New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 06:15 PM

Urdu Section ( 31 Jan 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Salman Rushdie Dispute: India Is Not Safe By the Threat Of Islamofascism سلمان رشدی تنازعہ : ہندوستان بھی اسلامو فاسزم کے خطرات سے محفوظ نہیں


سلطان شاہین،  ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام

24جنوری، 2012

سلمان رشدی کو جے پور لٹریری فسٹیول میں جمع ہوئے ادیبوں اور ان کے پرستاروں سےویڈیو لنک کے ذریعہ بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ ہمارے ملک کے لئے شرم کی بات ہےاور اس سے بھی زیادہ ہماری قوم کے  لئے ہے۔ ہمارے ملک کے لئے شرم کی بات اس لئے ہے کیونکہ  نہ تو ہمارے پاس وسائل ہیں اور نہ ہی دنیا میں اپنی  نوعیت کے بہترین ایک لٹریری فیسٹیول  کو  گینگسٹر اور مافیائوں  کے تشدد کی دھمکی سےحفاظت کرنے کی ہمت ہے۔ ہماری قوم کے لئے شرم کی بات اس لئےہے کیونکہ ہمارے درمیان مذہبی ٹھگ ہیں جو ایک غیر مضرتقریب کو اس لئے     چیلنج کر رہے ہیں،  کیونکہ وہ ایک  مصنف        ہے جس نے ہمارے نبی کریم ﷺ کی توہین کی ہے-ایسی توہین جو ہم بغیر احساس کئے ہر دن ،  ہر منٹ ، معمول کے مطابق کرتے ہیں  اور جس  قسم کے بد عنوان ہم لوگ ہیں، اپنی بد اعمالیوں کے سبب خدا کے سامنے خم ٹھونکتے ہیں اور اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔تقریب سے کوئی نقصان ہونے والا نہیں تھا کیونکہ سلمان رشدی کوئی متنازعہ مسئلہ اٹھانے، سیٹینک ورسیز کے بارے میں بولنے یا  اسے پڑھنے  نہیں جا رہے تھے۔

یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاستداں اور میڈیا  ہمارےمذہبی لیڈروں کے ساتھ  دماغی  دیوالیہ   کی طرح برتائو کرتے ہیں ، جو  ادب یا فنون لطیفہ پڑھنے اوراس کی تعریف کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ فسٹیول میں ایسے ہی ایک فتنہ پرور کو  کہا گیا کہ  وہ  جے پور لٹریری فسٹیول کے پلیٹ فارم پر ایک دانشورانہ بحث کے لئے رشدی  کو چیلنج کیوں نہیں کرتے ہیں۔ یہ اصل میں ایک سوال ہےاور شاید جس کا جواب بھی وہ  نہیں دے سکتے ہیں۔ اگریہ شخص رشدی کےنثر کے جمال اور اس کے وقار کی تعریف کرنے کے قابل ہوتے تو وہ وہاں منتظمین کو تششد کی دھمکی نہیں دیتے،اگرچہ  وہ کرتا بھی توبہت پرامن طریقے اور زبان کے ساتھ کرتا ، جیسا کہ تمام مافیا سرغنہ کرتے ہیں۔

رشدی کےویڈیو لنک  کوبھی اجازت نہیں ملی، اس کے اعلان کے بعد  جے پور فسٹیول میں ایک مباحثے میں ، تہلکا کے مدیر ترون تیجپال نے مولوی سے پوچھا : ‘کیا کوئی بھی ایساکچھ کہہ سکتا ہے جو اسلام  کی عظمت اوراس کی خوبصورتی کو چوٹ پہنچا سکتا ہے ۔جب داڑھی والےفتنہ پرور  تیجپال کے سوال کو نہیں سمجھ سکے توتہلکا کی شوما چودھری جو مباحثے کو ماڈریٹ کر رہیں تھیں، انہوں نے سوال کیا کہ، ‘ کیا سلمان رشدی  کی  صرف ورچوئل موجودگی سے اللہ  کے وجود کو خطرہ ہے؟ بے شک انہیں کوئی  ممکنہ جواب  نہیں مل سکتا تھا۔

این ڈی ٹی وی (NDTV) کی گروپ ایڈیٹر برکھا دتّ نے کہا کہ پولیس کاایک ویڈیو  لنک  کی اجازت نہیں دینے کا فیصلہ  مسلم قوم کو  مجموعی  طور پر نقصان  پہنچانے والا تھا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ  اس مسئلے کو پیدا کرنے والے  کچھ پاگل لوگ ہیں اور مسلم قوم کی بڑی اکثریت  تشدد کی اس دھمکی کے ساتھ نہیں ہے۔ بعد میں این ڈی ٹی وی (NDTV)  پر برکھا دتّ کو دئے ایک انٹرویو میں  سلمان رشدی نے بھی اس بات پر اتفاق  کیا۔ انہوں نے کہا کہ : ‘بالکل ٹھیک ایسا ہی میں نے بھی کہا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اس پر توجہہ نہیں دیتے ہیں کہ  میں آتا ہوں یا جاتا ہوں۔ ان کو اور بھی زیادہ  مشکل مسائل درپیش ہیں۔’ اور ابھی تک صرف ایک اعتدال پسند مسلمان کی آواز جو میڈیا میں پیش کئے جانے کے لئے تلاش کی گئی  وہ ہر جگہ موجود رہنے والے اور حقیقی طور پر آزاد خیال شاعر جاوید اختر ہیں جنہوں نےواضح کیا ہے کہ وہ  خفیہ طور پر بے دین نہیں ہیں۔اورجاویداختر کے ہی  جیسے   ایک یا دو اور دانشواران کو تلاش کیا گیا۔۔

