے کہ یہ تحریری سلسلہ تمام علمائے کرام کے ذریعہ منتخب  تمام اصطلاحات کو شامل ہے  ۔ تاہم، اس تحریری سلسلے  میں ہم نے شریعت کی قرانی تعریف کا انتخاب کیا ہے جسے  دور اوائل کے اسلامی علما نے اختیار کیا تھا  ۔ ہمارے انتخاب کی  وجہ یہ ہے کہ  پہلی تعریف میں دوسری تعریف بھی شامل ہے ۔ ہم قارئین کی توجہ شریعت کی اس سے بھی زیادہ  جامع تعریف کی طرف مبذول کرنا چاہیں گے ۔ جیسا کہ ہمارے علماء ہمیشہ کہتے ہیں کہ جب اصطلاح کے  استعمال کو واضح طور پر بیان کر دیا جا تا  ہے تو  " اصطلاحات کے حوالے سے  مزید   مباحثہ  نہیں ہونا چاہئے " ۔ شریعت کا لفظی  معنی شریعت   کے تصور کی اچھی طرح وضاحت کرتا ہے۔یہ امر  بالکل  واضح اور ظاہر ہے کہ شریعت ہدایت کا عظیم منبع ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہےجس پر اس  زندگی اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے والے کو چلنا چاہئے۔

شریعت ایک حتمی حقیقت ہے

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ  اسلامی شریعت رہنمائی، احکام اور ایک ایسا نظام حیات ہے  جسے  اللہ نے اس دنیا میں ایک  باعزت زندگی گزارنے اور اس زندگی اور آخرت کی  زندگی میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد کے لئے انسانیت کو عطا کیا ہے ۔ یہ ایک حتمی سچ ہے جس کی اتباع کرنے کی خواہش ہم سب کو رکھنی  چاہئے ۔ ہم اس کی ہدایت کو جاننے اور اپنی  زندگیوں میں اسے جاری کرنے کی  کوشش کرتے ہیں۔ ہم اس کی تعلیم دینے  اور اسے فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اچھائی غالب ہو ۔ شریعت اللہ کہ آخری کتاب قرآن میں موجود ہے جو اس نے  انسانیت کو عطا کیا ہے۔ یہ خاتم النبین  محمد (صلی علیہ وسلم ) کی روایت میں بھی موجود ہے۔ شریعت رحمت ہے جو ہمارے  نبی (صلی علیہ وسلم) ساتھ بھیجی گئی تھی اور یہ ہمارے تمام ذاتی، خاندانی اور اجتماعی مسائل کا حل ہے۔

[1] یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لفظ شریعت کا استعمال تعزیراتی قانون سمیت قوانین کا مجموعہ مراد لینے کے لئے کیا جا سکتا ہے ۔ اس اصطلاح کو سائنسی یا قانونی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے عام طور پر اس اصطلاح کااستعمال قرآن میں مذکور شریعت کی اہمیت کو کم کر دیتا ہے جیسا کہ دور اوائل کے علمائے کرام نے سمجھا ہے ۔

[2] اس اصطلاح سے ایمانیات اور اخلاقی کردار کو  اس لئے نہیں  خارج کیا گیا ہے کہ ان میں سے کسی کی  اہمیت کم ہے۔ بلکہ اس کی وجہ ان میں سے  ہر ایک کو علم کا ایک الگ موضوع مقرر کرنا ہے ۔ یہ اصطلاح اکثر ان علمی تحقیقات میں استعمال کی جا تی ہے جہاں طالب علم یا تو دینیات میں بنیاد ازبر کرتے ہیں یاقانون میں بنیاد ازبر کرتے ہیں ۔ دین کے مبادیات کو  عام طور پر اصول دین کہا جاتا جبکہ قانون کے مبادیات کو شریعت اور فقہ کہا جاتا ہے ۔ اس تحریری سلسلے  میں اس  اصطلاح کا استعمال نہیں کیا گیا ہے  ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج  اسلام)

وائل حمزہ MAS  (مسلم امریکی سوسایٹی)امریکا میں ایک مسلمان مصنف، مفکر اور ایک فعال شخصیت ہیں۔

ماخذ: www.onislam.net

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/wael-hamza/shari%60ah--bringing-value-to-our-lives-(part-1)/d/9772

ہماری-زندگی-کو-با-وقار-بناتی-شریعت--(حصہ-اول/d/13954

 

Loading..

Loading..