New Age Islam
Fri Oct 30 2020, 12:41 PM

Urdu Section ( 8 March 2010, NewAgeIslam.Com)

The Preaching Role Of The Prophet (Peace Be Upon Him) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا داعیانہ کردار

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

رسول اللہ ﷺ کی مختلف حیثیتو ں کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے، لیکن آپﷺ کی سب سے نمایاں صفت ۔۔۔۔جس کا اللہ تعالیٰ نے بار بار ذکر فرمایا ہے۔۔۔۔ یہ ہے کہ آپﷺ کی طرف سے حق اور سچائی کے داعی ہیں، قرآن مجید میں آپﷺ کی اس حیثیت کو مختلف الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے ،جسے آپ ﷺ کو ‘‘شاید’’ کہا گیا، (المزمل :15) ۔۔۔‘‘شاید’’ کےمعنی گواہی دینے والے کے ہیں، گوا ہی ایسی چیز کی دی جاتی ہے، جو دیکھی ہوئی ہو یا دیکھی ہوئی چیز کی طرح اس کے نزدیک یقینی ہو، اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن حقیقتوں کی دعوت دیتے تھے ،ان پر آپ ﷺ کا پورا یقین تھا اور آپﷺ کو اس ذرا بھی شک وشبہ نہیں تھا، داعیان دین کی شان یہی ہے کہ انہیں اسلام پر ایسا گہرا یقین ہو، جیسے انسان دن کے کے وقت ہونے کا یقین رکھتا ہے، ۔۔۔۔ اسی کے ہم معنی ایک او رلفظ ‘‘ شہید ’’ کے ہیں ، اس کے معنی بھی گواہ کے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے لئے قرآن مجید میں یہ لفظ بھی بار بار استعمال کیا گیا ہے۔

 رسول اللہ ﷺ کی داعیانہ حیثیت کو قرآن مجید میں ‘‘بشر’’ (البقرہ :119) اور ‘‘میشر ’’ (الا خزاب :46) کے الفاظ سے بھی ذکر کیا ہے، یہ دونوں الفاظ قریب قریب ہم معنی ہیں، یعنی خوشخبری دینے والا ، خوش خبری ایسی خبر کو کہتے ہیں جو ،مخاطب کو مسرور اور شاد کام کردے، اس کی خبر انسان کے دل میں امید کے چراغ جلائے اور یاس ونا امیدی سے بچائے ،قرآن مجید میں زیادہ تر ایمان کی دعوت دیتے ہوئے جنت کی نعمتوں میں اور دنیا وآخرت کی فلاح وکامیابی کا ذکر ہے، داعی کا اسلوب یہی ہونا چاہئے کہ اس کی بات لوگوں کو خوشی او رمسرت کے احساس کے ساتھ حق کی طرف لے آئے ،آپ ﷺ کے چچا ابوطالب کی وفات کا وقت ہے، معززین قریش جمع ہیں اور چاہتے کہ ابوطالب کے واسطہ سے آپﷺ سے کچھ صلح ہوجائے ،اس موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی گفتگو اس طرح شروع فرمائی: میں ایک کلمہ پیش کرتا ہوں ، تم اسے قبول کرلو ، پورے عرب کے تم مالک ہوجاؤگے او ر عجم تمہارے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے:‘‘ کلمتہ و احدۃ تعطو نہا ، تملکون بہا العرب وتدین لکم بہا العجم ’’ ( حیاۃ لصحاۃ :1/18، کتاب الاول)۔۔۔معلوم ہوا کہ داعی کو دین اس طرح پیش کرنا چاہئے کہ لوگوں کو آسان محسوس ہو او رلوگ اسے بوجھ نہ محسوس کرنے لگیں، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذبن جبل ؓ اور حضرت ابوموسی ؓ کو یمن بھیجا تو انہیں تاکید فرمائی :‘‘ بشرا ولا تنفرا وبسرا ولا ئعسرا’’ (بغاری ،عن ابی موسی اشعری ؓ ،حدیث نمبر 3038، مسلم حدیث نمبر 1723) یعنی ‘‘ خوش خبری دینا، ایسی بات نہ کہنا جو نفرت پیدا کرنے والی ہو اور دین کو آسان کر کے پیش کرنا نہ کہ دشوار ۔

