New Age Islam
Wed Aug 04 2021, 01:04 PM

Urdu Section ( 5 Aug 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Open Letter to Maulana Firangimahali مولانا فرنگی محلی کے نام ایک کھلا خط: ‘اسلام کبھی بھی امن کا مذہب نہیں رہا’ اس پر اعتدال پسند علماء خاموش کیوں؟


 سلطان شاہین، بانی وایڈیٹر، نیو ایج اسلام

5 اگست 2016

جناب مولانا خالد رشید فرنگی محلی صاحب،

 میں گزشتہ چند دنوں سے ٹیلی ویژن چینلز پر آپ کو ایک پر امن مذہب کے طور پر اسلام کا دفاع کرتے ہوئے،نام نہاد اسلامی ریاست کو "غیر اسلامی" قرار دیتے ہوئے اور ایسے جذبات اور رائے کا اظہار کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جس سے میں مکمل طور پر متفق ہوں۔لیکن مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ جب خود ساختہ خلیفہ البغدادی اور اس کے پیروکاربار بار یہ کہتے ہیں کہ’’اسلام کبھی ایک دن کے لیے بھی امن کا مذہب نہیں رہا ہے، اوریہ ہمیشہ سے جنگ و تنازعات کا مذہب رہا ہے ‘‘ توآپ اور آپ جیسے دیگر  علماء کیوں مکمل طور پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

میں نے کبھی بھی آپ کو یا دیگر علماء کو لکھنؤ کے ایک بااثر ندوی عالم سلمان ندوی سے اس بات پر سوال کرتا ہوا نہیں دیکھا جب جولائی 2014 میں وہ سب سے پہلے ایسے ہندوستانی عالم کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے نام نہاد خلیفہ البغدادی کو امیر المؤمنین اور عالمی مسلم برادری کا رہنما تسلیم کرتے ہوئےان سے اپنی بیعت اور اطاعت شعاری کا پیغام بھیجا تھا۔اور اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ ان کا نام اب ان علماء کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے ہندوستان کے ایسے مسلم نوجوانوں    پر اثر  ڈالا جو نام نہاد اسلامی خلافت سے جڑ گئے ، اور  یہاں تک کہ کچھ لوگ تو نام نہاد اسلامی ریاست کے لیے ہجرت بھی کر گئے  ۔

میں  نے اس وقت بھی آپ کو بدنام زمانہ مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک سے سوال کرتا ہوا نہیں پایا جب انہوں نے یہ کہا کہ "تمام مسلمانوں کو دہشت گرد ہونا چاہئے" یا جب انہوں نے کہا کہ: " قرآن مسلمانوں کو لونڈیوں کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرنے کی اجازت دیتا ہے"۔ آپ سب اس وقت بھی خاموش رہے جب ذاکر نائیک نے اس طرح کی نفرت انگیزباتیں بیان کیں کہ "مغرب میں لوگ خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں اور اس وجہ سے ان کا برتاؤ خنزیروں ہی جیسا  ہو جاتا ہے۔پوری دنیا میں صرف خنزیر ہی ایسے جانور ہیں جو اپنے دوستوں کو اپنے پاٹنرکے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اورمغربی لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ "

تقابلی مطالعہ یا بین المذاہب مکالمے کی آڑ میں دیگر مذاہب کی توہین کرنے میں ذاکر نائک کو مہارت حاصل ہے۔بلکہ جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ ان کی تقریروں سے دنیا بھر میں دہشت گردی کا راستہ اختیار کرنے والے متعدد لوگ لامحالہ متاثر ہوئے ہیں تو میں نے دیکھاکہ تقریبا مسلم علماء کی پوری برادری ان کے دفاع میں اٹھ کھڑی ہوئی۔

