New Age Islam
Thu Jul 09 2020, 07:44 PM

Urdu Section ( 9 Aug 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Urdu Magazine Allah Kipukar On Terrorism And Deceitful Role Of Islamic Scholars (Part 2) شدت پسندی،دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے سلسلے میں علما اور دین کے علم برداروں کا ردّ عمل

 

 

پروفیسر خالد حامدی فلاحی

جون2019

علما اوردین کے علم برداروں سے کچھ صاف صاف باتیں لوگوں کو اللہ کاباغی نہ  بناؤ (3)

شدت پسندی،دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے سلسلے میں دو عملی۔2

جب کہیں بھی خود کش دھماکا ہوتا ہے اور اس میں خود کش بم باری کی صورت میں مسلمانوں کا نام آتا ہے تو عام طور سے اسلام پسندوں کی طرف سے یہ تاثر دے کر عوام کے ذہن کو موڑ دیا جاتاہے کہ یہ سب اسلام دشمن طاقتوں کی سازش ہے۔ اس کامسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایسا بڑا جھوٹ ہے جو خود کہنے والے کو تو شاید مطمئن کردے، لیکن کسی اور کو مطمئن نہیں کرسکتا، کیونکہ الاخوان المسلمون (1) اور جماعت اسلامی (2) خود کش حملوں اور اس کے نتیجے میں معصوم و بے قصور لوگوں کے قتل عام کو غلط طور سے شریعت کا جامہ پہنانے میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ دیکھئے الاخوان المسلمون کے نام ور رہنماعلامہ یوسف قرضاوی (3) کے خود کش حملوں اور عام قتل و غارت گری کے سلسلے میں مفسدانہ خیالات جو جماعت اسلامی ہند کے ترجمان سہ روزہ ’دعوت‘ نئی دہلی کے ذریعے کسی طرح عام کیے گئے:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الاخوان المسلمون: الاخوان المسلمون،عربوں کی ایک اصلاحی،دینی تربیتی اور سیاسی اسلامی جماعت ہے جو 22مارچ 1928ء میں قاہرہ (مصر) میں امام حسن البناؒ کے ذریعے تشکیل پائی،یہ نہایت تیزی سے تمام عرب ملکوں میں پھیل گئی، لیکن جارحانہ سیاست کی وجہ سے اس کا ٹکراؤ عرب ملکوں کے حکمرانوں سے ہوگیا، کیونکہ اس کا ہدف تھا کہ اقتدار اس کے قبضے میں آئے، لیکن اکثر وبیشتر یاتو وہ ناکام ہوئی یا اس نے اپنے بنیادی نظریات ہی سے دست بردار ہونا پسند کیا۔اس وقت اس کے کار گزارصدر / امیر محمود عزت ہیں۔ مصر میں اس جماعت پر پابندی لگادی گئی ہے، او راس کے زیادہ تر عہدے داران جیلوں میں بند ہیں۔

(2) جماعت اسلامی: جماعت اسلامی کا قیام تقسیم وطن سے قبل متحدہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں 26اگست 1941ء میں 75افراد کے مشورے کے بعد عمل میں آیا، جو بانی تحریک سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر جمع ہوئے تھے۔ اس جماعت کے سب سے پہلے امیر سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ منتخب ہوئے۔ اس سے قبل سید مودودیؒ نے اپنے ماہ نامہ رسالے’ترجمان القرآن‘، حیدر آباد / پٹھان کوٹ / لاہور کے ذریعے اس بات کو واضح کیا کہ اسلام کوئی طفیلی اور ضمنی مذہب نہیں ہے بلکہ وہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں بشمول سیاست و حکومت سب کی رہنمائی کرتا ہے۔ باطل نظریات۔ جمہوریت، سیکولرزم، نیشلزم،وطن پرستی،سو شلزم، کمیونزم، اور ڈاکٹیٹر شپ و فسطائیت وبادشاہت سب کو انتہائی طاقتور دلائل سے رد کرتے ہوئے اسلام کو جدید دور کے قابل عمل دین ونظام کی حیثیت سے پیش کیا، اور اس پر عمل کرنے کو اقامت دین سے تعبیر کیا۔ اس سلسلے میں ہونے والیتمام اعتراضات،شبہات اور اشکالات کوانتہائی خوبصورت اور وزنی دلائل سے دور کیا۔ جماعت اسلامی کانگریس کی متحدہ قومیت او رمسلم لیگ کی دو قومی نظریے دونوں کو مسترد کرتی تھی، تقسیم وطن سے قبل اس کا پہلا مرکز لاہور تھا، پھر یہ مرکز جمال پور ضلع پٹھان کوٹ (مشرقی پنجاب) منتقل ہوا۔ تقسیم کے بعد یہ دوبارہ لاہور چلا گیا۔

ملک کے آزادی کے ساتھ جہاں وطن عزیز کے حصے بخرے ہوئے، وہیں جماعت اسلامی بھی متعدد یونٹوں میں تقسیم ہوئی۔ جماعت اسلامی پاکستان، جماعت اسلامی ہند، جماعت اسلامی جمو و کشمیر،جماعت اسلامی حیدر آباد نظام اسٹیٹ،جب حیدر آباد کوانڈین یونین میں ضم کر لیا گیا تووہاں کی جماعت اسلامی بھی جماعت اسلامی ہند کے تحت آگئی۔

