New Age Islam
Wed Aug 05 2020, 05:58 AM

Urdu Section ( 8 Aug 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Urdu Magazine Allah Ki Pukar On Terrorism And Deceitful Role Of Islamic Scholars (Part 1) شدت پسندی،دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے سلسلے میں علما اور دین کے علم برداروں کا ردّ عمل

 

 

پروفیسر خالد حامدی فلاحی

مئی 2019

21اپریل 2019ء کو عیسائیوں کے مشہور تہوار ایسٹر Easter)6) کے مو قع پر سری لنکا کی راجدھانی کولمبو (7) میں سینٹ اینھونی چرچ St. Anthony Church سمیت 9مقامات پر سلسلہ وار خود کش حملے کیے گئے جس میں چرچ کے علاوہ نام ور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایسٹر کی تقریبات چل رہیں تھیں۔ ان دھماکوں میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 359 افردا جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ہلاک شدگان میں 39غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ خود کش حملہ آور وں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ سری لنکا کے حکام نے ان دھماکوں کی ذمے داری ایک مقامی گروپ قومی توحید جماعت (N.T.J) پرعائدکی ہے، جس کے ڈنڈے داعش سے بھی ملتے ہیں۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 15/ مارچ 2019ء کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ (8) کی دو مسجدوں میں جمعے کے وقت ایک عیسائی دہشت گرد کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ جس میں 50سے زائد نمازی جاں بحق ہوئے، کے ردّ عمل میں بعض مسلمان دہشت گردوں نے یہ خوف ناک اور درناک حملے کئے ہیں، اسلام میں انسانی جان کی حرمت پر پتا نہیں کتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، مضامین تحریر کیے گئے ہیں، تقریریں ہوتی رہی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس دین میں اللہ کی صفت رحمت۔ رحمٰن و رحیم کو سب سے زیادہ بیان کیا گیا ہو اور جس دین کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ اللعالمین کا خطاب اللہ کی طرف سے دیاگیا ہو، اس پر ایمان لانے والے یعنی مسلمانوں میں تشدد او ردہشت گردی کے عناصر کہاں سے پیدا ہوگئے؟ اس کا جواب اسلام پسند حلقوں کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ یہ سب دشمنوں کی سازش ہے۔ اس سے اسلام او راسلام پسندوں کاکوئی لینا دینانہیں ہے،لیکن یہ بات کو ٹالنے کی ایک گھناؤنی تدبیر ہے،کیا کسی نے اس بات پر غور کیا کہ ایسے لوگوں کو جان دے کر خود کشی کرنے پر کسی نے آمادہ کیا؟ خود کشی کرنے والے عام افراد نہیں، انتہائی تعلیم یافتہ، مال دار او رخوش حال لوگ ہوتے ہیں، اس میں مردوں کے علاوہ خواتین بھی ہیں، یہ سب خود کشی کر کے اپنے کواڑا دیتے ہیں، اور سیکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں، اپنے کو اڑانے سے پہلے اللہ اکبر کانعرہ لگاتے ہیں یا قرآن مجید کو دکھارہے ہوتے ہیں، یاکوئی ویڈیو نشر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلے میں آدھا سچ بولا گیا ہے اور آدھے سچ کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ اس میں تو کوئی دورائے نہیں کہ اس دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، لیکن دورسری حقیقت یہ ہے کہ یہ (نام نہاد) اسلام پسند تنظیمیں ہی ہیں، جو کہ بہ راہ راست یا بالواسطہ دہشت گردی کا اسلامائزیشن کررہی ہیں، جی ہاں چونکیے نہیں! یہ ایک برہنہ حقیقت ہے،مرض کی نشان دہی کے بغیر نہ تو آپ مرض کو سمجھ پائیں گے اورنہ اس کا صحیح علاج تجویز کرسکیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(6) ایسٹر: ایسٹر Esterعیسائیوں کے یہاں عیسائی عقیدے کے مطابق عیسی ٰ علیہ السلام کو پھانسی دیے جانے کے بعد وہ تیسرے روز زندہ نمودار ہوئے، یہ تہوارگڈ  فرائیڈے کے بعد یعنی جمعے کے بعد اتوار میں ہوتا ہے، مذہبی عیسائی ان ایام کو سامنے رکھ کر چالیس دن تک عبادت کرتے ہیں۔

