New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 03:44 PM

Urdu Section ( 25 Apr 2017, NewAgeIslam.Com)

Triple Talaq: Accountability of Action is a Must طلاق ثلاثہ: قول وعمل کا احتساب ضروری






عظمیٰ ناہید

21اپریل،2017

میرے لیے 15اپریل کا دن بے حد اہم تھا تب میں نے پنجاب کے مفتی اعظم مفتی فیصل الرحمٰن ہلال عثمانی کا فون ریسیو کیا ۔ وہ مجھے خواتین کی فلاح وبہبود پر ورلڈ ایوارڈ ملنے پر مبارکباد دے رہے تھے۔مجھے یہ خوشی اس لیے تھی کہ میں نے ہمیشہ ان کے مزاج ، تحریروں میں خواتین کے لیے نہایت ہمدردی پائی ۔ وہ ہمیشہ شریعت سے وہ چیزیں اخذ کرکے پیش کرتے رہے ہیں جن سے ان کی عملی زندگی میں راحت اور آسانی ہو۔

وہی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے نکاح، طلاق، وراثت کے بارے میں انگلش اور اردو میں لکھا۔ مفتی صاحب سے طلاق ثلاثہ پر سوال کرنے پر انہوں نے فرمایا کہ تین طلاق کو کسی بھی زمانے میں اچھا نہیں سمجھا گیا۔ ہمارے لٹریچر میں تین طلاق پر بحث عرب کلچر سے ماخوذ ہے لیکن عرب میں طلاق عیب ہے نہ کہ نکاح ثانی، لیکن ہندوستانی معاشرے کو سمجھنا چاہیے ۔ ہم نے طلاق کو آسان بنا دیا اورنکاح ثانی کو مشکل ۔ اس لیے معاملہ پیچیدہ ہوتا جار ہا ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ جس وقت وہ تحریر راجیو گاندھی ( اس وقت وزیر اعظم تھے) کو پیش کی گئی ہو وہ شریعت کی آسانیاں او رمکمل قانون کوسمجھ کر ادب میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ یہ قوانین تو سب مولویوں کے لئے فائدے مند ہیں۔

دوسرا سوال میں نے مفتی انعام اللہ مظاہری سے کیا کہ ہمیں تین طلاق کے نفاذ پر ا س قدر اصرار کیوں ہے۔ کیا اتنے بے شمار واقعات ہیں کہ جن کی بنیاد پر ہمارے علما اس کو رواج پذیر نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔

مفتی صاحب نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی صرف ایک ہی حدیث ہے جو محمود بن لبیہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں خبر دی گئی کہ جس نے ایک ہی ساتھ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں ۔ آپ ( یہ سن کر) غصے سے کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! کیا کتاب اللہ کو کھیل تماشہ بنا لیا گیا ہے جب کہ میں ابھی تمہارے درمیان موجود ہوں اللہ کے رسول کو اس قدر شدید غصے میں دیکھ کر حاضرین مجلس میں سے ایک شخص نے کہا !’’ کیا میں اسے یعنی تین طلاق دینے والے کو قتل کردوں؟‘‘ ( سنن نسائی، کتاب الطلاق ، باب الثلاث) اس حدیث کے اس پہلو کو بھی مدنظر رکھ سکتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے تاثر کواہمیت دے رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے بلکہ دوسری کو ہی اہمیت دیتے چلے آرہے ہیں ۔

مفتی انعام اللہ نے فرمایا کہ باقی احادیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فیصلے ہیں جیسے ایک شخص کا معاملہ آیا تین طلاق کا اس کو مان لیا گیا لیکن یہ واقعہ سامنے آیا کہ طلاق سے پہلے لعان ہوچکا تھا۔تو نکاح تو پہلے ٹوٹ چکا تھا ۔ اس کے بعدطلاق دی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔ اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ او رحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہی ابتدائی دو سال تک تین طلاق کوایک ماناجاتا رہا ۔ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب تین طلاق کے واقع ہوجانے اور اس پر سزا کا فیصلہ فرمایا وہ ان کاانتظامی فیصلہ تھا ، جو یقیناًعوام کی صوابدید کے لیے ہوتا ہے ۔ لوگوں کے گھر ٹوٹ رہے تھے بچے بے گھر ہو رہے تھے ۔عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاق بطورسزا نافذ کی تھی ۔ لیکن آج ایک نشست میں طلاق کے سلسلے میں جب یہ باتیں جگہ جگہ سے آرہی ہیں کہ اس کے نتائج نہایت خوفناک ہیں تب بجائے اس کے کہ اس کے نفاذ او راس کے دلائل پر پوری انرجی خرچ کی جاتی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح عوام کوٹھنڈا کرنے کی تگ و دو شروع کی جانی چاہئے تھی ۔

