New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 10:13 AM

Urdu Section ( 1 Sept 2014, NewAgeIslam.Com)

The Rise of Ideological Jihadists نظریاتی جہادیوں کا عروج اور ہندوستان کو فکر مند ہونے کے وجوہات

 

 

طفیل احمد

21 اگست 2014

جموں کشمیر اور ہندوستان میں دوسری مقامات پر تقریبا تمام دہشت گردانہ حملوں کو پاکستانی فوج کی آئی ایس آئی اور ساتھ ہی ساتھ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی پاکستان کی بڑی دہشت گرد تنظیموں سے جوڑا جا سکتا ہے۔غور کرنے کی بات ہے کہ معاملہ اب ایسا نہیں رہا۔ ہندوستان میں اب جہادیوں کی ایک نئی نسل تیار ہو رہی ہے جو کہ خود کو مشرق وسطی کی جماعتوں کے ساتھ جوڑتی ہے۔ انہیں اس کی ترغیب و تحریک سوشل میڈیا نیٹ ورک اور جہادی جماعتوں میں بھرتی کرنے والے مقامی لوگ جہادی نظریات کے ذریعہ دیتے ہیں اور انہیں پاکستان کا تعاون بھی حاصل نہیں ہے۔ جولائی میں میڈیا میں شائع ہونے والے انٹیلی جنس کے ایک اندازے کے مطابق مبینہ طور پر 80 ہندوستانی مسلم نوجوان عراق اور شام میں جہادیوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ اب ان واقعات کے بعد یہ بات بے وقعت اور بے بنیاد ہو گئی کہ ہندوستانی مسلمان اسامہ بن لادن کے عالمی جہاد کا حصہ نہیں ہیں۔

2013 کے موسم گرما میں ایک نئی ہندوستان مخالف جماعت "انصار التوحید فی بلاد الہند (ہندوستان میں اسلامی توحید کے حامی)" منظر عام پر آئی ہے۔ اس تنظیم نے ایسے مختلف ویڈیوز جاری کیے ہیں جن میں کرناٹک، آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور اترپردیش کے تقریبا ایک درجن نوجوانوں کو افغانستان اور پاکستان کے کسی علاقے میں تربیت لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس سال 18 جولائی یعنی 20 رمضان المبارک کو ٹویٹر کے ایک جہادی اکاؤنٹ پر انڈین مجاہدین کے شریک بانی ریاض بھٹکل کے ایک رشتہ دار انور بھٹکل کی تصویر شائع کی گئی اور افغانستان میں لڑائی کے دوران اس کی موت کا اعلان کیا گیا۔

ان مسلمان مردوں کو داخلی سطح پر ہندوستان اور بیرون ملک دونوں جگہ سے بھرتی کیا جا رہا ہے۔ صحافی پروین سوامی کی ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی کے مضافات سے عارف مجید، فہد شیخ، شاہین تنکی اور امن ٹندل نامی چار مسلم نو جوان 23 مئی کو دہشت گرد گروپ (ISIS)میں شامل ہونے کے لیےجس کی قیادت ایک جہادی کمانڈر ابو بکر البغدادی کر رہا ہے 22 شیعہ افراد پر مشتمل ایک گروپ کے ساتھ بغداد کے لئے روانہ ہو گئے۔ تمل ناڈو میں رہنے والے سنگاپور کے چند نوجوانوں کو جہادیوں نے بھرتی کیا ہے اور اب وہ شام میں لڑ رہے ہیں خاص طور پر فخرالدین جو اپنی بیوی اور تین بچوں کو لیکر میدان جہاد میں پہنچ گیا۔ نظریاتی جہادیوں کے علاوہ جو ہو سکتا ہے کہ کسی پاکستانی جہادی تنظیم میں شمولیت اختیار کر لیں یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی پاکستانی جہادی تنظیم میں شامل نہ ہوں، اپریل میں چنئی پولیس کے ذریعہ سری لنکا کے شاکر اکا ذاکر حسین کی گرفتاری اور ساتھ ہی ساتھ مئی میں چنئی ٹرین دھماکوں سے بنگلور اور چنئی میں اسرائیلی اور امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کے لئے بین الاقوامی دہشت گردی کے روابط کا انکشاف ہوا ہے جس میں شری لنکا، مالدیپ، پاکستان اور ملائیشیا جیسے ممالک بھی شامل ہیں جس کی شروعات پاکستان کی آئی ایس آئی نے کی اور جس میں کولمبو میں پاکستانی سفارت کار بھی شامل ہیں۔

29 جون کو البغدادی نے ایک آڈیو بیان جاری کیا تھا۔ جس میں اس نے خود کو خلیفہ یا اسلامی ریاستوں کا سربراہ قرار دیا اور تمام مسلمانوں سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ جہادیوں کے درمیان خلیفہ کا عہدہ جسے باضابطہ طور پر امیر المومنین کے طور پر جانا جاتا ہے اب تک صرف افغانستان کے طالبانی لیڈر ملا محمد عمر کو ہی حاصل تھا۔ البغدادی کی تنظیمISIS نے ایک عالمی میپ جاری کیا ہے جہاں وہ شریعت اسلامیہ نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اس نقشے میں خراسان کی زمین بھی شامل ہے جو کہ افغانستان، پاکستان، ہندوستان اور سری لنکا کو بھی محیط ہے۔