(7) کولمبو: کولمبو Colombo) سری لنکا Sri lanka  کی تجارتی راجدھانی اور ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شہر بھی ہے او رضلع بھی،سری لنکا کی سیاسی، قانونی اورانتظامی راجدھانی کولمبو نہیں بلکہ سری جیاورد نے کٹے Sri Jaya WardaneKutteہے۔ جسے کتّے Kuteبھی کہا جاتا ہے۔

(8) کرائسٹ چرچ: کرئسٹ چرچ  Christ Churchنیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے کا سب سے بڑا اور آبادی کے اعتبار سے آک لینڈ او رولینگٹن کے بعد تیسرا بڑا شہر ہے۔ دریائے اوون River Avonشہر کے درمیان سے بہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دراصل اسرائیل او رفلسطین کا مسئلہ مسلمانوں خصو صاً عربوں کے لیے عرصے سے پریشان کن ہے، المسجد الاقصیٰ اسرائیل کے کنٹرول میں آجانے کی وجہ سے یہ مسئلہ سیاسی کے ساتھ مذہبی ہوچکا تھا، اسرائیل کے ہاتھوں روزبہ روز عربوں کی ہزیمت و رسوائی انہیں اس بات پر تو آمادہ نہ کرسکی کہ وہ اپنی زندگیوں کاجائزہ لیں اور دیکھیں کہ یہ سب کچھ ان کی جانب سے کی جانے والی اللہ کی سرکشی او رنافرمانی اور باغیانہ افعال و اعمال کی وجہ سے تونہیں ہورہا ہے،اس کے برعکس اسرائیل کے خلاف، خود کش حملوں کو جائز ہی نہیں بلکہ انتہاہی عمدہ جہادی عمل قرار دیتے ہوئے اسے فدائی حملے کا نام دیا، او رخود کش حملے میں اپنے اڑانے والے عمل کو استشہاد (شہادت طلبی / شہادتی کارروائی) قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ دین میں صریحاً انحراف تھا۔ شریعت نے اس کی اجازت نہیں دی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی مثال اس سے قبل ملتی ہے۔

محض خانہ پری کے لیے بعض علما سے اس سلسلے میں رائے بھی لی گئی، مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ اسی(80) کی دہائی کے آخر یا نوے (90) کی دہائی شروع کی بات ہے، میں کچھ علما کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ ایک ایسے نوجوان عالم جو تحریکی پس منظر بھی رکھتے ہیں، ایک تحریکی مدرسے سے فارغ بھی ہیں او رماشاء اللہ سلفی / اہل حدیث بھی ہیں، نے بغیر کسی تمہید کے اچانک خوشی سے اچھلتے ہوئے جھومتے ہوئے فرمایا: ہاں ہاں! اب تو خود کشی کو جائز ہی کرنا ہوگا، اب تو اسرائیل کو مزہ چکھاناہوگا۔ میں ان کی صورت دیکھ رہا تھا او رحیران تھا کہ انہیں اتنی مسرت کس بات پر ہورہی ہے، اس بات پر کہ انہیں اللہ کو چھوڑ کر شریعت ساز مان لیا گیا ہے یا وہ حرام کو حلال او رحلال کو حرام میں تبدیل کرنے کے مجاز ہوچکے ہیں، یا اس مسرت کی وجوہات کچھ اور ہیں۔

