New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 06:26 AM

Urdu Section ( 9 Jan 2015, NewAgeIslam.Com)

Muslims Must Confront Islamist Terror Ideologically مسلمانوں کو نظریاتی طور پر مذہبی دہشت گردی کا سامنا کرنا ضروری

 

 

سلطان شاہین، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

9 جنوری 2015

  ایسا لگتا ہے کہ ہم مذہبی دہشت گردی کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور پشاور میں بچوں کے قتل عام کے بعد پیرس میں صحافیوں کے قتل کا واقعہ منظر عام پر آیا ہے۔9/11 کےتیرہ سالوں کے بعد بھی اس دنیا کو اور مزید مسائل، اختلافات اور زیادہ خطرناک صورت حال کا سامنا ہے۔ ایسی صورت حال میں جبکہ یہ دنیا عسکریت پسند دہشت گردوں کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کر رہی ہے ان کی نظریاتی روایات کے خطرات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

 جہادیوں نے تشدد کا ایک مکمل لائحۂ عمل تیار کر لیا ہے جو کہ نفرت، عدم روداری، مطلق العنانیت اور فاشزم کی روایت پر مبنی ہے اور جس میں یہ قابلیت ہے کہ وہ بڑی تعداد میں سادہ لوح مسلم نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر لے اور رحم، مہربانی اور شفقت جیسی انسانی جبلتوں سے انہیں بے حس بنا دے۔ عام طور پر کسی کو خود کشی پر آمادہ کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہونا چاہئے۔ لیکن جب بھی کسی پرعزم اور باذرائع جماعت کو کسی  خود کش حملہ آور کی ضرورت پیش آتی ہے تو مسلم معاشروں میں انتہائی ظالم و جابر خود کش حملہ آوروں ایک فوج انہیں دستیاب ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اسلام پسند نظریات کی کشش اور طاقت ہے جو اسلام کی ان تعلیمات اور اصول و معتقدات سے یکسر مختلف ہے جو صدیوں سے مسلمانوں کی غالب اکثریت اپناتی چلی آرہی ہے۔

صوفیانہ تعلیمات اور معمولات و معتقدات کے زیر اثر، امن پسند مسلمانوں کو ہمیشہ اس بات پر فخر رہا ہے کہ وہ ایک ہمہ گیر اور روادار مذہب کے پیروکار ہیں جو گزشتہ تمام ادیان و مذاہب کا احیائےنو کرنے کے لیے آیا ہے۔ مسلمانوں کا ہمیشہ یہ ایمان وایقان رہا ہے کہ ان کادین تمام انسانیت کے لئے ایک نعمت ہے۔

لہٰذا، جب گزشتہ صدی کے اوئل میں سعودی وہابی حکومت کے قیام کے ساتھ اسلام کی ایک تفوق پرست، علیحدگی پسند اور عدم روادار تعبیر و تشریح شروع ہوئی تو مسلمانوں نے اسے یکسر مسترد کر دیا۔ لیکن تیل کی غیر معمولی دولت اور سرد جنگ کے لوازمات کی وجہ سے اس نظریہ کو تیزی کے ساتھ پھیلنے میں مدد ملی۔ 9/11کے بعد بھی بین الاقوامی برادری نے اس عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا کی۔ بلکہ اس نے دہشت گردوں کے پھلنے پھولنے اور فروغ کے لئے کئی نئے راستے ہموار کیے۔

 تاہم، تیز رفتاری کے ساتھ بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی کے باوجود بہت سے مسلمان اب بھی اعتدال پسند ہیں اور صوفی روایات پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہیں اور جو اسلام کو نجات کا ایک روحانی راستہ اور ایک ایسا اخلاقی معیار سمجھتے ہیں جس پر عمل کرنا چاہیے۔ وہ جدیدیت، جامعیت، تکثیریت، صنفی مساوات اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو امت وسط قرار دیا ہے جس کا مطلب متوازن اور معتدل کمیونٹی ہے۔ اسلامی تاریخ میں انتہا پسند مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ لیکن آخر کار پرامن اکثریت نے ہمیشہ ان کو شکست دی ہے۔ امید ہے کہ ہم بھی طاقتور پیٹرو ڈالر اسلام اور اس کی شاخ یعنی جہادیت کو شکست دیں گے۔

 لیکن یہ کہنا آسان ہے اور کرنا بہت مشکل۔ ایک مشکل ترین کام اعتدال پسند مسلمانوں کے ذمہ ہے۔ صوفیاء کرام اعتدال پسند اور صوفی اسلام کی تبلیغ و اشاعت کرنے کے لیے جو طریقہ کار استعمال کیا کرتے تھے وہ طریقہ آج انٹرنیٹ کے دور میں کار آمد نہیں ہو سکتا۔ صوفیاء کرام اسلام کی صرف مثبت تعلیمات پر زور دیتے تھے اور باقی تمام کو نظر انداز کرتے تھے۔ لیکن اب معاملات کو محض نظر انداز کرنے کا زمانہ چلا گیا۔