+ + +

ہندوستان کو جہادیوں سے خطرہ حقیقت پر مبنی ہے

البغدادی کو ایک ہندوستانی عالم مولانا سلمان ندوی کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں دنیا بھر کے اسلامی علماء اور مشرق و مغرب کے تمام اچھے اور اعتدال پسند لوگ ایک دہشت گرد مانتے ہیں۔ جولائی کے اوئل میں مدرسہ ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے ایک عالم دین مولانا سلمان ندوی نے خلافت کا عہدہ سنبھالنے پر البغدادی کو مبارک بادی پیش کرتے ہوئے ایک خط ارسال کیا۔ WhatsApp کے ذریعے بھیجے گئے خط اور اس کے بعد ہندی اور اردو میں دیے گئے بیانات میں مولانا ندوی نے البغدادی کو امیر الاسلام المومنین کہہ کر مخاطب ہوئے اور اسے دعا دی کہ 'اللہ آپ کی حفاظت فرمائے' اور 'عراق میں فتوحات کی اچھی خبر' کی بات کی اور شام میں جہادی تنظیموں کو اس بات کی تاکید کی کہ وہ اختلافات کو بھول کر اتحاد قائم کریں اورکہا کہ اگر 'جو مسلمان اللہ کی شریعت پر' پر عمل کرتا ہے اسے امیر المومنین کی اطاعت ضروری ہے۔

مولانا ندوی کے پیغام کا مقصد سینکڑوں ہندوستانی مسلم نوجوانوں کو عالمی جہاد کی راہ اختیار کرنے کی ترغیب دینا ہے اس لیے کہ وہ "جماعت الشباب الاسلامی" نامی ایک تنظیم کے سربراہ ہیں جس پر اب انٹیلی جینس ایجنسیوں کی نگرانی ضروری ہو گئی ہے۔ خاص طور پر ایک پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ جولائی میں ندوی میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق میں شیعہ جنجوؤں کے خلاف لڑنے کے لئے ہندوستان کے پانچ لاکھ سنی مسلم نوجوانوں کو تربیت دینے کے لئے سعودی عرب سے درخواست میں ایک اور خط لکھا ہے۔

دہلی میں انجمنِ حیدری نامی شیعہ مسلمانوں کی ایک تنظیم نے اردو اخبارات میں ایک اشتہار دیکر رضاکاروں کو عراق میں مقدس مزارات کا دفاع کرنے کی دعوت دی۔انجمنِ حیدری کے علی مرزا نے کہا کہ ان کی تنظیم ایک ملین رضاکاروں رجسٹر کرے گی۔ ایک لاکھ شیعوں کو رجسٹرڈ کر لیا گیا ہے اور ان میں سے 6 ہزار رضاکاروں نے عراقی ویزا کے لئے درخواست بھی ڈال دی ہے۔ رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ان کا مشن نسانیت پَسند ہے۔ ، ایک نوجوان ذیشان حیدر نے اس سفر کو "ایک مذہبی فریضہ" قرار دیا۔ ایک رضاکار حاجی مرزا قاسم رضا نے کہا: " میں کربلا کی حفاظت کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ اگر اس کے لیے مجھے اپنی جان کی قربانی بھی دینی پڑے تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔" ایک بیوہ جس کی نگاہیں کمزور ہو چکی تھیں جہاں آرا نے کہا: "زندگی کے آخری ایام گزارنے کے لیے اس سے اچھا راستہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا"۔ 25 فیصد رضاکار خواتین ہیں۔ ایران سے حمایت یافتہ شیعہ عالم کلبِ جواد نے میدان جنگ میں خواتین کی شرکت کی تائید و توثیق کی اور یہ کہا کہ "یہ ایک غلط فہمی ہے کہ اسلام میں خواتین کا دائرہ کار محدود ہے"۔ خطرہ یہ ہے کہ عراق روانہ ہونے والے ہندوستانی شیعہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ فوج کے ذریعہ بھرتی کیا جا سکتا ہے ہے۔ شیعہ نرسوں، ڈاکٹروں اور دوسرے لوگوں کے لئے بہتر کام یہ ہے کہ ہندوستان میں بیماروں کی مدد کریں یا انہیں ریڈ کراس کے ایک حصے کے کی حیثیت سے جانا چاہیئے جس کی قیادت انجمنِ حیدری جیسی کوئی فرقہ وارانہ تنظیم نہ کر رہی ہو۔

