New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 06:30 AM

Urdu Section ( 19 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

There Is Increasing Talk of War All Around Israel اسرائیل کے ارد گرد جنگ کی بڑھتی ہوئی بات چیت

 

دی ایکانومسٹ

8 فروری 2018

غزہ اور گولان ہائٹس

غزہ سے اسرائیل کو الگ کرنے والی سرحدوں کے باہر ایک عجیب خاموشی پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن غزہ کے دونوں اطراف اور ہر جگہ اسرائیلیوں کے ارد گرد جنگ پر  گفتگو کا ماحول بڑھ رہا ہے۔ ایک فلسطینی مسلح گروپ اسلامی جہاد جس نے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے اس کے سرغنہ داؤد شہاب کا کہنا ہے کہ "یہاں ہر دن اسرائیل کی جانب سے جارحیت اور دہشت گردی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔" ‘‘حالات میں کسی بھی وقت تصادم پیدا ہو سکتا ہے’’۔ غزہ کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ اسرائیل اس حملے کے کور کے لئے امریکہ کے ساتھ فوجی مشق کا استعمال کرے گا۔ ایک عربی اخبار الحیات کے مطابق اس سے 95 فیصد سے زائد جنگ کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

 اسرائیل معاملات کو ایک مختلف زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اسرائیلی دفاعی کے عملے کے سربراہ گادی ایسنکوٹ نے مبینہ طور پر کابینہ کو بتایا کہ حماس -ایک اسلام پسند گروہ جس کی غزہ پر حکومت ہے، اگر غزہ پٹی پر واقع لوگوں کی زندگی میں بہتری پیدا نہیں ہوتی ہے تو  جنگ شروع کر سکتا ہے۔ یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اسرائیل اور مصر کے محاصرے میں ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹمپ کے ذریعہ 6 دسمبر کو یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ آئی ڈی ایف نے غزہ سے راکٹ فائر کا جواب فضائی حملوں کی صورت میں دیا ہے۔

اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر بھی واقع ہونے والے تنازعات کی باتیں سنی جا رہی ہیں ۔ 28 جنوری کو آئی ڈی ایف کے ترجمان، رینن مینیلس نے ایک تبصرہ لکھا جسے لبنان کی ویب سائٹوں نے شائع کیا تھا جس میں انہوں نے لبنان کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو ملک میں مہلک میزائل تیار کرنے کی اجازت نہ دے۔ اسرائیل نے بارہا لبنان کے لئے ایرانی ہتھیاروں کے قافلے پر حملہ کیا ہے۔ آئی ڈی ایف شمالی محاذ پر تربیت دے رہا ہے۔ جنرل مینیلس نے لکھا کہ "جیسا کہ ہم نے حالیہ برسوں میں اپنے اندر بہتری پیدا کی ہے.... ہماری سیکورٹی لائنیں واضح طور پر حد بندی کر رہی ہیں،" ۔ " لبنان کے لوگوں اب فیصلہ تمہارا ہے۔"

لبنانی حکومت سرحد پر ایک دیوار کی تعمیر کرنے کی اسرائیلی منصوبہ بندی کی مخالفت کر رہی ہے اور اس کا دعوی ہے کہ اس سے لبنان کے علاقے پر قبضہ ہو جائے گا۔ لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی فورموں پر اس مسئلہ کا اٹھائے گی ، لیکن حزب اللہ جو کہ اس حکومت کا حصہ ہے، اس نے مبینہ طور پر سرحدی علاقوں میں موجود اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع ایوگڈر لیبرمن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کرتا ہے تو اس کی قیمت صرف لبنان کو ہی ادا کرنی ہوگی۔