یوں بھی کوئی رحم دلی کو شریعت کا ماخذ بنا کر سوچیں تو راستے بہت ہیں ۔ مثلاً ’ الطلاق مرتان‘ الگ الگ اوقات ظاہر کرتی ہے۔ یہاں عدد کی بنیاد پر عمل نہیں ہوگا۔ مثلاً ایک شخص سو طلاقیں دیتا ہے تو 97نہیں گنی جائیں گی بلکہ 3ہی گنی جائیں گی۔

ایک نشست میں تین طلاق ایک سزا ہے۔ اور نفسانی تسکین کے لیے دی جائے تو گناہ ہے۔ اب یہ کام علمائے کرام کا ہی ہے کہ اگر اسلام کو کھلم کھلا مذاق اڑایا جارہا ہو اور خود ملّت اسلامیہ میں باعث فساد بن رہی ہو تو اس وقت چاہے حکومت سے مطالبہ بطور تعصب ہو یا واقعتہً فکر مند ہو، یہ سوچنا ہمارا ہی فرض ہوگا کہ اس عمل سے عوام الناس کو کیسے باہر نکالا جائے اور اسلام کے لیے مفید قانون ثابت کیا جائے ۔ میں تقریباً 30سال سے یہ تجربہ کرر ہا ہوں کہ لوگ تین طلاق کے بند کرنے کامطالبہ کررہے ہیں او رہم مسلسل اور بہ اصرار تمام اس کی validityپر بات کررہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کا یہ سوال ہی نہیں ۔ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ باتیں ہیں ۔ اس سے کوئی حل پیش نہیں ہو رہا ہے ،بلکہ مسلم سماج کی ایک عجیب تصویر ابھر رہی ہے کہ یہ illigal ، ضدی ، احتجاج کرنے والی قوم ہے اور اس کے رہنمازمینی حقائق سے ہی نا بلد ہیں ۔

اگر چہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایفی ڈیوٹ کے بر خلاف حالیہ بیان جس میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قرآن کریم کی مجوزہ طلاق کا استعمال کریں ایک مثبت پیغام ہے،اچھا قدم ہے اور یقین ہے کہ بورڈ کے اس اقدام سے عوام کا رویہ بھی بدلے گا۔ لیکن تین طلاق کا مسئلہ آج بھی اٹکا ہوا ہے ۔ اس پر یہ کہنا کافی نہیں کہ اس کا استعمال کرنے والے کا بائیکاٹ کردیا جائے ۔ یہ خود ناقابل عمل ہے۔ یہ عمل وہاں تو کار گر ہو سکتا ہے جہاں برادری ’ صمم‘ بنی ہوئی ہے۔ خاندانی نظام قائم ہے چھوٹی بستیاں ہیں ۔ البتہ اب تو گاؤں میں سمٹ کر شہروں میں آلگے ہیں ۔ اس وقت کی تصویر یہ ہے کہ یوپی والے کا پڑوسی تامل ہے اور کرناٹک کی فیملی کا پڑو سی بہاری ۔ کون کس کا بائیکاٹ کرے گا اور کیوں کرے گا؟ وہاں یہ فارمولہ ہی چہ معنی دارد ؟

دوسرا سوال یہ بھی ہے یہ قانونی چیزیں تھیں ان کو عوام الناس کی صواب دید پر چھوڑ نے کے کیا معنی ہیں جس مسئلے کو پوری جماعت نہ کرسکتی ہو،عوام سے مطالبے کے کیا معنی ہیں؟یہ جانتے ہوئے کہ اب یہ معاملہ رکنے والا نہیں اور جو حکومت کھانے پینے تک پر پابندیں عائد کررہی ہے اس کے ایسے قوانین جس کی افادیت سے زیادہ نقصان سامنے آرہے ہیں، اس کو عزت نفس کا مسئلہ نہیں بنا یا جانا چاہئے ۔