سوشل میڈیا کی رپورٹ اور تصاویر سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ تمل ناڈو اور جموں کشمیر کی ریاستوں میں البغدادی کی قیادت والی ISIS کے حق میں کچھ عوامی مظاہرے ہوں گے۔ ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا دو درجن مسلم نوجوانوں نے تامل ناڈو کے ضلع رامناتھ پرم کی بڑی مسجد کے سامنے ISIS کی ٹی شرٹ پہن کر تصویر کشی کروائی جہاں سے کچھ نوجوان پہلے ہی لڑنے کے لئے شام کو روانہ ہو چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جمو کشمیر میں نقاب پوش کشمیری نوجوانوں نے سرینگر میں ISIS کا علم بلند کرتے ہوئے کم از کم دو عوامی مظاہرے کیے جن میں پہلا مظاہرہ 11 جولائی کو جامع مسجد میں ہوا اور دوسرا مظاہرہ عید الفطر یعنی 29 جولائی کے دن ہوا۔ ہندوستانی میڈیا میں ایسی خبریں شائع ہو رہی تھیں کہ کیرل سے مسلم نوجوانISIS جیسے گروپ میں شامل ہونے کے لئے روانہ ہو سکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں انتہا پسند تنظیم القاعدہ نے ہندوستانی نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لئے میڈیا میں کافی مہم چلائی ہے۔ جون 2013 میں القاعدہ نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا جس کی شہ سرخی تھی "تمہارے دریا میں طوفان کیوں نہیں ہے؟ (Why is there no storm in your river?)"- جس میں عسکریت پسند مولانا عاصم عمر نے اس بات پر غم و غصہ کا اظہار کیا کہ دنیا بھر کے تمام مسلم نوجوانوں شام اور دوسری جگہوں پر لڑ رہے ہیں جبکہ ہندوستانی مسلمان بالکل خاموش بیٹھے ہوے ہیں۔

گزشتہ جون کے مہینے میں القاعدہ نے مسئلہ کشمیر کے تعلق سے ایک اور ویڈیو جاری کیا جس میں عاصم عمر نے کہا کہ : "میرے کشمیری مسلمانوں کے ہاتھوں سے کلاشنکوف کون چھین لے گیا اور ان کے ہاتھوں میں پتھر اور مٹی کے ٹکڑے تھما گیا۔

+ + +

نہیں تمام دہشت گرد جہادی یا اسلام پسند نہیں ہیں

اب ہندوستان کو نظریاتی جہادیوں کی جانب سے در پیش خطرات کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔اس بات کی واضح علامتیں موجود ہیں کہ SIS پاکستان اور ہندوستان سے جہادیوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ ان کے رہنما فلسفہ غزوہ ہند پر مبنی ہے جو کہ ایسا بیان ہے کہ جس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشن گوئی کی ہے میری امت میں سے دو جماعتوں کو جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے گا جس میں سے جماعت ہندوستان سے اٹھے گی حضرت عیسی علیہ السلام کی قیادت والی دوسری جماعت میں شامل ہو جائے گے جو ایک عالمی اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے موجودہ اسرائیل می ں دوبارہ مبعوث کیے جائیں گے۔ غزوہ ہند کی اس پیشن گوئی بڑے پیمانے پر طالبان اور القاعدہ کے پاکستانی کمانڈروں کی ویڈیو اور کتابوں اور ساتھ ہی ساتھ زید حامد، لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید اور جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر جیسے مرکزی دھارے میں شامل پاکستانی جہادی نظریہ سازوں کے ذریعہ بھی نقل کیا جاتا ہے۔ اب ہندوستان میں جہادیوں کے اس طبقے کا ظہور ہو رہا ہے جو نظریاتی طور پر عراق اور شام، پاکستان اور افغانستان، یمن اور صومالیہ کے جہادیوں کے ساتھ مربوط ہے۔

+ + +

جہاد کی بنیادوں پر پانچ دلائل

نائن الیون کے حادثے کے بعد کے بعد، مغربی مبصرین اور لبرل مسلم قلم کاروں نے دہشت گردی کی حقیقت کو یہ کہہ کر مسترد کرنے کی کوشش کی کہ جہادی دہشت گرد مصری جہادی نظریہ ساز سید قطب اور جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالعلیٰ مودودی طرف سے متاثر ہیں۔ جن لبرل مبصرین نے اسلام پسندوں اور جہادیوں پر تنقید کرنے کی کوشش کی میں سے انہیں ان لوگوں نے مسترد کر دیا، ان کی تضحیک و تذلیل کی اور ان پر اسلام فوبیا پھیلانے کا الزام عائد کیا جن کے دلوں میں اسلام پسندوں کے تئیں نرم گوشہ تھا۔ تاہم، جہادی تنظیموں کے ذریعہ جاری کیے گئے ویڈیوز اور مطبوعات کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان ان جماعتوں نے ان میں سے کسی بھی عالم کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ ہمیشہ جہادی لٹریچر اور ویڈیوز میں قرآنی و سنت (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات) کی تعلیمات اور چاروں خلفائے راشدین کے معمولات کی بنیاد پر جہاد کا جواز پیش کیا گیا ہے۔ اب ہم جہاد کے بارے میں پیش کیے جانے والے چند دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔

+ + +

دلیل 1: اسلام کثرتیت پسندی اور بقائے باہمی کو فروغ دیتا ہے

جب بھی کہیں اور خاص طور پر پاکستان میں صوفیہ کے مزارات پر یا دیگر مقامات پر شیعہ مسلمانوں پر دہشت گردانہ حملے کیے جاتے ہیں تو اسلام کے ان ناقدین جو اسلام کثرتیت پسندی کے اقدار اور بقائے باہمی کو فروغ دیتے ہیں اسلام کے حامیان خاموش ہو جانے کے لیے کہتے ہیں۔ وہ اس قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہیں: "تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے" (109:6)۔ تاہم اس تصور کو جہادیوں نے مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے کسی علاقے سے شائع ہونے والی اردو زبان کی ایک میگزین نوا ے افغان جہاد میں حافظ احسان الحق نے 'تیونس اور مصر کے انتخابات میں ڈیموکریٹک اسلام پسندوں کی کامیابی' کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے کہ یہ آیت تکثیریت پسندی کو فروغ دینے کے لئے نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ اسلامی نظام حیات مکہ کے غیر مسلموں کے طرز حیات کے ساتھ مخلوط نہ ہو جائے۔

انہوں نے اس مضمون میں وضاحت کی کہ کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بقائے باہمی اور اختیارات کی تقسیم کے غیر مسلموں کی ایک پیشکش کو مسترد کر دیا تھا: 'تمام مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے مکمل وضاحت کے ساتھ قرآن کا یہ فرمان ہے کہ اللہ نے ان کے لئے مکمل مذہب اسلام کا انتخاب کیا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک دین لیکر تشریف لائے تھے اور آپ نے اپنے شب و روز کو صرف اسی دین کے نافذ کرنے کے لیے کے لئے ہمارے درمیان بسر کیا۔ انہوں نے [تعاون کے ساتھ] حکومت کرنے کے کفار مکہ کی ایک کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا اس لیے کہ سمجھوتے کی بنیاد پر اسلام کے ساتھ ایک مشرک نظام کو چلانا غیر ممکن ہے۔ '

+ + +

دلیل 2: اسلام میں خودکش حملوں کی اجازت نہیں ہے

پاکستان میں طالبان نے احمدی مسلمانوں، شیعوں اور صوفیہ کے بے شمار مساجد، مزارات اور مقدس مقامات کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ سال رواں 2014 میں عراق اور شام میں ان کے نظریاتی ہمجولی تاریخی مساجد اور نبیوں کے ان مزارات کو زمین بوس کرنے میں لگے ہوئے ہیں جن کا احترام و عقیدت شیعہ اور سنی دونوں کے دلوں میں یکساں ہے۔ تاہم، جو لوگ جہادیوں کی مذمت نہیں کر سکتے ہیں ان کی ایک اہم دلیل یہ ہے: مساجد پر بمباری غیر اسلامی ہے اور خودکش حملے کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ دلیل جہادیوں کے دفاع میں سب سے پہلے یہ دلیل دی جاتی ہے۔ تاہم، خود جہادی لوگ اسلام کے ابتدائی ادوار کے واقعات اور مستند اسلامی کتب کا حوالہ دیتے ہوئے اس دلیل کی تردید کر رہے ہیں۔

2013 میں، جہادی ویب سائٹ "منبر التوحید و الجہاد" میں عبادت خانوں اور گرجا گھروں پر بم دھماکوں کی اباحت میں ماریشس کے ایک بنیاد پرست عالم شيخ أبو المنذر الشنقيطي کا لکھا گیا ایک فتوی شائع کیا گیا۔انہوں نے اسلامی فقہاء کی رائے کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں عبادت گاہوں پر حملے کرنا حرام ہے: "اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے اور گرجے اور مسجدیں اور یہودیوں کے معبد اور وه مسجدیں بھی ڈھا دی جاتیں جہاں اللہ کا نام بہ کثرت لیا جاتا ہے۔ (22:40)"

تاہم، شيخ أبو المنذر الشنقيطي نے قرون وسطی کے عالم ابن القیم الجوزیہ کی اس رائے کا حوالہ دیتے ہوئے خود اس دلیل کو مسترد کر دیا ہے کہ اس آیت کی افادیت صرف قبل از اسلام کے زمانے تک ہی محدود ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ظہور اسلام کے ساتھ ہی یہودیت اور عیسائیت منسوخ ہو چکی ہے اسی لیے ان کی عبادت گاہوں کو حفاظت کا دیا گیا خصوصی درجہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ أبو المنذر الشنقيطي نے وضاحت کی کہ صرف دو قسم کی عبادت گاہوں کو اسلام میں تحفظ فراہم کیا گیا ہے: ان لوگوں کی عبادت گاہوں کو کی ایک مسلم ریاست میں ذمی (دوسرے درجے کے شہری)، اور ویران خانقاہیں۔ لیکن حالات کے اعتبار سے گرجا گھروں اور عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ اسے اس طرح سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر مشرک ہندو ذمی کی حیثیت سے ایک مسلم ریاست میں رہتا ہے تو ان کی مندروں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ یہ تحفظ صرف موحد غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو ہی حاصل ہے۔