تقسیم وطن کے بعدجماعت اسلامی پاکستان کے امیر (صدر) سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ ہی رہے، جب کہ جماعت اسلامی ہند کے امیر شیخ ابواللیث ندوی رحمۃ اللہ علیہ منتخب کیے گئے۔ جماعت اسلامی کے نزدیک غیر اسلامی بنیادوں پر مبنی سیاست میں شرکت شجر ممنوعہ تھی، لیکن ہندوستان میں حالات کی سختی، قیادت کی رغبت،پٹرو ڈالر کے اثرات کی بدولت طاغوتی سیاست شجر ممنوعہ نہ رہی، او رپھر سارے باطل نظریات جن کو اسلام مخالف بتایا گیا تھا، ”سیکولر اسلام“ قبول کرتے گئے، اور جماعت اسلامی انہیں اختیار کرتی گئی۔ حیلوں بہانوں اور اگر مگر لیکن استعمال کرتے ہوئے سیاست میں شرکت سے دلچسپی بڑھتی چلی گئی اور پھر آر ایس ایس کی ایک بغل بچہ تنظیم سنگھ / بھارتیہ جنتا پارٹی کے مانند جماعت نے ایک سیکولر تنظیم ویلفیئر پارٹی آف انڈیا‘ کی بنیاد ڈالی، اس طرح جماعت اسلامی جہاں سے چلی تھی مخالف سمت اختیار کر کے وہیں جا پہنچی۔ اس وقت جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی ہیں او راس کا مرکز /ہیڈ کواٹر ابوالفضل انکلیو،جامعہ نگر نئی دہلی میں واقع ہے،جبکہ جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ /امیر جماعت سراج الحق صاحب ہیں (مدیر)

(3) قرضاوی: یوسف قرضاوی: علامہ قرضاوی (آمد:9ستمبر 1927ء /ربیع الاول 1346ھ) مصر کے مغربی صوبے کے علاقے المحلۃ الکبریٰ کے ایک گاؤں صفط تراب SaftTurabمیں پیدا ہوئے،الاخوان المسلمون کے اہم لیڈر جو کہ جماعت اسلامی کے درمیان بھی بہت مقبول ہیں،ان کے بعض خیالات انتہا پسند انہ و متشدانہ ہیں، جن کااصل اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”جمہور فقہا کے نزدیک ان مسلمانوں کاقتل جائز ہے،جن کو دشمن کی فوج ڈھال کے طور پر استعمال کررہی ہو، یعنی دشمن نے ان کو اپنی حفاظت کے لیے اپنے سامنے کھڑا کردیاہوکہ مسلمانوں کے تیر اور نیز ے پہلے ان کو لگیں۔ فقہا نے ان معصوم مسلمانوں کا خون بہانا جائز قرار دیا، کیونکہ یہ معصوم مسلمان کفار کے ہاتھوں میں اسیر ہیں اور یہ ایک کمزور اقلیت ہیں، ان معصوم لوگوں پر نیز ے اور تیر پھینکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، بہ صورت دیگر حملہ آور فوج مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہوکر ان کی نسل کشی کرے گی، تمام مسلمانوں کو بچانے کے لیے بعض کی قربانی دینے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ اس مسئلے کا ”فقہ الموازنات“ کے باب میں ذکر کیا گیا ہے، لہٰذا اگر مسلمانوں کی بڑی تعداد کی حفاظت کے لیے مجبوراً بعض مسلمانوں کا قتل جائز ہے، تو قابضین کے ہاتھوں سے مسلمانوں کی زمین کو آزاد کرانے کے لیے غیر مسلموں کاقتل بہ درجہ اولا جائز ہے۔ عصر ِ حاضر کی جنگ میں معاشرے کاہر فرد معر کے میں شریک ہے، وہ اپنی جگہ پر جنگ میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ داخلی محاذ پر ہنر مند،صنعت کار، مزدور،ہر طبقہ فوج کی مدد کے لیے فوج کے پیچھے کھڑا ہے،اگر چہ اس نے ہتھیار نہیں اٹھایا۔“

(فدائی حملوں کی شرعی حیثیت: علامہ یوسف قرضاوی، مترجم: عبدالعزیز صالح، سہ روزہ دعوت نئی دہلی،28نومبر2005ء، ص 6)

خود کش حملوں او ربم دھماکوں کے نتیجے میں معصوم وبے قصور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ہلاک ہوجانے کو دیکھئے کس مبہم انداز میں نا معلوم فقہا کا سہارا لے کر جائز کیا گیا ہے، جب کہ جن لوگوں کی بات ہورہی ہے وہ نہ تو کسی باضابطہ حکومت کی فوج سے تعلق رکھتے ہیں، او رنہ ہی کوئی ایسامسئلہ درپیش ہے،جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اگر کسی کی طرف سے مسلمانوں کو آگے کر کے حملہ کر نے کی کوشش بھی کی جائے تواسلامی فوج کی اولین ذمے داری ہوگی کہ وہ ان بے قصور مسلم وغیر مسلم شہریوں کو پورے طور سے بچانے کی کوشش کرے۔ خود سے حملہ آور نہ ہو،اگر دشمن حملہ کرے تو اس کا جواب اس طرح دے کہ شہریوں کو کوئی زک نہ پہنچے، اور دشمنوں کو جواب بھی دیا جائے۔اب دیکھئے نیت و عمل کے فرق سے بات کیا سے کیا ہوگئی۔ قرضاوی صاحب مسلمانوں کو قتل کر کے دشمنوں کو نقصان پہنچانے کی بات کررہے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو بچاتے ہوئے دشمنوں کامقابلہ کیا جائے گا۔ اس کارروائی میں اگر کچھ بے قصور ومعصوم مسلمان و غیر مسلم مارے جاتے ہیں تو اسے ایک اَن ہونی لیکن افسوس ناک کارروائی ہی کیا جائے گا۔