اس سے بھی برا تو تب ہوا جب آپ اور دیگر تمام علماء اس وقت خاموش رہےجب حیدرآباد کے مولانا عبدالعلیم اصلاحی نے مسلمانوں سے اسلامی ریاست کے لیے دعا کرنےکی گزارش کی۔ ایک پریس ریلیزمیں جو کہ آن لائن دستیاب ہے انہوں نے کہا کہ: "ان کی(یعنی اسلامک اسٹیٹ ) کی کارروائی کی مذمت کو تدبیر نہیں کہا جا سکتا ہے اور اسے اسلام کی روح کے خلاف تصور کیا جائے گا۔انہوں نےمسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے عزم و حوصلے نے خلافت کے تصور میں ایک نئی زندگی ڈال دی ہے۔(خلافت کے)ان کے اس اعلان نے مولانا ابوالکلام آزاد اور خلافت کے بارے میں مولانا ابو الاعلی مودودی کی طاقتور تحریروں اور تقریروں پر سبقت حاصل کر لی ہے اور انہوں نے خلافت کے تصور کو عملی شکل عطا کی ہے۔۔۔۔انہوں نےاسلام کی خوابیدہ سیاسی زندگی میں ایک نئی حیات کو جنم دیا ہے اور اس سے یقینی طور پر مذہبی مسلمانوں کو خوشی ہوئی ہوگی اس لیے کہ کم و بیش ایک سو سال کے بعد خلافت کا قیام عمل میں آیا ہے۔بہ الفاظ دیگر اسلامی خلافت اب محض کوئی تصور ہی نہیں ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک حقیقت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ "

سب سے زیادہ پریشان کن امرمولانا عبدالعلیم اصلاحی کے اس بظاہر بہت اچھی طرح سے مدلل اور معقول فتوی پر آپ کی اور دیگر علماء کی مکمل خاموشی ہے جس میں انہوں نے قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئےیہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب مسلمانوں کو اس بات کا اندازہ ہو جائے کہ وہ غیر مسلموں کی جانب سےحملے کی زد میں ہیں جنہیں وہ ملحد"، "بت پرست" یا کافر و مشرک بھی کہتے ہیں، تو اسلام محصور مسلمانوں کو ان کے خلاف جنگ کرنے اور بے بسی کے ساتھ بیٹھے نہ رہنے کا حکم دیتا ہے۔

"قرآن کی روشنی میں طاقت کے استعمال،" کے عنوان سے ایک کتابچہ میں جو کہ انہوں نے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے مضمون کے جواب میں لکھا ہے، مولانا عبدالعلیم اصلاحی اسلام کے نام پر جارحانہ تشدد سے دستبرداری ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

جو کچھ بھی ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب نے لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ .......اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہندوتوا کے علمبردار کیا کر سکتے ہیں، ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانا یا طاقت کے استعمال کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا شرعی نقطہ نظر سے غلط اور مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہوگا۔

’’جہاد تشدد نہیں ہے‘‘ کے عنوان سے ایک باب کے صفحہ 10/11 پروہ لکھتے ہیں، "قرآن و حدیث کی روشنی میں جرم کے لیے سزا کو تشدد کا نام دیناانتہائی غلط بات ہے۔یہ ایک غیر اسلامی تصور ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جرائم کے ارتکاب سے مجرموں کوروکنے کے لیے دی گئی سزا تشدد اور ظلم نہیں بلکہ خیرخواہی پر مبنی عمل اور ایک نعمت ہے۔ تاہم، لفظ 'تشدد'کا خواہ جو بھی معنیٰ ہو، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا یہ کہنا کہ تشددصرف دو صورتوں میں جائزہے بہت بڑی غلطی ہے اور ایسا کہنا حضور کی نبوت کے مقصد کو سخت دھچکا مارنےکے مترادف ہے۔سورہ توبہ کی آیت نمبر 29 ملاحظہ کریں۔

"اے مسلمانو!) تم اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کے ساتھ (بھی) جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق (یعنی اسلام) اختیار کرتے ہیں،یہاں تک کہ وہ (حکمِ اسلام کے سامنے) تابع و مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے خراج ادا کریں"(قرآن 9: 29)۔

"اس آیت میں،ان تین قسم کے لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہےیہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کریں: ایک) جو خدا اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے؛ ب)جو ان چیزوں کو حرام نہیں مانتے جنہیں خدا اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے؛ ج) جو اپنے مذہب کے طور پر اسلام کو قبول نہیں کرتے۔ "

اس آیت کا حوالہ اکثر پیش کیا جاتا ہے جو کہ اعتدال پسند اسلام کی بنیاد ہے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘، (دین میں کوئی جبر نہیں ہے) [قرآن 2: 256]۔ لیکن جس طرح مولانا اصلاحی نے اس کے معنی کو الٹ کر بیان کیا ہے وہ قابل غور ہے۔ وہ کہتے ہیں:

 "اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اہل کفر کو ان کے کفر کے ساتھ زمین پر مکمل طور پر آزاد چھوڑ دیا جائے اور انہیں جوابدہ نہ بنایا جائے۔ اگر یہ سچ ہے تو، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا کے مذہب (دین) کو دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے، تو اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟"

