New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 07:50 AM

Urdu Section ( 15 Sept 2017, NewAgeIslam.Com)

Quest for Learning Is Not Just a Continuous Effort but an Unceasing Jihad تعلیم و تعلم جہد مسلسل نہیں، جہاد مسلسل ہے

 

 

 

 

 

15ستمبر،2017

سید حسین شمسی

گزشتہ ہفتہ اسی کالم میں تعلیم کی اہمیت و افادیت پر بات کرتے ہوئے سر سید احمد خان کی تعلیمی تحریک، اس کے اثرات اور موجودہ دور میں اس سے پہلو تہی، عدم دلچسپی اور رواج پاتے منفی رجحانات کی نشاندہی کی گئی تھی۔مضمون کا لب لباب یہ تھا کہ "سر سید اور ان کے رفقاء نے جو تعلیمی شجر لگایا تھا وہ تنا ور اور ثمر آور ضرور بنا لیکن اس ارادے کو مثالی بناتے ہوئے امت کے دیگر باثروت اور با حثیت حضرات نے ان خطوط پر چلنے کی کوشش نہیں کی، ورنہ آج شمالی ہند کے مسلمانوںکا تعلیمی سفر صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور شبلی کالج تک محدود نہ رہ جاتا"۔ اس افسوسناک صورتحال پر گریہ زاری کے ساتھ آج اس پہلو پر بھی گفتگو کرتے ہیں کہ متمول مسلم طبقے کی تعلیمی تحریک کے تیئں تقریباً بے زاری و بے اعتنائی ان کا رویہ و مزاج ہے یا مجبوری؟

غالباً ہم جدید ہندوستانی سیاست کے اس دور میں پہنچ گئے ہیں یا پہنچادئے گئے ہیں ، جہاں ہمیشہ اچھی لگنے والی بات کہنا آسمان پر تھوکنے کے مترادف ہو۔ ہم ہی نہیں بلکہ دانشوران اور فکرمند انِ قوم و ملک کا ایک خاصہ بڑا طبقہ اس بات کو قبول کرچکا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں فرقہ واریت ، علاقائیت ، ذات پسند ی وغیرہ در آئی ہے او ریہ بہ یک زبان اس تشویش کابھی اظہار کرتے ہیں کہ اس کا قیام طویل مدتی یا دائمی ہوسکتا ہے۔

اس حقیقت سے موشگافی نہیں کی جاسکتی کہ آزادی کے بعد سے ہی اقلیتی اداروں کے تئیں حکمراں طبقے کا رویہ مشکوک ہی نہیں، واضح طور پر جانبدارانہ رہا ہے۔ مسجد و مدرسہ تو کجا ، اقلیتی طبقے کے نئے عصری اداروں کو منظوری ،سرکاری مراعات و گرانٹ کے حصول وغیرہ کے معاملے میں سرکاری دفاتر کے وہ چکر لگتے ہیں کہ بندہ اپنی sanity، صحیح العقلی پر شبہ کرنے لگتا ہے۔ پرانے او ربڑے اداروں کا تو خیر جوں توں کام چل جاتا ہے لیکن نئے اداروں کے قیام پر ایسی ایسی سرکاری شرائط کا اطلاق کردیا جاتاہے کہ سرکاری خزانے میں اقلیتی اداروں کے لیے مختص فنڈ کا حصول محال ہوجاتاہے۔ نتیجہ کے طور پر حکومت کے ہر سالانہ بجٹ پراقلیتوں کے لیے ’’ بطور احسان ‘‘ فنڈ میں اضافہ کے اعلان کی خبریں تو شہ سرخیاں بنتی ہیں، لیکن سابقہ معلنہ فنڈ کے استعمال کا گوشوارہ کبھی پیش نہیں کیا جاتا او رنہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ ان فنڈ کے حصول میں توازن (لین اور دین) کیسے قائم کیا جاتا ہے۔ اگر آنجہانی راجیوگاندھی کی وہ بات مان لیں کہ سرکاری خزانے سے نکلنے والی رقم میں سے اینڈ یوزر کے پاس صرف دس پیسے ہی پہنچتے ہیں، تو اندازہ لگائیں کہ تعلیمی ادارے کس طرح کام کررہے ہیں۔

