New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 05:08 AM

Urdu Section ( 7 Feb 2012, NewAgeIslam.Com)

Salman Rushdie's Indian Mullah Critics, listen to the message of Satanic Verses سلمان رشدی کے ہندوستانی ملّا ناقدین ،سیٹینک ورسزں کےپغایم کو سنں


سلطان شاہین ،  ایڈیٹر ،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام 

سلمان رشدی کے بھارتی ملا ناقدین کےپاس  جشن منانے  کا موقع ہے۔ انہوں نے حکومت کو اپنے اس مطالبے کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا کہ رشدی ہندوستان سے دور رکھا جاۓ۔   بے شک،  انہیں اس  سے کوئی  فرق نہیں پڑتا کہ انہوں نے اس عمل لے ذریعہ  مسلمانوں کے خلاف کس قدر ناپسندیدگی پیدا کر دی۔ وہ  ہندوستان کے خلاف جہاد کی حالت میں ہیں جیسے کہ  ان کے پاکستانی ہم منصب  ہیں۔ اردو پریس کا مطالعہ کریں جہاں زیادہ تر کالم نگار ملا ہیں  کچھ واضح داڑھی والے ہیں اور کچھ کی داڑھی پیٹ میں اچھی طرح چھپی ہوئی ہے۔  شاذنادر ہی آپ  کو ہندوستان کے بارے میں    کچھ  اچھے الفاظ ملیں گے۔کبھی بھی کچھ مثبت نہیں ملے گا۔

سلمان رشدی ایک تماشا ہے۔ یہ آسانی سے ہاتھ آ گیا کیونکہ وہ اس بار اہم اسمبلی انتخابات کے موقع پرآ رہے تھے۔ اس نے انہیں ایک موقع دیا کہ وہ اپنے سرپرستوں کو بتا سکیں کہ کس طرح پھر سے ماننے کے لئے طاقتور کانگریس پارٹی کو  دھمکا  سکتے ہیں ۔ ان ملاؤں نے حال ہی میں سیاستدانوں کو مسلمانوں کے لئے رزرویشن کا اعلان کرنے پر مجبور کیا تھا۔ 4.9 (کانگریس) فیصد سے 18 فیصد (سماج وادی)۔اس نے مکمل طور پر ماحول کو خراب کر دیا۔جہاں کچھ بھی نہیں تھا وہاں  ہندو مسلم  قطبیت (پولرائزیشن)ابھر رہی ہے۔ اس سے ہندوستان میں صرف ہندوقدامت پسند  دشمنوں  کو فائدہ ہو گا۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ ملا لوگ اس کی کوئی  پرواہ نہیں کرتےہیں۔ در اصل   انہیں  ایسےہی  لوگوں کی ضرورت ہے،   ہندوستان کے دونوں طرح کے دشمن ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتے ہیں۔