علامہ صاحب نے نامعلوفقہا کی آڑ لے کر مسلمانوں کے قتل کو جائز کرنے کے بعد غیر مسلموں کے قتل کو جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن اور ضروری تک قرار دے دیا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات سے صریحاً بغاوت اور انحراف ہے کیونکہ

1۔ اسلام میں اصل انسان کی عزت وتکریم اور انسانی جان کی حلت و حرمت ہے نہ کہ انسانی توہین اور قتل و غارت گری۔

2۔ جہاد باضابطہ اسلامی حکومت کا دشمن حکومتوں کی فوجوں سے ہوتا ہے، جب کہ خود کش حملہ آور نہ تو کسی حکومت سے سرکاری تعلق رکھتے ہیں او رنہ اس کی فوج سے۔

3۔ دوران جنگ صرف بہ راہِ راست جنگ کرنے والوں کو ہی قتل کرنے کی اجازت ہے، دیگر کو نہیں، چاہے وہ ان کے معاون ہی کیوں نہ ہوں۔ (القرآن، البقرہ 2:190)

4۔ جنگ بند ہوتے ہی انسانی حرمت بحال ہوجائے گی۔ اب جنگ میں شامل کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہ ہوگی، چاہے وہ بدترین دشمن ہی کیوں نہ ہو۔

5۔ جنگی قیدیوں کو قتل کرنے یا سزا دینے کی اجازت نہیں ہے۔ انہیں یا تو بہ طور احسان چھوڑ دینا ہوگا یا فدیہ (مالی معاوضہ) لے کر، یہ فدیہ فوجی قیدیوں کے تبادلے یا کسی اور خدمت کے طور پر بھی ہوسکتا ہے۔ (القرآن، محمد 47:4)

لیکن علامہ صاحب کو چین نہیں آیا، انہوں نے لڑنے والی فوج کا دائرہ ان تمام لوگوں تک وسیع کردیا جو کسی نہ کسی طرح فوج سے تعلق او راس سے ہمدردی رکھتے ہوں، چاہے وہ تعلق کتنا ہی بعید ہو، اور اس طرح جنگ کرنے والے ملک کے تمام باشندوں کو قتل کرنے کا راستہ نکا ل لیا، ظاہر ہے کہ یہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی او رمن مانی تاویل ہے، جس کا شریعت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

اب اس کے بعد خود کشی کو جائز کر کے خود کش حملوں کومستحق قرار دینے کی باری تھی، توقرآنی آیات میں تحریف و تبدیلی کر کے اور اسے دوسرے معنا پہنا کر خود کش حملوں کو اس طرح جائز قرار دیا گیا:

”احکام کی دو اقسام ہیں،وسعت وکشادگی اور اختیار کی حالت کے احکام اور تنگی و مجبوری کی حالت کے احکام۔مسلمانوں کے لئے مجبوری کے حالات میں دو چیز جائز اور حلال ہوجاتی ہے، جو عام حالات میں حرام و ناجائز ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں چار چیزوں۔ مردار، خنزیر کے گوشت اور غیر اللہ کے نام پر  ذبح کی جانے والی چیزوں کو حرام قرار دینے کے بعد فرمایا:

”ہاں! جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھالے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں، اللہ بخشنے والا ہے رحم کرنے والا ہے“ (القرآن،البقرہ 2:173)

اسی امر سے فقہا نے ”ضرورت ممنوع اشیا کو جائز کردیتی ہے“ کا قاعدہ نکالا ہے۔ فلسطین میں ہمارے بھائی ضرورت بلکہ انتہائی ضرورت کی حالت میں ہیں، دشمن اور غاصب کو پریشانی میں ڈالنے، اس کے دل میں رعب و خوف پیدا کرنے کے لیے فلسطینیوں کو فدائی حملے کی اشد ضرورت ہے۔ فلسطینیوں کو فدائی کارروائیوں کی اس لیے بھی ضرورت ہے کہ وہ غاصب پر اس طرح عرصہئ حیات تنگ کردیں کہ وہ سکون سے نہ بیٹھ سکے او رجہاں سے آیا تھا، وہاں واپس لوٹ جائے۔ فلسطینی ایسا نہیں کریں گے تو انہیں اسرائیلی حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے ذلت و حقارت سے رہنا ہوگا۔ فلسطینی سب کچھ کھودیں گے، غاصب و قابض ان کو کچھ نہیں دے گا۔

انسانی بم جس میں لڑکا یا لڑکی اپنے آپ کو دشمن کے درمیان میں بارود سے اڑا دیتا /دیتی ہے، ایک ایسا ہتھیار ہے، جس کا دشمن کے پاس کوئی توڑ نہیں، یہ وہ ہتھیار ہے جسے قابو کرنا دشمن کے بس میں نہیں۔ امریکہ اگر اربوں ڈالر کا بھی اسلحہ اسرائیل کو دے دے تب بھی وہ انسانی بم کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ یہ ایک ایسا منفرد ہتھیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے صرف اہل ایمان کو عطا کیا ہے۔ یہ ہتھیار زمین پر عدل الہٰی کا ایک ایسا رنگ ہے جسے اہل بصیرت ہی دیکھ سکتا ہیں۔ یہ ہتھیار جابر و طاقتور کے مقابلے میں مغلوب و کمزور کا ہتھیار ہے۔“ اور تیرے رب کے لشکر وں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ (القرآن، المدرثر74:31)

