New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 03:08 AM

Urdu Section ( 12 March 2013, NewAgeIslam.Com)

Understanding the Anger and Frustration of Muslim Youths اتر پردیش میں مسلم نوجوانوں کے غصے اور مایوسی کا ادراک

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ودیا بھوشن راوت، نیو ایج اسلام

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

اتر پردیش میں مسلمان بجا طور پر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ریاستی حکومت کے ذریعہ انہیں  دھوکہ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے ریاست کے مختلف حصوں میں احتجاج جاری رکھا ہے ،اس لئے کہ  ریاستی حکومت قانون کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس بہانے، پورے معاملے سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی  ہے کہ اس کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کر  دی گئی ہے ۔ اس معاملے  میں سنگین مسائل ہیں، لیکن اس سے پہلے یہ سمجھنا  ضروری ہے کہ، ریاست کے مسلمانوں کیوں پریشان  اور مضطرب  ہیں، اور کیا ان کے مطالبات میں کچھ فرقہ وارانہ  عنصر  ہے، جیسا کہ  میڈیا الزام لگا رہا ہے ۔

ضیاء الحق ایک ایماندار افسر  تھا ، کہ اس مقصد کے لئے مر گیا ، جس کے لئے اس نے اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ، اسے گاؤں میں ہجوم کے ذریعہ  ہلاک کئے جانے ، کے لئے چھوڑ دیا گیا تھا ، جیسا کہ اس کے بزدل ساتھی اسے مرنے کے لئے ، چھوڑ کر گاؤں سے دور بھاگ گئے تھے۔ اس بات کی تفتیش کی ضرورت ہے  کہ جن پولیس اہلکاروں کو تھانہ میں تعینات کیا گیا تھا، کیا  مضبوط کنڈہ  کے گروہوں کے ساتھ ان کا کوئی تعلق یا دوستی تھی ؟ اتر پردیش پولیس حکام نے ان  پانچ پولیس اہلکاروں کو  معطل کر دیا ہے ، جو ضیاء کے ساتھ گئے تھے، لیکن سوال یہ ہے کہ برخاستگی کیوں نہیں ؟ انہیں اپنی ذمہ داری میں ناکام ہونے  کے لئے کے ان پر قانونی کارروائی کیوں نہیں؟

یقیناً ، قتل پہلی نظر میں ہی ایک جرم لگتا ہے ، لیکن اس میں فرقہ وارانہ عنصر بھی  ہے۔ اس کی اچھی طرح منصوبہ بندی کی گئی تھی ,اور سیاستدان ان کے اپنے فوائد کے لئے، نئے حالات پیدا کرنے میں ماہر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے زیادہ تر  احتجاج انتظامیہ کے ساتھ مسلمانوں سے نفرت کی انتہائی  تکلیف دہ علامات ہیں۔ ہر روز وہ ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انتظامیہ کے حملے کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور نوجوانوں کو پولیس کے ذریعہ گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے کسی کو  مسلم مقامات سے باہر رہنے کے گھر نہیں ملتا ، اور انسانی حقوق کی ان کے معاملات اکثر ، چند افراد اور تنظیموں کے ذریعہ اٹھائے جا رہے ہیں، جنہیں بائیکاٹ اور مذمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی حکومت مسلمان کو بھی بااختیار بنانے کے وعدے پر اقتدار میں آئی تھی۔ نوجوانوں نے کانگریس اور بی جے پی کے کھیل کو دیکھا تھا، اور اس وجہ سے انہوں نے محسوس کیا ہے کہ ملائم سنگھ یادو اور ان کی سماج وادی پارٹی ان  علامات سے اوپر اٹھ سکتی ہے ، لیکن ریاست نے 15 سے زائد فرقہ  وارانہ  فسادات، اور منظم طریقے سے مسلمانوں کو علیحدہ کرنے کی کوشش کو دیکھا ہے ۔ اعظم گڑھ نام نہاد دہشت گردی اور مسلمانوں کے ساتھ اس کے روابط کے لئے حوالہ کا نقطہ  بن گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ، اس بات کو یقینی بنا نے کی  کوئی  کوشش نہیں کی جا رہی ہے کہ دہشت گردی کا یہ لیبل مسلمانوں کے ساتھ منسلک نہیں ہے، بلکہ ان  کا استحصال کیا گیا ہے۔ میڈیا مسلمانوں کے درمیان شناخت کا بحران پیدا کرتا تھا، اسی لئے  وہ دفاعی پوزیشن میں ہی رہ گئے ۔

