New Age Islam
Mon Nov 28 2022, 04:00 AM

Urdu Section ( 20 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Takfirism Violates Islam (تکفیری گروپ اسلامی تعلیمات کے خونخوار دشمن اور طالبانی میگزین ‘نوائے افغان جہاد’ کے مضمون ‘ کفر و ارتداد کا مجاہدین اسلام کے خلاف اتحاد’ کی سخت تردید (حصہ1

 

 

غلام غوث، نیو ایج اسلام

18 اکتوبر، 2014

"نوائے افغان جہاد" میگزین کے جولائی 2014 کے شمارے میں طالبان کے نظریہ ساز  کاشف علی الخیری نے پورے زور و شور کے ساتھ تقریبا تمام پاکستانی مسلمانوں پر 'کفر' اور ''ارتداد" کا لیبل لگا یا ہے۔ اس نے ایسا غیر اسلامی فعل  دیدہ و دانستہ طور پر ضرب عضب آپریشن کے بعد کیا۔  پاکستان میں عام شہری، سیاسی اور دفاعی شعبوں اور اسلامی علماء کے درمیان ضرب عضب آپریشن کو بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہوئی تھی۔ اس مسلمہ اسلامی حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ کسی بھی مسلمان کی اس وقت تک تکفیر کرنا غیر اسلامی ہے  جب تک وہ خود علی الاعلان اپنے کفر کا اقرار نہ کر لے کاشف علی الخیری نے پوری دروغ گوئی کے ساتھ  مضحکہ خیز انداز میں اپنے مضمون کا عنوان "کفر و ارتداد کا مجاہدین اسلام کے خلاف اتحاد" رکھا۔ انہوں نے تمام غیر وہابی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے قتل کا جبری جواز پیش کیا ہے جس کی بنیاد صرف وہابیائی نظریات پر ہے۔ اور اس طرح انہوں نے نہ صرف یہ کہ پوری بے غیرتی  کے ساتھ قرآن و حدیث اور ان کے معانی کا غلط استعمال کیا  بلکہ چاروں اسلامی فقہی مذاہب کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

طالبانی میگزین ‘نوائے افغان جہاد’ کے اقتباسات جن میں پاکستانی مسلمانوں پر کافر و مرتد ہونے کا الزام لگایا گیا ہے

طالبانی نظریہ ساز کاشف علی الخیری لکھتے ہیں : ‘‘جنوبی وزیرستان میں جب پاکستانی فوج نے مشن "ضرب عضب" شروع کیا تو  سیکولر ذہنیت رکھنے والوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔مشرف، کیانی اور زرداری جیسے گمراہ لوگوں نے اس میں دخل اندازی کرنے سے گریز کیا، تاہم شریف نے اس ایسا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ شیخ رشید  ، شجاعت سمیت ہر جماعت اس آپریشن کے اعلان پر فوج کے صدقے واری جارہی ہے! مذہب فروشوں کی قبیل میں رافضی اور مشرک ٹولہ دل و جان ‘‘وارنے ’’ پر تیار بیٹھا ہے...... اتحادبین المرتدین کا سربراہ رافضی راجہ ناصر تو سرشاریٔ جذبات میں آکر اس قدر لمبی ہانک بیٹھا کہ باقی سب عش عش کرتے رہ گئے ...... آپریشن کے اعلان کے محض 3 گھنٹوں بعد اُس نے اپنا ‘‘ اعلانیہ ’’ داغ دیا کہ "میں شمالی وزیر ستان میں تکفیر یوں کے خلاف آپریشن میں پاکستانی فوج کو ایک لاکھ شیعہ رضا کار دینے کا اعلان کرتا ہوں’’..... ذرا اندازہ تو کیجئے کہ اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ متعہ کی پیداوار اور حرام کی اولاد’ پاکستانی فوج کے لئے ‘‘ رضا کاری’ کرے گی، وہ بھی دس بیس یا سو ہزار نہیں پورے ایک لاکھ بنینِ متعہ’ ناپاک فوج کے ہمراہ ہوں گے......ایسے میں اس فوج پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے برسنے والی لعنت کو کون روک پائےگا؟؟؟