الاخوان المسلمون (9) کے انتہائی اہم لیڈرعلامہ یوسف قرضاوی (10) نے خود کش حملوں کو غلط طور سے شرعی و مذہبی رنگ دے کر انتہائی مقبول ترین جنتی عمل بنانے کی بھر پورکوشش کی ہے او ربظاہر اس میں کامیاب بھی نظر آتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(9) الاخوان المسلمون: الاخوان المسلمون،عربوں کی ایک اصلاحی، دینی تربیتی اور سیاسی جماعت ہے جو 22مارچ،1928ء میں قاہرہ میں امام حسن البنا کے ذریعے تشکیل پائی، یہ نہایت تیزی سے تمام عرب ملکوں میں پھیل گئی، لیکن جارحانہ سیاست کی وجہ سے اس کا ٹکراؤ عرب ملکوں کے حکمرانوں سے ہوگیا،کیونکہ اس کا ہدف تھا کہ اقتدار اس کے قبضے میں آئے۔ لیکن اکثر وبیشتر یا تو وہ ناکام ہوئی یا اس نے اپنے بنیادی نظریات ہی سے دست بردار ہونا پسند کیا۔ اس وقت اس کے کارگزار صدر / امیر محمود عزت ہیں۔ مصر میں اس جماعت پر پابندی لگادی گئی ہے، او راس کے زیادہ تر عہدے داران جیلوں میں بندہیں۔

(10) قرضاوی: یوسف قرضاوی: علامہ یوسف قرضاوی (آمد:9ستمبر 1927ء / ربیع الاول 1346ھ) مصر کے مغربی صوبے کے علاقے المحلۃ الکبریٰ کے ایک گاؤں صفط ترابSaftTurab میں پیدا ہوئے، الاخوان المسلمون کے اہم لیڈ ر جو کہ جماعت اسلامی کے درمیان بھی بہت مقبول ہیں، ان کے بعض خیالات انتہا پسند انہ ومتشددانہ ہیں، جن کااصل اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ہماری شریعت میں احکام کی دو قسمیں ہیں،ایک کشادگی اور اختیاری حالت کے احکام دوسرے تنگی او راضطراری کیفیت کے احکام، حالتِ اضطرار میں جو چیز ایک مسلمان کے لیے جائز ہے وہ اختیار کی حالت میں اس کے لئے جائز نہیں، مثال کے طورپر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں چار چیزیں مردار، خون، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے لیے ذبیحہ حرام قرار دینے کے بعد فرمایا:

”پھر جو اضطرار کی حالت میں مجبور ہوکر (مذکورہ حرام چیزوں میں سے کسی کا استعمال کرے اور اس میں) نافرمانی کا جذبہ نہ ہو (ضرورت سے زیادہ) تجاوز تو اس پر گناہ نہیں ہے، بیشک اللہ بڑابخشنے والا اور بہت مہربان ہے“ (القرآن، البقرۃ 2: 173)اس آیت سے فقہانے یہ مشہور قاعدہ اخذ کیا ہے کہ ”ضرورتیں ممنوعہ چیزوں کو مباح کردیتی ہیں۔“

اس میں تو کوئی شک وشبیہہ نہیں کہ فلسطین میں ہمارے بھائیوں کو وحشی دشمن کے مقابلے میں ”شہادتی کارروائیوں“ کی شدید ضرورت ہے۔ تاکہ ان کی مقدس زمین کے غاصب دشمن ہر وقت خوف زدہ اوربے چین و آرام کاٹھکانہ ملے، تاکہ وہ عاجزو بے بس ہو کر فلسطین چھوڑ نے پر مجبور ہوں او رجہاں سے آئے ہیں وہاں ناکام و نامراد واپس جائیں۔ اگر فلسطینی ایسا نہیں کریں گے او رصہیونی حکومت کی جانب سے ذلت و رسوائی کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے، تو اس بزدلانہ رویے سے کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر وہ اپناسب کچھ کھودیں گے، مگر دنیا نے دیکھ لیا وہ جواں مرد بہادر لوگ ہیں، ان کو مقابلے کے لیے اسرائیل کے پاس موجودہ اسلحے کا عشر عشیر دے کر دیکھو تو وہ اپنی قیمتی جانیں یقینا ان ”شہادتی کارروائیوں“ میں قربان کرنا چھوڑ دیں گے، بہ صورت دیگر ان کے پاس او رکوئی ایسا آزمودہ ہتھیار نہیں جو ان کے درد والم کا احساس دلا سکے۔ اس کے امن و امان اور استقرار کو غارت کرسکے، اس کی نیند حرام کر سکے، سوائے ان ”انسانی بموں“ کے جو جذبہئ جہاد سے سرشار نوجوان لڑکے او رلڑکیاں خود بم بن کر خوشی خوشی دشمن کے قلب و جگر میں گھس کر چھوڑتے، او رہوا میں خود آتشی بارود کی شکل میں پھیل کر اس کے سینے پر مو نگ دلتے رہتے ہیں۔ یہ جابر طاقتوں کے مقابلے میں کمزور او رمغلوب کاہتھیار ہے۔ یہی وہ ہتھیار ہے جس کا جواب نہ دشمن کے پاس ہے او رنہ اس کے سرپرستوں کے پاس اس کے سرپرست اپنے لے پالک کو اربوں کھربوں کی مالی اورہتھیار وں کی امداد دے سکتے ہیں لیکن وہ ان مول وبے جگر جذبہئ جہاد کہاں  سے دے سکتے ہیں جس سے وہ خود محروم ہیں اور نہ صرف اہل ایمان صادق کو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے۔ یہ بھی زمین میں عدل الہٰی کا ایک رنگ ہے، جس کو اہل بصر ہی دیکھتے او رسمجھتے ہیں اللہ نے سچ فرمایا ہے:

