New Age Islam
Wed Apr 21 2021, 10:45 AM

Urdu Section ( 29 Dec 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Peaceful Islam is genuine Islam, the mainstream Islam: Sultan Shahin tells the UNHRC پرامن اسلام حقیقی اور مینسٹریم اسلام ہے : یو این ایچ آر سی سے نیو ایج اسلام کے فاونڈنگ ایڈیٹر جناب سلطان شاہین کا خطاب


اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ، 15 واں اجلاس ، جنیوا 13 ستمبر تا 1 اکتوبر 2010

زبانی بیان ، سلطان شاہین ، بانی ایڈیٹر ، نیو ایج اسلام

24 ستمبر 2010

انٹرنیشنل کلب فار پیس ریسرچ کی جانب سے

جناب صدر،

ویانا اعلامیہ اور پروگرام آف  ایکشن ہم سے ہر قسم کی عدم رواداری اور زینو فوبیا کے خلاف کام کرنے کو کہتے ہیں۔

حال ہی میں گراؤنڈ زیرو  سائٹ کے قریب مجوزہ مسجد کی طرف سے اٹھائے گئے تلخ تنازعات اور قرآن کو جلانے کے دھمکیوں کے درمیان نائن الیون کی ہولناکی کی 9 ویں برسی منائی گئی۔ ان امور پر  ہونے والی بحث سے  آج مغرب کے کچھ حلقوں میں مسلم اقلیتوں  کے تئیں  زینوفوبیا اور مذہبی عدم رواداری نے مزید شدت اختیار کر لی ہے ۔  لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم مسلمانوں نے اپنی صورتحال  درست کرنے کی سمت کوئی مفید کام انجام نہیں دیا اور اپنے رد عمل میں ‘‘sanctimonious arrogance of the West ’’ جیسی تعبیروں کا استعمال کرکے پورے مغرب  ہی کی مذمت عمومی  اور غیر مہذب انداز میں کر ڈالی ، جیسا کہ اسی طرز کی تعبیر کا استعمال   کچھ روز قبل اسی  عمارت میں منعقد ہونے والی ایک غیر رسمی  میٹنگ کے دوران  کیا گیا ۔

عالمی امن کے تحفظ اور مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کرنے کا ایک ہی راستہ ہے: اس کے لیے ضروری ہے کہ پرامن مسلمانوں کی خاموش اکثریت کو اپنی پسند کا انتخاب کرنے دیا جائے ۔ پُرامن اسلام حقیقی اسلام ، مینسٹریم  اسلام ہے ، جسے  میں اس مضمون میں ثابت کروں گا ، اور اگر ہم کچھ مغربی حلقوں میں پائے جانے والے افسوسناک مسلم ہسٹیریا کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں تو  بحیثیت مسلمان یہ ہمارا اولین کام ہے کہ ہم  خوف وہراس پیدا کرنے والے ماحول  کو مزید تقویت  نہ پہنچائیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جسے  میں یہاں بیان کروں گا ۔

اسلاموفوبیا میں غیر معمولی اضافہ جو اب کچھ حلقوں میں مسلم مخالف جنون کا سبب بن چکا ہے ،اس  نے  مغرب میں سول سوسائٹی  اور  دنیا بھر کی مسلم برادریوں  کو یکساں طور پر خوف زدہ کر دیا  ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما اور دیگر مغربی رہنما سے لیکر متعدد سماجی کارکنوں اور میڈیا تجزیہ کاروں نے  مسلسل یہ بیان دیا  ہے کہ نائن الیون کے مرتکب دہشت گرد تھے ،اور مغرب  کی جنگ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے پیروکاروں کے ساتھ ہے ، نہ کہ  اسلام  یا عام  مسلمانوں کے ساتھ ۔ لیکن اس کے باوجود اسلام کا خوف مستقل طور پر بڑھتا جارہا ہے ، حالانکہ دنیا کو اسلام سے خوفزدہ نہیں ہونا   چاہیے  بلکہ ان لوگوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے  جو اسلام اور اس کی تعلیمات کی شبیہ بگاڑنے کے پے در پے ہیں  تاکہ  وہ  اپنے  مذموم  مقاصد  کو   "مقدس ’’  کہلوا سکیں ۔