اس عبارت کو ملاحظہ فرمائیں علامہ یوسف قرضاوی نے جس بھیانک جرم کا ارتکاب کیا ہے وہ اس سے قبل اہل کتاب/یہودی کرتے رہے ہیں، یعنی کلام الہٰی میں لفظی یا معنوی تحریف اوررد وبدل۔

(القرآن، البقرۃ 2:59،75، النسا ء 4:46، المائد ۃ 5:13،41)

علامہ صاحب نے آیات میں جس قسم کی تحریف و تبدیلی کی ہے، اس کوبالترتیب بیان کیا جارہا ہے:

1۔ مأکولات /کھانے سے متعلق جو چیزیں حرام ہیں، ان کا حکم قرآن مجید میں اللہ نے پانچ مقامات پر بیان کیا ہے۔ البقرۃ 2:173، المائدۃ5:3،145، الانعام 6:119،145، النحل 16:115، ان میں وہ چیزیں بھی حرام اشیا میں شامل ہیں،جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کی تفسیر و تشریح میں بیان کیا ہے۔ ان آیات میں سے ہر ایک کے آخر میں اللہ نے اس شخص کے لیے جسے جان بچانے کے لئے ان حرام چیزوں میں سے اتنا جتنے میں جان بچ سکے، استعمال کرنے پر گناہ نہ ہونے کی بات کہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ ایسا کرتے وقت نہ تو اللہ کی نا فرمانی کا مزاج ہوناچاہئے او رنہ ہی جان بچانے سے زیادہ مقدار میں اس حرام کا استعمال کرناچاہئے۔

یہ ایک نص قطعی (واضح او رمحکم حکم)ہے، اس میں اضطراری حالات میں جن حرام چیزوں کے استعمال پر گناہ نہ ہونے کی بات کہی گئی ہے، وہ ان ہی چیزوں کے سلسلے میں ہے، جس کا بیان قرآن واحادیث میں آیا ہے، اس حکم کو اٹھاکر ایسے امور پر چسپا ں کردینا جس میں اللہ نے استثنا یاچھوٹ نہیں دی ہے، قرآنی آیات اوردین میں تحریف وتبدیلی او رکھلواڑ کی بدترین اور واضح مثال ہے۔

2۔ ان آیات میں اللہ نے اپنے حقوق (حقوق اللہ) میں اضطراری حالات میں چھوٹ دیتے ہوئے گناہ نہ ہونے کی بات کہی ہے، اسے حقوق العباد کی پامالی کے لیے استعمال کرناتحریف کی انتہائی بد ترین صورت ہے۔

3۔ ان تمام آیات میں جان بچانے کے لیے حرام چیزوں کے استعمال پر گناہ نہ ہونے کی بات کہی گئی ہے، جب کہ علامہ صاحب نے اس کو جان لینے والے معاملات پر چسپا ں کردیا ہے، جو کہ رحمٰن و رحیم ہستی اللہ تبارک و تعالیٰ پر عائد کیا گیا ایک بہتان عظیم ہے۔

4۔یہ آیات ہر فرد کے لیے علاحدہ علاحدہ حکم رکھتی ہیں نہ کہ اجتماعی،یعنی بھوک سے بدحال ہوکر جان جانے کا خطرہ ہر شخص میں علاحدہ علاحدہ وقت میں ہوسکتا ہے۔ ایک بوڑھے شخص او رمریض میں جلد اور ایک توانا اور صحت مندمیں بوڑھے اور مریض کے مقابلے کئی دن بعد۔ جب جس کی خطرے والی حالت ہوگی، تبھی وہ حرام چیزکا استعمال کرنے کامجازہوگا۔ اجتماعی طور سے سب کو ایک ساتھ حرام چیز کااستعما ل گناہ کا باعث بنے گا۔

علامہ صاحب نے انفرادی حالات کے مطابق ہدایت دینے والی آیات کو پوری ایک قوم پر چسپا ں کر کے اجتماعی طور سے قتل وغارت گری کی اجازت دے دی ہے،جس کو انتہائی بدترین تحریف ہی کہا جائیگا۔

ان آیات سے الضرورات تنیح المحظورات ”ضرورت ممنوع اشیا کو جائز کردیتی ہے۔“ کلیہ اخذ کر کے یہ تاثر دینا گویا کہ یہ کوئی قرآنی آیت یا مستند وصحیح حدیث یا ائمہئ کرام کاکوئی فقہی کلیہ ہے، لوگوں کو دھوکے میں مبتلا کرنا ہے۔

مذکورہ آیا ت میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ یہ چیزیں اضطراری حالات میں حلال ہوجائیں گی،بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ رہیں گی توحرام لیکن اللہ ان کے استعمال پر مجبور شخص کا مؤاخذ ہ نہیں کرے گا، بہ شرطے کہ ایسا کرتے وقت نہ تو اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی نیت ہو او رنہ جان بچانے کی حد سے زیادہ حرام کے استعمال کا ارادہ۔ یہ اللہ کا حکم ہے،جس میں اس نے مخصوص نا گزیر حالت میں گنجائش نکالی ہے۔

چنانچہ اوپر کے نام نہاد فقہی ضابطے کے تحت علامہ صاحب نے جیسے کہ خودکشی او ر قتل وغارت گری کو جائز کیا ہے، تو اسی طرح کیا

