New Age Islam
Sat Oct 24 2020, 02:16 PM

Urdu Section ( 8 Nov 2012, NewAgeIslam.Com)

The Right to Divorce: In the Eyes of J&K High Court طلاق کا اختیار: جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی نظر میں

 

  

 

سید منصور آغا

8 نومبر، 2012

جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے فاضل جج حسنین مسعودی نے اپیل محمد نسیم بھٹ بنام بلقیس اختر میں اپنے فیصلے میں اس بنیاد ی سوال کا جائز ہ لیا ہےکہ مسلمان شوہر کو طلاق کا قطعی اور یکطرفہ حق؍اختیار حاصل ہے یا اس کی کچھ حدود اور کچھ ضابطے بھی ہیں؟ موصوف نے نصوص شرعیہ سے استدلال کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرد کا یہ حق ‘مطلق’ (Absolute) نہیں ۔گویا اس کو یہ کھلی چھوٹ نہیں کہ من موجی طریقے سے معاہدہ نکاح کو بلا جواز حقیقی منسوخ کردے۔ بلقیس اختر کا نکاح 24؍ اگست 2002 کو نسیم بھٹ سے ہوا تھا ۔ 6؍ جون 2003 کو دختر کریمہ کی ولادت کے کچھ عرصہ بعد  دونوں میں ناچاقی ہوگئی ۔ جنوری 2006 میں بلقیس نے بذریعہ عدالت اپنی اور بچی کے لئے گزار ے کا مطالبہ کیا جس میں شوہر نے دلیل دی کہ وہ طلاق دے چکا ہے۔ مجسٹریٹ نے اس دلیل کی بنیاد پر بچی کے لئے تو گزارہ طے کر دیا مگر بلقیس کو غیر مستحق قرار دے گیا ۔ بلقیس کی اپیل پر ضلع جج نے اس حکم کو الٹ دیا جس کے خلاف اختر بھٹ نے اپیل زیر بحث ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔

اگر چہ یہ فیصلہ 30؍ اپریل 2012 کو لکھا گیا ۔ مگر اس کی خبر چھ ماہ بعد یکم نومبر کو شائع ہوئی اور 4؍ نومبر کو سرینگر میں علماء کے ایک مذاکرہ میں اس کو     ‘‘ امور شرعیہ میں عدلیہ کی راست مداخلت’’قرار دیتے ہوئے اپیل کی گئی ہے کہ تمام مکاتب فکر متحد ہوکر ازالہ کی تدبیر کریں۔ عندیہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مروجہ اور شرعی قوانین کے جانکار فیصلے کا تفصیل سے مطالعہ کریں گے۔ اس رائے کے ساتھ کچھ اختلافی آوازیں بھی اٹھی ہیں۔ گمان ہے کہ یہ مباحثہ طول پکڑے گا ۔ ہمارا ارادہ اس پر رائے زنی کا نہیں ہے، البتہ یہ سوال ضرور ہے کہ فیصلے کا تفصیل سے مطالعہ کئے بغیر یہ رائے کیسے قائم کر لی گئی کہ یہ ‘‘شرعی امور میں عدالت کی راست مداخلت’’ ہے ؟ اور جب پہلے ہی ایک رائے بنالی گئی تو اس کا ‘‘مطالعہ’’ کیونکر غیر جانبدار انہ اور قابل اعتبار ہوگا؟

