New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:47 AM

Urdu Section ( 19 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Akbar Never Forced Tansen to Embrace Islam اکبر نے تانسن کو اسلام قبول کرنے پر کبھی مجبور نہیں کیا

 سمت پال، نیو ایج اسلام

 14 مئی 2022

 ایسا لگتا ہے کہ پورے ملک نے اجتماعی طور پر مغلوں کو بدنام کرنے کا عہد کر لیا ہے گویا وہ بدمعاش اور لٹیرے تھے جنہوں نے ہندوستان کو بدنام کیا ہے

اہم نکات:

1.       تمام مغل شہنشاہوں میں اکبر کو مذہب میں سب سے کم دلچسپی تھی

2.       اکبر نے یہاں تک کہ دین الٰہی کے نام سے اپنا ایک نیا مذہب بھی بنایا تھا

3.       تان سین کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنا سراسر بے بنیاد معلوم ہوتا ہے

 ------

Photo: Brainy.in/ Akbar and Tansen

-----

 ایسا لگتا ہے کہ پورے ملک نے اجتماعی طور پر مغلوں کو بدنام کرنے کا عہد کر لیا ہے گویا وہ بدمعاش اور لٹیرے تھے جنہوں نے ہندوستان کو بدنام کیا ہے۔ کچھ دن قبل، تاریخ کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر (سب سے زیادہ حیران کن اور افسوسناک!) جو ہندوستان کے ایک نامور کالج میں تعلیم دیتے تھے اور اب پونا میں مقیم ہیں، انہوں نے ایک نجی محفل میں کہا کہ اکبر نے ایک عظیم موسیقار اور گلوکار تان سین کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا تھا۔ جبکہ یہ ایک کھلا جھوٹ اور سچ کا گلا گھونٹنا ہے۔

 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ تمام مغل بادشاہوں میں اکبر کو مذہب میں سب سے کم دلچسپی تھی۔ درحقیقت، ونسنٹ آرتھر اسمتھ نے اپنی عظیم الشان کتاب، 'اکبر دی گریٹ مغل، 1605-1542' میں لکھا ہے کہ، "اکبر اور شہزادہ دارا شکوہ نے اسلام اور دیگر مذاہب کو بھی جاننے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں دونوں اپنے وقت سے کافی آگے تھے۔ اگرچہ دارا ایک بہت بڑا عالم تھا جس نے آخر کار ہندو مذہب کو قبول کر لیا۔ ان پڑھ ہونے کے باوجود، اکبر نے پڑھنا لکھنا کبھی نہیں سیکھا، اس کا دماغ تیز تھا اور وہ فلسفہ اور تصوف (روحانیت) کے بارے میں مزید جاننے کا خواہشمند تھا۔

 اکبر کبھی بھی اسلام کا سخت گیر پیروکار نہیں رہا، بلکہ اس نے دین الٰہی کے نام سے اپنا ایک الگ مذہب بھی بنایا۔ تان سین اگرچہ بہت عظیم تھا، لیکن وہ انتہائی موقع پرست تھا، جس نے بعد میں اکبر کے 'دین الٰہی' کی پیروی کی۔ لیکن اکبر اس سے بھی خوش نہیں تھا کیونکہ وہ تانسین کی چاپلوسی سے آگاہ تھا۔ لہٰذا، تان سین کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے والی بات سراسر بے بنیاد ہے۔ درحقیقت، گیان کارلو کالزا نے اکبر کی اپنی تحقیق شدہ سوانح عمری (Akbar: The Great Emperor of India, 1542-1605) میں لکھا ہے کہ اکبر نے صوفی حضرت غوث محمد گوالیاری ہاتھوں تان سین کو اسلام قبول کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔

Akbar and Tansen visit Haridas/ Exotic India Art

-----

عبد القادر بدایونی جیسے اکبر کے سخت ناقد نے بھی اس بات کی تردید کی اور کہا ہے کہ اکبر کبھی بھی مذہب تبدیل نہیں کرواتا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے چند انتہائی قابل احترام صوفیوں کی سرزنش کی اور جب وہ غریب ہندوؤں کو دھوکہ دہی سے مذہب تبدیل کروانے میں ملوث پائے گئے تو انہیں ہلکی پھلکی سزا بھی دی۔ اکبر کے راجپوت سرداروں نے صرف شہنشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسلام قبول کیا تھا۔ لیکن، اکبر نے اپنے دوست اور درباری مؤرخ ابوالفضل کو بتایا تھا کہ میں راجپوتوں کے اسلام قبول کرنے کے پیچھے ان کے عیار مقاصد کو دیکھ سکتا ہوں۔

 جہاں تک تبدیلی مذہب کی بات ہے، کسی حد تک اورنگ زیب اور جہانگیر کے علاوہ تمام مغل بادشاہ اس میں قطعی طور پر شامل نہیں تھے۔ سر جدوناتھ سرکار نے 'ہسٹری آف اورنگزیب' (پانچ جلد/تیسری جلد) میں لکھا ہے کہ 'اگر چہ اورنگزیب مذہب تبدیل کرواتا تھا، لیکن اس کا مقصد تمام ہندوؤں کو مذہب تبدیل کرنا کبھی نہیں تھا۔ یہ بالکل سچ ہے۔ اگر اورنگ زیب کا مقصد یہی ہوتا تو وہ 1658 سے 1707 تک یعنی تقریباً پانچ دہائیوں کے اپنے طویل ترین دور حکومت میں تمام ہندوؤں کو مسلمان بنا دیتا۔

 لہذا، اب وقت آ چکا ہے کہ ہم ایک مسئلے کو تمام زاویوں سے دیکھیں اور پھر کوئی رائے قائم کریں۔ مغل، یا ایک وسیع تر تناظر میں تمام مسلمانوں نے جتنا گناہ نہیں کیا اس سے زیادہ ان کی توہین کی جا چکی ہے۔ ہمیں اس جارحانہ نقطہ نظر اور بری فکر کو تبدیل کرنا ہوگا۔

English Article: Akbar Never Forced Tansen to Embrace Islam

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/akbar-tansen-embrace/d/127045

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..