جب اضطراری حالات ہوں تو رہ زنی اور ڈاکا زنی کی اجازت ہے؟

آج کل نکاح دشو ار ہوگئے ہیں تو اضطراری حالات میں زنا اور اغلام بازی کی اجازت ہے؟

اضطراری حالات میں مہر اور وراثت کو ہڑپ کرنے کی اجازت ہے؟

اس دخل فصل او ربے ایمانی کے دور میں ہیرا پھیری، دھوکا دہی او ربے ایمانی کی اجازت ہے؟

اضطراری حالات کے تحت سود، جوئے اور شراب کے استعمال کی اجازت ہے؟

ظاہر ہے کہ قرآن و سنت پر نظر رکھنے والے اس کا جواب نفی میں دیں گے، لیکن آپ کومعلوم ہوناچاہئے کہ مذکورہ شیطانی کلیے نے ہر حرام چیز کو حلال کردیا، او ریہ سب علامہ موصوف کے جیسے ’قوم پرست‘ افراد کا کرشمہ ہی کہا جاسکتا ہے۔

علامہ موصوف کی خود کش حملوں کے سلسلے کی آخری لائنیں بہ غور پڑھیں، اور ملاحظہ کریں کہ انہوں نے اسے حرام امور سے نکالتے ہوئے اضطراری حالات سے اوپر اٹھ کر کتنا عمدہ، بہترین، عدل الہٰی کا نمونہ اور اہل ایمان کو اللہ کی جانب سے بخشا گیا انتہائی مؤثر ہتھیارقرار دیا ہے، جسے عام حالات میں بہ خوبی استعمال کیا جاسکتا ہے، یہ سب وہی کرسکتا ہے جسے اللہ کے واضح احکام میں من مانی کرنے کا شوق ہو اور اسے آخرت میں مؤاخذ کا قطعاً خیال نہ ہو۔

خود کش حملے کے سلسلے میں سورۃ المدثر 74:31کی جو آیت پیش کی گئی ہے، وہ خود بتارہی ہے کہ اس کا تعلق انسانوں سے نہیں ہے،بلکہ انسانوں کو دکھائی نہ دینے والے اللہ کے تابع دار و اطاعت گزار معصوم عن الخطا فرشتوں سے ہے جنہیں اللہ نے اپنی خصوصی فوج قرار دیا ہے، اس آیت کوایک ایسے خود کشی جیسے حرام فعل جس میں معصوم وبے قصور بچے، عورتیں، بوڑھے، مسلم وغیر مسلم افراد جان سے جاتے ہوں، کو مستحسن اور اللہ کی جانب سے عطا کردہ انعام قرار دینا تفسیر بالرائے کی بدترین مثال ہے۔ بقیناً یہ عدل قطعاً نہیں بلکہ ظلم عظیم ہے، جن میں شریک افراد کو آخرت ہی میں نہیں دنیا میں بھی اللہ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر قطعی ظلم کرنے والانہیں ہے۔

اس قسم کے ظالمانہ اور شنیع حرکتوں سے اپنے بندوں کو بچانے کے لیے اللہ نے ڈرون ہتھیار ایجاد کرایا جس میں خود کش حملہ آور کی طرح کسی کواپنی جان نہیں دینی ہوتی ہے، بلکہ دوسرے ہتھیار وں کی طرح اس سے ظالموں او رحملہ آوروں کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے۔

اس قسم کے انتہائی فساد و تخریب او رقتل وغارت گری پر مبنی افکار و نظریات کی جماعت اسلامی ہند کے ترجمان سہ روزہ ’دعوت‘ نئی دہلی میں مسلسل شائع کرنا ان فاسدنظریات کی حمایت ہی کہا جائیگا،جماعت اسلامی کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی یا الاخون المسلمون کا کوئی فرد جو بھی نظریہ و فکر پیش کرے چاہے وہ شرعی و اسلامی اعتبار سے کتنا ہی لغوکیوں نہ ہو، تحریکی حلقوں میں اس کافی وقعت دی جاتی ہے، تحریکی حلقے کاکوئی فرد اگر اس پر انگلی اٹھائے تویہ کہہ کر اس کامنہ بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ارے بھائی! ان کا تعلق تو الاخوان المسلمون سے ہے، یا یہ تو رکن جماعت ہے،یعنی ان کی کہی ہوئی ہر بات یقینی طور سے صحیح ہی ہوگی۔ اس لیے یہ معاملہ ناقابل اعتراض ہے۔

کتنی عجیب وغریب ہے یہ بات کہ جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالا علیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ (4) نے جماعت کی تشکیل سے کافی پہلے ’الجہاد فی الاسلام‘ کے نام سے کتاب ترتیب دی تھی، جس میں فساد وتخریب وقتل و غارت گری سے متعلق اسلام پر عائد کردہ الزامات کا تشفی بخش جواب دیتے ہوئے جہاد کا حقیقی اسلامی تصور پیش کیا تھا، اس کتاب کی تمام علمی حلقوں میں زبردست پذیرائی ہوئی اور فساد و جہاد کو خلط ملط کرنے والوں کی کوششیں ناکام ہوئیں۔ یہ وہ جماعت ہے جس کے دستور میں لکھا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں ملک کے دستور و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دے گی، جواسلام کو بجا طور سے امن و سلامتی کے مذہب کے طور پر پیش کرتی ہو، اور اپنی تقریروں اور تحریروں میں قرآن کاحوالہ دیتے ہوئے بتائی ہو کہ ”اسلام میں ناحق کسی ایک انسان کا خون بہانا گویا تمام انسانوں کا خون بہانا ہے اور کسی ایک انسان کی جان بچانا گویا تمام انسانوں کی جان بچانا ہے“۔ (القرآن، المائدۃ 5:32)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(4) ابوالاعلیٰ مودودی: سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ (25ستمبر 1902ء۔۔22ستمبر 1979ء / 1321ھ۔۔1399ھ)، بیسو یں صدی کے عظیم مفکر وداعی اسلام، جماعت اسلامی کے بانی، چھ جلدوں میں ’تفہیم القرآن‘ جیسی مقبول ترین تفسیر کو منظر عام پر لانے والے اور اسلامی موضوعات پر بہت زیادہ کتابوں کے مصنف جن کا دنیا کی اکثر زبانوں میں ترجمہ ہوچکا یا ہورہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کو تحریکی عصبیت اور پیٹرو ڈالر کا کرشمہ ہی کہا جائے گا کہ اس کا ترجمان سہ روزہ دعوت نئی دہلی اخبار اس قسم کے انسانیت کش خیالات کی ترویج و اشاعت میں پیش پیش ہو۔