"وہی (اللہ) ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر دین (والے) پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو برا لگے ۔" (قرآن، 9:33)

"پھر اس آیت مطلب کیا ہو گا اور جہاد کی فرضیت کی اہمیت و مطابقت کیا رہ جائے گی"؟

‘‘اور (اے اہلِ حق!) تم ان (کفر و طاغوت کے سرغنوں) کے ساتھ (انقلابی) جنگ کرتے رہو، یہاں تک کہ (دین دشمنی کا) کوئی فتنہ (باقی) نہ رہ جائے اور سب دین (یعنی نظامِ بندگی و زندگی) اللہ ہی کا ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ اس (عمل) کو جو وہ انجام دے رہے ہیں، خوب دیکھ رہا ہے’’۔ (8:39)

‘‘جس طرح اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا واجب اور فرض ہے اسی طرح ادیان باطلہ پر اسلام کو غالب کرنے اور اہل کفر و شرک کو ماتحت اور زیر نگیں بنانے کی جد و جہد بھی فرض ہے۔ اللہ نے جو ذمہ داری شہادت حق اور اظہار دین کے عنوان سے مسلمانوں پر ڈالی ہے وہ صرف وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ سے ادا ہونے والی نہیں ہے ورنہ غزوات و سرایا کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

‘‘جہاد دین (دین) پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے اور برائی کے مراکز کو روکنے کے لئے فرض کیا گیا ہے۔ اس کام کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے، خدا کے نام پر جہاد کی اہمیت پر قرآن و حدیث میں زور دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام کفار (کافروں) کے خلاف جنگ کے بارے میں واضح احکام مسلمانوں کے لئے نازل کیے گئے ہیں۔

"اسی طرح جنگ کیا کرو جس طرح وہ سب کے سب (اکٹھے ہو کر) تم سے جنگ کرتے ہیں،۔" (القرآن۔ 9:36)

صفحہ 17 پر مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:

 "جان لو کہ بلا شبہ کفار سے جہاد ان ملکوں میں فرض کفایہ ہے باتفاق علماء۔ اور فرض کفایہ کے معنیٰ یہ ہیں کہ جب اس کو اتنے لوگ انجام دیں جو کافی ہو تو جرم اور گناہ بقیہ لوگوں سے ساقط ہو جائے گااور اگر سب لوگ جہاد چھوڑ دیں تو سب کے سب گنہگار ہوں گے۔ ۔"

مولانااصلاحی کا مکمل مضمون ہندوتوا طاقتوں سے لڑنے کے لئے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک دعوت پر مبنی ہے۔ لیکن مولانا فرنگی محلی صاحب آپ تمام علماءمیں سےکسی نے بھی مولانا عبدالعلیم اصلاحی کی تردیدنہیں کی اور نہ ڈاکٹر ذاکر نائیک اور مولانا سلمان ندوی کی مذمت کی۔اس وقت بھی آپ نے ان کی تردید نہیں کی جب یہ بات سب کو معلوم ہو گئی کہ انڈین مجاہدین کی جماعت مولانا اصلاحی سے متاثر ہے۔ شاید آپ کی پریشانی یہ ہے کہ آپ مولانا اصلاحی کی باتوں پر یقین کرنے کےعلاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔ مولانا اصلاحی یا ذاکر نائیک جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں بنیادی طور پر موجودہ اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے،اور یہ وہی اسلامی تعلیمات ہیں جن کی آپ سب نے تعلیم حاصل کی اور اپنے مدارس اور یونیورسٹیوں میں جن کی تعلیم دیتے ہیں۔تو پھر کس طرح آپ سب اس کی مذمت کر سکتے ہیں؟۔

آج کی تاریخ میں اسلامی فقہ کی سب سے مستند ترین کتاب ’’الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ‘‘جسے تمام مکاتب فکر کے علماء کی اتفاق رائے سے نصف صدی کی کوششوں کے بعد کویت میں تیار کیا گیا ہے ، اور جس کا اردو نسخہ دہلی میں 23 اکتوبر 2009 ء کو نائب صدر حامد انصاری نے جاری کیا تھا ،اس میں جہاد کی تعریف اس طرح کی گئی ہے: "اصطلاح میں جہاد ایک غیرذمی کافر کے خلاف اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے لڑنے کا نام ہےجب وہ اسلام کی دعوت کا انکار کر دے"۔