بہر حال فیصلہ پڑھنے سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ فاضل جج نے کوئی ذاتی رائے نہیں تھوپی ہے بلکہ نصوص شرعیہ کے حوالے سےایک نتیجہ اخذ کیا ہے ۔ فقہائے کرام بھی مسائل کا استنباط و استخراج انہی نصوص سے کرتے ہیں۔ اختلاف کی آراء میں بھی ہوتا ہے ۔ چنانچہ جسٹس مسعودی کی رائے سے اختلاف ہوسکتا ہے ۔ اس فیصلے پر غور و خوض دو پہلوؤں سے ہونا چاہئے ۔ اوّل یہ کہ فاضل جج نے نصوص کے حوالہ سے جو نتائج اخذ کئے ہیں وہ معقول و مدلل ہیں یا نہیں؟ اگر لائق جج نے استدلال میں غلطی کی ہے تو اس کی نشاندہی ہونی چاہئے ۔ غورو فکر اس پہلو سے بھی ہونا چاہئے کہ ہمارے معاشرے میں طلاق بدعی کا جو ڈھیر ہ چل پڑا ہے ، اس کی حوصلہ شکنی منشا ئے شریعت کو پورا کرتی ہے یا حوصلہ افزائی روح اسلام کے موافق ہے ؟ یہ انداز فکر معقول نہیں کہ ہمارے رائے ہی درست ہوسکتی ہے، عدالت کا فیصلہ چاہے کتنا ہی معقول کیوں نہ ‘‘شریعت میں مداخلت’’ ہے اور عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی جائے۔ بغیر غور و فکر ہر معاملہ میں عدلیہ کو مطعون کرنے کی یہ روش کہا ں لے جائے گی؟ آخر آپ انصاف کی امید کس سے کریں گے؟ فاضل جج نے اسلام میں ازدواجی رشتہ کی اہمیت ، طلاق کی گنجائش اور اس کے طریقہ کار کو جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کے متعدد پہلوؤں کی عام افادیت کے پیش نظر اس کا عام فہم ترجمہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ صرف تنقید ہی نہیں، فیصلے کے اہم نکات بھی قارئین کرام تک پہنچ سکیں۔ (فیصلہ kashmirlife.in پر موجود ہے۔ اس مضمون نگار سے بھی ذریعہ ای میل (syyedagha@hotmail.com) طلب کیا جاسکتا ہے )

اسلام میں شادی کی حیثیت :

طلاق کے حق سے متعلق مذکورہ بالا سوال کے جواب سے قبل فاضل جج نے یہ نشاندہی کی ہے کہ اسلام کی نظر میں عقد نکاح زوجین کے درمیان ایک پاکیزہ میثاق ہے۔ یہ انس و محبت ، باہم احترام ، وفاشعاری اور اطاعت گزاری کا ملن ہے ۔ شادی کو قرآن نے قادر مطلق اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور زوجین کے لئے سکون و راحت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ فرمایا گیا ہے: ‘‘ اور اس کی نشاندنیوں میں سے ہے یہ کہ بنادیئے تمہارے واسطے تمہاری قسم سے جوڑے کہ چین سے رہو ان کے پاس اور رکھا تمہارے بیچ میں پیار او رمہربانی ۔ بیشک اس میں بہت پتے کی باتیں ہیں ان کے لئے جو غور کرتے ہیں’’۔ (21:30)

اسلام میں شادی محض جذباتی یا حیوانی تقاضوں کو پورا کرنے کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ ایک عبادت بھی ہے۔ نکاح کے رشتے میں بندھ کر انسان اللہ کے حکم اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرتا ہے۔ اسلام تجرد کا قائل نہیں ۔ نکاح ایک دینی ذمہ داری ہے، اخلاق کا تحفظ ہے اور سماجی ضرورت ہے۔ شادی کے ذریعہ خاندان بنتا ہے جو سماج کی بنیادی اکائی ہے ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے، ‘‘نکاح میری سنت ہے’’ اور ‘‘ جس کو میری سنت سے رغبت نہیں وہ ہم میں سے نہیں ’’۔شادی باہم انس و محبت اور وفا شعاری کا رشتہ ہے ۔ اس معاملہ میں اسلام زوجین میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتا ۔دونوں برابر ہیں۔ محو لہ بالا آیت مبارکہ میں خطاب صرف مسلم مرد یا مسلم عورت سے نہیں ہے۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کے لئے عورت کو اس کا جوڑا بنایا یا عورت کے لئے مرد کو اس کا جوڑا بنایا، بلکہ عورت اور مرد کو ایک ساتھ خطاب کیا ہے کہ اس نے زوجین کی تخلیق فرمائی ۔ یہ اس کی رحیمی  ہے۔ یہ صاف اشارہ ہے کہ رشتہ ازدواج میں عورت اور مرد برابر کے شریک ہیں۔ قرآن حکیم شوہر اور بیوی دونوں کے لئے ‘‘زوج’’ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ قرآن نے جہاں بھی مثالی شریکوں کا ذکر کیا ہے وہاں شوہر اور بیوی کی اصطلاح نہیں بلکہ ‘‘زوج’’ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں شوہر اور بیوی برابر کے شریک ہیں اور ان کا درجہ بحیثیت زوجین آپس میں برابر کا ہے۔