’’تمہارے رب کے لشکروں کو کوئی نہیں جانتا سوائے خود اس کے۔“ (القرآن، المدثر74:31)

(فلسطینی مزاحمت اضطراری جہاد ہے: یوسف قرضاوی،ترجمہ مسعود الرحمٰن خاں ندوی ہفت روزہ العالم الاسلامی، مکہ مکرمہ،شمارہ 1853،9اگست 2004، ص 12،بہ حوالہ سہ روزہ دعوت، نئی دہلی،7/ اکتوبر 2004ء،ص 5)

اپنی اس تحریر میں یوسف قرضاوی نے کئی بھیانک غلطیاں کی ہیں، جو آیت خود کش کے حملوں کے جواز کے لیے پیش کی ہے، وہ تو نصِ قطعی ہے جس کو جان بچانے کے لیے اتارا گیا ہے،نہ کہ جان لینے کے لیے، پھر ایک معاملے سے متعلق نص کو دوسرے معاملات پر اپنی طرف سے چسپا ں نہیں کرسکتے،جیسا کہ قرآن و احادیث میں حالت جنگ و سفر میں نمازقصر کاحکم ہے۔ یہ حکم نص قعطی سے ثابت ہے،لیکن اس کو روزوں پر فٹ نہیں کیا جاسکتا کہ ہم سفر کی حالت میں آدھے دن کا روزہ رکھیں گے یا 29یا 30 دن روزوں کے بجائے 15دن کے روزے رکھیں گے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے سلسلے میں بعض مخصوص حالات میں قصر کا حکم دیا ہے۔

یہ بات نہ قرآن میں ہے نہ احادیث میں اور نہ فقہائے اربعہ کی فقہ میں کہ ”ضرورتیں ممنوعہ چیزوں کو مباح کردیتی ہیں“، اس لیے اگر ایسا مان لیا جائے تو پھر توکوئی حرام چیز ممنوع ہی نہیں رہے گی، ضرورت کے وقت اس کو حلال کرلیا جائے گا، ہاں بعض چیزوں کے سلسلے میں صرف جان بچانے کے لیے کچھ حرام چیزوں پر وقتی طور سے اللہ نے گناہ نہیں رکھا ہے۔ یہ صرف ان ہی معاملات کے سلسلے میں اللہ کی طرف سے اجازت ہے۔

پھر جہاد اور شہادت کی غلط تعریف و تشریح کی گئی ہے، خود کش حملوں میں معصوم و بے قصور لوگوں کو مارنا جہاد نہیں کہلاتا ہے، او رنہ اپنے اڑانے والا شہید،جہاد تو باضابطہ شرعی عمل ہے جس میں سربراہ مملکت فوج کا کمانڈر ضروری ہے، اسلام کا اصول پر ہے کہ کہ لوگوں پر غفلت میں حملہ نہ کیا جائے اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شب خوں نہیں مارتے تھے، بلکہ جب صبح ہوجاتی تھی تو حملہ کرتے تھے، (صحیح بخاری، کتاب الجھاد والسیر، باب دعا، النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی الاسلام، حدیث نمبر:2943، 2944، کتاب المغازی، باب غزوہ خیبر، حدیث نمبر:4117) ظاہر ہے کہ اس قسم کے خود کش حملے لوگوں کو دھوکا دینے، شرعی احکام کو توڑ نے مروڑنے اور اللہ کی کتاب سے کھلواڑ کرنے والے عمل ہیں، کیونکہ اگر اس طرح ترغیب دی جائے تو قتل و غارت گری اور خوں ریزی کا وہ سلسلہ شروع ہوگا جو عمل او ررد عمل میں بڑھتا ہی جاسکتا ہے۔