متشدد سامراجی اقلیت کے ذریعہ مینسٹریم مسلم کمیونٹی کی آواز دبانے کی شروعات غیر انسانی حرکتوں کو جواز بنانے کے لئے صحیفوں کی غلط استعمال سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں پیش کروں گا  کہ  ، حقیقی "کافر" مسلمان کی پرامن اکثریت نہیں ہیں -  جو کہ  خود دہشت گردی کی کارروائیوں کا شکار ہیں -  بلکہ "جہادیت" کے خود ساختہ رہنما ہیں۔  یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ زیادہ تر جہادیوں کا تعلق مسلمانوں کے ایک چھوٹے طبقے  ‘‘ مسلک اہل حدیث’’   سے ہے ، جو سب سے زیادہ  جنونی جماعت ہے  اور میں اسے  "پیٹروڈولر اسلام" سے تعبیر کرنے پر مصر ہوں  ، اور مغرب  پر لازم ہے کہ وہ اس بات کو بخوبی سمجھیں۔

بڑھتی ہوئی اسلامو فوبیا اور اب یہاں تک کہ بڑھتی ہوئی قرآنوفوبیا  کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ القاعدہ اور اس کے وہابی حامی اسلام  اور قرآن مجید کی بعض آیات میں  اپنی مذموم حرکتوں کا  جواز تلاش کرتے ہیں۔ دوسری طرف  مینسٹریم مسلمان ، صوفی مسلمان بھی  اس بات کا اعادہ واضح طور پر نہیں کر رہے ہیں ، جیسا کہ انہیں کرنا چاہیے  ، کہ قرآن کی جنگی امور سے متعلقہ  آیات اب ہمارے لئے قابل نفاذ  نہیں ہیں کیونکہ ان کا نزول چودہ صدی قبل ایک خاص حالت میں ہوا تھا  اور اب  صورتحال  مختلف ہے ۔ یہی وہ  غفلت ہے جس  کی وجہ سے   لوگوں کی توجہ ہمارے  مقدس صحیفے پر ہے اور  جو مغرب میں کچھ لوگوں کو قرآن مجید کے خلاف احتجاج کرنے پر اکسا رہی ہے ۔

ہم مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینا  چاہئے اور مغربی اسلامو فوبز  پر محض اپنا غصہ ظاہر کرنے کے بجائے ، ہمیں القاعدہ کے دہشت گردوں کی واضح  مذمت  میں اپنی صدا بلند کرنے باہر   نکل آنا چاہئے۔ واقعی یہ ایک شرم کی بات ہے کہ ہمارے علمائے کرام ، اسلامی اسکالرز نے ابھی تک اسامہ بن لادن اور اس کے پیروکاروں کو  اسلام سے  خارج   قرار نہیں  دیا ہے ، جبکہ ان کا معمول ہے کہ وہ فروعی باتوں پر بھی  ایک دوسرے  کے فرقے کو کافر  قرار دے دیتے ہیں۔

ہم مسلمان مغربی میڈیا  پر تنقید کر سکتے ہیں کیونکہ  یہ اسلام کو محض جنگ کی ترغیب دینے والے مذہب کی حیثیت سے پیش کرتی ہے ۔ لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں اور وہ کونسے عوامل ہیں جن کی بنیاد پر انہوں نے اس طرح کا تصور اپنایا ہے ۔

مغرب ہمیں جنگ وجدال کرنے والے افراد کی حیثیت سے دیکھتا ہے  لیکن ہم کس طرح انہیں اس بات کا مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں جبکہ ہمارے اپنے ہی لوگ ،  جن میں سے کچھ   تو بھر پور وسائل کے مالک ہیں ، ایک ایسے نظریے کی تشہیر کرتے رہتے ہیں جس میں  جہاد بالقتال  کو اسلام کا چھٹا ستون مانا جاتا ہے ؟  مقام حیرت ہے کہ جس چیز کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد اصغر قرار دیا اسے اب اسلام کا جہاد اکبر اور بنیادی ستون مانا  جا رہا ہے اور اسی طرح اس کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔

یہ نظریاتی منتقلی حادثاتی یا ارتقاء کے ذریعہ وقوع پذیر نہیں ہوئی  ہے۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے انتقال کے نصف صدی سے بھی کم عرصے بعد  ہی عرب سامراجی عناصر نے پیغمبر اسلام  کے پورے کنبہ کو قتل کردیا اور  مذہب اسلام کو اغوا کر کے  اسے  اپنی سلطنت کے قیام کے لئے استعمال کیا  اور پھر اسے مستقل طور پر وسعت دینے کی کوشش بھی کی  تھی۔ یہ  وہ عناصر تھے جو  ابتدا ہی  سے  اسلام کے سخت دشمن تھے مگر دین  اسلام  انہوں نے اس وقت قبول کیا جب وہ مکمل طور پر شکست کھا چکے تھے ۔