یہ ہے وہ اساس جس پر اسلام شادی شدہ جوڑوں میں ایک خاص معاشرت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسلامی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے دونوں کو اپنی پسند ، نا پسند کی آزادی دی گئی ہے۔ نکاح کے وقت دونوں کو دائرہ عقد نکاح میں داخل ہونے کااہل ہونا چاہئے ۔ نکاح کے لئے دونوں کی رضا مندی ، ایجاب و قبول ضروری ہے ۔ یہ اس نظریہ کو مزید تقویت پہنچاتا ہے کہ ایک مرد اور عورت کو عقد نکاح کے وقت برابر کا حق، برابر کی ذمہ داری اور برابر کا اختیار حاصل ہے۔ نکاح کے بعد دونوں کے اپنے اپنے حقوق ہے ۔ شادی کے مقاصد اور اس کی بنیاد سے ظاہر ہے کہ یہ چار دن کا عارضی ملن نہیں بلکہ ایک طویل مدتی؍ تا حیات ساتھ کا عہد ہے۔

باہم حفاظت کرنے والے:

اسلام میں میاں اوربیوی ایک دوسری کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ قرآن ان کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیتا ہے ۔ (تمہاری عورتیں لباس ہیں تمہارا اور تم لباس ہو ان کا : 1872) یہ آیت مبارکہ اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں کا رشتہ کس قدر قربت اور بے تکلفی کا ہے ۔ یہاں بھی قرآن شوہر اور بیوی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا۔ لباس صرف گرمی، سردی یا بیرونی زد سے ہی حفاظت نہیں کرتا، بلکہ ایسی چیز ہے جس سے زیادہ قریب کوئی دیگر چیز انسان کے بدن سے ہوتی ہی نہیں ۔ چنانچہ ‘‘ ایک دوسرے کے لباس ’’ کی تمثیل کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی دوسرا شخص اتنا قریب اور حفاظت کرنے والا نہیں ہوسکتا جتنا شوہر اپنی بیوی کے لئے اور بیوی اپنے شوہر کے لئے ۔ زوجین کے درمیان باہم انس و محبت قربت، فکر مندی اور حفاظت کا یہ جذبہ پورے خاندان ، سماج، دنیا اور کائنات پر محیط ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ اسلام میں رشتہ ازدواج عالمی امن و محبت کی ایک مضبوط اکائی ہے۔

 تنسیخ عقد نکاح:

اگر چہ اسلام شادی کو عارضی رشتہ تصور نہیں کرتا اور یہ توقع و تلقین کرتا ہے کہ زوجین کے درمیان انس و محبت ، دلچسپی ، پاکبازی اور باہم عزت کی بنیادوں پر ایک مستحکم رشتہ قائم رہے لیکن اس کے باوجود وہ بعض ناگزیر وجوہ کی بنیاد پر انقطاع عقد نکاح کے امکان کو خارج نہیں کرتا۔ اسلام نے تنسیخ معاہدہ نکاح کے تین طریقے متعین کئے ہیں ۔ (الف) خلع: زوجین کی باہم رضا مندی سے۔ (ب) طلاق: شوہر کے طلاق دینے سے (ج) فسخ نکاح : قاضی کی مداخلت سے ۔ اس کے علاوہ کچھ دیگر ضمنی طریقے بھی ہیں، مثلا ایلا ء، ظہار، مبارت اور لعان وغیرہ ۔ پیش نظر کیس شوہر کی طرف سے طلاق کا ہے۔ طلاق تین قسم کی ہوسکتی ہے: (الف) طلاق احسن : مدت طہر ( دو ماہوار یوں کے درمیان وقفہ) میں بغیر اس کے کہ ہم بستر ہواہو، شوہر ایک طلاق دے دے اور پھر مدت عدت ختم ہونے تک ہم بستر نہ ہو۔ (ب) طلاق حسن : طہر کی لگاتار تین مدتوں کےدوران ہر مدت میں ایک مرتبہ طلاق دے اور اس  دوران ہم بستر نہ ہو۔ (ج) طلاق بدعت: ایک ہی طہر میں تین طلاق ، چاہے ایک ہی جملے میں دیدے یا تین جملوں میں دوہرادے ،یا لکھ کر دے دے یا کسی اور طرح اپنا عندیہ صاف ظاہر کردے ، اس طرح طلاق مغلظہ واقع ہوجائے گی جس کو لوٹا یا نہیں  جاسکے گا۔