یوسف قرضاوی جماعت اسلامی ہی میں نہیں ہندوستان کے بعض علما حلقوں میں انہیں پذیرائی حاصل ہے، چنانچہ مرکز الامام ابی الحسن علی ندوی، دار عرفات رائے بریلی (یوپی) ایک رسالہ ماہ نامہ ”پیام عرفات“ اردو او رہندی دونوں میں نکلتا ہے، اس کے سر پرست سید محمد رابع حسن ندوی (12) ہیں، اس میں ”خود کش حملے۔ ایک تاریخی جائزہ“ عنوان سے محمد نفیس خاں ندوی کا ایک مضمون مارچ 2009ء میں شائع ہوا ہے، اس میں جن خود کش حملوں کو واضح طور سے جائز وعمدہ قرار دینے کی کوشش تو نہیں کی گئی ہے، البتہ خود کش حملوں سے جو تنفر پیدا ہوتا ہے، اسے ضرور ختم کرنے کی اور بالواسطہ اس کو زیر عمل لانے کی کوشش کی گئی ہے، اور بتایا گیا کہ ان خود کش حملوں کاکوئی توڑ اور جواب نہیں ہے کہ اور امریکہ اور مغربی ممالک اس حملوں کے آگے بے بس ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود کش حملوں کا سرا جہاں حسن بن سبا یہودی سے بتایا گیا ہے، وہیں اس کو دوسری جنگ عظیم میں جاپانی فوج کا ایک کارگر ہتھیار بتایا گیا ہے کہ خود کش حملہ آور جاپانی نوجوانوں نے چھوٹے جہازوں کو امریکہ کے بحری جہازوں سے ٹکرا کر بحر الکاہل میں امریکہ کے40 اور فلپائن کے 8بحری جہاز کو غرق کردیا اور ان حملوں سے امریکی بحریہ کی کمر ٹوٹ گئی۔ اس کا بدلہ امریکہ نے جاپان کے دو اہم شہروں ناگا ساکی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر کیا، دیکھئے تو کیا یوسف قرضاوی او ران کے حواریین بھی یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں پر بھی ایٹم بم کا استعمال کیا جائے! بجائے اس کے کہ خود کش حملوں کے بارے میں صحیح اسلامی تعلیمات بتائی جائیں ان کو اس طرح سے لوگوں کے درمیان مقبول بنانے کی کوشش کی گئی:

”ایک رپورٹ کے مطابق حماس کے تحت سب سے پہلا خود کش حملہ وفا ادریس نامی ایک دوشیزہ نے جنوبی 2000ء میں کیا، اس دوشیزہ کو بچپن ہی سے اسرائیلوں کے مظالم کاسامنا کرنا پڑا تھا، اس حملے کے بعد فلسطینی نوجوانوں اور خاص کر نو عمر لڑکیوں نے خود کش حملوں کو ایک مشن کے طور پر اپنا لیا، اور پھر اسرائیل کے مختلف شہروں میں خود کش حملوں کا سلسلہ چل پڑا، ان حملوں نے اسرائیلیوں کا جینا حرام کردیا.....ان حملوں میں قاسم برگیڈیر اور حماس بریگیڈنے مرکزی کردار ادا کیا“ (خود کش حملے ایک تاریخی جائزۃ: محمد نفیس خاں ندوی، ماہ نامہ پیام عرفات، رائے بریلی، یوپی، مارچ 2009ء،ص8)