این ڈی ٹی وی (NDTV) نے مسلمانوں کی آبادی میں سے  کسی اورکو تلاش کرنے کی کوشش کی جو اعتدال پسند اخیا لات کی ترجمانی کر سکے۔ان لوگوں نے تھیٹر کی ایک شخصیت  کو پیش کیا جو  خدا جانتا ہے  کے کس دفاع کے ساتھ آئے اور اپنے تبصرے میں کہا کہ  : ‘سلمان رشدی ایک بور کرنے والے مصنف ہیں، میں ان کی تصنیف مڈ نائٹ چلڈرینس کو ایک باب سے آگے نہیں پڑھ سکا، اس لئے انہیں کیا جانا چاہیے’......میں سمجھ نہیں سکا کہ وہ  رشدی پر پابندی چاہتے تھے کہ وہ بور کرنے والے ہیں یا پابندی نہیں لگانی چاہیے کیونکہ وہ بور کرنے والے رہے ہیں۔ یہ اعتدال پسند مسلمان خود نہیں جانتے تھے کہ  وہ  رشدی ادب سے زیادہ  خود اپنی دانشوارانہ  سمجھ پر تبصرہ کر رہے تھے۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان  ایک غیر اعتدال پسند قوم ہیں؟ اگرغور کرنے کے لئے کوئی اردو پریس کو بطور پیمانہ لیتا ہے تو کوئی بھی بغیر تضاد کے خوف کے یقینی طور پر  کہہ سکتا ہے کہ قوم میں بمشکل ہی کوئی اعتدال پسند ہے۔  جو کچھ ہیں بھی انہیں دھمکا کر خاموش کر دیا گیا ہے۔ان مقدس لوگوں کے خلاف بولنا گناہ ہے۔ ملا ،  مولوی اور مولاناحضرات داڑھی والوں کے ساتھ ہی  بغیر داڑھی والے مسلم میڈیا پر غلبہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ مختلف قسم کی سازشی تھیوری کو گڑھتے رہتے ہیں۔ 

لیکن اعتدال پسندی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔مسلمانوں میں بہت سے ایسے ہوں گے جنہیں اعتدال پسندی کیا ہے نہیں معلوم ہوگا۔ بنیادی مسئلہ تعلیم کی کمی ہے۔ ہم  ایک تعلیم یافتہ  یہاں تک کہ  ایک  خواندہ قوم بھی نہیں ہیں۔دنیا کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ  ناخواندگی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کاسب سے بڑا ہتھیار (Weapons of Mass Destruction)ہے۔ حکام دھمکائے جانے اور  بلیک میل کئے جانے کے سبب خوش ہیں کیونکہ یہ ان کے مختصر مدت کے انتظامی مسائل کو حل کر دے گا۔ ہرمرتبہ وہ ایسا کرتے ہیں ،  اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے  مسئلہ کا حل کر دیا ہے اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن ایک طویل مدت کا مسئلہ تعمیرہو رہا ہے۔ ایک ٹائم  بم کو  ہم بغیر توجہہ کے چھوڑ رہے ہیں۔ یہ بے وجہ نہیں ہے  اور یہی مذہبی گینگسٹراور غنڈے جو سلمان رشدی کو  ان کی  پیدائش والے ملک میں آنے سے روک رہے ہیں وہی  مسلمان بچوں کے حق تعلیم (Right to Education RTE) کی مخالفت  میں  جی جان سے لگے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں  کہ قوم پر  ان کی قیادت تبھی برقرار رہے گی جب تک وہ قوم کو غیر ضروری مسائل جیسے سلمان رشدی کے ویڈیو لنک کے جیسے مسئلےمیں الجھائے رکھیں  گےاور جب تک وہ تعلیم یافتہ نہیں ہو جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک اتفاق نہیں ہے کہ  ویڈیو لنک  کی ناکامی کے بعد  بڑی تعداد میں مشتعل  ہندوستانیوں میں سے  جن لوگوں کا میڈیا نے انٹر ویو کیا ان میں سے ایک بھی  مسلمان نہیں تھا ۔ کیا وہاں شورش زدہ بھیڑ میں  مسلمان موجود تھے، میڈیا کو  ان  کی رائے جاننے کے لئےتلاش کرنا چاہیے تھا اور ان کے خدشات کو نشر کرنا چاہیے تھا۔ 