‘‘اس کے بعد مشرکین کا دوسرا گروہ ‘‘ سر گرم’’ ہوا اور ‘ سنی تحریک’ کے سربراہ اعجاز قادری نے 19 جون کو مانسہرہ میں اعلان کیا کہ ‘‘پاک فوج اگر حکم کرے تو ہم ایک لاکھ مصطفائی سپاہی افغانستان میں طالبان کے خلاف جہاد کے لیے دینے کو تیار ہیں ...... اسےکہتے ہیں بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں لعنت اللہ!’’...... یعنی یہ ایک لاکھ نفری وزیر ستان سے بھی آگے بڑھ کر افغانستان میں طالبان کے خلاف ‘‘جہاد’’ کے لیے مہیا کی جائے گی...... جی ہاں! وہی افغانستان کے طالبان جو مشرکین شرق و غرب اور کفارِ عالم کی فوجوں کو ادھ موا کر کے گھروں کو بھجوائے بیٹھے  ہیں، اب اُن کا مقابلہ یہ حلوہ خور اور تیجے چالیسیوں پر پلنے والے کریں گے! اور لطف کی بات یہ ہے کہ واقفانِ حال کے بقول یہی  اعجاز قادری کراچی کے علاقہ ناظم  آباد میں موجود اپنے گھر سےنکلتے وقت بھی وہ ‘‘اودھم’’ مچاتا ہے کہ اس کے ذاتی  محافظ بھی اسے گالی دیتے تھک جاتے ہیں ....... کبھی گھر کے پچھواڑے سے جھانکتا ہے کہ گلی  میں کوئی ‘‘ دہشت گرد’’ تو نہیں   ، کبھی  ادھ کھلی کھڑی کی  اوٹ لے کر ‘‘ جھاتیاں’’ مارتا ہے کہ کوئی دشمنِ جاں تاک میں تو نہیں بیٹھا ! پھر بمشکل اپنے خوف کو دبا کر کانپتے ہوئے گھر سے باہر آنے کی ‘‘ جرات رندانہ’’ کرتا ہے !"

 "اسی قبیلہ کا ایک اور گروہ ’ جو امریکہ سے ڈالر وصول کر مجاہدین کے خلاف جلوس نکالتا رہا ’ کے ایک سو ‘‘علماء’’  نے 22 جون کو فتویٰ دیا کہ ‘‘ فوجی آپریشن ‘ ضرب عضب’ جہاد ہے’’!اس فتویٰ میں البتہ یہ صراحت نہیں کی گئی کہ اس ‘‘جہاد’ کے مصارف کی مد میں امریکی کانگریس ڈالروں کی کھیپ کیوں روانہ کررہی ہے؟ ظاہر ہے ایسے ‘‘غیر متعلقہ’’ سوالات پر ‘‘بوٹ والوں’’ کے غضب کانشانہ بننے کی بجائے بہتر ہے کہ ‘ضرب عضب’ کے حق میں فتویٰ جاری کرکے اللہ کے غضب کے حق دار بن جاؤ!  کیونکہ ان دین فروش " علما’’  کا ایمان ہی یہ ہے کہ ‘‘اے جہاں مِٹھّا ، اگا کنِے ڈِٹھّا’’ .... طاہر الکینیڈوی  اس دوڑ میں کیوں پیچھے رہتا ،  اُس نے بھی ‘‘فتویٰ’’ داغ دیا کہ ‘‘میں اس آپریشن کو عظیم جہاد قرار دیتا ہوں، اس جہاد کی حمایت  شرعی طور پر پوری قوم پر فرض ہوچکی ہے’’.....یقیناً یہ وہی ‘‘شریعت’’ ہوگی جو ازاول تا آخر ‘ ‘عالم رویا’’ کی محتاج ہے کیونکہ  موصوف خو د بیان کرچکے ہیں کہ ان کی ‘‘تعلیم و تربیت’’ کے تمام مراحل عالم رویا میں طے ہوئے! اب ‘‘اضغاث احلام’’ کی بنیاد پر ‘‘فتووں’’ کا طور مار تو باندھا جاسکتا ہے لیکن  پاکیزہ شریعت اوردین مطہر کے حقیقی علم کی رُو سے اس ظلم کی حمایت کرنے کا تصور بھی نہیں  کیا جاسکتا ...... صلیبی آقاؤں کی خوش نودی  کے لیے شروع کی جانے والی اس فوجی کارروائی کی حمایت مشرکین کے ٹولے نے ہی اپنا فرض نہیں سمجھا بلکہ ‘‘قبیلہ موحدین ’’ بھی پیش پیش رہا، جس کی نمائندگی حافظ سعید کے ذمے لگائی گئی ۔"