 اعتدال پسند مسلمانوں کو نئی حکمت عملی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اعتدال پسند مسلمانوں کو انتہا پسند نظریات کی تمام گمراہیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کی تردید کرنا اور اسلام کی اخلاقی تعلیمات پر زور دینا ضروری ہے۔

 مسلمانوں کے اذہان پر غلبہ حاصل کرنے میں جہادیت کی بہت بڑی کامیابی دیگر لوگوں کے مندرجہ ذیل بنیادی عقائد میں مضمر ہے۔

 ا) کئی صدیوں سے علماء کرام مسلمانوں کے درمیان اس ایک اٹل عقیدے کو فروغ دے رہے ہیں کہ قرآن مجید تقریبا خدا کی ہی طرح ایک غیر مخلوق کتاب ہے۔

 یہ ایک خطرناک امر ہے۔ اگر قرآن ایک مخلوق ہے، جو کہ یقیناً ہے، جو ایسی آیات کا ایک مجموعہ ہے جو وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے لئے نازل کی جاتی رہی ہیں، تو ان آیات کے سیاق و سباق بہت اہم ہیں اور جن آیات کو سمجھنے کے لیے سیاق و سباق کی ضرورت نہیں ہوتی انہیں آفاقی حیثیت حاصل ہے۔

لیکن اگر یہ غیر مخلوق ہے جیسا کہ تمام مدارس میں اس کی تعلیم دی جاتی ہے تو پھر اس کی ہر ایک آیت ابدی ہوگی اور سیاق و سباق کے حوالے کے بغیر ہی اس کی پیروی کی جائے گی۔ اور بنیادی، وجوبی اور سیاق سباق والی عام ہدایتی آیات کے درمیان کا فرق مرتفع ہو جائے گا جس کی وجہ سے انتہاپسند نظریہ ساز سیاق و سباق والی آیتوں کاعام اور بنیادی آیتوں کی جگہ اور عام اور بنیادی آیتوں کا سیاق و سباق والی وجوبی آیتوں کی جگہ غلط استعمال بڑی آسانی کے ساتھ کریں گے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کے غیر مخلوق ہونے کی تعلیم دینے والے ہمارے تمام مدارس ایسے بنیاد پرست علماء پیدا کر رہے ہیں جنہیں اپنا دماغ لگانے کی کوئی معقول وجہ نہیں نظر آتی۔ اسی لیے اگر وہ یہ پاتے ہیں کہ قرآن نے کہیں بھی یا کسی بھی سیاق و سباق میں کہا ہے کہ "کافروں کو مارو" تو وہ اٹھ کھڑے ہو کر کافروں کو مارنا شروع کر سکتے ہیں، اور وہ یہ بھول جائیں گے کہ یہ آیت ایک مخصوص تاریخی پس منظر میں نازل کی گئی تھی اور صرف اسی زمانے کے لیے مخصوص تھی۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ تمام جہادی نظریہ ساز ظلماً قتل کے جواز میں سادہ لوح مسلم نوجوانوں کو نصیحت کرتے وقت ایک بڑی تعداد قرآن مجید کی ان آیات کا حوالہ پیش کرتے ہیں جن میں جنگ کا حکم دیا گیا ہے۔ حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی خطر خودکش حملوں کو انجام دینے کے لئے تیار ان کے پاس قاتلوں کی ایک فوج دستیاب ہے جن کا یہ ماننا ہے کہ وہ ایسا کر کے جلدی جنت میں داخل ہو جائیں گے۔

 ب) احادیث یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نہاد اقوال کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ جہادی کتابوں میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ممکنہ طور پر ایک بڑی تعداد میں من گھڑت احادیث کامکمل طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جن احادیث کی تدوین و ترتیب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کی رحلت کے 300 سال کے بعد کی گئی تھی ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مستند اقوال کی نمائندگی نہیں ہو سکتی، اگرچہ ممکن ہے کہ چند احادیث ایسی بھی ہوں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مستند اقوال کی عکاسی ہوتی ہو۔

