New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:32 PM

Urdu Section ( 17 May 2015, NewAgeIslam.Com)

The Definition of the Muslims and the Real Meaning of Islam اسلام کے حقیقی معانی اور مسلمان کی تعریف

 

 

 

 

 

 

 

امام سید شمشاد احمدناصر، نیو ایج اسلام  

یوں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے 52سے زائد اسلامی ممالک میں اکثریت میں بسنے والے مسلمان ہی ہیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق کہلاتے ہیں اور آپؐ پر اپنی جانیں تک فدا کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، اور ہونا بھی چاہئے۔

لیکن یہ بات دیکھنے والی ہے کہ اسلام کے کیا معانی ہیں اور جب کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔

لغت کی رو سے اسلام کے معانی:

اسلام کا مادہ یا روٹ سَلِمَ ہے (المنجد)

سَلِمَ۔ سَلَامَۃً وَ سَلَامًا کے معانی ہیں کسی عیب سے یا آفت سے نجات پانا۔ چھٹکارا پانا۔ بری ہونا۔

سَلَّمَ بِالْاَمْرِ۔ راضی ہونا۔ فرمانبردار ہونا۔ کسی کا کسی کو کوئی شئے سپرد کرنا اور اس کا اس کو قبول کر لینا۔

سَالَمَہُ۔ مصالحت کرنا۔ اَسْلَمَ: مطیع و فرمانبردار ہونا۔ مذہب اسلام قبول کرنا ۔

اَسْلَمَ الْعَدُوَّ۔ دشمن کو چھوڑ دینا۔ اَمْرَہٗ اِلَی اللّٰہِ۔ معاملہ کو اللہ کے سپرد کر دینا۔

تَسَالَمَ الْقَوْمُ۔ مصالحت کرنا۔ آپس میں اتفاق و اتحاد کرنا۔

اِسْتَسْلَمَ۔ تابعدار ہونا۔ اَلسِّلْمُ: سلامتی، تابعداری۔ دَارُالسَّلَامِ۔ جنت۔ اَلسَّلَامَۃُ: عیوب و آفات سے پاکی اور بریت۔

یہ تمام معانی لغت کی مشہور کتاب المنجد سے لئے گئے ہیں۔ (زیر لفظ سلم صفحہ488)

لغت کی رو سے اسلام کے معانی یہ بنے جو اپنے آپ کو بیچ دے۔ کسی کے سپرد کر دے۔ تابعدار اور فرمانبردار بن جائے، صلح آتشی، دشمن کو چھوڑ دے۔ آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنے والے کو اور مصالحت کرنے اور کرانے والے کو مسلمان کہیں گے یا جانیں گے۔ اور یہ سارے معانی اسلام قبول کر لینے کے بعد ہر مسلمان کہلانے والے میں پائے جانے ضروری ہیں۔ وہ امن پیدا کرنے والا ہو، امن مہیا کرنے والا ہو، امن دینے والا ہو، صلح و آتشی سے رہنے والا ہو، آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنے والا ہو اور جب اس کے اختیار میں ہو تو اپنے دشمن کو بھی چھوڑ دینے والا ہو۔ جس طرح ایک جنگ میں حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے ایک دشمن کو زیر کر لیا اور قریب تھا کہ آپ اسے قتل کر دیتے اس نے آپ کے منہ پر تھوک دیا آپ نے اسی وقت اسے چھوڑ دیا۔ اور فرمایا کہ اب اگر میں تجھے قتل کرتا ہوں تو اس میں مرا نفس شامل ہو جائے گا اور خدا کی رضا ختم ہو جائے گی۔

آنحضرت ﷺ کے نزدیک ایک مسلمان کی تعریف

مسلمان کی وہی دستور اور آئینی تعریف اختیار کی جائے جو حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبانِ مبارک سے ارشاد فرمائی اور جو اسلامی مملکت کے لئے ایک شاندار چارٹر کی حیثیت رکھتی ہے جس کے لئے ہم تین احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتے ہیں:

1۔ حضرت جبریل علیہ السلام آدمی کے بھیس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضورؐ سے پوچھا:۔

کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اسلام کے بارے میں مطلع فرمائیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں نیز یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر راستہ کی توفیق ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس شخص نے کہا کہ حضورؐ نے بجا فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں اس پر تعجب آیا کہ سوال بھی کرتا ہے اور جواب کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس شخص نے پوچھا کہ مجھے ایمان کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ آپ اللہ پر ایمان لائیں۔ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں پر ایمان لائیں۔ نیز یومِ آخر پر ایمان لائیں اور قضاء و قدر کے بارے میں خیرو شر پر بھی ایمان لائیں۔ اس شخص نے کہا کہ آپ نے درست فرمایا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الایمان )

