New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 10:28 AM

Urdu Section ( 18 Jan 2016, NewAgeIslam.Com)

Punishment for Blasphemy: A Pre-Islamic Practice توہین رسالت کی سزا: دور جاہلیت کا ایک معمول

 

 

 

 

 

 

 اسپیکنگ ٹری

17 مارچ، 2011

جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے والوں کو پھانسی دی جانی چاہئے ان کےپاس اپنے اس عقیدے کی حمایت میں قرآن یا حدیث سے کوئی واضح دلیل نہیں۔ وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پیش آنے والے محض چند واقعات کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث فلاں فلاں شخص کو مار ڈالا گیا تھا اس لیے کہ ان لوگوں نے گستاخیٔ رسول کا ارتکاب کیا تھا۔ ایسے لوگ اپنی کمزور دلیل میں کعب بن اشرف کے واقعہ کا حوالہ عام طور پر پیش کرتے ہیں۔

مدینے کا باشندہ کعب بن اشرف (متوفی 624 ء) ایک شاعر اور ایک خطیب بھی تھا۔ اس کی ماں کا تعلق ایک یہودی قبیلے بنو نضیر سے تھا۔ مدینہ میں اسلام کے ابتدائی ایام میں اس نے اپنی نظموں اور تقاریر میں ہجو کر کے نبی صلی اللہ علی ہوسلم اور آپ کے پیروکاروں کو بدنام کرنا شروع کر دیا۔

ابن کثیر کی تصنیف البدایہ و النہایہ (صفحہ۔ 326-336 جلد۔ 5) میں یہ واضح طور پر یہ موجود ہے کہ جب کعب بن اشرف نے نبی صلی اللہ علی وسلم کو بدنام کرنا شروع کیا تو انہوں نے صرف ایک شاعر صحابی حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس کے جھوٹے الزامات کا جواب دینے کے لیے کہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے پر حسن بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک نظم لکھی جس میں انہوں نے کعب بن اشرف کی جانب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی تردید کی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کے قبیلہ بنو نضیر سمیت مدینہ کے کئی قبائل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی دوسرے قبیلے کی حمایت نہیں کریں گے۔ لیکن کعب بن اشرف نے مکہ جا کر اور مسلمانوں کے خلاف قریش کو بھڑکا کر اس معاہدے کو توڑ دیا۔ اس نے قریش کے رہنماؤں کو کہا کہ وہ مسلمانوں پر باہر سے حملہ کریں اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے قبیلے کے لوگ شہر کے اندر سے مسلمانوں پر حملہ کر دیں گے۔ وہ ایک ایسی جماعت کا رہنما بن گیا جس کا واحد مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا تھا۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور بنو نضیر قبیلے کے درمیان معاہدے کی واضح خلاف ورزی تھی۔ اس نے نہ صرف یہ کہ اپنے قبیلے کو مسلمانوں کے خلاف کیا بلکہ بنو اوس جیسے دوسرے قبائل کو بھی مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور بنو نضير قبیلے کے درمیان کیے گئے معاہدے کی ایک واضح خلاف ورزی تھی، یہ ریاست مدینہ کے خلاف غداری اور بغاوت کے مترادف تھا۔

اور اسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک کی وجہ سے نہیں بلکہ ریاست مدینہ سے اور اس کے خلاف سازش کرنے کی بنیاد پر موت کی سزا دی گئی تھی۔

ایک مارڈن عالم دین شیخ محمد رضا کی یہ دلیل کہ کعب بن اشرف کو توہین رسالت کے سبب پھانسی دی گئی تھی بے بنیاد ہے اس لیے کہ ان کی اس دلیل کی تائید نہ تو قرآن مجید، نہ حدیث سے اور نہ ہی اسلام کے ابتدائی ادوار کے علماء کرام کی تحریروں سے ہوتی ہے۔

جو کوئی ابن کثیر کی تصنیف البدایہ و النہایہ کے مذکورہ حوالے کے مطالعہ کا شوقین ہو اسے یہ معلوم ہو گا کہ کعب بن اشرف کا معاملہ واضح طور پر ریاست کے خلاف بغاوت کا تھا توہین رسالت کا نہیں۔

اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں  بہت سے لوگوں کے خلاف ان کے مذہب کی وجہ سے کاروائی کی گئی۔ قرآن کی مندرجہ ذیل آیت میں اس کا حوالہ موجود ہے:

اور انہیں ان (مومنوں) کی طرف سے اور کچھ (بھی) ناگوار نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو غالب (اور) لائقِ حمد و ثنا ہے ۔ (البرج ، 85:8)۔