ظاہر ہےکہ مولانا اصلاحی اپنےتفوق پرست، علیحدگی پسند اور اجانب بیزار اسلام کے لیے جس اتفاق رائےکا دعویٰ کرتے ہیں وہ غلط نہیں ہے۔ اسلام کو دیگر تمام ادیان پر غالب کرنایقیناماضی اور حال کے تمام علماء کا مقصد ہے۔سیاسی اسلام کی تمام عدم رواداری اور اجانب بیزاری کی شروعات یہیں سے ہوتی ہے۔جب کوئی فقہ اسلامی کی ضخیم کتابوں کا مطالعہ کرےتبھی اسے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ علماء کے لئے کسی بھی بامعنی طریقے سے اپنے جہادی نظریہ سازوں کی تردیدکرنا ممکن نہیں ہے۔ غیر مسلم میڈیاکے سامنے امن اور تکثیریت پسندی کے جھوٹے بیانات دینابھی تقیہ کے اصول کے تحت جائزہے، جو کہ بنیادی طور پر اس قرآنی آیت سے ماخوذ ہے: ’’مسلمانوں کو چاہئے کہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کے لئے اﷲ (کی دوستی میں) سے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ تم ان (کے شر) سے بچنا چاہو، اور اﷲ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے، اور اﷲ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،‘‘3:28۔تقیہ بنیادی طور پر شیعہ فقہ کا حصہ تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے اہل سنت نے بھی اب باخبر سوالات پوچھنے والے عالمی ذرائع ابلاغ کے حملے کے تحت اسے اپنا لیا ہے۔

اس وقت تک کچھ بھی نہیں بدلے گا جب تک آپ تمام علماءاپنی موجودہ پوزیشن سے آگے نہیں بڑھتے اورپر تشدد اور علیحدگی پسند، عدم روادار اور تفوق پرست اسلامی تعلیمات کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہو جاتے،جو کہ آج اسلامی فقہی ادب کی شکل میں موجود ہے اور امن اور تکثیر یت پسندی پر مبنی ایک نئی اسلامی فقہ تیار کرنے میں ہم عام لوگوں کی مدد نہیں کرتے۔بلاشبہ اسلام ایک پر امن، تکثیریت پسند، روحانیت اور تمام لوگوں کے لئے محبت کا مذہب ہے۔مذہب اسلام واقعی پرامن بقائے باہمی کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن آج کی اسلامی فقہ جو مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے اس میں یہ تعلیمات نہیں ہیں۔جس اسلامی فقہ اور جن تعلیمات کا مطالعہ آپ علماء نے کیا ہے اور جس کی تعلیم آپ ہمارے معصوم بچوں کو دیتے ہیں وہ تفوق پرستی پر مبنی ہے۔ اسلام آج بحران کا شکار ہے۔عملی طور پر اسلام آج دہشت گردی کا دوسرا نام بن گیا ہے۔

مولانا فرنگی محلی صاحب! فوراً خواب غفلت سے بیدار ہو جائیے  اور کم از کم اب کوئی  مفید حل تلاش کیجیے ۔اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو کم از کم آپ اپنے پرامن اعلانات کے ذریعے دنیا کو دھوکہ دینا بند کر دیجیے۔ اب ہم انٹرنیٹ کی دنیا میں جی رہے ہیں۔تمام علمی ذخائر انگلیوں پر دستیاب ہیں۔اب ہر کوئی ایک عالم ہے۔آپ لوگوں سےکچھ بھی نہیں چھپا سکتے۔

اسلامی ریاست عراق، شام میں اور یہاں تک کہ ہندوستان کے اندر دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے ہندوستانی نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