ان خود کش حملوں کے نتیجے میں جب عام لوگوں۔ خواتین،بچوں اور بوڑھوں سمیت لوگوں کی اموات ہونے لگیں تودیکھئے کس دیدہ دلیری سے اپنے اس جرم کو شرعی پردے میں لپیٹنے اور دہشت گردی کا اسلامائزیشن کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(14) سید محمد رابع حسنی ندوی: سید محمد رابع حسنی ندوی (آمد: یکم اکتوبر 1929ء / ربیع الثانی 1340ھ) رائے بریلی یوپی میں پیدا ہوئے، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ (یوپی) کے مہتمم ہیں،عربی اور اردو میں متعدد کتب کے مصنف ہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے صدر بھی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ایک او رمسئلے سے اضطرار کے وقت حق دفاع کی تائید ہوتی ہے، وہ یہ کہ اگرحملہ آور دشمن اپنی حفاظت کے لیے مسلمانوں کوانسانی ڈھال کے طور پر ہر ا ول دستے میں استعمال کرے تو جمہور فقہا کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی اور چارہ نہ رہ جائے تودفاع کرنے والے مسلمان دشمن کے خونی پنجے میں موجود معصوم مسلمانوں کوقتل کرسکتے ہیں،ورنہ اس بہانے تو حملہ آور دشمن مسلم ملک میں گھس کر سب کچھ تباہ وبرباد کردے گا، اس لیے ملک واہل ملک کی بڑی اکثریت کی حفاظت کے لیے کچھ معصوم لوگوں کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات مصالح و مفاسد کے درمیان آپس میں موازنہ کر کے توازن پیدا کرنے والی فقہ (فقہ الموازنات) سے متعلق ہے، اب غور کیجئے کہ مذکورہ بالا مسئلے کی رو سے مسلمانوں کی بڑی جماعت کی حفاظت کی خاطر جب مجبور و معذور او ربے قصور بے گناہ مسلمانوں کاقتل جائز ہے تو ظالم و جابر مجرموں کے ناجائز قبضے سے مسلمانوں کی مقدس سرزمین فلسطین کو آزاد کرانے کے لیے غیر مسلم دشمنوں (جن میں بہ ظاہر غیر مقاتل سویلین بھی ہوسکتے ہیں) سے جنگ اور ان کا قتل بہ درجہئ اولا مطلوب اور جائز اور ضروری ہوگا.......“(حوالہ سابق)

بے قصور غیر متعلق، غیر مقاتلین افراد اور عورتوں،بچوں اور بوڑھوں چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ان کے قتل عام کے اوپر جو دلائل دیے گئے ہیں، یہی وہ دلائل ہیں جو کہ یوسف قرضاوی کے نظریاتی شاگرد اسامہ بن لادن نے نائن الیون میں بے قصور لوگوں کے قتل عام کے دفاع میں 8/ نومبر  2001ء کو کابل (افغانستان) کے پاس ایک علاقے میں طالبان حامی اور اسامہ بن لادن کے انتہائی قریبی او رگہرے دوست پاکستان کے سرکردہ صحافی روز نامہ انصاف پاکستان کے مدیر حامد میر کو دیے گئے ایک انٹر ویو میں دیے، دیکھئے اس میں بھی وہی دلیل دی گئی ہے جو ان کے استاد یوسف قرضاوی نے دی تھی:

”حامد میر: آپ نے (الجزیرہ ٹی وی پر) 17/ اکتوبر کے انٹر ویو میں 11ستمبر کے حملے پر اطمینان کا اظہار کیا تھا، حالانکہ ہلاک شدگان میں بیشتر معصوم لوگ تھے، اس میں سیکڑوں مسلمان بھی تھے، کیا آپ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معصوم لوگوں کی ہلاکت کو مبنی بر انصاف تصور کرتے ہیں؟ اسامہ بن لادن: یہ قضا کا ایک اہم نگتہ تھا، میرے خیال میں اگر کوئی دشمن ایک مسلم علاقے پر قابض ہوجائے اور عام لوگوں کو اپنے لیے بہ طور انسانی ڈھال استعمال کرنا شروع کردے تو اس کی اجازت ہے کہ دشمن پر حملہ کیا جائے، مثال کے طور پر ایک لٹیرا کسی کے گھر میں گھس کر قبضہ کر لے اور اس کے ایک بچے کو یرغمال بنا لے تو بچے کے ماں باپ کویہ حق حاصل ہے کہ وہ اس لٹیرے پر حملہ کرے اور اس حملے میں ممکن ہے کہ اس بچے کو زخمی بھی ہونا پڑے، امریکہ اور اس کے اتحادی فلسطین، چے چینیا، کشمیر او رعراق میں ہمارے بھائیوں کاقتل عام کررہے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کو یہ حق ہے کہ وہ امریکہ پر اس کے جواب میں جوابی حملہ کریں،اسلامی شریعت کے مطابق مسلمان کو ہر گز ایسی سرزمین پر زیادہ خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ جس پر دشمنوں نے قبضہ کررکھا ہو، 11ستمبر کا حملہ بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی نہیں تھی، اصل نشانہ امریکی فوجی او رمعاشی طور پر طاقتور وہ افراد تھے، جو وہاں سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔“