 آپﷺ کو ‘‘نذیر’’ بھی کہا گیا ، (البقرۃ 119) اور ‘‘منذر’’ بھی ( الرحد:7)،ان دونوں الفاظ کے معنی ہیں ڈرا نے والا، بعض انسانوں کا متراج ایسا ہوتا ہے کہ شوق اسے کسی اچھے عمل پر آمادہ نہیں کرتا، جب تک کہ اس کے ساتھ خوف کی شمولیت نہ ہو، اگر شوق کا دلانا کافی ہوتا تو دنیا میں تعزیری قوانین کی ضرورت پیش نہیں آتی ،اسلئے دعوت حق میں یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ کے احکام کی نافرمانی کرنے والوں کو اس کے عذاب سے ڈرایا جائے، رسول اللہﷺ کی کیفیت یہ تھی کہ جب آپ ﷺ لوگوں سے خطاب فرماتے تو آپﷺ کے چہرہ انور پر بھی اس کے نقوش نمایا ہوئےحضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ خطاب کرتے ہوئے آپﷺ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں، آپ ﷺ کی آواز بلند ہوجاتی، ایسا لگتا جیسے آپﷺ کسی فوج کو خوف دلارہے ہیں:‘‘ کانہ منذر جبش ’’ (مسلم ،حدیث نمبر 2042، کتاب الجمعۃ ،باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ ) ایک اور روایت میں ہے کہ جب آپ قیامت وغیرہ کاذکر تے ہیں تو آپ ﷺ کے چہرے پر اس کا اثر محسوس ہوتا ہے‘‘ حتی نعرف ذلک فی وجہ ’’ ( مسند أ حمد بن حنبل ،حدیث نمبر :1437۔۔۔ لیکن ڈرانے کی الگ الگ نوعیتیں ہوتی ہیں، ایک ظالم مظلوم کو اور راہزن راہ روکو بھی ڈراتا ہے ،اس ڈرانے میں صرف نفرت کا رفرماہوتی ہے،لیکن ایک ڈرانا والدین کا اپنے بچوں کو اور اساتذہ کا اپنے شاگردوں کو بھی ہے ، جس میں محبت اور شفقت ہوتی ہے ، ایک باپ اپنے بیٹے کو ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتا ہے ، بسا اوقات سرز نش بھی کرتا ہے ،مگر اس وقت بھی اس کا دل اس کی  محبت سے معمور ہوتا ہے، پیغمبر کا اپنے مخاطب کو ڈرانا اسی طرح کاہوتا ہے ۔

آپ کو ‘‘ دی الی اللہ’’ بھی کہاگیا ، ( الاحزاب :46) یعنی ایسی شخصیت جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتی تھی، جس کا مقصد صرف اور صرف بندوں کو خدا سے جوڑنا تھا، ۔۔۔  اسی طرح آپ ﷺ کو ‘‘روشن چراغ’’ (سراج منیر) بھی فرمایا گیا، ( الاحزاب :46) بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چراغ کے بجائے اگر آپ ﷺ کو سورج اور چاند کہا جاتا تو یہ تشبیہ زیادہ مکمل اور آپ ﷺ کی شخصیت کی زیادہ آئینہ دار ہوتی، لیکن غو ر کیا جائے تو چراغ کی تعبیر زیادہ بلیغ اور بڑی ہی بامعنی ہے، ایک سورج سے دوسرا سورج اور ایک چاند سے دوسرا چاند وجود میں نہیں آسکتا، لیکن چراغ نہ صرف روشنی پہونچا تا ہے، بلکہ ایک چراغ سے ہزاروں چراغ جلائے جاسکتے ہیں ،آپ کی حیات طیبہ روشنی بھی تھی ،جس سے ایمان کا اجالا ہو اور کفر وشرک کی تاریکیاں چھٹیں اور آپﷺ کے اندر شخصیت سازی کی غیر معمولی صلاحیت بھی تھی، جس معاشرہ میں علم ومعرفت ،عدل وانصاف اور تمدن کا نام ونشان نہ تھا، ان ہی صحر انشینوں کو آپﷺ نے مٹی سے ہیرا بنا کر دکھا یا کہ تاریخ انسانیت میں مختلف جہتوں سے ان کی نظیر نہیں ملتی ۔اس کے علاوہ آپﷺ کو (مذکر ) (الغاشیہ:22) ‘‘ نصیحت کرنے والا’’، (منادی ) (آل عمران :113) ‘‘پکار نے والا’’ (مبلغ ) ( المائدہ :67) ‘‘پیغام حق پہنچانے والا’’ (معلم ) (آل عمران :164) ‘‘تعلیم دینا والا ’’ اور (مزکی ) (آل عمران :164) ‘‘لوگوں کی زندگیوں کو گناہوں سے پاک کرنے والا’’ بھی فرمایا گیا ہے، یہ مختلف صفات جو قرآن مجید میں ذکر کی گئی ہیں، یہ سب آپﷺ کیے داعیانہ حیثیت کو واضح کرتی ہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کا سب سے بڑا فریضہ یہی ہے کہ وہ لوگوں کو حق وراستی کی طرف بلا ئے ، اسی میں اس کی کامیابی ہے اور یہی وہ نسخہ کیمیا ہے کہ جس کے ذریعہ راستہ میں بچھے ہوئے کانٹوں کو ہٹایا او رمعاندین کے دلوں میں سلگنے والے شعلوں کو بجھایا جاسکتا ہے ۔