دسمبر 2013 میں، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی یا پاکستانی طالبان کی تحریک) اپنے کمانڈر قاری حسین احمد محسود کی موت کے بعد ایک ویڈیو جاری کیا۔ ویڈیو میں محسود نے مساجد پر بمباری کرنے پر طالبان کی پاکستانی ادیبوں کی تنقید کا جواب اس طرح دیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں جہاد کا اعلان کیا اور منافقین کی تعمیر کردہ مساجد کو ڈھا دیا"۔ مدینہ منورہ میں منافقین کی مسجد کایہ مسئلہ سورہ توبہ کی آیت 107-110 میں مذکور ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دور حیات میں رونماں ہونے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے جہادی اس بات کو بھی کو مسترد کر رہے ہیں کہ اسلام میں خودکش حملوں کی اجازت نہیں ہے۔ جہادیوں سمیت اکثر اسلامی علماء اس بات سے متفق ہیں کہ ذاتی وجوہات کی بناء پر اسلام میں خود کشی کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم، جہادیوں کا یہ کہنا ہے کہ شریعت اسلامیہ کے قیام کے لیے خودکش حملوں کی اجازت اسلام میں۔ 2013 میں طالبان کے ایک میگزین میں لکھتے ایک اسلام پرست کالم نگار محمد قاسم نے 'شہادت' کے حملوں کے جواز میں دو قرآنی آیات کا حوالہ پیش کیا: ''اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے۔"(29:64)؛ "جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مرده نہ سمجھیں، بلکہ وه زنده ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں" (3:169)۔

+ + +

دلیل 3: اسلام ایک پرامن مذہب ہے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد جانشینی کے لیے قتل و غارت گری شروع ہو گئی۔ مقام غدیر پر اپنے پیروکاروں کو دیے گئے ایک پیغام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو اپنا جانشیں نامزد کیا تھا جسے تمام علماء کرام متفق ہیں لیکن سنی علماء اسے ذرا مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ تاہم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد ہی صحابہ کرام نے یہ رائے پیش کی کہ خلیفہ مشاورت کے ذریعے منتخب کیا جائے گا۔ ابو بکر پہلے خلیفہ بنے اس کے بعد عمر بن خطاب اور پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم تخت خلافت پر جلوہ نشیں ہوئے۔ چوتھے خلیفہ کے انتخاب کے وقت اختلاف پیدا ہو گیا اور خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلی گئی۔ اس اختلاف کے بطن سے دو اسلامی فرقوں کا جنم ہوا پہلا فرقہ سنیوں کا تھا جنہوں نے اس جانشینی کو معتبر مانا جس میں حضرت علی چوتھے خلیفہ بنیں۔ دوسرا فرقہ شیعوں کا تھا جن کا یہ ماننا تھا کہ حضرت علی ہی پہلے خلیفہ ہیں۔ جس کی وجہ سے اسلام میں خونی معرکوں کا آغاز ہوا۔

حضرت ابوبکر کے علاوہ باقی تمام خلفاء اور شیعہ کے بارہ اماموں کو قتل کر دیا گیا یا کربلا کی جنگ کے نتیجے میں زہر دیکر مار دیا گیا۔

آج بھی زیادہ تر جہادی خونریز تنازعات کو شیعہ–سنی اختلافات کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ تنازعات مسلم ممالک میں ایران اور سعودی عرب کے کردار کے پلندہ ہیں، خاص طور پر تہران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد۔ ایران (بنیادی طور پر شیعہ) نے حزب اللہ سمیت بے شمار دہشت گرد گروہوں کی پروورش کی ہے۔ سعودی عرب (بنیادی طور پر سنی) ایرانی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لئے دنیا بھر میں سنی جہادی تنظیموں کی حمایت کی ہے۔ مشرق وسطی میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے کے امریکی صدر براک اوباما کے فیصلے نے سعودی عرب خود کو اتنا غیر محفوظ مھسوس کر رہا ہے کہ ریاض شام اور عراق میں آئی ایس آئی ایس جیسی جہادی تنظیموں کی حمایت اور مدد کی ہے۔ شام اور عراق میں خونریزی کی موجودہ لہر کو تہران، ریاض اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ کی کارستانی کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ابتدائی اسلامی ادوار میں خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 27 جنگوں میں شرکت کی ہے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ ہمدردی اور انصاف کا معاملہ کیا؛ اور بے شک ان کی زندگی کے واقعات کا مطالعہ کرنے پر یہ بات سچ ثابت ہوو جاتی ہے۔ تاہم، اسلام پسندوں کی سب سے اہم دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے فتح کے بعد اپنے تمام دشمنوں کو معاف کر دیا تھا۔ یہ تاریخی طور پر غلط ہے یا اس کا سچائی سے واسطہ صرف جزوی طور پر ہے۔ 2012 میں القاعدہ نے استاد احمد فاروق کا ایک آڈیو لیکچر جاری کیا جو پاکستان کے لئے القاعدہ کا شعبہ تبلیغ و اشاعت اور میڈیا کے سربراہ ہیں۔ لیکچر میں فاروق نے اعلی سیکورٹی کمانڈو ملک ممتاز قادری کو داد و تحسین سے نوازا ہے جسے پنجاب کے لبرل گورنر سلمان تاثیر کی حفاظت کے لئے تعینات کیا گیا تھا اور اس نے ان کی حفاظت کرنے کے بجائے پاکستان کے توہین رسالت کے قوانین میں اصلاحات کی وکالت کرنے کی پاداش میں انہیں قتل کر دیا۔