واضح ہے کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا  تاکہ وہ دین کے  اندر خرافاتی پیدا کر سکے ۔ اپنے مقاصد کی تکمیل کا  جواز پشے کرنے کے لئے انہوں نے اسلام میں دو بنیادی تبدیلیاں کیں : انہوں نے ایک متوازی صحیفہ جسے حدیث (نبی کے اقوال کے)  طور پر مشہور کیا گیا  اور علمائے دین (مذہبی اسکالرز) کا ایک ادارہ تشکیل  دیا جس کے لئے اصل اسلام میں کوئی گنجائش نہیں تھی۔ چنانچہ ایک سادہ مذہب جس نے ہر چیز سے کہیں بڑھ کر تقوی کی قدر کی ، اسے  ایک پیچیدہ سیاست میں  تبدیل کر دیا گیا  جس کا مقصد فقط دنیا پر  غلبہ و تسلط  حاصل کرنا  رہ گیا تھا ۔ پیغمبر اسلام  نے جو لڑائیاں لڑی تھی  وہ سراسر بقا کی لڑائیاں تھیں۔ لیکن ان کے بعد  اب اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے نام پر ایک سلطنت  کو تعمیر کرنے  ، برقرار رکھنے اور  اس میں وسعت دینے  کے لئے لڑائیاں لڑی گئیں۔

انہوں نے اپنی سامراجی مہم جوئی کا جواز ڈھونڈتے ہوئے  قرآن مجید میں  خدا کے کچھ خاص احکامات کی براہ راست خلاف ورزی کی۔ مثال کے طور پر ، خدا نے جارحیت سے منع فرمایا تھا  لیکن  انہوں نے  جہاد کی ایک نئی شکل بنائی  جسے  "جارحانہ" جہاد کا نام دیا گیا ۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ‘‘اللہ تعالی معتدین (یعنی حد سے بڑھنے والوں ) کو پسند نہیں فرماتا ہے ’’ سورہ البقرہ ۱۹۰، مگر متعدد اسلامی اسکالروں نے جارحانہ جہاد کے نظریے  کو فروغ دینا شروع کیا ۔کچھ تو ایسے ہیں جو آج بھی اس طرح کا کام انجام دے رہے ہیں۔ان کا دعوی ہے کہ  اسلام کی بالادستی قائم کرنے اور "کفر"  کی طاقت اور اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لئے جارحانہ جہاد ایک لازمی وسیلہ  ہے۔ واقعی ان  میں سے کچھ ایسے ہیں جو اسے صرف جائز ہی نہیں  بلکہ پوری مسلم کمیونٹی کے لئے فرض کفایہ یا  فرض عین سمجھتے ہیں۔مینسٹریم  مسلمانوں کے قتل کا جواز پیش  کرنے کے لئے جہادی نظریات کے حاملین  ایسے احکامات  کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ایسے احکام میں ان مسلمانوں کی تکفیر اور پھر ان  کے  قتل کا جواز بھی ملتا ہے  جو مساجد میں نماز پڑھنے  یا مزارات پر حاضری دینے جیسے افعال میں مشغول رہتے ہیں   جیسا کہ ان کی نظر میں یہ مسلمان  نہ صرف اپنا فرض نبھانے سے قاصر ہیں بلکہ  جنگ سے دور رہ کر  در حقیقت  لوگوں (یعنی جہادی مخالفوں)  کی مدد کررہے ہیں ۔

اپنے اہداف کے حصول کے لئے اسلام کے ان دشمنوں نے  کئی طریقوں سے  دین کو مسخ کردیا۔ ان میں سے  ایک طریقہ یہ ہے  کہ انہوں نے قرآن کے  کچھ خاص سیاق و حالت سے متعلقہ  احکام  کو  آفاقی اہمیت کے مستقل احکامات میں تبدیل کردیا ۔ یہ خاص طور پر ان آیات کے ساتھ  کیا گیا جو ایسے دور میں  نازل ہوئیں تھیں جب پیغمبر   اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  اور ان کے پیروکاروں  کی چھوٹی جماعت کے لئے  ہتھیار سے اپنا دفاع کرنا لازمی ہوگیا  تھا۔ یہ وہ آیات  ہیں  جو آج کل کے جہادی بھی سیاق و  سباق سے ہٹ کر اپنے برے اعمال  کا جواز پیش  کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔  اور یہی وہ آیات ہیں جن سے  مغرب میں بہت سارے لوگوں کو خاص طور پریشانی محسوس ہوتی ہے  کیونکہ  ان سے  مینسٹریم  مسلمان بھی یہی  کہتے ہیں کہ قرآن کی ہر آیت آفاقی  اہمیت  کی حامل ہے اور ان پر عمل  کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اس نے جو صورتحال پیدا  کی ہے اس کے باوجود ، ہمارے دینی علماء ، یہاں تک کہ وہ  لوگ جو کسی جہاد میں شامل نہیں ہیں  ، اعلانیہ طور پر ان آیات کو صرف تاریخی  مطابقت کی حیثیت  سے  وضاحت  کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