رسو ل اللہ ﷺ نے پوری زندگی ایک داعی او رمبلغ کی طرح گذاری ہے،آپ ﷺ نے لوگوں کو انفرادی طور پر بھی دعوت دی، مکی زندگی میں آپﷺ ایک ایک شخص کے پاس جاتے اور اسے اسلام کی طرف بلاتے ،حضرت ابو طالب کی دعوت دینے کا ذکر حدیث وسیرت کی اکثر کتابوں میں موجود ہے، آپﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ پر ۔۔۔ جو آپﷺ کے دیرینہ دوستوں میں تھے۔۔۔ دعوت اسلام پیش کی اور حضرت ابوبکرؓ نےبلا تا مل اس دعوت کو قبول کیا،(البد ایہ و النہا یہ :3/27) حضرت عثمان بن عفان ؓ آپ ﷺ کی پھوپھی اروی بنت عبدالمطلب کی عیادت کے لئے گئے تھے، آپﷺ کی ملاقات ہوئی،آپ ﷺ دعوت پیش کی اور انہوں نے بھی جلد ہی اسلام قبول کرلیا،( الا ستیعاب :4/225) آپ ﷺ نےحضرت ؓ کو دعوت دی، وہ چاہتے تھے کہ اپنے والد سے مشورہ کریں، لیکن آپ نے ابھی اسلام کو چھپانے کا حکم دیا، تو اگلے ہی دن خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ایمان لے آئے، ( البدایہ والنہایہ :3/224) اہل مکہ نے حضور ﷺ کے بارے میں مشہور کررکھا تھا کہ نعوذ باللہ آپﷺ جنون کے مرض میں مبتلا ہیں، مکہ میں ضماد نام کے ایک صاحب آئے، جو آسیب وغیرہ کا علاج کیا کرتے تھے، انہوں نے آپﷺ سے خواہش کی کہ وہ آپ کا علاج کرنا چاہتے ہیں، آپ ﷺ نے ان پر اپنی دعوت پیش کی، ضماد صالح طبیعت کے آدمی تھے، انہیں فوراً تنبہ ہوا کہ انہیں غلط باور کرایا گیا ہے اور انہوں نے آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہا، (الا صابۃ :2/210)۔۔۔یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے سید الشہد ا حضرت حمزہ ؓ کے قاتل وحشی کو بھی اسلام کی دعوت دی اور بالآخر وہ ادامن اسلام میں آگئے ، (المعجم الکبیر للتطبر انی ،حدیث نمبر 11480) ۔آپ ﷺ نے افراد کی طرح مختلف جماعتوں ،گروپوں اور قوموں کو بھی اسلام کی طرف بلایا ، جب آپﷺ کو علانیہ دعوت اسلام کا حکم دیا گیا تو آپﷺ نےصفا کے دامن میں قریش کو جمع کیا اور ان پر دعوت حق پیش فرمائی، آپﷺ حج کے موقع سے مکہ ،منیٰ او رمقامات مقدسہ پر تشریف لے جاتے اور انہیں اسلام کی طرف بلاتے ،آپ ﷺ نے عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز کے میلے میں جاکر بھی دعوت اسلام پیش فرمائی، متعدد بار سردار ان ِ قریش کے مجمع سے خطاب کیا، اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو دین کی دعوت انفرادی طور پر عرتوں کی طرف تشریف لے جاتے اور انہیں نصیحت فرماتے ،( مسند احمد ، عن عبداللہ بن قیمں ،حدیث نمبر 19506) ۔۔۔آپﷺ نے عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی فاطمہ اور متعدد خواتین کو بیعت کیا ہے اور بیعت بھی دعوت دین  ہی کی ایک صورت ہے ، آپﷺ نے بنوہاشم کے بچوں حضرت حسن ؓ ،حضرت حسینؓ ،حضرت عبداللہ بن عباسؓ ،حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ وغیرہ سے اس وقت بیعت لی، جب کہ وہ بالغ تھے، اس سے معلوم ہوا کہ خواتین میں بھی دعوت کا کام کیا جاسکتا ہے،مگر فتنے سے بچتے ہوئے اور نابالغ ذی شعور بچوں میں بھی دعوت کا کام ہونا چاہئے ۔