جماعت اسلامی کے ذمہ داران بتائیں کہ جماعت کے اندر اس قسم کامفسدانہ ومتشددانہ رویہ اور پالیسی افغانستان کی جنگ میں سوویت یونین کی شکست او راس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد پیدا ہوئی ہے یا نائن الیون کے بعد یہ مرض لاحق ہوا ہے، یایہ پیٹرو ڈالر کا کرشمہ ہے یا یہ جماعت کے ’حاکمیت الہٰ‘ کے عقیدے سے عملی طور پر انحراف اور روگردانی کا نتیجہ ہے؟

اس سلسلے میں سب سے انتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ ”خود کش بم بار مجاہدین“ ان مفسد انہ مضامین کی اشاعت کے بعدنام نہاد جہاد وشہادت پر مبنی خود کش کا رروائیاں انجام دے کر معصوم وبے قصوروں کا قتل کرتے ہیں تو سہ روزہ دعوت نئی دہلی کا ادارتی کالم ”خبر و نظر“ اس بات کی پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ حقائق کو مسخ کر کے اسے اسلام کے خلاف عالمی سازش قرار دے کر لوگوں کے ذہن کو موڑ نے اور ’مجاہدین‘ کو معصوم قرار دینے کی پوری کوشش کرے، جائزہ لیجئے ’خبر ونظر‘ کی پوری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس نے کبھی نام نہاد مجاہدین کے ذریعے انجام دیے گئے ان مجرمانہ خود کش او رہلاکت خیز حملوں کی کبھی نہ تو گرفت کی اور نہ ہی ان پر تنقید۔ ان اداریوں میں مسلمانوں کی انتہائی سنگین او ربھیانک غلطیوں کو انظر انداز کر کے مسلسل ان کو اس طرح سے پیش کیا جاتا ہے کہ گویا کہ وہ صحابہ سے بھی افضل ہیں اور ان سے تو کوئی غلط کام ہوہی نہیں سکتا، جب کہ جیسا کہ سب کو معلوم ہے صورت حال بالکل بر عکس ہے۔

اس کی تازہ ترین مثال 21اپریل کو کولمبو (5) میں تین گرجا گھروں اور تین لگ    ژری ہوٹلوں میں ہونے والے خود کش حملوں کے نتیجے میں تقریباً 350افراد جاں بحق ہوئے کے سلسلے میں سہ روزہ ’دعوت‘ کے 28اپریل اور 19مئی کے ”خبر و نظر“ ہیں، جن میں حقائق کو توڑ مروڑ کر انتہائی درجے کے غیر انسانی اور غیر اسلامی شنیع حرکت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ مدیر محترم اپنے علاوہ دنیا کے تمام انسانوں کوبے وقوف سمجھتے ہیں،او رانہیں قیامت میں اللہ کے حضور حساب کتاب نہیں دینا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ مسلم قوم پرستانہ رحجان ہے جو کہ انتہائی درجے کا مہلک اور تباہ کن ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں سمیت تمام دنیا کے مسلمانوں کا جائزہ لیں توکچھ فی صد کو چھوڑ کر آپ دیکھیں گے کہ ان کے اندر ہر نوع کی خرابیاں اور برائیاں پائی جاتی ہیں، ایسے میں اگر نہی عن المنکر کا کام نہ کیا گیا تو آخرت ہی میں نہیں،دنیا میں بھی مکمل طور سے ان کے خلاف ہی جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(5) کولمو: Colombo سری لنکا Sri Lanka کی تجارتی راجدھانی او رملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شہر بھی ہے اور ضلع بھی، سری لنکا کی سیاسی، قانونی اور انتظامی راجدھانی کولمبو نہیں بلکہ سری جیا وردنے کٹے Sri Jaya WardaneKutteہے جسے کتے kuteبھی کہا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب اس کو اللہ کا عذاب نہیں تو او رکیا کہیں گے کہ اسرائیل جسے سبق سکھانے کے لیے خود کش حملوں کو جائز ہی نہیں مستحسن قرار دیا گیا تھا، وہ تو ایک عرصہئ دراز سے ان حملوں سے پورے طور سے محفوظ ہے، البتہ اس لعنت نے ہر قابل ذکر مسلمان ملک کو اپنی زد میں لے لیا ہے اور ان کی کوئی بھی قابل ذکر چیز ان خود کش حملوں سے محفوظ نہیں ہے۔