جہاں تک سلمان رشدی  کا تعلق ہے، کیا ان کا ناول سیٹینک ورسیز  نہیں ؟بلا شبہ میری دل آزاری کرتا ہے ۔ کیا میرے مذہبی جزبات مجروح نہیں ہوتے ہیں؟یقینا ، ہوتے ہیں۔ خاص طور پر اس  حقیقت کے مدنظر کہ اس نے مکہ کی طوائفوں کو ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ کی ازواج مطہرات کے نام دئے، جن کا ہم اپنی مائوں سے بھی زیادہ احترام کرتے ہیں۔لیکن مجھے لگتا ہے  کہ روزانہ اخبارات پڑھ کر میری زیادہ دل آزاری ہوتی ہے جب میں پاتا ہوں کہ محمد نام کے  لوگوں نے سب سے گھنونا جرم کیا،  وہ جھوٹ بولتے ہیں،  دھوکہ، لوٹ،  زنا، قتل ،  قتل عام اور وہ  سب کچھ خوفناک  جو آپ سوچ سکتے ہیں، کرتے ہیں۔پچاس فیصد سے زائدمسلمانوں کے نام محمد یا احمد ہوتے ہیں اورجیسا کی سبھی جانتے ہیں کہ ہم  دنیا میں سب سے زیادہ بدعنوان لوگ ہیں۔ عصمت فروشی ایک پیشہ ہے شیطانی مسلمانوں کے ذریعہ مسلم خواتین جب اس کاروبار میں مجبوراً ڈال دی جاتی ہیں تو مسلم طوائفیں اعلی  درجے  کی گمان کی جاتی ہیں۔طوائفوں کی تلاش میں امیر اور بد عنوان سعودی مرد غیر مسلم تھائی لینڈ کے مقابلے مسلم انڈو نیشیاء جانے کو تر جیح دیتے ہیں کیونکہ وہ وہاں حلال عصمت خرید سکتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ،  آج بھی ان میں سے بعض طوائفوں کے نام  ہمارے  سب سے پیارے نبیﷺ کی بیویوں اور ہماری ، سب سے عزیزو سب سے زیادہ احترام کے قابل ماؤں کے نام  جیسے ہی ہیں۔ جس طرح مسلمان مردوں کے درمیان محمد یا احمد نام  زیازہ مقبول ہے ، اسی طرح مسلمان عورتوں کے درمیان پیغمبر ﷺ کی بیویوں کے نام سب سے زیادہ مقبول  ہیں۔

تو  صرف مجھے ہی کیوں ناراض ہونا چاہیےاگر ایک بے دین ثقافتی مسلم اور ایک عظیم مصنف  ہماری توجہ  اپنی جانب مبذول  کرنے کے لئے اور اپنے پیغام کی ترسیل کے لئے ہمارا مذاق بناتا  ہے  اور ہماری دل آزاری کے لئے مخصوص ادبی ترکیب استعمال کر رہا ہے۔ جس جانب  وہ اشارہ کر رہا ہے اس جانب دیکھنا میرے لئےذیادہ اہم بات ہے ۔ تمام عظیم مردوں اور عورتوں ، سائنسدانوں ، فنکاروں ، اصلاح کاروں ، نبیوں ، کی  دل آزاری اورتوہین کی گئی ہے۔ یہ ان کے کام کا حصہ ہے۔ حضرت محمدﷺ کی سب سے زیادہ توہین کی گئی ، ایسا ہی ان سے قبل حضرت عیسیؑ ، حضرت موسیٰؑ اور مہاتمہ بدھ ، حضرت نوحؑ اور اسی طرح ان سے  قبل بھی۔ ان لوگوں نے اپنے آبائی مذاہب ،  ثقافتوں ، روایتی اطوار کی مذمت  کی۔ان  تمام لوگوں نے اپنوں  کے مذہبی  احساسات کو مجروح کیا۔ ان کے   ناراض لوگ ہمیشہ ان کے   سخت مخالفین رہے ، ان کے خیالات  تبدیل ہونے سے قبل اکثر انہیں قتل کرنے کی کوشش کی، اور ان کے پیغام کو قبول کرنے کے بعد نئے دین کےقد آور شخصیت بن گئے۔

جہلا ،جوکہ ہمارے نام نہاد علماء ہیں ، سیٹینک ورسیز  یا  ادب  کے کسی اور نمونے کو پڑھ نہیں سکتے ہیں۔یہاں تک کہ ان لوگوں کے درمیان بھی جو عام طور پر  ادب پڑھتے ہیں اور اس  سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہ بھی رشدی کے تخیلات  کو سمجھ نہیں پاتے ہیں۔ کافی لوگوں کے لئے  رشدی  کو سمجھنا دشوار ہے۔  مولویوں  نے اس قدر واویلا نہ مچایا ہوتا تو  کتاب اس قدر فروخت  نہیں ہوئی ہوتی اور انٹرنیٹ پر مفت دستیاب بھی نہیں ہو تی۔