ایسا نہیں ہے کہ مسلمان نوجوان اسےفرقہ وارانہ بنا  رہے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ضیاء کے ساتھی بھاگ گئے، اور تقریباً  ایک ماہ پہلے  کنڈہ میں ایک گاؤں میں فرقہ وارانہ غصہ کے ساتھ ،قریبی رابطہ ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک مسلمان ضلع مجسٹریٹ، پرتاپگڑھ بھیجا کیا گیا تھا لیکن منتقل کر دیا گیا ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ راجہ بھیا اور ان کے خاندان کے کو گوں کےآر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب تک بی جے پی اور سنگھ پریوار نے راجہ بھیا کی گرفتاری کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملائم سنگھ یادو نے راجہ بھیا کو،  مکمل طور پر پچھلے ریکارڈ اور اس کے خلاف مختلف مقدمات کو جانتے ہوئے  وزیر بنایاہے ۔ ایک حقیقت یہ ہے کہ اس وقت، راجہ بھیا سماج وادی پارٹی کا ایک رکن بھی نہیں ہے ۔ اور ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ اب، اونچی ذات ، سنگھ پریوار  لابی کے ذریعہ راجہ بھیا کی تعریف کی جا رہی ہے ،اور اب اس  کے  پرستاروں کی تعداد لمبی ہے۔ یہ بھی خبر آ رہی ہے کہ، جب سے اس کا فرد جرم داخل کیا گیا ہے ،ریاستی اسمبلی کے بہت سارے ارکان نے راجہ بھیا سے ملاقات کی ہے، اور یہ اتحاد پارٹی کی حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ بی جے پی جو کبھی مختار انصاری اور شہاب الدین کے سر کے مطالبہ میں فعال تھا  ، راجہ بھیا کے معاملے میں خاموش ہے  ۔

کچھ سال پہلے جب راجہ بھیا کو جیل سے رہا کیا  گیا تھا، اس وقت اس کے ماننے والے بہت خوش تھے، اور کنڈا  میں اس کا  پر تپاک ا استقبال کیا گیا تھا۔ اور  'جیل کے تالے ٹوٹ  گئے، راجہ بھیا چھوٹ  گئے'، نعرہ تھا۔ اور اس کے قریب آنے ، اس پر ایک نظر ڈالنے اور حقیقی طور پر اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے لئے ، ایک بڑی بھیڑ ٹوٹ پڑی تھی ۔ ظلم و جور اعلی اور ناقابل شبہ ہے، اس لئے کہ  ریاستی مشینری ناکام ہو گئی ہے۔ اسی لئے  یہ اہم ہے کہ، پولیس اہلکاروں نے اسے گاؤں میں جانے کے لئے پھنسایا،  یا پھر وہ ہجوم کے ڈر سے بھاگ گئے ۔ اس معاملے کی تحقیقات ضرور کی جانی چاہئے۔ مسئلہ فرقہ وارانہ  ہے کیونکہ وہ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ایک مسلمان افسر کا قتل ووٹروں میں حرارت پیدا کرے گا، اور مقامی مساوات پر اثر انداز نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ، یہ یقینی ہے کہ پولیس افسراں  اس 'دربار' میں شرکت کرنے  جا ئیں گے، جسے ضیاء الحق نے ہمیشہ نظر انداز کیا ہے۔ لہٰذا ، کس طرح ایک مسلمان اور وہ بھی ایک پسماندہ برادری سے تعلق رکھنے والا راجہ بھیا کے دربار کو نظر انداز کرتا ہے ، اور یہ کہ فساد کی جڑ ہے۔