ان سامراجیوں کے لیے اسلام کی شبیہ بگاڑنے اور اپنے سامراجی جنگوں کا جواز پیش کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ وہ ان جنگوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں جنہیں پیغمبر اسلام کو لڑنا پڑا تھا ۔ انٹرنٹ کے اس دور میں  ، مغرب  میں  لوگوں کے لئے یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ کس طرح  ابتدائی عرب  ہی کے مورخین  نے  نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیات مبارکہ کو  جنگی واقعات سے  بھر دیا تھا ۔  نائن الیون جیسے سانحات کے سیاق میں ، مادرید اور لندن  میں ہونے والی ہلاکتوں  اور  مسلسل  خبروں کے تناظر میں  کہ  کس طرح مسلمان خودکش بم دھماکوں کی کارروائیوں میں  ایک دوسرے کا قتل عام کر رہے ہیں ،   مغرب اسلام کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ، اگر وہ اسلام کے ابتدائی دور کے  عربی مورخین مثلا ،  ابن اسحاق ، ابن ہشام اور طبری کی کتابوں کا جائز ہ لیں تو انہیں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت  دراصل ایک مغازی کی حیثیت رکھتی ہے ، یعنی انہوں نے جو لڑائیاں  لڑی وہی سب کچھ  ان سیرت کی کتابوں  میں مذکور ہیں ۔ ایسی حالت میں  ہم کس طرح  ان  کو اس بات کا مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں کہ مغرب لوگوں کو یہ تاثر  دے رہا ہے کہ اسلام جنگ  بھڑکانے والے لوگوں کا مذہب ہے؟

ہم مینسٹریم مسلمان جانتے ہیں کہ جس طرح رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو پیش کیا جا رہا ہے  وہ حقیقت  سے دور ہے۔ ہم جانتے  ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی میں کبھی بھی تلوار نہیں اٹھائی ۔ ہم جانتے ہیں کہ جن  جنگوں کے بارے  میں  یہ فرض کیا جاتا ہے کہ انہوں نے لڑی ہے وہ ایسی جنگیں ہیں جو ان پر مسلط کی گئی تھیں  اور سب کی سب  دفاعی تھیں۔

  ہم جانتے  ہیں  کہ قرآن جارحیت کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں ایک بے گناہ شخص کا قتل پوری انسانیت  کے قتل کے برابر ہے اور ایک شخص کی زندگی بچانا  پوری انسانیت  کو بچانے کے مترادف ہے۔ ہم جانتے ہیں  کہ نبی نے صلح اور عفو ودر گزر  کی ایک مثال قائم کی ہے جو تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ لہذا  میں پھر دوہراتا  ہوں ، کہ ہم  کس طرح مغرب کو اس بات کا مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں کہ اس نے اسلام کو ایک ایسے مذہب کی حیثیت سے پیش کیا ہے جو جنگ  بھڑکاتا ہے ،  جبکہ ہم نے اسلامی نظریات  کی  شبیہ بگاڑنے والوں کے تعلق سے اپنی وضاحت نہیں دی اور نہ ہی یہ منظر عام پر لانے کی کوشش کی کہ آخر کیسے اور کیوں یہ سب واقع ہوا ۔

ہم پر لازم ہے کہ ہم ان سب باتوں کی وضاحت بار بار کریں تاکہ اس سے مغرب میں قائدین ، امن کارکنوں اور لیڈران کی مدد کر سکیں اور پھر وہ  اسلاموفوبیا کی آگ بجھانے  میں زیادہ موثر ثابت ہو سکے۔ لیکن ہم  پیٹروڈالر اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو مسلم معاشرے کے طبقوں اور خاص طور پر مسلم میڈیا میں  ایک وسیع  تنازعات پسندانہ ذہنیت پیدا  کرنے کی اجازت دے کر صورتحال کو بڑھا وا دے رہیں ہیں۔ امن قائم کرنے والے کو  کافر کا دوست اور عملی طور پر مرتد  اور پھر  واجب القتل کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے ۔