سیٹینک ورسیز فکشن کی ایک کتاب ہے  جو ایک پاگل شخص کے خواب  در خواب   پر مشتمل ہے۔اسلام پر ایک گفتگو کے طور پر اسے لینا غلط ہوگا۔ تاہم ،تما  م  خواب کی طرح خواب کے اس تسلسل میں حقائق داخل ہو جاتے ہیں۔سیٹینک ورسیز کا قضیہ حتی الامکان پوری طرح فکشن  پر منحصر ہے  اور اسلام کے ابتدائی برسوں کے اس  کے پر عزم دشمنوں کی تخلیق ہے۔ پیغمبر محمدﷺ کے ذریعہ اپنے معبودوں اور عقیدہ  کی توہین ، جو کہ نبی کریم ﷺ کا بھی آبائی مذہب تھا، سے زبردست دل آزاری کے سبب قریش کے رہنما، جو بعد میں اسلام کے  قدآور رہنما بنے ،آپ ﷺ کو اور ان کے پیغامات کو ہر ممکنہ طریقے سے ختم کرنا اور  ان پر تہمت  لگانا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے اس ضمن میں بہت کچھ کیا۔ سیٹینک ورسیز اللہ کے رسول ﷺ کو بدنام کرنے کے عمل کا ایک حصہ ہو سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مدت کے عرب مسلمانوں نے اس کا ذکر کیا ہے اور یہ اسلامی تاریخ کےایک نسبتا گم نام حصے کے طور پر   تب تک تھا جب تک کہ مولویوں نے سلمان رشدی  کی سیٹینک ورسیز کوایک مسئلہ  نہیں بنا دیا ۔

مولویوں کادعویٰ ہے کہ کتاب کی اشاعت  نے ان کو  تکلیف پہنچا ئی ہے۔ لیکن کچھ اور چیزیں ہیں جو کہ دوسرے  کو بھی چوٹ  پہنچاتی ہیں۔ کیا وہ جانتے ہیں کہ قرآن پاک اور مسلمانوں کا وجود بہت سے عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو تکلیف پہنچاتا ہے ، انجیل کے پیغامات بہت سے یہودیوں  کو  تکلیف پہنچاتا ہے۔ ہندو ، سب سے زیادہ قدیم ہونے کی وجہ سے انہیں یہ دعوی کرنے کا حق ہے کہ ہر دوسرےمذہب   کا وجودانہیں تکلیف پہنچاتا ہے۔ ایسے میں ہم کیا کریں گے؟ کیا ہم ایک دوسرے کو مار ڈالیں گے؟  ایک دوسرے کو اپنے ملک میں آنے جانے نہیں دیں گے؟ الگ الگ  رہیں گے؟ ایک دوسرے پر سڑے ہوئے انڈے پھینکیں گے؟جیسا کہ اہل حدیث کرتے ہیں اور ہمیں بھی ایساہی کرنے  کا  مشورہ دیتے ہیں۔

مولویوں کے لئے یہ خبر ہو سکتی ہے کہ  دوسروں کو بھی ان سے تکلیف محسوس  ہو سکتی ہے اس کے باوجود وہ دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب ایک مسلمان خود کو محمد کہتا ہے  اور جھوٹ ،  دھوکہ دہی ، قتل ،  عصمت دری  میں شامل ہوتا ہے۔مکہ کے قریش چاہے جتنا بھی پیغمبر محمد ﷺ کے ذریعہ اپنےمعبودوں کی توہین سے تکلیف محسوس کرتے رہے ہوں لیکن ان لوگوں نے آپ ﷺ پر جھوٹ بولنے، دھوکہ دینے یا  اور یا کسی برے فعل کا الزام کبھی نہیں لگایا۔ آپ ﷺ کا کوئی بھی بد ترین دشمن  یا توہین کرنے والا آپکے خلاف غیر اعتدال ہونے کا الزام نہیں لگاتا ہے۔وہ انہیں ہمیشہ الامین مانتے رہے۔آپ ﷺ کے بد ترین دشمنوں نے جنسی نامناسب رویہ کے بارے میں بھی کبھی ایک الفاظ نہیں نکالا۔اگر کوئی واقعی پیغمبر محمد ﷺ سے محبت کرتا ہے ، جیسا کہ مولوی حضرات دعوی کرتے ہیں کہ مسلمان کرتے ہیں، تو انہیں آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن ہم مسلمان پیغمبر ﷺ  کے نام  ، ان کی عظمت کے تحفظ کے لئے جان لے اور دے سکتے ہیں لیکن ہم ان کی اتباع نہیں کر سکتے یہ ہمارے لیۓ بہت مشکل ہے۔ بلکہ ناممکن ہےاورہمارے ڈی این اے  (DNA) میں یہ نہیں ہے۔ تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم  نےمحمدﷺ کی ایک ایسی تصویر بنائی ہے جو (نعوز باللہ) منحرف ،  گمراہ کرنے والی  اور ظالم ہے،  اور جن کی ہم اتباع کر سکتے ہیں۔ یہ پوری طرح وہی ہے جس پر  عرب کے سلفی مسلمانوں نے عمل کیا اور جس پرآج کے سلفی مسلمان  عمل کر رہے ہیں۔