 اب اگر غیر ارادتاً نقصان کے نام پر شہریوں کے بے دریغ قتل کے جواز میں ایک بڑی تعداد بظاہر من گھڑت احادیث کا حوالہ پیش کیا جا رہا ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے (مثال کے طور، بخاری جلد 4 / کتاب 52، حدیث 256 یا 019/4321) اگرچہ ایسی بھی بہت ساری احادیث ہیں جن میں کسی بھی صورت حال میں اس طرح کے قتل کی ممانعت وار ہوئی ہے۔ درحقیقت دوسری ایسی حدیثیں بھی ہیں مثلاً (بخاری، 021/010 (موطاء)، جن میں نہ صرف یہ کہ عورتوں یا بچوں یا ضعیف العمر لوگوں کے قتل کی ممانعت وارد ہوئی ہے،  بلکہ ان میں "پھل دار درختوں کو کاٹنے، آباد جگہ کو ویران کرنے، کھانے کے لئے سوا بھیڑ یا اونٹ کو ذبح کرنے، شہد کی مکھیوں کو جلانے اور ان کو بکھیرنے" کی بھی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔

جب خدا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور حیات کے آخری ایام میں ہمارے دین کو کامل کر دیا (قرآن5:3) تو بھر صدیوں بعد حدیث جیسے کسی نئے صحیفے کی تدوین کرنے کا ہمیں کیا حق حاصل ہے؟

ج) تمام مسالک کے علماے کرام شریعت کو احکام الٰہیہ کا درجہ دیتے۔ اصل میں یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ایک صدی سے زائد کے بعد مختلف علماء کے ذریعہ مرتب قوانین کا ایک انسان ساختہ ڈھانچہ ہے جس میں ہمیشہ ترمیم و تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اس کے حکم الہی ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔

 اسلام کے مسائل واضح طور پر گہرے ہیں۔ یہ تمام اسلام کے بنیادی مسائل ہیں۔ لیکن مذہب کے متوقع محافظ یہ علماء کرام مسلسل انہیں نظر انداز کر رہے ہیں۔

اب یہ بڑا معاشرہ کیا کرتا ہے؟ میرے خیال سے پہلے خود اس دنیا کو مسلم کمیونٹی کے اندر رونماں ہونے والے مسائل و واقعات سے مطلع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بنیاد پرستی کی سطح معلوم کرنے کے لیے قابل اعتبار سروے کرنے، جمعہ کے خطبات اور مختلف مدارس کی نصابی کتابوں کی نگرانی کرنے کی اور روزمرہ کی زندگی میں پیدا ہونے والے بنیادی سوالات کاعلماء کو حل پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر علماء واقعی اسلام کو دہشت گردی کی علامت بننے سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں کم از کم ان عام فہم قراردادوں کو منظور کرنے کی ضرورت ہے جو کہ اسلام کے مطابق بھی ہیں:

 1۔ قرآن ایک مخلوق ہےخود خدا کی طرح الہی نہیں ہے؛

 2۔ قرآن مجید میں مخصوص سیاق و سباق والی اور خاص طور پر جنگ کا حکم دینے والی آیات اب مسلمان کے لیے قابل انطباق نہیں ہیں؛

3۔ حدیث قرآن کے ہم پلہ کوئی اسلامی صحیفہ نہیں ہے۔

4۔ شریعت کو احکام الٰہیہ میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔

ہمارے علماء، دانشوران اور سیاستدانوں نے اب تک اس سمت میں جو پیش قدمیاں کی ہیں وہ محض ظاہری آرائش و زیبائش کے مترادف ہے۔ انہیں اس بات کی امید ہے یا شاید وہ یہ دعا کر رہے ہیں کہ یہ مسائل ختم ہو جائیں۔ لیکن بنیاد پرستی مزید گہرا رہی ہے اور سخت ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کر رہی ہے۔

اگر مسلم فقہا اسلام کو ایک اعتدال پسند مذہب، اخلاقی معیار اور نجات کے ایک روحانی راستہ کے طور پر زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو واضح طور پر انہیں سطحی بیانات سے اوپر اٹھ کر سمجھداری کی سمت میں قدم بڑھانا ہوگا تاکہ انتہا پسند لوگ اسلامی صحیفوں کو دہشت گردی کا کتابچہ نہ بنا سکیں۔

اگر علماء پر امن مذاکرات کے لئے متفق نہیں ہوں، تو اس بڑے مسلم معاشرے کو ان چند اعتدال پسند اور ترقی پسند مسلمانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی حمایت کرنی چاہئے جو اپنے اس منفرد کام کو انجام دینے کے لیے بخوشی کوئی بھی مشقت برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ علماء کو نظر انداز کرتے ہوئے اس طبقے کا رابطہ براہ راست کمیونٹی سے ہونا چاہیے جو عقلمندی اور فہم و فراست کی مہم چلا سکیں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/muslims-must-confront-islamist-terror-ideologically--an-islamic-reformation-required/d/100918

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/muslims-must-confront-islamist-terror-ideologically--مسلمانوں-کو-نظریاتی-طور-پر-مذہبی-دہشت-گردی-کا-سامنا-کرنا-ضروری/d/100952

 

Loading..

Loading..