New Age Islam
Sat Oct 16 2021, 05:36 AM

Urdu Section ( 6 Jul 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Last Ten Days of Ramazan and Prayers رمضان المبارک کا آخری عشرہ اور عبادات

 

 

  

امام سید شمشاد احمدناصر،نیو ایج اسلام

ہم اب رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں خداتعالیٰ کے فضل سے داخل ہو چکے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اب رمضان المبارک بس مہمان کے طور پر ہی رہ گیا ہے۔ مہمان بھی وہ جس سے بہت سی امیدیں وابستہ ہوں۔ ایسا مہمان جس کے آنے سے رحمت کے دروازے وا ہو جاتے ہوں، اور پھر ایسا مہمان جو ہمیں وہ سب کچھ دے کر جائے جس کی ہمیں ضرورت ہو۔ پس اس مہمان کی جتنی بھی زیادہ سے زیادہ قدر ہو سکے کرنی چاہئے۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو ارشاد ہے کہ

کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا دخل العشر شد مئزرۂ واحی لیلہ وایقظ اھلہ۔ (بخاری کتاب الصوم)

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا ہے یا جب آپ رمضان کے آخری عشرہ میں داخل ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر ہمت کس لیتے اور اپنی راتوں کو زندہ کرتے اور اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے۔

اگرچہ سارا رمضان ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عبادتوں، ریاضتوں اور خداتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں گزرتا مگر آخری عشرہ میں تو اپنی تمام عبادتوں کو کمال تک پہنچا دیتے۔

حضرت عائشہ کا یہ کہنا کہ آپ غیرمعمولی عبادات آخری عشرہ میں بجا لاتے تھے، خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ کیا کچھ کرتے ہوں گے۔ یہاں ایک اور بات بھی عرض کئے دیتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادتوں کو ان کی جس معراج تک بھی پہنچایا وہ سب امت کے لئے تھیں۔ وہ سب اس لئے تھیں کہ امت کے لوگ آپ کی مثال کو قائم رکھیں اور زندہ رکھیں۔

اس وقت ہمیں بھی کچھ ایسا ہی چاہئے کہ اگر ہم سے بشری کمزوریاں سرزد ہو رہی ہوں، کچھ کمیاں، کوتاہیاں رہ گئی ہوں تو اب اسے آخری عشرہ میں پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اور اس مہمان سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے سے پورا پورا فائدہ اٹھا لیں۔

اس آخری عشرہ میں کچھ ایسی نیکیاں ہیں اگر ان کی عادت پڑ جائے تو ساری عمر کام آتی ہیں۔ مثلاً

جمعۃ الاستقبال

یہ خیال مسلمانوں میں عام پایا جاتا ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ میں ضرور حاضر ہونا ہے خواہ سارا سال جمعہ نہ بھی پڑھا جائے۔ جمعۃ الوداع کا کوئی تصور اسلام میں نہیں۔سارے جمعوں کا ایک جیسا ثواب ہے۔ اور قرآن کریم میں ایک مکمل سورت، سورۃ الجمعہ کا نام سے ہے۔ جس میں ہر جمعہ پر حاضر ہونے کے لئے مسلمانوں کو ترغیب دلائی گئی ہے۔

آج کل مغربی ممالک میں لوگ اپنی عدم فرصتی کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم بہت مصروف ہیں، وقت نہیں ملتا وغیرہ وغیرہ۔ مجھے ایک بزرگ کا قول یا دآرہا ہے انہوں نے کہا کہ اس دنیا میں نیکی کا جو عمل بھی بھاری اور گراں گزرتا ہے۔ قیامت کے دن اس کا ثواب بہت زیادہ ہو گا۔

اگر جمعہ گراں گزرتا ہے ، مشکل ہے اور اسے خوش دلی سے ادا کیا جائے تو پھر اس کا ثواب بہت ملے گا۔

اگر مالی قربانی خدا کی راہ میں پیسے خرچ کرنے بہت گراں گزرتے ہیں جب مالی قربانی خوش دلی سے کی جائے گی تو اس کا ثواب بھی بہت زیادہ ہو گا۔

اگر مسجد میں جانا گراں گزرتا ہے اور وہ جاتا ہے اس کا ثواب بھی پھر بہت ہو گا۔

یہ نہ سمجھیں کہ مسجد جانا، جمعہ پڑھنا وغیرہ صرف بے کار لوگوں کا ہی کام ہے کیونکہ آپ مصروف ہیں اس لئے نہیں آسکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک قوم ایمان لائی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ اسلام کی ساری باتیں مانیں گے اور عمل کریں گے، مگر ایک حکم کی چھٹی دے دیں یعنی ہم نماز نہ پڑھ سکیں گے ہم مصروف لوگ ہیں۔ جس کی وجہ سے نمازیں معاف کر دیں، آپؐ نے فرمایا جس مذہب میں عبادت نہیں وہ مذہب ہی نہیں۔ تو گویا نمازوں سے فراغت نہیں مل سکتی اور نہ ہی نمازیں فارغ لوگوں کے لئے ہیں۔