 سچ کہوں تو آپ جب اسے "غیر اسلامی ریاست" کہتے ہیں توآپ کسی کو دھوکہ نہیں دے رہے ہیں، کم از کم ہمارے ان بچوں کو دھوکہ نہیں دے رہے ہیں جو نام نہاد اسلامی ریاست سے دور بھاگ رہے ہیں۔ وہ ذہین اور پڑھے لکھے ہیں اوروہ سب سچائی سے واقف ہیں۔جب آپ دہشت گردی کے خلاف کوئی فتوی جاری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں یا جب آپ ٹیلی ویژن پر آتے ہیں تو آپ تکثیریت پسندی ،پرامن بقائے باہمی، اچھی ہمسائیگی،اور مصیبت وغیرہ کے وقت میں صبر کی نصیحت پر مبنی مکی آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔ لیکن آپ اپنے مدارس میں تفسیر جلالین جیسی تفسیر کی کتابیں پڑھاتے ہیں، جسے تفسیر میں سب سے زیادہ مستند کتاب تصور کیا جاتا ہے۔اس کتاب میں ناسخ و منسوخ کے اصولوں کو بیان کیا گیا ہےجووسیع پیمانے پر علماء کے یہاں مقبول ہیں، جس میں پرامن مکی آیتوں کوجنگ کی تعلیمات پر مدنی آیتوں کے ذریعہ منسوخ قرار دیا گیا ہے۔بنیادی طور پر یہ نظریہ قرآن کی مندرجہ ذیل آیت پر مبنی ہے جس میں اللہ کا فرمان ہے ۔ "ہم جب کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں (تو بہرصورت) اس سے بہتر یا ویسی ہی (کوئی اور آیت) لے آتے ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر (کامل) قدرت رکھتا ہے ؟"

صرف نام نہاد تلوار اٹھانے والی آیت جلالین کے مطابق ظلم و ستم کے حالات میں امن اور صبر کی تعلیم دینے والی کم از کم 19 مکی آیتوں کو منسوخ کرتی ہے۔ اس آیت میں اللہ کا فرمان ہے:

"پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو تم (حسبِ اعلان) مشرکوں کو قتل کر دو جہاں کہیں بھی تم ان کو پاؤ اور انہیں گرفتار کر لو اور انہیں قید کر دو اور انہیں (پکڑنے اور گھیرنے کے لئے) ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھو، پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ " (9:5)

جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی (1445-1505) آیت9:73 ’’اے نبی (معظم!) آپ کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں اور ان پر سختی کریں، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے‘‘کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: مسلمانوں کے مضبوط ہونے تک جنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ "جب مسلمان کمزور تھے، خدا نے ان کو صبر کرنے کا حکم دیا تھا۔" ایک اور مؤقر اور مشہور و معروف مفسر قرآن جنہیں یونیورسٹیوں، تمام مدارس اور اسلامی علوم کے تمام شعبوں میں پڑھایا جاتا ہے وہ ابن کثیرہیں (1301-1372)۔ وہ کہتے ہیں کہ آیت السیف  (قرآن9:5) نے پیغمبر اسلام اورکسی بھی بت پرست کے درمیان ہر معاہدے اور ہر صلح کو توڑ دیا ہے۔ اور اسی طرح ایک اور عظیم مفسر قرآن ابن جوزی(متوفی 1340)کہتے ہیں کہ تلوار والی آیت کامقصد "قرآن میں ہر امن معاہدے کومنسوخ کرنا ہے"۔

اس کے بعد ایسی بہت ساری احادیث (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نہاد اقوال)ہیں جنہیں دہشت گرد نظریہ سازدہشت گردی کا جواز پیش کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور مولانا فرنگی محلی آپ اور آپ جیسے علماء اسے وحی کے برابر مانتے ہیں۔

مثال کے طور پر، اس تناظر میں ا س حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں جسے سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر نقل کیاجاتا ہے: "مجھے اس وقت تک تمام بنی نوع انسان سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم نہ کر لیں اور زکوة ادا نہ کریں۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انہوں نے مجھ سے اپنی جان اور مال کی امان حاصل کر لی، سوائے اس کے جو اسلامی قوانین کی گرفت میں آیا اور ان کا حساب اللہ تعالی کے ساتھ ہو گا۔ "(حوالہ:صحیح بخاری (جلد۔1 کی کتاب 2،حدیث نمبر 24، صفحہ 402) اور(صحیح مسلم، 31:5917)۔ حدیث کی ان دو کتابوں کو تمام علماء سب سے زیادہ معتمد اور مستند مانتے ہیں۔

اس حدیث پر میرا اعتراض یہ ہے کہ:کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی واضح نصیحتوں کے خلاف کچھ کہہ سکتے ہیں یا کچھ کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ قرآن کے عالمی اعلامیہ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں،اس لیے کہ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘(دین میں کوئی زبردستی نہیں)۔[2: 256]۔ اور اس طرح امن اورتکثیریت پسندی اور بقائے باہمی پر مبنی دیگر بہت ساری مکی آیتیں ہیں جن میں مسلمانوں کو ظلم و ستم کا سامنا کرتے وقت صبر کرنے کی تعلیم دی گئی ہے؟میرا یہ کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ ووسلم ایسا کچھ بھی کبھی نہیں کہہ سکتےجو اس قرآن کے عالمگیر اعلامیہ کی خلاف ورزی ہو جو خدا کا کلام ہے اور جسے اللہ نے ان کے اوپر نازل کیا ہے۔