2۔ اہلِ نجد میں سے ایک شخص پراگندہ بالوں والا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سنتے تھے مگر اس کی باتوں کو نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ وہ شخص زیادہ قریب ہو گیا تو معلوم ہوا کہ وہ حضورؐ سے اسلام کے بارے میں دریافت کر رہا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دن اور رات میں پانچ نمازیں مقرر ہیں۔ اس نے کہا کہ ان پانچ کے علاوہ اور بھی نمازیں ہیں؟ حضورؐ نے فرمایا کہ نہیں بجز اس کے کہ تم بطور نفل ادا کرنا چاہو۔ حضور نے پھر فرمایا کہ رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے پوچھا کہ رمضان کے روزوں کے علاوہ اور بھی روزے فرض ہیں؟ حضور نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل رکھنا چاہو۔ پھر حضور ﷺ نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا۔ اس نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی اور ہے؟ حضور نے فرمایا نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل زیادہ ادا کرنا چاہو۔ وہ شخص مجلس سے اٹھ کر چل پڑا اور یہ کہہ رہا تھا کہ بخدا میں ان احکام پر نہ زیادہ کروں گا اور نہ ان میں کمی کروں گا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایاکہ اگر یہ اپنے اس قول میں سچا ثابت ہوا تو ضرور کامیاب ہو جائے گا۔

(صحیح بخاری کتاب الایمان )

3۔ جس شخص نے وہ نماز ادا کی جو ہم کرتے ہیں۔اس قبلہ کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔ پس تم اللہ کے دیئے ہوئے ذمے میں اس کے ساتھ دغابازی نہ کرو۔

(بخاری باب فضل استقبال القبلۃ)

ہمارے مقدس آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ احسانِ عظیم ہے کہ اس تعریف کے ذریعہ آنحضور ؐ نے نہایت جامع و مانع الفاظ میں عالمِ اسلامی کے اتحاد کی بین الاقوامی بنیاد رکھ دی ہے اور ہر مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ اس بنیاد کو اپنے آئین میں نہایت واضح حیثیت سے تسلیم کرے ورنہ امت مسلمہ کا شیرازہ ہمیشہ بکھرا رہے گا اور فتنوں کا دروازہ کبھی بند نہ ہو سکے گا۔ قرونِ اولیٰ کے بعد گزشتہ چودہ صدیوں میں مختلف زمانوں میں مختلف علماء نے اپنی من گھڑت تعریفوں کی رو سے کفر کے جو فتاویٰ صادر فرمائے ہیں ان سے ایسی بھیانک صورت حال پیدا ہوئی ہے کہ کسی ایک صدی کے بزرگان دین، علمائے کرام، صوفیاء اور اولیاء اللہ کا اسلام بھی ان تعریفوں کی رو سے بچ نہیں سکا اور کوئی ایک فرقہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا جس کا کفر بعض دیگر فرقوں کے نزدیک مسلمہ نہ ہو۔‘‘

(محضرنامہ ناشر اسلام انٹرنیشنل پبلیکیشنز لمیٹڈ صفحہ 17تا19)

معروف کالم نگار محترم ارشاد احمد حقانی صاحب روزنامہ جنگ 17فروری 1984ء میں تحریر فرماتے ہیں:

‘‘مجھے یاد ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس ایم آر کیانی نے علماء سے مسلمان کی تعریف دریافت کی تو علماء نے آپس میں مشورہ کے بعد کہا

‘‘ہمیں اس کے لئے کچھ مہلت دیجئے’’

تو موصوف جسٹس نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کہ

‘‘آپ کو ڈیڑھ ہزار سال کی مہلت مل چکی ہے۔ اس سے زیادہ مہلت دینا اس عدالت کے اختیار میں نہیں۔’’

پھر لکھتے ہیں کہ

‘‘اگر دیکھا جائے تو جو کچھ اس ایک فقرہ میں کہہ د یا گیا ہے اسے ضخیم کتاب میں بھی اس خوبصورتی سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔’’

غلام احمد پرویز لکھتے ہیں:

‘‘آپ منیر کمیٹی کی رپورٹ دیکھئے انہوں نے اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینے کے لئے مسلمان علماء سے یہ پوچھا تھا کہ مسلمان کسے کہتے ہیں؟ اس سوال کا کوئی متفق علیہ جواب ان سے بن نہ پڑا۔

جب یہ صور تحال سامنے آئی تو منیر کمیٹی کو یہ کہنا پڑا کہ جب آپ حضرات یہ نہیں بتا سکتے کہ مسلمان کسے کہتے ہیں تو ہم کس طرح فیصلہ کریں کہ فلاں جماعت جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے، مسلمان کہلا سکتی یا نہیں۔’’

(ختم نبوت اور تحریک احمدیت صفحہ126-127)

URL: http://newageislam.com/urdu-section/syed-shamshad-ahmad-nasir,-new-age-islam/the-definition-of-the-muslims-and-the-real-meaning-of-islam--اسلام-کے-حقیقی-معانی-اور-مسلمان-کی-تعریف/d/103014

 

Loading..

Loading..