فاروق نے افواج کو اس بات کی وکالت کرنے کے لئے دشمن فورسیز کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ طالبان اور دیگر جہادی فورسز کو صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انہیں پر امن طریقے سے احتجاج درج کرانا چاہیے۔ استاد فاروق نے کہا کہ "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہمیں یہ نہیں سکھایا ہے۔ فتح مکہ کے دن جب تمام لوگوں کو عام معافی دی گئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع دی گئی کہ عورتوں سمیت تقریباً 10 لوگ ایسے ہیں آپ کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چہ وہ کعبہ (مکہ مکرمہ کی مقدس مسجد) کے پردے میں بھی لپٹے ہوں وہ احترام کے مستحق نہیں ہیں ان کا خون بہا دیا جائے اور پھر انہیں مار دیا گیا۔ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں توہین رسالت کا یہ قانون عیسائیوں، احمدی مسلمانوں اور دوسرے لوگوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔

+ + +

دلیل 4: جہاد صفائے قلب و باطن کے لیے ذاتی سطح پر جد و جہد کا نام ہے

جہاد کا لفظی معنی جدو جہد اور سعی پیہم کرنا ہے۔ علماء اسلام بارہا یہ کہتے ہیں کہ جہاد کا مطلب ایک بہتر مسلمان بننے کی جدوجہد اور سعی پیہم کرنا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جہاد کا معنی جدو جہد اور سعی پیہم کرنا ہے لیکن عام مسلمانوں کے ذہن میں اس کا صرف ایک ہی معنی ہے اور وہ اسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے مسلح جنگ ہے۔ تقریبا جہادی تنظیموں کی جانب ساے جاری کی گئی تمام ویڈیوز اور ای بک (e-book) میں براہ راست قرآن مجید کے حوالے سے یہ بات کہی گئی ہے کہ جہاد کا مطلب ہتھیار اٹھانا، تربیت لینا اور زمین پر اللہ کی حکمرانی قائم کرنے کی خاطر لڑنے کے لیے تیار رہنا ہے۔ اکثر جہادی ویڈیو میں ایک آیت کا حوالہ بارہا دیا جاتا ہے:" اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیده نہ رہے۔ اور دین اللہ ہی کا ہو جائے"( 8:39)۔ اس آیت کا حوالہ ملا محمد عمر کی قیادت میں افغان طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے منبع الجہاد اسٹوڈیو کی 2013 میں جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیا گیا تھا۔

اسی طرح کی دیگر آیات بھی ہیں کہ دہشت گرد جن کا حوالہ اکثر پیش کرتے ہیں۔ 2013 میں تحریک طالبان پاکستان کے ایک ویڈیو میں اس آیت کا حوالہ دیا گیا تھا : ' ان سے تم جنگ کرو اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا (9:14)۔ گزشتہ سال قاعدہ الجہاد فی بلاد خراسان (افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ) نے عسکریت پسند مولانا عاصم عمر کا ایک ویڈیو لیکچر جاری کیا جس میں انہوں نے قرآنی آیات کا حوالہ دیا اور یہ کہا کہ اسلام کو تمام دوسرے نظام حیات پر غالب ہونا چاہئے: "اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا، لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل وکرم کرنے والا ہے"(2:251)۔ عاصم عمر نے معنی کی وضاحت اس طرح پیش کی: "اگر جہاد نہ کیا جاتا ہے تو روئے زمین کا ذرہ ذرہ فساد سے بھر جائے گا۔"

جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اسلام اعتدال پسندی کی تعلیم دیتا ہےان وہ اس قرآنی آیت کا حوالہ پیش کرتے ہیں: "دین (کی قبولیت) کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں"(2:256)۔ تاہم، جہادیوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ آیت غیر مسلموں پر قابل انطباق ہے جنہیں شرعی احکام کے تحت ہونا ضروری ہے۔ ایک سال قبل تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان میں رہنے والے ایک برمی عسکریت پسند عالم مفتی ابوذر اعظم کا ایک ویڈیو بیان جاری کیاجس میں انہیں نے وضاحت کی کہ "اس آیت کے مطابق کسی بھی عیسائی، یہودی یا غیر مسلم کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب مسلمان جنگ کرنے کے لئے جائیں تو انہیں سب سے پہلے دین کی دعوت دینی چاہیے۔ تاہم انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ "صرف اسلام ہی 'جیو اور جینے دو' کا اصول فراہم کرتا ہے" انہوں نے کہا کہ بے شک مسلمانوں کے لئے اسلام میں جبر ہے۔ انہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 'جب تمہارے بچے دس سال کے ہو جائیں اور نماز ادا نہ کریں تو انہیں نماز کی ترغیب دینے کے لیے مارو۔ اعظم کیا اس تشریح کا مطلب یہ ہے کہ ؛1) بے شک جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو دین کے معاملے میں اس پر جبر ہے؛ 2) غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، لیکن اسلامی حکومت کے تحت ذمی (دوسرے درجے کے شہری) کے طور پر رہنا چاہیے، جو کہ روئے زمین پر واحد جائز نظام حکمرانی ہے۔ اور جزیہ کے بدلے میں ان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے گی۔