"تاہم ان تمام تنظیموں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ کی حمایت مجاہدوں کو حاصل ہوگی۔ اگر کسی فیصلہ کن نتیجے تک پاکستانی فوج اس مہم کو جاری رکھتی ہے تو مجاہدین بھی اس کے لیے تیار ہیں۔ انشاءاللہ وہ اس جنگ میں پاکستانی فوج کو شکشت دیں گے۔ اس کے پاکستانی فوج کے حامیوں کا کیا ہوگا"۔

"اسی لیے یہ ساری تفریقات کو مٹا کر کفر کے جھنڈے تلے جمع ہوئے ہیں اور اس معر کے میں مجاہدین اسلام کی شکست کے منتظر ہیں! اللہ تعالیٰ نے چاہا تو مجاہدین کے ہاتھوں میں متحدہ کفر اور اُس کے اعوان ، انصار و حوار یین کی آرزوؤں اور تمناؤں کا  خون ہوگا اور سیاسی و تیرہ بختی ہی حزب الشیطان کا مقدر ٹھہرے گی! انشاء اللہ’’ ۔

درج بالا اقتباسات سے  یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ  طالبان کے نظریہ ساز کاشف علی الخیری صاحب نے پاکستان کے تمام غیر وہابی مسلمانوں کو مشرک قرار دیا ہے جس سے پاکستان کی مسلم اکثریت پر مستقبل میں حملوں کا خطرہ اور بھی شدید ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بنیادی طور پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری، مولانا ثروت اعجاز قادری (سنی تحریک کے رہنما)، شیعہ عالم راجہ ناصر عباس جعفری (جنرل سیکریٹری مجلس وحدت مسلمین) اور صوفی ذہن رکھنے والے بے شمار مفتیان کرام اور علماء کو ہدف بنایا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے مشن ضرب عضب کی کھلے عام حمایت کی اور اسے طالبانی دہشت گردوں کے خلاف ایک جہاد قرار دیا۔

قابل توجہ امر یہ ہے کہ طالبانی دہشت گردوں کے مطابق جہاد کا مطلب مرکزی دھارے میں شامل تمام غیر وہابی صوفی مسلمانوں اورسنی بریلویوں سمیت تمام شیعوں کا قتل کرنا ہے۔ کاشف علی الخیری صاحب کی طرح دیگر تمام طالبانی اور وہابی بھی ان  مسلمانوں کو مشرک اور مرتد مانتے ہیں۔ صوفی مسلمانوں کو "مشرکوں کی جماعت" اور پاکستانی شیعوں کو " متعہ کی پیداوار اور حرام کی اولاد" قرار دیکر طالبانی نظریہ ساز کاشف علی الخیری صاحب نے مضحکہ خیز انداز میں یہ کہا ہے کہ طالبانی دہشت گردوں نے دنیا کے تمام مشرکین کو شکشت دے دی ہے۔ اسی وجہ سے "فاتحہ خوانی کرنے والے، حلوہ  کھانے والے، تیجہ اور چالیسواں ماننے والے" ان دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