اب ذرا علامہ یوسف قرضاوی سے معلوم کیجئے کہ محض ایک مفروضے کی بنیاد پر انسانوں چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم کا قتل عام کیسے جائز ہوگیا؟ جو صورت حال انہوں نے بتائی ہے وہ کہاں پائی جاتی ہے جس کی بنیاد پر مسلمان ملکوں سمیت دنیا میں دہشت گردانہ اور خود کش حملے شروع کیے گئے ہیں۔

ہندوستان میں اقلیتوں اور دلتوں خصوصاً مسلمانوں کے سلسلے میں حکومت کی طرف سے جو صورت حال چل رہی ہے اس میں مسلمانوں کو اعراض، معافی، صبر و سکون اور رجوع الی اللہ کا رویہ عمل اختیار کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے،ابوبصیر صحابی (رضی اللہ عنہ) کا اسوہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، جو کہ صلح حدیبیہ کے بعد مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تھے، لیکن ان کے پیچھے کفار مکہ کے دو نمائندے مدینہ پہنچے جو صلح حدیبیہ کی شرائط کے مطابق انہیں لینے آئے تھے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس کردیا، مدینہ سے 12 کلو میٹر دور ذو الحلیفہ میں انہوں نے مکہ کے دو نمائندوں میں سے ایک کو قتل کردیا اور پھر بھاگ کر مدینہ پہنچے۔اس سے پہلے کفار مکہ کا قتل سے بچ جانے والا نمائندہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ چکا تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو بہت نا پسند کرتے ہوئے فرمایا: ویل أمہ مسعر حرب لوکان لہ احد۔(صحیح البخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد و المصالحۃ مع اہل الحرب، رقم الحدیث:2732)

”اس کی ماں کی بربادی ہو! یہ تو جنگ کو بھڑکانے والی حرکت ہے، ہے کوئی جو اسے قابو میں کرے“۔ (ترجمہ حدیث صحیح البخاری، حدیث نمبر:2732)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طرز عمل دیکھ کر ابو بصیر مدینہ سے بھاگ کر بحرا حمر کے کنارے سیف البحر پہنچے، وہاں مکہ کے دیگر مظلوم مسلمان جو معاہدے کی ر وسے مدینہ نہیں جاسکتے تھے، ان کے پاس پہنچنے لگے اور پھر انہوں نے وہاں سے گزر نے والے قریش کے تجارتی قافلوں کو لوٹنااور قتل کرنا شروع کیا،اس پر صاحب مضمون(ابو العباس خاں) نے ہندوستان کے مسلمانوں کو ابو بصیر کا اسوہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے (حضرت ابو بصیررضی اللہ عنہ کا اسوہ: ابوالعباس خاں، ماہ نامہ پیام عرفات، رائے بریلی، (یوپی) اگست 2017ء، ص 19۔20)