 انسان پر اپنے قرابت داروں کے دوہرے حقوق ہوتے ہیں، ایک انسانی بھائی ہونے کا حق اور دوسرے قرابت داری کا حق ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو پہلے حکم دیا گیا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو دین حق کی طرف بلائیں( والدو عشیرو تک الاقربین ) ( الشعرا 214) ،چنانچہ آیت کے ناز ہونے کے بعد آپﷺ نے خاندان کے لوگوں کو دعوت دی ، تیس افراد جمع ہوئے ،آپﷺ نے ان کے سامنے دعوت اسلام پیش فرمائی ، لیکن سوائے حضرت علیؓ کے اس وقت کسی نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک نہیں کہا ،(تفسیر البن کثیر :3/363)۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ دین کی دعوت میں اپنے رشتہ داروں اور قرابت داروں کا خصوصی حق ہے۔ رسول اللہﷺ کی نبوت عالمگیر ہے، اس لئے شروع ہی سے آپﷺ نے اپنی دعوت کو دور  دور تک پہونچا یا ہے، روم، ایران ، حبش اور مختلف علاقوں میں آپ ﷺ نے دعوتی خطوط روانہ فرمائے اور آپﷺ کی حیات طیبہ ہی میں اسلام کی روشنی دور دور تک جا پہنچی ،یہاں تک کہ بعض مؤرخین کے بیان کے مطابق اسی زمانہ میں آفتاب نبوت کی کرنوں نے ہندوستان کو بھی ضیا بار کیا۔ غرض کہ رسول اللہﷺ  کی سب سے نمایاں حیثیت یہی تھی کہ آپ ﷺ داعی الی اللہ تھے ،آپ کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا، آپﷺ کی پوری زندگی در حقیقت دعوت ہی سے عبارت ہے، آپ ﷺ نے مردوں کو بھی دعو ت دی اور عورتوں کو بھی ، بوڑھوں کو بھی اور بچوں کو بھی ، رشتہ داروں کو بھی اور اجنبیوں کو بھی ، اپنی قوم کو بھی اور دوسری قوموں کو بھی ، افراد کو بھی اور جماعتوں اور قبیلوں کو بھی اور اس راہ میں ہر طرح کی آزمائشوں کے گذرے ، آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ آپﷺ کی امت کو بھی فریضہ دعوت میں شامل کیا گیا، سوچئے ! کیا داعی نبی کی امت بھی آج انسانیت کو دعوت حق دینے کے لئے کمربستہ ہے؟ کہیں اس نے اپنی نبی کی امت کو پش پشت تو نہیں ڈال دیا ہے؟

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/the-preaching-role-of-the-prophet-(peace-be-upon-him)--پیغمبر-اسلام-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کا-داعیانہ-کردار/d/2554



Loading..

Loading..