طالبانی نظریات کے مہلک پروپیگنڈے جو دنیا بھر کے تمام صوفی ذہن رکھنے والے مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہے کے پیش نظر قرآن و حدیث کے مکمل طور پر مسخ شدہ معانی سے تمام مسلمانوں کو آگاہ رکھنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ انہیں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ غیر وہابی سنی مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے کفر، ارتداد، جہاد اور مجاہد جیسے الفاظ کا کس طرح غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

میری اخلاقی اور انسانی ذمہ داری کا تقاضہ ہے کہ میں کفر، ارتداد یا شرک کے بہانے غیر وہابی شیعہ اور سنی مسلمانوں کو قتل کرنے کے طالبانی اور وہابی نظریہ کی تردید ضرور کروں۔ سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ ان وہابی نظریہ سازوں کے نزدیک اسلامی فقہ کی قانونی قدر کیا ہے جو ان صوفی ذہن رکھنے والے مسلمانوں کے لئے شرک اور کفر جیسے الفاظ کااستعمال کرتے ہیں حالانکہ  میرے خیال سے  یہ صوفی ذہن رکھنے والے مسلمان حقیقی اسلامی تعلیمات پر گامزن ہیں۔ اب ہم گہرائی کے ساتھ مندرجہ ذیل قرآنی آیت اور حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احادیث طیبہ  کا مطالعہ کرتے ہیں۔

قرآن میں تکفیریت  کا عدم جواز

  "اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راه میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام علیک کرے تو اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان وا نہیں۔ تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ تعالیٰ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں۔ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا لہٰذا تم ضرور تحقیق وتفتیش کر لیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے"۔ (4:94)

مندرجہ بالا آیت میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر کوئی یہ دکھانے کے لئے "السلام علیکم" کہے کہ وہ ایک مسلمان ہے تب بھی اسے کافر نہیں کہا جانا چاہئے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور حیات میں جب بعض مسلمانوں کو سلام کرنے والے کسی مسلمان کے بارے میں شک ہوا تو ہمارے مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "کیا تم اس کے دل کا حال جانتے ہو کہ اس نے اسلام قبول کیا ہے یا نہیں ؟ "(مسلم شریف)

 وہ احادیث جن میں کسی مسلمان کو کافر کہنے کی ممانعت سختی کے ساتھ کی گئی ہے درج  ذیل ہیں

آقاے دو جہاں سید عالم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: ‘‘اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو یقینا ان میں سے ایک کافرہے’’۔  (صحیح بخاری ج 8 کتاب 73 حدیث نمبر 125)

یہی حدیث مسلم شریف میں تھوڑے مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کی گئی ہے:

آقاے دو جہاں سید عالم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: " جو کوئی بھی اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو اس کی حقیقت ان میں سے کسی ایک کی طرف لوٹے گی ۔ اگر اس کی بات سچ ہے تو ٹھیک ، ورنہ اس کی بات اسی کی طرف لوٹ جائے گی (اور اس طرح تہمت لگانے والا شخص خود کافرہو جائے گا)۔ [صحیح مسلم کتاب 100، نمبر 0117]

" جس شخص نے کسی مومن کو کافر کہا گویا کہ اس نے اس کا قتل کر دیا"۔ (ترمذی اور بخاری)

"جو شخص کلمہ شہادت کی گواہی دے اسے کافر نہ کہو ۔ جو شخص کلمہ شہادت کی گواہی  دینے والے کو کافر کہتا ہے  وہ کفر کے قریب ہے۔ (طبرانی میں ابن عمر سے مروی ہے)

" ایمان کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔ جو شخص کلمہ شہادت کی گواہی دےاسے کسی بھی گناہ کے لیے کافر نہ کہو اور نہ ہی کسی بد اعمالی کی وجہ سے اسے  اسلام سے خارج مت کرو"۔ (ابو داؤد)