یہ صرف عرب کے مسلمان، اسلام کے اصل اور دیرینہ دشمن  آل قریش ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کے اس دنیا سے پردہ کرنے کے  48 برسوں کے اندر آپ کے خاندان کے تمام لوگوں کو قتل کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور آپ ﷺ کی (نعوز باللہ) ‘جنسی جواں مردی’  اور دوسری گمراہیوں اور یہاں تک کہ اپنے موقف  کا جواز پیش کرنے کے لئے یہودیوں اور دیگر غیر مسلمو ں کے خلاف ظلم اور  عدم روادای کی کہانیاں پھیلانا شروع کر دیا۔ نہ ہی آپ ﷺ کے کردا راور نہ ہی قرآن  کریم میں ایسا کچھ ہے جس سے  عدم رواداری یا ظلم یا کسی گمراہی کا اشارہ ملتا ہو۔ لیکن   اسےعرب کے مسلمانوں نے بتایا اور یہاں تک کہ عصر حاضر  کے سعودی عرب میں اپنی عدم رواداری ، ظلم اور گمراہی کا جواز پیش کرنے کے لئے ایسی کہانیاں بناتے  ہیں جو نبی کریم ﷺ کیلۓ رسو ائی کی  وجہ ہیں   ۔ اس ضمن میں سلفی عرب  کے ذریعہ تحریر کی گئی قدیمی سیرت کا مطالعہ کریں۔

اب جب  بے دین رشدی  یا کوئی دوسرا غیرمسلم ان کہانیوں کو منتخب کرتا ہے اور  اپنے طریقے سے انہیں پیش کرتا ہے،  وہ اسے جیسا چاہتے ہیں ویسا بنا دیتے ہیں اور ہمارے جذبات اس سے مجروح ہو جاتے ہیں۔  لیکن کیا ہمیں اس سے دکھی ہونے کا حق ہے ، خاص طور پر جب ہم سلفی مسلمانوں کو  ،  جو  جھوٹی  کہانیاں پھیلا رہے ہیں اور انہیں اس نام سے نہیں بلا رہے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان سب سے زیادہ مقبول اور ٹی وی پر نظر آنے والے ڈاکٹر ذاکر نائیک ، سلفیوں کے پیارے ہیں جو نبی کریم ﷺ کے خاندان کے قاتل یزید ملعون  کا نام جب بھی  لیتے ہیں یا اس کا حوالہ دیتے ہیں تو ہر بار اس کے نام کے ساتھ رحمت اللہ علیہ ضرور جوڑتے ہیں۔ڈاکٹر ذاکر نا نائیک اسلام کے نام پر تمام  طرح کی جنسی گمراہی کو جائز مانتے ہیں، لیکن ان کی کیا بات کی جائے۔ سعودی عرب کےعلماء اور قاضی ، مذہبی ا سکالر اور منصف حضرات بھی ایسے ہی ہیں۔ اہل حدیثوں کے بارے میں ایک بھی تنقیدی لفظ مسلم پریس میں نہیں آ سکتا ہے، جو ذاکر نائیک کی گمراہیوں میں مالی مدد اور انتظامات کرتے ہیں۔