میں اس موقع  پر  پوری دنیا  کے مسلمانوں سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ وہ :

ا) بار بار اعلان کریں کہ پرامن اسلام حقیقی  اسلام   اور مینسٹریم   اسلام ہے۔ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دہشت گردوں کی مذمت کریں اور ہمارے علمائے دین (مذہبی اسکالرز) سے شیطان  کے ان ایجنٹوں کو اسلام کے   لبادے  سے  باہر  کرنے  کی درخواست کریں۔

ب) اسلام تفوق پرستی کی جہادی  نظریے کو بار بار مسترد کرنے کی صدا بلند کریں  اس طور پر کہ یہ نظریہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے ۔ قرآن مجید ہم سے بار بار کہتا ہے کہ ہم اللہ کے تمام انبیاء سابقین ، جن کی تعداد تقریبا ایک لاکھ چوبیس ہزار تک پہنچتی ہے ، ان سب کا ٹھیک اسی طرح احرام کریں جس طرح وہ پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام کرتے ہیں ۔

ج) کچھ  رائٹ ونگ افراد کی اشتعال انگیزی کے لئے پورے مغرب کو مورد الزام ٹھہرانا بند کریں،  یہ وہ لوگ ہیں  جو اسلام کے خوف کو فروغ دینے  میں  دلچسپی رکھتے ہیں ، اور کبھی  ایسے لوگ کتھو لک یا یہودیت کے خوف کو بڑھاوا دینے میں  مشغول تھے ۔ اس کے بجائے ، ان لوگوں کی تعریف کریں جو بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور اب یہاں تک کہ قرآنو فوبیا  سے لڑنے کے لئے قابل ستائش کوششیں کررہے ہیں۔

د) قرآنی آدرش کو قائم کرنے کے لئے معاشرے میں بحث و مباحثے کو فروغ دیں کہ یہاں تک کہ ایک بے قصور شخص کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے اور یہ کہ  نام نہاد جارحانہ جہاد ، جسے بعض  علمائے کرام  فروغ دیتے ہیں ، وہ  اسلام کا حصہ نہیں ہے۔

ذ) لوگوں کو قرآن مجید  کی آیات کی صورتحال اور ان کے شان نزول کے بارے میں بتائیں اور یہ بھی کہ جو احکامات چودہ سو سال قبل کسی خاص صورتحال کے لیے نازل ہوئی تھیں ان کا تعلق اور نفاذ موجودہ صورتحال میں نہیں ہو سکتا ۔

ر) اگر لڑنا ہے تو ہم اپنی وکٹم ذہنیت کے خلاف لڑیں اور اپنے اعمال کی ذمہ داری نبھانا شروع کریں ۔

جناب صدر ، آپ کا شکریہ

 

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-the-west/peaceful-islam-is-genuine-islam,-the-mainstream-islam--sultan-shahin-tells-the-unhrc/d/3466

URL for Arabic Translation: http://www.newageislam.com/arabic-section/محرر-نیو-ایج-اسلام،-سلطان-شاھین/الإسلام-السلمي-ھو-الإسلام-الحقیقي،-والإسلام-السائد-فی-العا-لم---یقول-سلطان-شاھین-لمجلس-حقوق-الإنسان-للأمم-المتحدۃ/d/8438

URL for Malayalam article:  http://www.newageislam.com/malayalam-section/by-sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/peaceful-islam-is-genuine-islam,-the-mainstream-islam-സമാധാനപരമായ-ഇസ്ലാം-യഥാർത്ഥവും-മുഖ്യധാരയുമാണ്-സുൽത്താൻ-ഷാഹിൻ-unhrc-യിൽ-വ്യക്തമാക്കുന്നു/d/117922

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin-founding-editor-new-age-islam/peaceful-islam-is-genuine-islam-the-mainstream-islam-sultan-shahin-tells-the-unhrc-پرامن-اسلام-حقیقی-اور-مینسٹریم-اسلام-ہے--یو-این-ایچ-آر-سی-سے-نیو-ایج-اسلام-کے-فاونڈنگ-ایڈیٹر-جناب-سلطان-شاہین-کا-خطاب/d/123918

 

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..