اتر پردیش کی ،پی اے سی، فرقہ وارانہ فسادات کے دوران مسلمانوں کو کچلنے کے لئے جانی جاتی ہے۔ ایسی رپورٹس بھی ہیں کہ کس طرح پی اے سی، منظم طریقے سے مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہے  اور انہیں کنٹرول کرتی ہے ۔ سماج وادی پارٹی اس کسی بھی  وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے ، جس کی  مسلم نوجوانوں کو اس سےتوقع تھی ۔ انتظامیہ اور پولیس کی خدمات میں مسلمانوں کی تعداد برائے نام ہے۔ اصل میں، CO درجے کے افسر ، اتر پردیش میں بہت کم ہوں گے ۔ یہ ہمیشہ محسوس کیا گیا ہے  کہ اتر پردیش میں، مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کے مطابق، گورننس، انتظامیہ اور پولیس میں ان کی  نمائندگی ضروری ہے۔ لیکن یہ بہت کم ہی سیاسی جماعتوں کے لئے ایک مسئلہ رہا ہے،  جو ووٹ حاصل کرنے کے لئے چند ملاؤں کو تشفی بخش رہے  ہیں ۔ مسلمانوں کے سیاسی مسائل کو مذہبی قیادت کے ذریعہ سنبھالے جانے کی اجازت کیوں دی جا رہی  ہے ، اور سیاسی قیادت کے ذریعہ کیوں  نہیں ؟ اب تک ملائم سنگھ نے اعظم خان جیسے جاگیردار، اور احمد بخاری جیسے مولاناؤں کومسلم نمائندگی کے نام پر فروغ دیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اس طرح کی عیاری کو ضرور روکیں ۔ مسلم نوجوان عظیم روزگار ، سماجی تحفظ  کی تلاش میں ہیں ، اور پورےمعاشرے سے علیحدگی کی تلاش میں نہیں۔ وہ ان کے نام پر رہنما نہیں چاہتے،  بلکہ ایسی بنیاد سے رہنما چاہتےہیں جو  جو کمیونٹی کے حقوق کے لئے کام کرتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اب بھی کھیل کھیل رہی ہیں۔ تو مسلم نوجوانوں کا درد یہ ہے کہ ان کے افسران کی تعداد بہت کم ہے ،اور دوسرا یہ کہ  وہ لوگ جو ایماندار ہیں وہ اس بدعنوان کینہ پرور ماحول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تو جنگ صرف ضیاء الحق کے لئے نہیں ہے ، بلکہ ایک ایسےایماندار افسر کے لئے ہے جو  مسلمان ہے، اور ہو سکتا ہے کہ وہ ان فرقہ وارانہ مافیاؤں کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کا شکار ہو  جو ان کے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے شناخت کا استعمال کرتے ہیں ۔