اسلام کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کے عقیدے کی وجہ سے لوگوں پر کاروائی کرنے کا صدیوں پرانا کافرانہ عمل ختم ہو گیا۔ لیکن عباسی دور میں مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین رسالت کے الزام میں مقدمہ چلائے جانے کی قبل از اسلام کی روایت کا دوبارہ احیاء کیا۔ یہ عمل انتہائی فاسد اور مکمل طور پر اسلامی اصولوں کے خلاف تھا اس لیے کہ اسلام صرف قتل جیسے جرم کا ارتکاب کرنے پر ہی سزائے موت کا حکم دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ایک بھی آیت ایسی نہیں ہے جس میں اس بات کی اجازت دی گئی ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ کے خلاف کچھ کہنے والے کو سزائے موت دی جانی چاہئے۔ بلکہ قرآن اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو بھی ان دوسرے عظیم نبیوں کی طرح صبر کرنے کا حکم دیتا ہے جنہوں نے اس طرح کے معاملات کا سامنا صبر کے ساتھ کیا تھا، (46:35

یہ دنیا ایک آزمائش کا گھر ہے۔ یہاں ہر انسان اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کے لئے آزاد ہے۔ آزادی کے بغیر انسانوں کی آزمائش ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا، اگر اظہار رائے کی آزادی خود اللہ نے انسانوں کو عطا کیا ہے تو انہیں اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، توہین رسالت کی سزا کو منظوری نہیں دی جا سکتی۔

دوم، کسی شخص کا توہین رسالت کے کسی ملز کی جان لینا (جیسا کہ ابھی حال میں ہی پاکستان میں ایک ایسا ہی معاملہ پیش آیا تھا ) یقینی طور پر حرام ہے۔ اسلامی قانون میں یہ امر بالکل واضح ہے کہ اگر کسی شخص پر کسی جرم کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو اس کے اس معاملے کو حکام کے پاس لے جایا جائے گا جو اس کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔ اس کے بعد اس کے اس کیس کی تفتیش ریاستی عدالت کرے گی جس میں چار گواہوں کی گواہی سنی جائے گی اس کے بعد عدالت ایک مناسب قانونی عمل کو پورا کرنے کے بعد اپنا فیصلہ دے گی۔ اگر ملزم مجرم ثابت ہو جاتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے سزا دیں گے۔ لیکن اگر عوامی سطح پر کوئی بھی شخص بندوق اٹھاتا ہے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے ایسے کسی شخص کو گولی مار دیتا ہے جسے وہ گستاخ رسول سمجھتا ہے تو اس کے اس عمل کو مکمل طور پر اسلام کی روح کے خلاف سمجھا جائے گا۔

اسی طرح میں عبداللہ بن ختال کا معاملہ بھی توہین رسالت کا نہیں تھا۔ یہ سچ ہے کہ وہ بھی کعب بن اشرف کی طرح اپنی شاعری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتا تھا۔ لیکن اس کی سزا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ ایک قتل کی وجہ سے اسے یہ سزا دی گئی تھی جس کاارتکاب اس نے کیا تھا۔ اس نے اپنے خادم کو ہلاک کر دیا تھا جس کی سزا کے طور پر اسے بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کا حوالہ ابن تیمیہ کی کتاب، السارم المسلول علی شاتم الرسول، صفحہ 265، جلد2، میں موجود ہے۔

توہین رسالت کے قانون کے حامیوں نے جس انتہائی اہم بات کو نظر انداز کیا وہ یہ ہے کہ فقہ کا ایک انتہائی اہم اصول یہ ہے کہ اس طرح کا قانون بنانے سے پہلے اس کا حوالہ واضح طور پر قرآن مجید یا حدیث کی نص قطعی میں ہونا ضروری ہے۔

قرآن کا یہ بیان انتہائی واضح ہے کہ اگر کسی نے کسی شخص کو بلا عذر شرعی کے قتل کر دیا تو اس کا یہ عمل پوری انسانیت کو ہلاک کرنے کے مترادف مانا جائے گا (5:32)۔ اگر یہ فرض کر لیا جائےکہ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک کرنے والے کو موت کی سزا دینا اللہ کی نظر میں حق ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اس مخصوص مسئلے پر قرآن بالکل خاموش ہو؟

ماخذ:

cpsglobal.org/content/punishment-blasphemy-pre-islamic-practice#sthash.S4rTvF7P.dpuf

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/the-speaking-tree/punishment-for-blasphemy--a-pre-islamic-practice/d/106019

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/the-speaking-tree,-tr-new-age-islam/punishment-for-blasphemy--a-pre-islamic-practice--توہین-رسالت-کی-سزا--دور-جاہلیت-کا-ایک-معمول/d/106035

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..