اس کا بہترین حل یہ ہے کہ مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب الحیلۃ الفائز ہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ انہوں نے اپنے درد میں ہر مسلک کے فقہا کوبلا کر یہ فرمایا تھا کہ آپ کے فقہ میں عورت کے تحفظات کے جوبھی قوانین ہوں وہ پیش کریں ۔ اس کے بعد انہوں نے فقہ مالکی کے اس قانون کواپنے ’ کاتبین نامے‘ میں درج کیا تھا کہ اگر کوئی شخص معصوم کو طلاق دیتا ( یعنی شرعی وجوہات نہ پائی جاتی ہوں) تواس کواپنا گھر عورت کے حق میں چھوڑ نا ہوگا یا مہر کی رقم دو گنی ہوجائے گی۔

یہ دونوں نکات قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی پسند کیے تھے اور خود مجھ سے کہا تھا کہ آپ اپنے نکاح نامے میں یہ نکات شامل کیجئے ۔

ہم نے پھر ایک مسئلے پر کام کیا تھا کہ مہر کی چھ اقسام بھی شامل کی تھی جس سے طلاق کی صورت میں اگر مہر ڈبل بھی ہو تو اس کا فائدہ ہوناچاہئے ۔ اگرلوگوں نے 500درہم کو 500روپے میں تبدیل کرلیا تو ڈبل ہو کر ایک ہزار روپے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ اس طرح مہر کو سونے ،چاندی، جائیداد ،اراضی ،کیش وغیرہ میں اعلان کیا گیا تھا ۔

مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس وقت بھی متنبہ کیا کہ عورتیں اپنے اسلامی حقوق نہ پانے اور طلاق کی شکل میں استعمال ہونے کی وجہ سے ارتداد کی طرف جارہی ہیں اس لیے انہوں نے یہ اہم اقدام کیا تھا ۔

آج بھی اردو ٹائمز نے ایک انٹر ویو لیتے ہوئے جب یہ سوال کیا کہ ’ مسلم بچیاں یہ کیوں کہہ رہی ہیں کہ ہم شریعت پر کیوں چلیں ‘ تو میری روح کانپ گئی ۔

خاندان ایک تنہا ٹھکانہ ہے جو ایک مرداور عورت کواکٹھا کرتا ہے اس لیے اس کی تشکیل سکون ، اعتبار اور تقدس کے ماحول میں ہونی چاہئے نہ کہ اس کی تضحیک ،بے حرمتی او راس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کے لیے اسی طرح لفظ ’ حلالہ‘ جس کا ذکر بھی لوگ تنہا پسند نہیں کرتے ہیں، موضوع بحث بن گیا ۔ ملت اسلامیہ میں جائیں بلکہ ٹی وی ڈبیٹ میں حدیث شریف میں تو حلالہ کرنے والے شخص کو ملعون کہا گیا ۔ اورجس طرح اس کا استعمال کیا جارہا ہے وہ تو واقعی ہماری سوسائٹی کے لیے ایک بد نما داغ ہے اس لیے کہ یہ ایک عارضی نکاح ہے جس کی عقد نکاح زندگی بھر کا مقدس رشتہ ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں حلالہ کرنے والے اور کروانے والوں کے لیے رجم کی سزا کااعلان کیا تھا ۔ اگر اس میں شبہ ہوتا تو وہ اتنا بڑا قدم نہ اٹھاتے اور عورت کے لیے یہ نہایت غیرت کامسئلہ ہے۔اس سلسلے میں اپیل کروں گی کہ اس کو فوری طور پر ختم کردیا جائے ۔ اس کی شکل تو صرف وہی ہوسکتی ہے کہ اگر کسی خاتون کو طلاق ہوگئی او ربعد میں اس کا دوسرا نکاح ہوگیا ہو اور پھر دوسرا شوہر یا تو فوت ہوگیا یا کسی وجہ سے طلاق دے دی اورپھر شوہر سے نکاح کیا جاسکتا ہے۔ یہ کوئی تجویز نہیں ہے ، سخت گناہ کی بات ہے۔

21اپریل،2017 بشکریہ : راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/uzma-naheed/triple-talaq--accountability-of-action-is-a-must--طلاق-ثلاثہ--قول-وعمل-کا-احتساب-ضروری/d/110905

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..