مزید شرم کی بات اس وقت ہوتی ہے ، جب میڈیا اور زر خرید  میڈیا کو سیاسی جماعتوں کے  ذریعہ ،ان کو بدنام کرنے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دیکھنا نفرت انگیز  ہے کہ جب مقتول افسر کی بیوی حکومت کے ساتھ معاملات کر رہی ہے تو ،کس طرح میڈیا اس کی رپورٹنگ کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے خاندان مصنوعی ہیں، اور ایک بار کوئی مرد سر براہ چلا گیا ، تو  لڑکے اور لڑکی کے خاندان کے درمیان ایک جنگ چھڑ جاتی  ہے۔ حکومت نے نقد اور نوکری کی پیش کش کر کے،  اپنی نا اہلیت کو چھپانے کی کوشش کی۔ اب اس زمانے میں سیاسی جماعتوں کی مبینہ نوعیت ، وہ احتجاج کو  در اصل اس شخص کو مائل کر کے  ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، جو  متاثر ہے، اور اس وجہ سے ضیاء الحق کے خاندان کے ارکان کو نوکری کی پیش کش ہے،پھر وہی حکومت اور اس کے حکام، میڈیا میں اس طرح کی بات لیک کر  کے سیاست کر رہی ہے ، اور اسے ایسا  بنا رہے ہیں کہ لڑکی کا خاندان صرف سودے بازی کر رہا ہے ۔ کیا واقعی کوئی شخص ،اس  ایک لڑکی کے درد کو سمجھ سکتا ہے جس کا شوہر اس کی شادی کے کچھ سالوں میں ہی بے رحمی کے ساتھ  ہلاک کر دیا گیا ؟ کوئی حکومت اور مال ، اس کے سب سے عزیز اور قریب کے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتا ۔ یہ شرم کی بات یہ ہے کہ کس طرح سرایت کردہ  میڈیا ایسی کہانیوں میں ماہر ہے، جو ایک ایماندار افسر کے خاندان کی تصویر کشی ، کم رقم کی طرف مائل کی  حیثیت سے پیش کرتا ہے ۔

سیاسی جماعتیں ایسی حکمت عملی کے ذریعہ احتجاج پر نقب زنی کر  سکتی ہیں ، لیکن اگر حکومت مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے،اور آزاد اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنانے میں ناکام ہوتی ہے، تو مسلمانو ں کو ،ہمیشہ یہ محسوس ہو گا کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ اس نظام کے ساتھ ان کی نفرت اور مایوسی بڑھ سکتی ہے، اگر ان کی نمائندگی کم رہتی ہے، اور ان کے نوجوانوں پولیس اور جانچ ایجنسیوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ ہندوستان  کی سب سے بڑی ریاست میں مسلم بدامنی، سیاسی جماعتوں کے لئے ان کے ساتھ یکساں  سلوک کرنے  اور ان کے حقیقی مسائل سے نمٹنے کے لئے بیداری کا الارم ہو سکتی ہے ۔ اگر وہ ،  مسلمانوں کے ساتھ مسلسل ووٹ بینک کی طرح سلوک کرتے ہیں ، اور ان پر  'تسلط ' جمائے  رکھنے اور  کمیونٹی 'کو مطمئن ' کرنے کے مذہبی رہنماؤں کا استعمال کرتے ہیں، تو ایک بڑا ردعمل سامنے آئے گا ، اس لئے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقے  تعصب کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں، اور اقتدار میں ان کا حصہ چاہتے ہیں۔ جن لوگوں نے  جسمانی طور پر  ضیاء الحق کو ہلاک کیا ہے  ،ہو سکتا ہے کہ وہ  اس کا خاتمہ چاہتے ہوں ، لیکن اس کی موت پر، ضیاء ان مسلم نوجوانوں کے لئے مجتمع ہونے کا نقطہ بن گیا ، جو  ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے ، اور ہندوستان کی ترقی اور طاقت ور ڈھانچہ میں ان کی شرکت کے لئے جسے کوئی بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہو گا ۔

ودیا بھوشن راوت دہلی کے  ایک معروف سماجی کارکن ہیں  ۔ اور وہ موقع بموقع  نیو ایج اسلام کے لئے  مضامین لکھتے ہیں ۔

URL for English article:

 http://newageislam.com/current-affairs/vidya-bhushan-rawat,-new-age-islam/understanding-the-anger-and-frustration-of-muslim-youths-in-uttar-pradesh/d/10715

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/vidya-bhushan-rawat,-new-age-islam---ودیا-بھوشن/understanding-the-anger-and-frustration-of-muslim-youths----اتر-پردیش-میں-مسلم-نوجوانوں-کے-غصے-اور-مایوسی-کا-ادراک/d/10753

 

Loading..

Loading..