اب سعودی عرب  کے مالی تعاون والے فرقے اہل حدیث  کا  نام لیتے ہیں ۔ کیا اہل حدیث کی اصطلاح عام مسلمانوں کو تکلیف نہیں پہنچاتی ہے جن کا یقین ہے کہ قرآن کریم ان کی مقدس کتاب ہے ؟اہل حدیث کے معنی ہیں کہ ایسے لوگ یا مسلمان جو حدیث میں یقین رکھتے ہیں جنہیں  نبی کریم ﷺ کا نام نہاد قول کہا جاتا ہے جو آپ ﷺ کے پر دہ کر جانے کے سیکڑوں سالوں  کے بعد تک  جمع اور من گھڑنت  بنائی جاتی رہیں۔ واضح طور پر ایسا  اس لئے کیا گیا کیونکہ قرآن  میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے ایسے میں ایک اور مقدس صحیفے کی ضرورت تھی جو حکمرانوں کے مقاصد کو پورا کر سکے۔ اسلام کے  دیرینہ دشمنوں  کو اور  ان کی اولاد  کو  اسلام کےنام پر حکمرانی کرنے کی ضرورت تھی۔ ان کے  آبائو اجداد نے مکہ پر  نبی کریم ﷺ کی فتح کے بعد صریحاً اسلام قبول کر لیا تاکہ وہ داخلی سطح   پر  نئے مذہب کو شکست دے سکیں اور اور اس کے اقتدار پر قبضہ کر سکیں اور اس  توانائی کا استعمال کر سکیں جو اس نے  عرب کے علاقے کی توسیع کے لئے پیدا کی تھی۔

 سلمان رشدی  اپنے گمراہ طریقے سے اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔مکہ مکرمہ پر  فتح اور پورے شہر کا اسلام قبول کرنا۔ بہت سے لوگوں نے خون ضائع  کئے بغیر ہی فتح  مکہ سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا،  نبی کریمﷺ کی غیر متوقع سخاوت - عرب کے  اس وقت کے حالت میں  جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے- جنگی مجرموں سمیت سب کے لئے عام معافی کا اعلان کیا۔ لیکن  اشراف کا وہ طبقہ جس نے اقتدار کھویا تھا اس نے اس لئے اسلام قبول کیا تاکہ اسے داخلی  سطح پر  شکست دی جا سکے۔ وہ کس قدر کا میاب ہوئے! 24  برسوں کے اندر ہی بنو امیہ  کا ایک رکن  اسلام کا سب سے طاقتور خلیفہ بن گیا۔ عثمان بن عفان، ابتدائی دور کے مسلمانوں میں  سخی اور نیک انسان تھے۔ انہوں نے اسلام کے لیے بہت  لڑائیاں لڑیں اور بڑی قربانیاں دیں۔ لیکن انہوں نے اپنے تمام رشتہ داروں ،  مکہ کے سابق اشراف طبقے کو  اقتدار کی ہر پوزیشن میں بطور منتظمین تقرر کیا، اس میں  معاویہ بن ابو سفیان اور یزید کے والد کو سب سے اہم   ملک شام کا  گورنر مقرر کیا۔

اب سلمان رشدی کا باولا کردار پوری طرح اس نئی مسلم آبادی والے مکہ کی طرح ہے  جہاں بہت سے لوگوں نے ایمان کے بجائے اپنی سہولت  کی بنیاد پر اسلام قبول کیا۔ سیاسی شرفاء کے علاوہ ،  پیشہ ورانہ طوائف بھی دوسرے ایسے گروپ میں ہو سکتی ہیں۔ اسلام میں عصمت فروشی یا کسی بھی قسم کے غیر قانونی جنسی تعلقات کی  کوئی گنجائش نہیں ہے۔ وہ خوش طبقے میں  سےنہیں ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے کچھ کے نام آج بھی نبی کریم ﷺ کی بیویوں کے مقبول ناموں پر ہو نگےجیسا کہ وہ پہلے رکھا کرتی تھیں۔ شرارت کے تحت ، رشدی نے ان میں سے سب کو ان کے نام دئے۔ وہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام میں یہ سڑن اس زمانے سے ہے جب پیغمبر محمد ﷺ  نے عام معافی کا اعلان کیا تھا اور مکہ کے تمام لوگوں کو پناہ دینے کی اجازت دی تھی۔