جون 2013 میں عاصم عمر نے القاعدہ کے ایک ویڈیو میں کہا کہ کسی بھی غیر مسلم کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام کو حکمرانی کے دوسرے تمام نظام پر غالب ہونا ضروری ہے جس کا مطلب یہ ہے اسلام میں ایسی کسی بھی صورت حال کا کوئی تصور نہیں ہے کہ جس میں یہ اقتدار میں غیر مسلموں کے ساترھ ہم آہنگ ہو سکے۔ عمر قرآن کی اس آیت کا حوالہ دیا: "اور اگر [ایک اسلامی شرعی نظام کے قیام کے] راہ میں کوئی طاقت دخل انداز ہو تو قرآن کا حکم ہے کہ: 'جو شخص اس نظام میں مخل ہو تو ان کے خلاف قتال کرو یہاں تکہ کہ ان کی طاقت بکھر جائے، ان کی حکمرانی ختم ہو جاتا ہے اور پھر قرآن کے مطابق پوری دنیا میں ایک نظام حکومت قائم کرو"۔ "ٹی ٹی پی کے ساتھ منسلک فیس بک پر ایک انٹرنیٹ فورم، 5 مارچ کو ایک پوسٹ میں اس بات کو مسترد کر دیا کہ "اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں”۔ اس میں ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے: جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے وا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا (5:32)"۔ جہادیوں کے نقطہ نظر سے جہاد کا مطلب صرف پوری بنی نوع انسان کو شرک اور اس جیسے دیگر مفسدات سے بچانے کے لیے

+ + +

دلیل 5: اسلام اقلیتوں کی حفاظت کرتا ہے اور امن کی تعلیم دیتا ہے

جب کوئی اسلام پر تنقید تو ہماری بستیوں میں اسلام پسند لوگ یہ جواد دیتے ہیں کہ اسلام اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ان کا یہ جواب یقینا درست ہے لیکن اگر ایک گہرائی کے ساتھ اس کی تحقیق کی جائے تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام کے تحفظ سے لطف اندوز ہونے کے لئے غیر مسلم اقلیتوں کو اسلامی حکومت کے تحت رہنا اور جزیہ ادا کرنا ضروری ہے۔ بہ الفاظ دیگر غیر مسلم حکمران نہیں بن سکتے۔ یہ بالکل وہی جہادی دلیل ہے جس کی بنیاد پر بہت سارے مسلم ممالک غیر مسلم شہریوں کو ریاست کا سربراہ بننے کی اجازت نہیں دیتے۔ آئین پاکستان کے تحت، ایک غیر مسلم پاکستانی شہری ریاست کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ 2008 میں ایک آئینی ترمیم کے تحت مالدیپ نے غیر مسلموں کو وہاں کا شہری بننے سے روک دیا۔ کئی دہائیوں سے مصر نے آئینی طور پر حکومت میں اعلی عہدوں سے اپنے غیر مسلم شہریوں محروم کر رکھا ہے۔ کئی اسلامی ممالک میں خود انہیں کے غیر مسلم شہریوں سربراہ مملکت بننے کی اجازت نہیں ہے۔ سوڈان سے لیکر پاکستان تک پھیلے ہوئے کئی اسلامی ممالک میں توہین رسالت قانون کا بھی یہی حال ہے جہاں اسلام پسندوں کا کہنا ہے کہ توہین رسالت کو وہ کبھی بھی معاف نہیں کر سکتے۔

اسلامی علماء اور ایک مسلمان اوسطاً یہی کہتے ہیں کہ قرآن امن کی وکالت کرتا ہے۔ بے شک یہ سچ ہے۔ قرآن پاک سینکڑوں آیات ایسی ہیں جو محبت، امن اور بھائی چارے کی دعوت دیتی ہیں ۔ اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور مسلمانوں کی اکثریت پرامن ہے۔ تاہم معنی خیز انداز میں اکثریت کا وجود نہیں ہے: ایک پورے گاؤں کو خاموش کرنے کے لیے صرف ایک عالم کو کھڑے ہو کر تقریر کرنے کی ضرورت ہے؛ مسلمانوں کی اکثریت اسے نظر انداز کر کے ان پر حکمرانی کرنے کی اجازت اس عالم کو دے دیتی ہے؛ اور وہ چند لوگ جو اس کی پیروی کرتے ہیں صحیح معنوں میں جہادی بن سکتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ امن اور بھائی چارے کے حق میں سینکڑوں قرآنی آیات ہیں جبکہ اسلام میں مسلح جنگ اور جنگ کی حالت میں عورتوں کی گرفتاری کے کئی جواز بھی موجود ہیں جس کا مظاہرہ بوکو حرام نے نائیجیریا میں کیا۔ لہٰذا دوسرے لوگ دوہری صورت حال کا اعتراف کرنے کی ضرورت کی بات کرتے ہیں: متعدد آیات سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ اسلام ایک پر امن مذہب ہے اور نہیں بھی۔