مذکورہ بالا تمام احادیث سے یہ قانون ماخوذ ہوتا ہے کہ کسی صحیح العقیدہ مومن کو  کافر نہ کہا جائے۔ یہ قانون اس قدر سخت ہے کہ اگر الزام درست نہیں ہے تو الزام لگانے والا کافر مانا جائے گا۔ لہٰذا طالبان کے نظریہ ساز کاشف علی نے احکام الٰہیہ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے  مندرجہ بالا تمام اقوال کی خلاف ورزی کی ہے۔

 کلاسیکی اسلامی فقہاء اور علماء نے کسی  بھی مسلمان کی تکفیر کو مسترد کر دیا ہے

اسلامی فقہاء اور کلاسیکی علماء نے کسی بھی مومن کے لئے تکفیری نظریہ کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔ درج ذیل میں ان اقتباسات کو نقل کیا گیا ہے جن سے طالبانی وہابی نظریہ ساز کاشف علی کی تردید ہوتی ہے جنہوں نے تمام پاکستانی مسلمانوں کی تکفیر کی ہے۔

·        "اہل سنت کا ایک اصول ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کو بھی کافر نہیں کہا جا سکتا" (شرح عقائد نسفیہ مصنفہ علامہ سعد الدین تفتازانی ۔121)

·        "کسی مسلمان پر اس وقت تک کفر کا فتویٰ صادر نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کی باتوں میں ایمان کی گنجائش باقی ہو" (رد المختار، کتاب الجہاد ، فی بیان ارتداد)

·        حنفی مکتبہ فکر کے بانی امام ابو حنیفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے کسی بی، اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی ہے"۔ (شرح الموافق، حصہ5)

·        امام اعظم ابو حنفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کوئی بھی شخص اس وقت تک ایمان سے خارج نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس بات کا انکار نہ کرے جس سے وہ ایمان میں داخل ہوا ہے"۔ (رد المختار، جلد 3، صفحہ۔310)

·        علامہ ملا علی قاری نے فرمایا کہ "کسی مومن کو ایمان سے خارج کرنا ایک سنگین کام ہے" (شرح الشفاء، جلد 2، صفحہ۔500)

·        علامہ جلال الدین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ "اہل قبلہ کی تکفیر خود مشرکانہ عمل ہے"۔ (دلائل المسائل)

·        "مختلف ائمہ نے واضح طور پر یہ کہا ہےکہ اگر تکفیر نہ کرنے کی کوئی بھی بنیا د پائی جائے تو تکفیر نہیں کی جائے گی اگر چہ وہ بنیاد کمزور ہی کیوں نہ ہو"۔ (رفع الاشتباہ عن عبارت الاشتباہ۔4)

 دہلی کے تین بڑے شاعروں میں سے ایک مشہور و معروف صوفی بزرگ، خواجہ میر درد رضی اللہ عنہ (1785) نے کہا: "ہم اہل قبلہ کوکافر نہیں کہتے اگر چہ ہو سکتا ہے کہ وہ اکثر معاملات میں باطل اور مختلف عقائد و معمولات پر عمل پیرا ہوں۔ اس کی وجہ یہ حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت کی وحدانیت، محمد صلی اللہ کی نبوت پر ایمان رکھنا اور  قبلہ کی طرف ان کا متوجہ ہونا انہیں ان کے ایمان سے خارج نہیں کرتا۔ لہٰذان کا شمار ان مسلمانوں میں ہو گا جنہوں نےبعد میں بدعات (بدعات سیہ) اور باطل معتقدات کا ارتکاب کیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل قبلہ کے معاملے میں احتیاط برتو اور انہیں کافر نہ کہوں"۔ (علم الکتاب صفحہ ۔75)