آئیے خود کش حملوں کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے مسلم ملک ملکت خداداد پاکستان جس کا شمار دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں ہوتا ہے اور جو ایک عرصے سے جہاد انڈسٹری کو فروغ دیتا رہا ہے، اور ایک عرصے سے دہشت گردی کا خمیازہ بھی بھگت رہا ہے، جائزہ لیں کہ وہاں اس قسم کی ذہنیت نے کیا اثر ات مرتب کیے ہیں، کوئی اور جماعت کا نہیں، اقامت دین کے علم بردار جماعت اسلامی پاکستان 2جون 2008ء میں اسلام آباد (6) پاکستان میں ڈنمارک سفارت خانے پر ہونے والے خود کش کار بم دھماکے او راس میں مرنے والے پاکستانیوں کے بارے میں کس طرح اظہار خیال کرتے ہوئے اسے صحیح قرار دیتی ہے:

ڈنمارک کے سفارت خانے پر بم کا دھماکا کیوں ہوا؟

اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارت خانے کے باہر بم کا زور دار دھماکا ہوا۔ اس میں 8لوگ ہلاک اور 28سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ سب کے سب پاکستانی تھے او رعام شہری تھے۔ دھماکے کے سبب سفارت خانے کی دیوار گر پڑی اور عمارت کو شدید نقصان ہوا۔ ڈنمارک کی حکومت نے سفات خانہ بند کردیا اور وزیر اعظم نے کہاکہ بم کے دھماکے سے ڈر کر ہم نہ اپنی آزادی کی قدروں کو ترک کریں گے نہ افغانستان سے فوجیں واپس بلائیں گے۔ ہم پاکستان کے اندرونی حالات کو سمجھتے ہیں،لہٰذا ہم ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گے جس سے پاکستان حکومت کی مشکلوں میں اضافہ ہو۔انہوں نے جماعت اسلامی کا نام لیے بغیر کہاکہ یہی جماعت لوگوں کو بھڑکا کر احتجاج کروا رہی ہے، اور اسی نے یہ کام کروایا ہے۔ اس الزام پر بی بی سی (7) نے جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سکریٹری منور حسن (8) سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کی حکومتیں بے حس ہوگئی ہیں۔ وہ مغرب سے کسی قسم کا جھگڑا مول لینا نہیں چاہتیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(6)اسلام آباد: اسلام آباد پاکستان کا دارالسلطنت ہے، یہ ایک انتہائی خوبصورت اعلا معیار کا بنا ہوا شہر ہے۔ انتظامی طور سے یہ اسلام آباد کیپٹل ٹریٹری میں شامل ہے۔1960ء میں دارالسلطنت کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کے لئے اس کی منصوبہ سازی کی گئی، آبادی کے اعتبار سے یہ پاکستان کانواں بڑا شہر ہے۔

(7) بی سی سی: British Broadcosting Corporationدنیا کی قدیم اہم برطانوی براڈ کاسٹنگ سروس جس کا مرکزی دفتر ویسٹ منسٹر لندن میں ہے، اور دنیابھر میں پھیلے اس کے ملازمین کی تعداد 35ہزار سے زائد ہے۔(مدیر)

(8) منور حسن: سید منور حسن (آمد: 5اگست 1944ء) دہلی سے تعلق رکھنے والے خاندان میں پیدا ہوئے جو تقسیم ملک کے بعد کراچی منتقل ہوگیا۔ یہ شروع میں کمیونسٹ طلبہ تنظیم۔ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر تھے پھر تحریکی لٹریچر کے مطالعے سے متاثر ہوکر جمعیۃ الطلبہ میں شامل ہوئے، اس کے بعد جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے، مختلف ذمے داریاں نبھاتے ہوئے اس کے جنرل سکریٹری اور پھر اس کے امیر بھی منتخب ہوئے۔ 29مارچ 2009ء تک اس کے امیر رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب امریکہکے غلام ہیں، اور اس کے اشارے پر چلتے ہیں اور اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔ مسلم عوام کو حکومت کی یہ روش پسند نہیں ہے۔ اگر حکومتیں ڈنمارک سے احتجاج کرتیں، معافی طلب کرنے پر مجبو رکرتیں اورسخت کارروائی کرتیں تو مسلم عوام کی تسلی ہوجاتی،مگر جب ایسا نہیں ہوا تو عوام نے خود اپنا ایمانی فریضہ ادا کیا۔ پوچھا گیا کہ سفارت خانے کے باہر دھماکے سے تو اپنے ہی لوگ مرگئے،اس کا فائدہ کیا ہوا؟ ڈنمارک کی غلطی پر غصے میں آکر اپنے ہی لوگوں کو مارنا کہاں کی عقلی مندی ہے؟ تو کہا کہ امریکہ افغانستان اور عراق میں دہشت گردوں کے گمان پر بے گناہ اور بے قصور لوگوں کوبم باری کر کے مار رہا ہے تو اس پر دنیا آواز کیوں نہیں اٹھاتی؟ انہوں نے کہاکہ یورپی ملکوں نے یہ قانون پاس کیاہے کہ آزادی اظہار کی آڑ لے کر مذاہب پر حملہ کرنا یا ان کا مضحکہ اڑانا غلطی ہے،تو ڈنمارک کی حکومت نے اس قانون پرعمل کیوں نہیں کیا؟ آخر کیا وجہ تھی کہ یورپی اخباروں نے دوسری مرتبہ اہانت آمیز کارٹون شائع کیے، کیا ایسا کرنے سے ان کی آزادی کو چار چاند لگ گئے؟ کیا خطرہ ٹل گیا؟ یہ لوگ جان بوجھ کر اسلام او رمسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے غلط پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ہم بھی ان کو نہیں چھوڑیں گے۔ اخلاق اور تہذیب سے گری ہوئی حرکتوں کو ہر گز نہیں بخشیں گے۔ جب تک یہ نہیں کہتے کہ ہم اس قسم کے کارٹونوں اور تصویروں کو شائع نہیں کریں گے، تب تک ہم بھی اپنے حق سے دست بردار نہیں ہوگے۔ دنیا بھر میں مسلمان اپنے غم و غصے کا اظہار جس طرح سے مناسب سمجھیں گے کریں گے۔“ (ہفت روزہ نشیمن، بنگلور،15جون 2008، ص 2)