+ + +

اسلامی اصلاحات کا مسئلہ

اسلام میں خدا کی دو صفات "رحمٰن اور رحیم" (مہربان اور رحم کرنے والا) اور "قہار و جبار" (زبردست اور سزا دینے والا) انتہائی واضح ہیں۔ وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ہندوستانی علماء کرام ہیں ایک ساتھ بیٹھیں اور دور جدید میں اہمیت و افادیت کی حامل قرآنی آیات پر غور کریں اور اس بات کا اندازہ لگائیں کہ قرآنی آیات سے ماخوذ کس طرح کی تعلیمات مسلم نوجوانوں کو ISIS، القاعدہ اور طالبان جیسی جہادی جماعتوں کی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ ایک بامعنی اسلامی اصلاح کی شروعات کے لیے اسلامی علماء اور کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلم نوجوانوں کو یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ قرآن میں دو قسام کی آیتیں ہیں: پہلی: امن، محبت اور کثیریت پسندی کی دعوت دینے والی اور دوسری) جو ان تعلیمات سے متصادم ہےہیں۔

خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہندوستان میں اسلامی اصلاحات کی ایک مضبوط روایت رہی ہے۔ 1857 میں سقوط دہلی کے کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی قسمت کو بحال کرنے کی مسلم کمیونٹی کے اندر دو قسم کے رد عمل دیکھنے کو ملے: اصلاح پسندوں کے ایک گروپ کی قیادت سر سید احمد خان کر رہے تھے جنہوں نے مسلمانوں کے درمیان ایک سائنسی مزاج کو فروغ دینے کے لیے یورپی سائنس سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا؛ انہوں نے قرآن کی تشریح کی اور جدید تعلیم کے لئے ایک کالج قائم کیا جسے اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دوسری جمارؤعت کی قیادت مولانا قاسم نانوتوی جنہوں نے اسلامی احیاء کو مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل سمجھا اور جہل پسندی کو فروغ دینے اور خواتین مخالف فتوے جاری کرنے والا ادارہ دارالعلوم دیوبند قاءم کیا۔ آزادی کے بعد مہاراشٹرہ کے ایک مصلح حامددلوائی نے روشن خیالی تجاویز اور سیکولر پرستی اور اقلیت پرستی سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی ضرورت پر بات کر کے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک لبرٹی منصوبے کی شکل میں اصلاحات کے ایک بہتر ین ماڈل پیش کیا۔

عصر حاضر میں مولانا وحید الدین خان، مرحوم اصغر علی انجینئر، داؤد شریف، شائستہ امبر، زینت شوکت علی، سیدہ سیدین حمید، عظمی ناہید اور دیگر اسلامی علماء اور کارکنان اسلامی اصلاحات میں سرگرم عمل ہیں: بنیادی طور پر ان کی سرگرمی اسلام کے فریم ورک کے اندر ہے۔ تاہم، مسلمانوں کو بھی اس بات کا شعور ہونا ضروری ہے کہ تبدیل کا ظہور بیرونی محرکات یعنی سفر، عالمگیریت، جنگوں اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ پیدا کیے گئے غیر ملکی خیالات و نظیات کا سامنا کرنے سے ہوتا ہے۔ مشرق وسطی اور افغانستان اور پاکستان کے علاقے میں تنازعات کی موجودہ لہروں سے بھی مسلمانوں کو یہ بات یاد رہے کہ اسلامی اصلاحات ضروری ہے، اور اس قسم کا کام ہندوستانی علماء کرام کے ذریعہ انجام دیا جانا ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے ہندوستان ہی ایک ایسا واحد ملک ہے جہاں مسلمانوں کو مسلسل آدھی صدی سے زیادہ تک کا جمہوری اقدار کا تجربہ حاصل ہے۔ تقریباً ایسا کوئی مسلم ملک نہیں ہے جس کا موازنہ تقریباً تمام سطحوں یعنی سیاسی اور مذہبی آزادی، تعلیمی اور اقتصادی مواقع، سوچ اور اظہار رائے کی آزادی، انفرادی آزادی یا سیاسی ایسوسی ایشن بنانے کے حق کی آزادی میں ہندوستانی مسلمانوں کی اس غیر معمولی تجربے کے ساتھ کیا جا سکے۔ ہندوستان کا آئین مسلم مسائل کو حل کرنے کے بے شمار روشن خیال نظریات پر مشتمل ہے۔

تاہم، اس تناظر میں یہ ایک المیہ ہے کہ ہندوستان سے تقریبا ایک سو مسلمان عراق، شام اور افغانستان میں جہادیوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو یہ تسلیم کرنا ضروری ہمارے درمیان میں جہاد کا مسئلہ ہے۔

طفیل احمد بی بی سی اردو سروس کے ایک سابق صحافی اور مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ واشنگٹن ڈی سی میں ساؤتھ ایشیا اسٹڈیز پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔

ماخذ:

http://www.openthemagazine.com/article/voices/the-rise-of-ideological-jihadists

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/tufail-ahmad/the-rise-of-ideological-jihadists--and-why-india-should-be-really-worried/d/98710

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/tufail-ahmad/the-rise-of-ideological-jihadists--نظریاتی-جہادیوں-کا-عروج-اور-ہندوستان-کو-فکر-مند-ہونے-کے-وجوہات/d/98845

 

Loading..

Loading..