کیا نبی کریم ﷺ کے پاس کوئی اور متبادل تھا؟آپ ﷺ انسانیت کے لئےرحمت کے سر چشمہ تھے، رحمت  للعالمین تھے۔ آپ ﷺ جنگی قیدیوں کو کم سے کم سزا د یتے تھے  اور اسلام و اپنے خاندان کو مستقبل کے  قتل عام سے بچا سکتے تھے۔ لیکن یہ ایک  عام بشر کی قیاس آرائی ہے جسے بصیرت اور فہم سےنوازا ہے ، اور جس کے علم میں ہے کہ اس کے فوراً بعد کیا ہوا۔پیغمبر محمد ﷺ واقعی  میں پیغمبر ﷺ تھے۔آپ ﷺ کے فیصلے پر قیاس آرائی کرنے یا سوال اٹھانے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کی روشنی میں ایک بات واضح ہے:  سڑن فتح مکہ ،  عام معافی  اور سب کو اپنا عقیدہ تبدیل کرنے کی اجازت دینے کے دن سےشروع ہو گئی۔ بے شک پیغمبر محمد ﷺ انہیں مشکل سے ہی اپنا عقیدہ تبدیل نہ کرنے کو کہہ سکتے تھے۔ انہیں اسلام کی جانب لانے کے لئے آپ ﷺ کو بطور رسول پھیجا گیا تھا اور اب وہ  اپنے  عقیدے کی تبدیلی کی طرف ما ئل ہو رہے تھے ؛  وہ  آپ ﷺ پر  اعتراضات بمشکل ہی کر سکتے تھے۔

 رشدی کا مقصد کیا ہے؟ سیٹینک ورسیز سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ان کے اپنے الفاظ میں ، رشدی نے مقرر کیا ہے‘ جن کا نام لینا نا مناسب ہو ان کا نام لینے، دھوکہ دہی کی نشاندہی کرنے ، کسی کی طرفداری کرنے، دلائل شروع کرنے ، دنیا کو  شکل دینے اور نیند کے آغوش میں جانے سے روکنا ہے۔’ اور وہ پرواہ نہیں کرتے ہیں ‘اگران کی آیات سے ہوئے زخم سے چاہے خون کی ندیاں  جاری ہو جائیں۔’ وہ اپنے غور و فکر کے علاوہ کسی کے بھی دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔رشدی لیکن دنیا کی شکل ‘چلتی لاشوں ،  مرنے والوں کے بڑےہجوم اور ان میں سے زیادہ تر ا س بات کو تسلیم کرنےسے انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا کام کر لیا ہے ، لاشیں  بغاوتی انداز میں  زندہ رہنے والوں کی طرح برتائوشاپنگ ،  بسوں کو پکڑنا ، خواتین کے ساتھ جھوٹی محبت کا دکھاوا کرنا، گھر جاکر پیار کرنااور سگریٹ پینا جاری رکھے ہوئے ہیں۔’  اور اسی وجہ سے انہوں نے انتہائی اشتعال  پیدا کرنے کی تکنیک کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رشدی کے سامنے کیا مقاصد ہیں جو نہایت اہم ہیں؟  ایک شاعرکے کام کی قیمت کی ادائیگی کے قابل ہے؟وہ اپنی ورسیز میں  آخر میں کرتے کیا ہیں؟ اچھا ،  انہوں نے یقین کرنے والوں کے ذہنوں  میں شک اور الجھن  پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے سوالات اٹھائے ہیں جو اس قدر ناقص ہیں کہ انکے بارے میں  سوچنا فضول ہے۔رشدی کے لئے ‘حقیقت’ ایک موت ہے اور ‘الجھن’ ایک بانسری  کے مانند۔یقین کرنے والے یہ ضرور کہیں گے کہ،  ضرور یہ شخص شیطان کااوتار ہوگا۔ آخر ، مومنوں کے ذہنوں میں شک اور وسوسے پیدا کرنے کا کام دنیا کا ارتقاء کے منصوبے میں شیطان کو مختص کیا گیا تھا۔ لیکن ان کے مسلم ناقدین  ، ظاہر ہے ، قرآن کی اس ترغیب کو  بھول گئے جس میں آیتوں پر  غور و فکر کرنے   اور بغیر سوچےسمجھے ان پر یقین نہ کرنےکی بات  بار بارکہی گئی ہے۔لیکن اگر آپ کو کوئی شک نہیں ہے ، کوئی الجھن نہیں ، کوئی سوال نہیں ہے تو آپ کیوں اور کیا  غور کریں گے؟