جس اسلام نے سفارت کاری اور سفارتی عملے کو مکمل تحفظ دیا ہے، اس کو رسوا کرتے ہوئے پاکستان میں واقع ڈنمارک کے سفارت خانے پر خود کش حملہ کیا جاتا ہے، اس میں 8معصوم پاکستانی جاں بحق اور 28سے زائد افراد زخمی ہوتے ہیں، اس پر اظہار افسوس کرنے اور لوگوں کو اللہ سے توبہ و استغفار کی طرف دعوت دینے کے بجائے اس شنیع فعل کواپنا ’ایمانی جذبہ‘ قرار دے کر اللہ کے دین اسلام کو بدنام اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کردار کشی کی کوشش کی جاتی ہے۔واضح رہے کہ القاعدہ (9) نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(9) القاعدہ: القاعدہ ایک ایسی نتظیم ہے جو اسلامی عرب مفادات کے لیے امریکہ اور ان کے دوست ممالک کے خلاف ہر قسم کے جارحانہ ومتشددانہ حملوں پر یقین ہی نہیں رکھتی بلکہ انجام دیتی رہی ہے۔ یہ تنظیم سعودی عرب میں ارب پتی اسامہ بن لادن اور اخوانی رہنماعبداللہ عزام نے شروع کی تھی، اس کے خاتمے کے بعد اس کا سربراہ ایمن ظواہری ہے۔ اس کے ارکان کسی ایک ملک سے وابستہ نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے وابستہ ہیں۔1998ء میں تنزانیہ و کینیا کے امریکی سفارت خانوں کوڈائنامیٹ سے اڑانا، 11ستمبر 2001ء بروز منگل (11/9) امریکہ کہ شہروں نیویارک میں واقع دو ٹریڈسنٹر اور واشنگٹن میں واقع دفاعی مرکز پنٹاگن پر فضائی حملے اس کی خاص کارنامے رہے ہیں۔ پوری دنیا میں اسلامی عرب مفادات کاتحفظ اس کے خاص اہداف میں شامل ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد 1989ء کے اوآخر 1990ء کے شروع میں رکھی گئی۔(مدیر)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ذرا غور فرمائیں کہ یہ سب کچھ مسلمان جماعتوں اور تشدد پسند مسلمان افراد کی دہشت گردی اور قتل وغارت گری کی حمایت ہے یا عالمی سازش؟ اگر یہ عالمی سازش ہے تو اس میں مذکورہ مسلمان جماعتیں اور ان کے حمایتی علما بھی شامل ہیں، ایک طرف اسلام کو امن وسلامتی کا مذہب بتانا اور دوسری طرف دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو فروغ دینا، یہ دو عملی ہے یا نہیں؟ یہ حقائق میں اس لیے بتار ہا ہوں کہ بڑے پیمانے پر اسلام کو بدنام کرنے اور اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم (10) کی کردار کشی کرنے میں خود اپنے لوگ ملوث ہورہے ہیں او رمعصوم وبے قصو ر لوگوں کا خون خود کش حملوں او ربم دھماکوں کے ذریعے بہایا جارہا ہے، اس غلط فہمی میں مبتلا کر کے کہ اپنے کو اڑاکر دھماکا کرنے والا شخص شہادت کا مرتبہ پاکر سید ھا جنت میں جاتا ہے او رمعصوموں و بے قصو روں کا قتل عام بر حق او رعین ایمانی تقاضا ہے۔

اللہ کے قہر و غضب سے آخر ت سے پہلے دنیا میں اپنے اور دوسروں کوبچانے کے لیے میں نے یہ حقائق آپ کے سامنے رکھے ہیں، سچ تلخ لیکن مفید ہوتا ہے، جب کہ جھوٹ او ردھوکا دہی لذیذ لیکن نقصاندہ ہوتی ہے دنیا میں بھی او رآخرت میں بھی۔

مجھے امید ہے کہ اسلام کو جبر وتشدد او رقتل و غارت گری والا مذہب قرار دینے میں ہم اسلام دشمنوں کی ہم نوائی نہیں کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(10) محمدرسول اللہ بن عبداللہ رحمۃ اللعالمین النبیین صلی اللہ علیہ وسلم (9ربیع الاول 53قبل ہجرت۔یکم ربیع الاول 11ھ/ 20/اپریل 571ء۔2مئی 632ء) دنیا و آخرت میں ہر اعتبار سے انتہائی کامیاب ترین شخصیت (مدیر)

جون 2019،بشکریہ: ماہنامہ اللہ کی پکار، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/professor-khalid-hamdi-falahi/urdu-magazine-allah-kipukar-on-terrorism-and-deceitful-role-of-islamic-scholars-(part-2)---شدت-پسندی،دہشت-گردی-اور-قتل-و-غارت-گری-کے-سلسلے-میں-علما-اور-دین-کے-علم-برداروںکا-ردّ-عمل/d/119436

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Compose your comments here

Total Comments (0)


Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com

Total Comments (0)

    There are no comments on this Article