لیکن مولانا فرنگی محلی آپ اور آپ جیسے علماء اس حدیث کے بار ے میں یہ کہیں گے کہ:"یہ حدیث اتنی ہی اچھی ہے جتنی قرآن کی کوئی آیت ہے، اور چونکہ یہ بھی جنگ کے وقت میں مذہبی آزادی، تکثیریت پسندی اور بقائے باہمی کی گزشتہ آیتوں کے بعد نازل ہونے والی دیگر آیتوں کی طرح ہےاسی لیے اس نے صرف مذکورہ آیت کو ہی منسوخ نہیں کیا بلکہ اس سے قبل مکہ میں اس وقت نازل ہونے والی بہت سی دوسری پرامن آیتوں کو بھی منسوخ کر دیا ہے جب دین اسلام کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔"آپ سب ایسا اس لیے کہیں گے کہ ابو مسلم الاسفہانی جیسے معتزلہ (عقلیت پسند) علماءکے علاوہ، عالمی سطح پر شہرت یافتہ تمام مشہور و معروف مفسرین قرآن نے یہی بات کہی ہے۔آپ ابن جریر الطبری کی(جامع البیان 646/7) ، ابن کثیر (207/1اور 774/2)، تفسیر جلالین میں متعدد جگہوں پر 51 منسوخ آیتوں کا ذکر ہے) القرطبی (الجامع لاحکام القرآن 157/10) وغیرہ کی ثانوی اسلامی ادب، تفسیر اور تشریحات پڑھتے ہیں اوران تفسیروں پر آنکھ بند کر کے یقین کرتے ہیں، اور آپ اپنے مدارس میں تفسیر ابن کثیرکی تعلیم دیتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں کتنے بچوں نے اپنے والدین کو کافر کہنا شروع کر دیا ہے ؟ اوراس کی وجہ بھی معقول ہے۔ آپ تمام کافروں اور مشرکوں کے خلاف قتل کے معنوں میں بچوں کو جہاد کی تعلیم دیتے ہیں اور انہیں امن اور تکثیریت پسندی اپنانے اور کفار اور مشرکیں کے ساتھ بقائے باہمی کا حکم دیتے ہیں۔ برائے مہربانی ایماندار بنیں،آپ یا تو نام نہاد کافروں اور بت پرستوں کے خلاف جنگ کی دعوت دیں جیسا کہ مولانا عبدالعلیم اصلاحی، خلیفہ ابو بکر البغدادی اور دیگر جہادی نظریہ ساز کرتے ہیں یاپھر تشدد پسندی اور تفوق پرستی پر مبنی فقہ اسلامی کو ترک کریں اور ہم عام مسلمانوں کو امن اور تکثیریت پسندی، بقائے باہمی اور ابدی نجات کے لئے ایک صحیح راستے کی حیثیت کے تمام مذاہب کی قبولیت پر مبنی ایک جامع فقہ تیار کرنے دیں۔

آپ کا مخلص،

ایک فکر مند مسلمان

---

سلطان شاہین دہلی کی ایک کثیر لسانی، ترقی پسند اسلامی ویب سائٹNewAgeIslam.com کے بانی اور ایڈیٹر ہیں۔وہ اسلام کو دنیاپر تسلط حاصل کرنے کا کوئی سیاسی نظریہ نہیں بلکہ ابدی نجات کے لئے کئی راستوں میں سے ایک روحانی راستہ مانتے ہیں

URL for English article: https://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/open-letter-to-maulana-firangimahali--why-do-moderate-ulema-stay-silent-when-terrorists-claim----islam-has-never-been-a-religion-of-peace,-not-even-for-a-day-?/d/108181

URL for this article:  https://www.newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin-founding-editor-new-age-islam/open-letter-to-maulana-firangimahali-مولانا-فرنگی-محلی-کے-نام-ایک-کھلا-خط-اسلام-کبھی-بھی-امن-کا-مذہب-نہیں-رہا-اس-پر-اعتدال-پسند-علماء-خاموش-کیوں؟/d/108192


New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,


Loading..

Loading..