اس ملک میں سلمان رشدی  پر کوئی  پابندی  نہیں ہے، ان کی کتاب پر ضرور ہے۔ توانہیں کیوں نہیں ورچوئلی(Virtually) آنے دینا چاہیے اور ہم سے بات کرنے دینا چاہیے۔ لیکن ایک ناخواندہ قوم اور مذہبی مافیائوں کو  آپ کس طرح فرق سمجھا  سکتے ہیں؟

جاوید اختر نے جماعت اسلامی کے داڑھی والے فتنہ  پروروںسے پوچھا ، کیوں مسلم خواتین کو  ہندوستان میں ایک نششت میں تین مرتبہ طلاق  کہہ دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے جبکہ انہیں پاکستان اور بنگلہ دیش میں اس رسوائی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔تاہم اس سوال کا جواب  جماعت اسلامی کو نہیں دینا ہے۔خواتین پر پابندی برقرار رکھنے میں ان کا حصہ ہے۔ یہ ان کا دین ہے۔واقعی میں جاوید اختر کے سوال کا جواب حکومت کو دینا ہے۔ ہماری حکومتیں کیو ں اتنی آسانی سے غندوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہیں ،  وہ چاہے دائیں بازو کے ہندو ہوں یا مسلمان۔ ہماری جمہوریہ کے بانیوں نے ہمیں ایک ایسا آئین   ورثے میں دیا ہے جس کے  اہداف میں سے ایک کامن سول کوڈ   کا تعین ہے۔ ویسے ایک  کامن سول کوڈ کی تجویزہندوستان  کے لئے مشکل ہے کیونکہ کئی  سول کوڈ  پر  یہاں ایک ساتھ عمل کیا جا رہا ہے اور  ان میں ہم آہنگی پیدا کرنا مشکل ہوگا۔ لیکن ایسا کیا ہے جو ہمیں پاکستان اور بنگلہ دیش میں نافذ  مسلم پرسنل لاء کو اپنانے سے رو ک رہا ہے۔ ظاہر ہے حکومت ایسے مذہبی غنڈوں کا سامای نہیں کر سکتی ہے جو کئی معاملوں میں حلالہ کے نام پر  عورتوں کے ساتھ زنا کرنے کے ایک زرائع کے طور پر   ایک نششت میں تین طلاق کو جائز کہتے ہیں۔ 

میں  امید کرتا ہوں کہ حکومت  اور میڈیا کسی کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دیں گے کہ  انہیں ایک کتاب سے تکلیف پہنچی ہے، جب تک کہ وہ یہ ثابت نہ کریں کہ  انہوں نے کتاب پڑھی ہے اور بے شک وہ ادبی لٹریچر کی تعریف کرنے کے لائق ہیں، یہاں تک کہ اگر وہ کتاب پڑھ سکتے ہیں۔ لوگوں کوتب تک  کسی بھی قیمت پر کتاب پر بولنے کے لئے مدعو نہیں کیا جانا چاہیے جب تک کہ وہ  یہ ثابت  نہ کر دیں کہ انہوں نے کتاب  پڑھی ہے اور اسے سمجھنے کے قابل ہیں۔ اکثر ہماری نمائندگی کرنے کے لئے الکٹرانک میڈیا کے ذریعہ جن دو افراد کو مدعو کیا جاتا ہے ان میں سے ایک چارٹرڈ اکائونٹنٹ  ہیں اور دوسرے ایک وکیل ہیں۔ مجھے وکلاء اور چارٹرڈ اکائونٹنٹس کو  کس طرح ان کی قانون کی فرموں اکائونٹنسی کے کاروبار کو  کس طرح چلایا جائے اس کا مشورہ نہیں دینا چاہیے۔ اسی طرح ان لوگوں کو ادب سے رغبت رکھنے والوں کو یہ مشورہ نہیں  دینا چاہیے کہ وہ کیا پڑھیں اور کیا نہ پڑھیں اور کسی ایک کتاب کو میں کیا سمجھوں۔اس  دنیا میں کس طرح ایک کتاب  آپ کو تکلیف پہنچا سکتی ہے اگر آپ نے اسے پڑھا ہی نہیں ہے۔ اگر آپ کا اپنے دین میں یا اپنے مذہب کے بارے میں اپنے فرقے کی تشریح میں  یقین مضبوط نہیں ہے تو ان مذہبی کتابوں کو نہ پڑھیں جو  جنہیں  آپ کے فرقے سے باہر کے کسی مصنف نے ترتیب دیا ہے۔ کسی بھی صورت میں فکشن مذہب پر ایک کتاب نہیں ہے۔ لیکن اس  فرق  کو سمجھنے کے لئے  آپ کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/from-the-desk-of-editor/salman-rushdie-controversy--india-too-is-not-immune-to-perils-of-islamo-fascism/d/6467

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/salman-rushdie-dispute--india-is-not-safe-by-the-threat-of-islamofascism--سلمان-رشدی-تنازعہ---ہندوستان-بھی-اسلامو-فاسزم-کے-خطرات-سے-محفوظ-نہیں/d/6522

 

 

Loading..

Loading..