یہی حال جمعہ کا بھی ہے۔ احادیث میں تمام جمعوں کی ایک سی فضیلت ہے سال کے 52جمعے وہی ثواب رکھتے ہیں جو اس وقت جمعہ میں ہے۔ ہاں رمضان میں تو ہر نیکی کا زیادہ ثواب ملتا ہے۔ پس چاہئے کہ ایسے تمام لوگوں کا جمعہ پڑھنا جو آخری جمعہ ہی میں آتے ہیں خدا کرے سال کے تمام جمعوں میں آنے کا سبب بن جائے۔ آمین۔

اعتکاف

رمضان کے آخری عشرہ میں ایک اور اہم نیکی اعتکاف کی ہے جسے خداتعالیٰ توفیق دے ضرور مسنون اعتکاف کرنا چاہئے۔ اعتکاف کی اصل تاریخ 20 رمضان المبارک کی صبح نماز فجر کا وقت ہے۔ ہاں مجبوری کے تحت ظہر کے وقت تک بھی بیٹھا جا سکتا ہے۔ کبھی یہ دس دن کا ہو جاتا ہے اور کبھی 11دن کا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:

جس نے رمضان میں دس دن بتمام شرائط اعتکاف کیا تو اسے دو حج اور دو عمرے کرنے کے برابر کا ثواب ملے گا۔ ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جس نے ایمان کی حالت میں اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اعتکاف کیا تو اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

اعتکاف مسجد ہی میں ہونا چاہئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اعتکاف کے دوران معتکف کئی قسم کے گناہوں سے بچ جاتا ہے اور مسجد میں رہنے کے باعث جن نیکیوں سے محروم رہتا ہے ان کا ثواب بھی اسے ملتا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ

معتکف اپنے آپ کو کلی طور پر خدا کے حضور ڈال دیتا ہے اور کہتاہے کہ اے خدا مجھے تیری قسم میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا یہاں تک کہ تو مجھ پر رحم فرمائے۔

(احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 136-137)

خدا کی راہ میں خرچ کرنا

رمضان المبارک کے سارے مہینہ میں خداتعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا چاہئے۔ نمازوں سے، قرآن کی تلاوت سے، نوافل اور تہجد کی ادائیگی سے، غرباء کی خبرگیری کرنے سے، غرض جس طرح بھی کسی سے بن پڑے کوشش کرکے خداتعالیٰ کو خوش کرنا چاہئے۔ مالی قربانی بھی خدا کے حضور بڑا انعام مہیا کرتی ہے۔ یہ قرب خداوندی کا ایک اور بہت بڑا ذریعہ ہے۔پس جو خدا کی خاطر اپنے محبوب چیزوں کو اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو خدا اسے بہت اجر دیتا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کی سخاوت تو آندھی سے بھی زیادہ تیز ہو جاتی تھی۔

اس لئے اگر آپ نے غرباء کا خیال رکھا یا اپنے چندے پورے ادا کر دیئے، شرح کے مطابق زکوٰۃ دی، صدقۃ الفطر ادا کیا یا جس رنگ میں بھی مالی قربانی کی اسے قائم اور دائم رکھیں، زندہ رکھیں اور پھر مالی قربانیوں سے پیچھے نہ ہٹیں۔ آپ یقیناًاسی میں سے خدا کو دے رہے ہیں جو خدا نے آپ کو دیا ہے۔

اگر آپ نے غرباء کا خیال رکھا، انہیں افطاری کرائی تو رمضان کے بعد بھی غرباء کی خبرگیری کرتے رہیں اگر ان کی مالی طور پر مدد کی تو پھر وہ رمضان کے بعد بھی جاری رکھیں۔ خدا اس کی توفیق دے۔ آمین