گولان ہائٹس میں ماؤنٹ ایویٹل میں بھی ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں جن میں جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے شام کو کم اہمیت دی جہاں بشار الاسد کی فوج نے ایک پرانے شہر قونیترا میں باغیوں سے ایک شہر واپس لے  لیا ہے۔ سات برسوں تک جنگوں کی آگ میں جھلسنے کے بعد  شام کی فوج کو ایک خطرے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے، لیکن اسرائیل کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اسد کی حکومت کو مضبوط کرنے والی فوج کی گرفت شام میں مضبوط ہو رہی ہے۔ اس نے حزب اللہ اور ایران کو اس علاقے سے باہر رہنے کے لئے کہا ہے۔ 6 فروری کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو نے ماؤنٹ ایوٹل کا دورہ کیا اور اسرائیل کے دشمنوں کو خبردار کیا کہ "وہ ہمیں نہ آزمائیں"۔

کوئی بھی اس کی شوٹنگ شروع کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتا۔ 2006 میں اس جماعت نے جب سے غزہ پر قبضہ کیا ہے اسرائیل اور حماس اب تک تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ چوتھی جنگ سے بچنے کے لئے جنرل اییسنکوٹ نے مبینہ طور پر کابینہ کو کہا ہے کہ وہ غزہ کی مصیبت زدہ صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے مزید کوششیں کرے۔

ہو سکتاہے  کہ حماس غزہ کی مصیبت زدہ صورت حال پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے جنگ کی باتیں پھیلا رہا ہو۔ مغربی کناروں پر تسلط رکھنے والی فلسطینی اتھارٹی (PA) کی طرف سے عائد کردہ محاصروں اور پابندیوں کی وجہ سے وہ بجلی، پینے کے پانی اور کھانے کی اشیاء کی کمی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان ایک معاہدے ہوا تھا جس کا مقصد غزہ کی انتظامیہ کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا تھا۔ لیکن غزہ کے حکام کہتے ہیں محمود عباس جو کہ فلسطینی اتھارٹی کی سربراہی کرتے ہیں – اپنے پاؤں کھینچ رہے ہیں۔ (جبکہ اس معاملے میں فلسطینی اتھارٹی کا نظریہ یکسر مختلف                  ہے۔)

شام میں تقریبا سات سال کی لڑائی کے بعد حزب اللہ شمال میں شاید دوبارہ متحد ہونا چاہے گا۔ 2006 ء میں اسرائیل کے ساتھ پچھلے جنگ کے دوران لبنان کو اتنا بڑا نقصان ہوا کہ حزب اللہ کے رہنماؤں کو اس کا افسوس تھا۔ حزب اللہ ایک اور جنگ کے لئے تیار نہیں ہے، لیکن یہ نصب شدہ میزائلوں سے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرہ کو بھر رہا ہے۔ آئی ڈی ایف اس کو تباہ کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔

بشار الاسد بھی نئی جنگ شروع کرنے (جس میں وہ شکست کھائیں گے)کے مقابلے خود اپنے ملک میں اپنی حیثیت کو مضبوط بنانے میں زیادہ دلچسپی محسوس کرتے ہیں ۔ اور ایرانی عوام پہلے ہی حکومت پر زور دے رہی ہے کہ وہ تہران میں اپنی غیر ملکی مہم جوئی ختم کردے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے شام میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ ایرانی اڈوں پر حملہ کر دے گا۔

 تاہم، پر ہر کسی کے تناؤ کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ان تنازعات کو شروع ہونے میں زیادہ وقت نہ لگے۔ غزہ سے ایک راکٹ، اسرائیل سے ایک فضائی حملہ، حزب اللہ کی جانب سے  ایک گولی-اور ان میں سے کوئی  بھی کسی اور کو بھڑکا سکتا ہے۔ بسمارک نے پیشین گوئی کی ہے کہ "بلقان میں کچھ ناپسندیدہ چیزیں" یورپی جنگ شروع کر دیں گی (آخر کار ان کی بات 1914 ء میں صحیح ثابت ہوئی)۔

ماخذ:

economist.com/news/middle-east-and-africa/21736553-no-one-wants-ignite-next-conflict-potential-sparks-abound-there

URL for English article: http://www.newageislam.com/the-war-within-islam/the-economist/there-is-increasing-talk-of-war-all-around-israel/d/114218

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/the-economist/there-is-increasing-talk-of-war-all-around-israel--اسرائیل-کے-ارد-گرد-جنگ-کی-بڑھتی-ہوئی-بات-چیت/d/114336

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..