یہ بات اہم ہے کہ صرف طلاق احسن وہ قسم ہے جس کو قرآن کی پسندیدگی (approval) حاصل ہے ( اور جس کو تفصیل سے بیان کیا ہے)کیونکہ اس میں رجوع کی گنجائش رہتی ہے ۔ ایک طرح یہ تجربہ کے طور پر علیحدگی کا عارضی طریقہ ہے جس میں زوجین بے تعلق رہ کر وقت گزاریں ۔ اس میں زوجین اور ان کے قریبی لوگوں کو انقطاع تعلق و علیحدگی کے منفی اثرات کو محسوس کرنے کا موقع ملتا ہے۔ سند جواز کے اعتبار سے طلاق حسن، طلاق احسن کے بعد کے درجہ میں آتی ہے۔ دو طہر کے درمیان طلاق کے بعد دونوں فریقوں کے لئے یہ موقع رہتا ہے کہ وہ یا تو ساتھ نباہ کا فیصلہ کرلیں یا ہمیشہ کے لئے الگ ہوجائیں، جس صورت میں رجوع کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ایک بار جب دو طلاقوں کی مدت کے دوران رجوع نہ ہو تو تیسری طلاق بائن ہوگی۔ قرآن سورہ بقرہ کی آیت 229 میں کہتا ہے :‘‘ اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو اور پھر پہنچیں اپنی عدت تک (عدت پوری ہونے کو آئے ) تو رکھ لو ان کو موافق دستور کے یاچھور دو ان کوبھلی طرح سے او رنہ روکے رکھو ان کو ستانے کے لئے تاکہ ان پر زیادتی کرو’’۔ طلاق بدعت بعد کی ایجاد ہے اور قرآن و سنت میں اس کی کوئی سند نہیں ملتی ۔ یہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ طلاقوں کی و با پر قابو پانے کےلئے علاج کے طور پر تجویز ہوئی تھی مگر بعد میں اس مرض سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوئی جس کا علاج مقصود تھا۔ اتنا ہی نہیں کہ اس سے قطعی طلاق فوراً واقع ہوجاتی ہے بلکہ مطلقہ خاتون عدت کے دوران اپنے نان و نفقہ اور گھر میں رہنے جیسے حقوق سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔طلاق کی یہ انتہائی مذموم اور نا پسندیدہ قسم ہے اور نکاح کو توڑنے کے لئے یہی کثرت سے استعمال کی جاتی ہے ۔’’ فیصلے کے اس حصے میں قرآن و سنت کے حوالے سے رشتہ ازدواج کی جو تشریح اور طلاق کی جو قسمیں بیان کی گئی ہیں ان سے اختلاف کی گنجائش نظر نہیں آتی ۔ اس کے بعد طلاق کے سلسلے میں قرآن کے احکامات اور اقوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ اسلام طلاق کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ یہ حصہ آئندہ پیش کیا جائے گا، بشرطیکہ اللہ نے توفیق دی۔

8 نومبر ، 2012  بشکریہ : روز نامہ صحافت ، نئی دہلی URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/the-right-to-divorce--in-the-eyes-of-j-k-high-court-طلاق-کا-اختیار--جموں-و-کشمیر-ہائی-کورٹ-کی-نظر-میں/d/9250

 

Loading..

Loading..