تکفیر کے سلسلے میں اعلی حضرت امام احمد رضا   رضی اللہ عنہ کی تعلیمات

•بالجملہ تکفیر  اہل قبلہ  و اصحاب کلمہ  طیبہ میں جرأت و جسارت محض جہالت بلکہ سخت آفت جس میں وبال   عظیم و نکال کا  صریح  اندیشہ  ، والعیاذ بااللہ  رب  العالمین   ( فتاوی     رضویہ ، ج : ۱۲ ، ص:۳۱۷)

•مسلمان کے کسی قول و فعل میں کوئی ضعیف سے ضعیف تاویل ایسی نکلتی ہو جس کے سبب حکم اسلام ہو سکتا ہو تو اس کی طرف جانا لازم ہے ۔ اگر چہ اس میں ہزار احتمال جانب کفر جاتے ہوں ۔ ( ایضاً)

•فرض قطعی ہے کہ اہل کلمہ کے ہر قول و فعل کو اگر چہ بظاہر کیسا ہی شنیع و فظیع ہو حتی الا مکان کفر سے   بچائیں ۔ ( ایضاً)

•احتمال اسلام کو چھوڑ کر احتمال کفر کی طرف جانے والےاسلام کو مغلوب  او رکفر کو غالب کرتے ہیں ۔(ایضاً)

•جب تک ضروریات دین میں سے کسی شی  کا انکار نہ ہو کفر نہیں ۔ (فتاوی رضویہ ، ج: ۹، صفحہ :۹۴۲)

اس کے علاوہ  مزید بے شمار علماء اور فقہاء ہیں  جو اس بات پر متفق ہیں کہ اہل قبلہ میں سے کسی بھی شخص کو نہ توکافر کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں کافر کہا جانا چاہئے۔ (الموفق، صفحہ۔ 600)

خلاصہ:

قرآن و سنت اور ان پر مبنی کلاسیکی اسلامی قوانین پر غور و خوض کرنے کے بعد کوئی بھی شخص یہ بات بلا  تردد   کہہ سکتا ہے کہ کسی مومن پر کفر یا شرک کاالزام لگانا یکسر اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں وہابی صوفی مسلمانوں پر کفر و شرک کا جھوٹا الزام لگاتے ہیں؟ اس کا جواب "صوفی مسلمانوں کے معمولات مثلاً مزارات پر حاضری دینا، انبیائے کرام کی یوم ولادت منانا،  شیرنی سامنے رکھ کر فاتحہ خوانی کرنا، وسیلہ (شفاعت) پر اور نبی صلی اللہ وسلم کے لیے علم غیب کے ثبوت پر ایمان رکھنا وغیرہ" ہے۔ پوری غیر جانبداری کے ساتھ  اگر ہم  قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں تو ہم  صوفی مسلمانوں کے ان روحانی معمولات کو  نہ صرف جائز   و مستحسن   بلکہ کار خیر ہی  پائیں گے  ۔ وہابی نظریہ سازوں کے نزدیک یہ خود ساختہ اور باطل گمان و نظریات کے مفروضات کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا میرا یہ ماننا ہے کہ صوفی مسلمانوں پر کفر و ارتداد کا الزام لگانے والےوہابی  تکفیری گروپ  اسلامی تعلیمات کے خونخوار  دشمن ہیں جو  ان قانونی اقدار سے انکار کر رہے ہیں جن کا تعین قرآن و حدیث نے کیا ہے اور قیامت کے دن انہیں اپنے ان برے کاموں کے ہلاکت خیز نتیجے کی فکر ہونی چاہیے۔ جہاں تک عام مسلمانوں کی اکثریت کا تعلق ہے تو وہ ان پرتشدد تکفیری نظریات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ (والعیا ذ بااللہ رب العالمین )

(جاری ہے)

URL for English article: https://newageislam.com/islamic-ideology/takfirism-jihad-taliban-kufr-nawae-islamic-mujahedeen-part-1/d/99596

URL for this article: 

https://newageislam.com/urdu-section/takfirism-violates-islam-/d/100110 

Loading..

Loading..