میں نے اللہ کی پکار جولائی 2018ء میں ”اسوہئ نبوی یا اسوہئ ابو بصیر بہتر کون؟ دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدگی کیوں نہیں!؟“ کے عنوان سے اداریے میں اس مضمون پر سخت تعاقب کیا تھا، لیکن نہ تو اس کے ایڈیٹر برادر مکرم بلال عبدالحئی حسنی ندوی کی جا نب سے کوئی وضاحت و تردید شائع ہوئی او رنہ ہی سید رابع حسنی ندوی کے سکون میں کوئی فرق آیا، حالانکہ سوچنا چاہئے کہ اس قسم کے مضامین کے اثرات کتنے ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس عمل سے سخت ناراض ہوں اور آپ نے شاید ہی ابوبصیر کے علاوہ کسی اور مسلمان کی ماں کے لیے ویل امہ کے الفاظ استعمال کیے ہوں او رآپ بتارہے ہوں کہ اس کی یہ حرکت کوبڑھا وا دینے والی ہے، اورصحابہ سے کہہ رہے ہوں کہ اسے پکڑ و، ایسے شخص کا اسوہ اختیار کرنے کامسلمانان ہند کو مشورہ دیا جارہا ہے۔ گویا مسلمانان ہند سے کہا جارہا ہے کہ اب وہ اللہ او راس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام او راللہ کے رسول کے اسوئے کو ترک کر کے اللہ او راس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی والا راستہ اختیار کریں۔ قرآن و احادیث میں واضح تعلیمات کو نظر انداز کر کے اپنی من مانی پر زور دیاجارہا ہے۔

سری لنکا میں جو بہیمانہ واقعہ ہوا ہے اس کے لیے مسلمان رہنماؤں کی جانب سے مذمتی قرار داریں پاس کردی گئیں، لیکن کیا یہ مذمت حقیقی طور سے کی گئی ہے،جب کہ ہمارا طرز عمل اس کے برعکس ہے، کیوں نہیں مسلم ممالک نے متاثرین کی مالی امداد کی،کیوں نہیں عمران خاں اور رجب طیب اردگان نے OICکا اجلاس طلب کر کے اس ذہنیت اور طرز فکر کو ختم کرنے کے لیے تدابیر سوچیں،کیوں نہ نیوزی لینڈ کے حکمراں اورعوام کی طرح متاثرین کی دل جوئی کاسامان کیا گیا۔ خود کش حملے اسرائیلی سے تو عرصہ ہوئے ختم ہوچکے ہیں،لیکن یہ لعنت اکثر وپیشتر مسلمان ممالک میں اس حد تک پھیل چکی ہے کہ نہ تو مسجد و مندر و کلیسا عبادت گاہیں محفوظ ہیں نہ ہی اسکول و مدرسے،نہ بازار محفوظ ہیں نہ تجارتی مراکز،نہ دوکانیں محفوظ ہیں نہ بازار نہ شادی خانے محفوظ ہیں او رنہ قبرستان، ہر جگہ ان خود کش حملوں کی گرم بازاری ہے،جس میں زیادہ تر مسلمان نشانہ بن رہے ہیں۔ میری علمااور دین کے علم برداروں خصو صاً ’تحریک اسلامی‘ کے ذمے داروں او راس کے تمام وابستگان سے دلی درخواست ہے کہ وہ دہشت گردی کے سلسلے میں دو عملی بند کریں، اور انتہا پسندانہ و متشدانہ نقطہ نظر وفکر وعمل کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہو جائیں،ورنہ معصوموں کا خون کیا رنگ لائے گا، کچھ نہیں کہہ سکتے!

اے اللہ! تو ہمیں معاف فرما! ہم تیرے قہر و غضب سے تیری پناہ میں آتے ہیں،اے اللہ! تو ان کو حقیقی انسان بنا جو معصوموں کا خون بہانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ربناانفسنا وان لم تغفرلنا و تر حمنالنکوفن من الخاسرین

وما علینا الا البلاغ المبین

پروفیسر خالد حامدی فلاحی

30/ اپریل 2019ء / 24شعبان المعظم 1440ھ

مئی 2019،بشکریہ: ماہنامہ اللہ کی پکار، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/professor-khalid-hamdi-falahi/urdu-magazine-allah-ki-pukar-on-terrorism-and-deceitful-role-of-islamic-scholars-(part-1)--شدت-پسندی،دہشت-گردی-اور-قتل-و-غارت-گری-کے-سلسلے-میں-علما-اور-دین-کے-علم-برداروں-کا-ردّ-عمل/d/119426

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..