لیلۃ القدر

رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جیسا کہ احادیث میں آتاہے کہ ایک رات ایسی بھی ہے جسے لیلۃ القدر کہتے ہیں او رجو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ حضرت عائشہ سے اس کی دعا بھی ثابت ہے کہ اگر کسی کو لیلۃ القدر میسر آجائے تو یہ دعا پڑھے۔ اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ۔ اے اللہ یقیناًتو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے پس تو مجھے معاف فرما دے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لیلۃ القدر کے بارے میں بیان کیا تو فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ آپ کو لیلۃ القدر کے بارے میں بتاؤں۔ ’’لیکن جوں ہی آپ باہر نکلے آپ نے دو آدمیوں کو لڑتے جھگڑتے دیکھا، ان کی یہ حالت دیکھ کر آپ لیلۃ القدر کا معین وقت بھول گئے اور آپ کا خیال لڑائی کی طرف لگ گیا۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ اس کی برکتوں سے عام لوگ فائدہ اٹھانے سے محروم رہ گئے اس سے معلوم ہوا کہ لڑائی اور اختلاف لیلۃ القدر کی برکتوں کو دور کر دیتا ہے۔‘‘ (خطبات محمود جلد نمبر8 صفحہ389)

وہ لوگ جو رسمی طور پر لیلۃ القدر مناتے ہیں ان سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ:

’’تم نے ان برکات کے حصول کے لئے کتنی قربانیاں کیں، کتنے اختلافات کو دور کیا کتنے جھگڑوں کو مٹایا یا کتنی جگہ ایثار کیا۔ اگر تم نے جھگڑوں اور اختلافوں کو نہیں مٹایا اور اپنے اندر تبدیلی نہیں کی تو اس کا کیا فائدہ اگر تم نے رسمی طور پر اس لیلۃ القدر کی خوشی منائی اور تم نے عارضی جوش ظاہر کیا۔‘‘ ۔۔۔ تمہارا فرض ہے کہ تم ان شرائط کی پابندی کرو جو خدا نے اس کی برکات حاصل کرنے کے لئے ضرور قرار دی ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ اختلاف اور جھگڑوں کو چھوڑ دو اور تبدیلی پیدا کرو ورنہ یاد رکھو جب تک تبدیلی نہ کرو گے اس کی برکات کو حاصل نہ کر سکو گے خواہ تم لیلۃ القدر کی ساری رات ہی کیوں نہ جاگتے رہو۔ اور دعائیں کرتے رہو وہ تمہارے ہاتھ سے اسی طرح نکل جائیں گی جس طرح ایک مچھلی تڑپ کر ماہی گیر کے ہاتھ سے اور ایک گولی سنسناتی ہوئی زخمی کے بدن سے نکل جاتی ہے۔

پھر دوسرا نکتہ لیلۃ القدر میں یہ بتایا گیا ہے کہ آرام کے ساتھ بیٹھنے کے ساتھ کامیابی نہیں ہو سکتی تم سست بیٹھے رہنے سے لیلۃ القدر کی برکات کو حاصل نہیں کر سکتے جب تم تکلیف کو برداشت کرو گے اسی وقت اس قابل ہو گے کہ لیلۃ القدر کی برکات سے تم کو حصہ دیا جائے۔‘‘ (خطبات محمود جلد 8 صفحہ390-391)

فرماتے ہیں:

’’آج کل کے مسلمان جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں ان کی حالت دیکھو، اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں ہر جگہ ذلیل اور رسوا ہیں نہ عزت باقی ہے نہ شوکت۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ تعویذوں اور ٹونوں سے جیتنا چاہتے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ سوتے رہیں اور لیلۃ القدرکی برکات سے حصہ مل جائے یہ چاہتے ہیں کہ بغیر کوشش اور جدوجہد کے انعامات حاصل کر لیں جو بالکل عبث اور بے ہودہ خیال ہے۔‘‘ ایضاً

عیدالفطر

عید الفطر جو شخص ماہ رمضان ان احکامات کے تابع گزارتا ہے جن کا ذکر متعدد مرتبہ کیا جا چکا ہے یعنی کامل فرمانبرداری کے ساتھ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے رمضان گزارا، نمازیں باجماعت پڑھیں، قرآن کریم پڑھا، عمل کیا، لغو باتوں سے پرہیز کیا۔ غرباء کی خبرگیری کی، اپنے غصہ پر قابو رکھا، صبر دکھایا، تحمل اور برداشت اختیار کیا۔ کسی کو دکھ نہ دیا، صدقۃ الفطر دیا، چندوں کی ادائیگی کی، مسجدوں کو آباد رکھا، اعتکاف کی سعادت بھی ملی، تہجد و تراویح ادا کرتا رہا، تو ایسے شخص کا حق بنتا ہے کہ خداتعالیٰ نے ان باتوں کے بعد جو اس کے لئے انعام رکھا ہے عید الفطر کی شکل میں وہ اسے منائے۔ اللہ تعالیٰ سب کو ایسی روحانی خوشیاں نصیب کرے۔ آمین۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/syed-shamshad-ahmad-nasir,-new-age-islam/the-last-ten-days-of-ramazan-and-prayers--رمضان-المبارک-کا-آخری-عشرہ-اور-عبادات/d/103788

 

Loading..

Loading..