New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:11 AM

Urdu Section ( 15 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mughals and Mangoes مغل شہنشاہ اور آم

سمیت پال، نیو ایج اسلام

11 اپریل 2022

"کسی بھی گروہ یا طبقے کے مجموعی معیار اور حسب و نسب کا تعین اس کے کھانے پینے اور پھلوں کے شوق سے کیا جا سکتا ہے۔"

-پروفیسر سر ایڈورڈ گبن، 'دی رائز اینڈ فال آف رومن امپائر'

"کہہ مکری" 13ویں صدی کے صوفی شاعر امیر خسرو کے کلام کا ایک اقتباس:

बरसा-बरस वह देस में आवेमुँह से मुँह लाग रस प्यावे।

वा खातिर मैं खरचे दामऐ सखि साजन न सखि! आम।।

بشکریہ: انڈو اسلامک کلچر/ ٹویٹر

-----

مذکورہ بالا مشہور اقتباس مغلوں پر لاگو ہوتا ہے، جو آدھے ادھورے علم والے نو ہندوؤں کے مطابق 'غیر مہذب اور وحشیانہ لوٹ مار کرنے والے' ہیں اور جو مختلف سماجی پلیٹ فارم پر مسلمانوں اور مغلوں کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔ ویسے بھی یہ آموں کا موسم ہے، جو پکے ہوئے پھلوں کے مہک سے سرشار ہے۔ ہر کھانے والے کی طرح مغلوں کو بھی آم بہت پسند تھے۔ یہاں تک کہ فارسی شاعر عرفی شیراز نے اکبر کے دربار میں اسے 'سرتاجِ ثمر' (پھلوں کا بادشاہ، ثمر: اردو میں پھل) کہا اور فارسی میں لکھا، 'اس کی مت ماری گئی ہے اور اس کا ذائقہ خراب ہو چکا ہے جسے آم پسند نہیں' مغلوں کو نہ صرف آم بہت پسند تھے بلکہ انہوں نے قندھار اور آج کے کوہاٹ (شمال مغربی سرحدی صوبہ۔ جو کہ امرود اور اردو کے عظیم شاعر احمد فراز کے لیے بھی مشہور ہے ) تک آم کے باغات کے مالک ہوئے اس پھل کی سرپرستی تھی۔جب بابر نے آم کو ناپسند کر دیا (کیونکہ اسے وسطی ایشیا کا خربوزہ پسند تھا)، تو جہانگیر نے اس کی تعریف کرتے ہوئے اعلان کیا کہ "کابل کے پھلوں میں مٹھاس کے باوجود، ان میں سے ایک بھی میرے ذائقے کے مطابق آم کا ذائقہ نہیں رکھتا۔" واضح رہے کہ 'مغلوں کے دور حکومت میں پھلوں کو درباری ثقافت کے ساتھ ساتھ دربار کے دسترخوان پر بھی خاص مقام حاصل تھا۔ پھلیں نہ صرف کھانے کی اشیاء تھیں بلکہ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مغل کون تھے اور وہ اپنی ہندوستانی رعایا کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھل تہذیب کا ایک خوردنی پیمانہ تھا، جس کی کاشت اور قدردانی مہذب ثقافت کا ایک اہم پیمانہ تھا'' (بشکریہ، نیشنل میوزیم آف ایشین آرٹ، 12اکتوبر ، 2012)۔

جہانگیر کے والد شہنشاہ اکبر کو ملیح آباد کے علاقے (لکھنؤ کے قریب) کے آم اس قدر پسند تھے کہ انہوں نے آموں کے ٹکڑوں کو شہد میں محفوظ کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ جب آم کا موسم رخصت ہو جائے تو اس کا مزہ لیا جا سکے۔ میں بتاتا چلوں کہ شہد ایک بہترین محافظ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اکبر جوان تھا تو اسے آموں سے الرجی تھی اور رس دار پھل کھانے کے بعد اس کی جلد پر دانے پڑ جاتے تھے۔ لیکن اسے اس کا ذائقہ پسند تھا۔ خوش قسمتی سے، فیضی (ابوالفضل کے بڑے بھائی اور دربار اکبری کے نورتنوں میں سے ایک) ان کی مدد کے لیے آئے کیونکہ فیضی ایک حکیم بھی تھے۔ انہوں نے اکبر کو چٹکی بھر ہینگ کے ساتھ آم کا پنہ پینے کا مشورہ دیا۔ اکبر نے مکمل طور پر ان کی ہدایات پر عمل کیا جس سے آم سے ان کی الرجی دور ہو گئی۔ اکبر کے درباری شاعروں نے فارسی، اُتبی اور نذیری میں آموں پر تصنیفات لکھے۔ اتبی نے اکبر کے آم کے شوق پر ایک طویل نظم لکھی اور اس نے آم کی شہوت انگیز صفات بھی بیان کیں۔ اکبر ازدواجی قربت سے ایک گھنٹہ پہلے ایک پکا ہوا آم (شاید چوسا آم) کھانے کی سفارش کی۔ راجہ توڈرمل نے شہنشاہ کے اس 'طبی' مشورے سے فائدہ اٹھایا۔

مرزا غالب کی آموں سے محبت ہماری عوامی حکایات کا حصہ ہے۔

بشکریہ: انڈو اسلامک کلچر/ ٹویٹر

----

شاہجہاں مختلف اقسام کے آموں کا مزہ لیا کرتا تھا اور اسے امرس (بغیر دودھ کے) بہت پسند تھا۔ اسے آموں کا اتنا شوق تھا کہ جب اس کے بیٹے اورنگزیب نے اسے قید کیا تو اس نے شاہجہاں کو گرمیوں میں کم از کم آم سے لطف اندوز ہونے کی چھوٹ دے رکھی تھی۔ عام طور پر سخت مزاج اورنگ زیب کو بھی آم بہت پسند تھے اور جب وہ دکن (اورنگ آباد اور احمد نگر) میں تھے تو انہوں نے کئی قسم کے نئے آموں کا بھی ذائقہ آزمایا اور انہیں شمال کے آموں سے بہتر پایا۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بھی آم بہت پسند تھے۔ افسوس جب انگریزوں نے اسے رنگون (برطانیہ کے زیر تسلط برما) میں جلاوطن کر دیا تو بے چارے کو اس سے محروم کر دیا گیا گیا۔ مانا جاتا ہے کہ ظفر نے آموں کی تعریف میں ایک نظم بھی لکھی تھی لیکن ان کے استاذ اور شاعر ابراہیم 'ذوق' نے اسے مشتہر کرنے سے روک دیا کیوں کہ استاد شاعر کا خیال تھا کہ ایک شہنشاہ کی طرف سے یہ ایک غیر مناسب عمل ہے، بلکہ بادشاہ کی شان کے خلاف ہے کہ وہ آم پر لکھیں اور پھل کی تعریف کریں! ظفر اور ذوق کے ہم عصر مرزا اسد اللہ خان غالب کا پھلوں کے بادشاہ سے لگاؤ اردو عوامی حکایات کا حصہ ہے۔

اب جب کہ آم بازار میں آ چکے ہیں تو وقت آگیا ہے کہ اس پھل کے ذائقے سے لطف اندوز ہوا جائے۔ مختصر افسانہ نگار انتظار حسین کے الفاظ میں کہا جائے تو، افسوس ہے کہ، آم آج کل عام آدمی کی رسائی سے باہر ہو چکا ہے۔ آم، واقعی اب عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔

English Article: Mughals and Mangoes

URL:https://newageislam.com/urdu-section/mughals-mangoes-ghalib-jahangir/d/126801

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..