جیسا کہ سطو ر بالا میں ذکر کیا گیا ہے کہ اقلیتی اداروں کے ساتھ سوتیلے رویہ کا یہ لا متناہی سلسلہ آزادی کے بعد سے ہی روا ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ کسی دور میں کم تو کسی دورمیں ترقیات کی راہیں زیادہ مسدود کی گئیں۔ اگرموجودہ دور کی بات کریں تو تجزیہ نگار یہ ضرور لکھے گا کہ مودی حکومت ہو کہ یوگی ان کا رویہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے تعلق سے معاندانہ نہیں تو منافقانہ ضرور ہے۔ بیشتر ریاستوں میں اقلیتی طبقہ کے نیم سرکاری تعلیمی اداروں سے جن تفصیلات کامطالبہ اور ان پر جن شرائط کا اطلاق ہورہا ہے ، اس سے لگتا ہے کہ ’ قصور ڈھونڈ کے پیدا کیے جفا کے لیے‘ والا طریق کار اختیار کیا جارہا ہے ۔ اس بحث سے قطع نظر کہ مدارس اسلامیہ کو سرکاری بورڈ کی جانب سے دی جانے والی گرانٹ یا تنخواہ لینی چاہیئے کہ نہیں ، ہم اس امر پر گفتگو کریں گے کہ اتر پردیش کی سابق حکومت کی جانب سے ملحقہ مدارس کے اساتذہ کو فی مدرسہ 4لاکھ روپئے دینے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اسے روکنے کی جو تراکیب او ربہانے بنائے جارہے ہیں ،دیکھ کر ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ضابطہ اخلاق کی پاسداری کے تحت ہی یہ عمل جاری ہے؟ دراصل جن دنوں مدرسہ بورڈ کے تحت مدرسین کو تنخواہ کے نام پر مدارس کو گرانٹ جاری کرنے کا اعلان ہوا، اس پر موجودہ برسراقتدار کے لیڈران تلملا اٹھے او رکافی نکتہ چینی و احتجاجی بیانات جاری کرتے ہوئے یہ الزم عائد کیا تھا کہ مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مراعات کی شکل میں عنایات کی جارہی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آج اگر موجودہ حکومت سرکاری گرانٹ ختم کرنے کے حیلے حربے تلاش کررہی ہے تو صرف اپنی آئیڈیالوجی اور سابق حکومت سے مخاصمت کے سبب ہی کررہی ہے۔ تازہ ترین خبر کے مطابق اتر پردیش حکومت نے 560مدارس میں سے فی الحال 46مدرسوں کو دی جانے والی گرانٹ پر روک لگائی ہے۔ علاوہ ازیں مدارس کے ساتھ بیشتر گرانٹیڈ نیم سرکاری اداروں سے آئے دن مطلوبہ معلومات اور جانچ کے نام پر ’’سرکاری چھاپے‘‘ سے اہالیان ادارہ حد درجہ پریشان و عاجز ہیں۔

گزشتہ دنوں ہمارا لکھنؤ جانا ہوا۔ ایک مشہور اقلیتی تعلیمی ادارہ (انٹر کالج) کے ذمہ دارنے بتایا کہ رخنہ اندازی و مداخلت اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ بسا اوقات ادارے کی کاکردگی جاننے کے لیے آنے والا بیچ کلاس روم میں ہی جاکر طلبا کی کاپیاں جانچنے لگتا ہے اور اساتذہ کی کمیاں نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ طریقہ کار اس لیے قابل اعتراض ہے کہ مذکورہ ادارہ کے قرب و جوار کے غیر اقلیتی سرکاری اداروں میں یہ لوگ جھانکنے تک نہیں جاتے ۔ ایسی ہی ایک خبر ہمدرد یونیورسٹی سے متعلق عام ہورہی ہے کہ ایم بی بی ایس کورس کے لیے ہمدرد کی دراخوست ایک بار پھر مسترد کردی گئی ہے، حالانکہ ہمدرد ایک ایسا عظیم ادارہ ہے جو اپنے اصول و ضوابط کی پاسداری کے لیے اس قدر مشہور ہے کہ متعلقہ محکمات کو درکار دستاویزات و کاغذات مہیا کرانے میں کسی بھی طرح پیچھے نہیں رہ سکتا ۔ عین ممکن ہے کہ ہمدرد وقف کے ذمہ داران نے سامنے والوں کو وہ کچھ فراہم نہ کیا ہو، جو انہیں درکار ہے جو عام طور پر اس طرح کی منظوری کے لیے پروسیس کہلاتی ہے۔ بدقسمتی سے اس عمل کو اب معیوب نہیں سمجھا جاتا۔

سمجھ میں یہ آیا کہ اگر باثروت و متمول مسلم طبقہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی داغ بیل کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کرتے یا عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ حکومت و انتظامیہ کا سوتیلا رویہ اور سخت ترین شرائط کا اطلاق ہے،جس سے بے زار و عاجز آکر یہ شخصیات تصور کر بیٹھی ہیں کہ ’’ بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی‘‘۔

لیکن کیا مسلمانوں کا یوں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جانا، سرکاری رکاوٹوں سے خائف ہوجانا مناسب ہے؟ دانش مند کا کام تو یہ ہے کہ وہ ایک دروازہ بند کریں، تو آپ سو دروازے کھول لیں۔ اللہ کی مدد بھی طلب کریں کہ دروازے کھولنے کا ذمہ اسی کا ہے۔ فارسی کے ایک شعر کا ترجمہ ہے کہ جو ہاتھ بے کمال ہوتاہے، اسے کوئی نہیں پوچھتا ،اور جو ہاتھ با کمال ہوتا ہے، دنیا اسے بوسہ دیتی ہے۔ کیا ہوا اگر مسلم اکثریت تعلیم سے اس طرح بہرہ مند نہ ہوئی جیسا کہ اس کا حق ہے، اسے ہنر تو سکھایا جاسکتا ہے ۔ یہ بات مان کر چلیں کہ آپ کے ساتھ ایسا ہوگا، یہ بفرزون ہے۔ اگر اس بات کو تسلیم کرلیں گے تو زیادہ تکلیف نہیں ہوگی۔ تعلیم کے کار خیر کو جہد مسلسل ہی نہیں بلکہ جہادِ مسلسل سمجھ کر کریں،تکالیف کم ہو جائیں گی۔

ویسے حکومت کوبھی چاہئے کہ معاشرہ کو جہالت کی دلدل سے نکال کر تعلیم سے بہرہ ور کرنے اور صد فیصد تعلیمی سماج کا نعرہ پورا کرنے کیلئے طلبا، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے پیدا شدہ پیچیدگیوں کو دور کرے اور حصول تعلیم و تعلم کو سہل و آسان بنائے ۔

15ستمبر،2017 بشکریہ:روز نامہ راشٹریہ سھارا،نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/quest-for-learning-is-not-just-a-continuous-effort-but-an-unceasing-jihad--تعلیم-و-تعلم-جہد-مسلسل-نہیں،-جہاد-مسلسل-ہے/d/112540

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..