تاہم ،  ہمیں اپنی  المناک تاریخ  سے ایک بات تو سیکھنی چاہیے جس کی طرف رشدی کا باولا کردار ہماری  توجہ کو مبذول  کرانا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد ہونے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔آئیے ہم  لوگوں کے  غیر ضروری طور  مذہب تبدیل کرنے اور  چندر موہن کے جیسے لوگ جو ایک معزز خاتون کی عصمت دری کرنے  کے لئے اسلام قبول کرتے ہیں، پر فخر محسوس کر  نا بند کریں۔اس کے علاوہ  ، ہم اپنے بچوں کو اپنا مذہب  اپنانے کے لئے مجبور کرنا بند کریں۔مذہب یقینا موروثی نہیں ہونا چاہیے اور یہ ہو بھی نہیں سکتا ہے۔آئے ہم اپنے بچوں کو تمام مذاہب کی ضروری تعلیمات کا علم دیں اور جب وہ بڑے ہو جائیں اور مذہب کی نوعیت ، روحانیت  اور ربوبیت الہی  وغیرہ کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں تو انہیں اپنے مذہب کا انتخاب کرنے دیں، ۔ مسلمانوں کی بڑی تعدا کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ میرے مطابق سیٹینک ورسیزکا یہی پیغام ہے اور مجھے لگتا ہے یہی وہ پیغام ہے جس پر غور کیا جا سکتا ہے۔  کیا سلمان رشدی کو مسلمان ہونے کے نشان رکھنے پر مجبور نہیں کیا گیا ، انہوں نے  شاید  وہ مسلمان کیوں تھے اور کیوں مسلمان نہیں  رہے کی شرائط  کے تحت اپنی شناخت  کا تعین اور وضاحت کرنے کے لئےمجبور کئے جانے کو محسوس نہیں کیا ہوگا۔اپنی زندگی بچانے کے لئے  اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور کرنے  کے عمل کا ان کا احساس  اور پھر جب پتہ چلا کہ  اسلام قبول کر لینے سے بھی مولوی حضرات ان سے خوش نہیں ہوں  گے، دوبارہ بے دین ہو جانے کا ان کا عمل شرمناک  ہے۔ سلمان رشدی کے لئے بھی شرمناک ہے اور باقی  مسلم قوم کے لئے بھی شرمناک ہے! ایک مسلم خاندان میں پیدا ہونے کی کافی قیمت وہ ادا کر چکے ہیں ۔ اب انہیں وہی رہنے دیجئے جو وہ ہیں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/the-war-within-islam/salman-rushdie-s-indian-mullah-critics,-listen-to-the-message-of-satanic-verses/d/6446

URL for this article:  http://www.newageislam.com/urdu-section/salman-rushdie-s-indian-mullah-critics,-listen-to-the-message-of-satanic-verses--سلمان-رشدی-کے-ہندوستانی-ملّا-ناقدین-،سیٹینک-ورسیز-کےپیغام-کو-سنیں/d/6583


Loading..

Loading..