New Age Islam
Wed Jan 19 2022, 05:05 AM

Urdu Section ( 23 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslim Denial مسلمانوں کی منفی ذہنیت: خود ساختہ خلیفہ بغدادی سے نمٹنے کےلئے اسے ایک یہودی اور موساد کا ایجنٹ سمجھا جائے، بقول مولانا ابو العرفان فرنگی محلی، لیکن کیا یہ طرز فکر کارگر ہے؟

  

سلطان شاہین، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

 23 اکتوبر 2014

کیا مسلمانوں کا خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی عرف ابراہیم ایک یہودی اور موساد کا ایک خفیہ ایجنٹ ہے؟  کیا وہ مسلمانوں میں انتشار، خون ریزی اور انتشار پیدا کرنے والی یورپی طاقتوں کے ہاتھوں میں ایک کٹھ پتلی ہے؟ کیا وہ مسلمانوں کو تشدد اور غارت گری میں یقین رکھنے والی قوم کے طور پر دنیا بھر میں پیش کرنے کی  منصوبہ بندی کا ایک حصہ ہے؟  

 انٹرنیٹ پر بہت سے افراد نے اپنے اپنے پوسٹ اور بلاگ میں اس قسم کے سوالات اٹھائے ہیں اور بطور دلیل یہ بات کہی ہے کہ خود ساختہ 'خلیفہ' اور نام نہاد ‘‘امیر المومنین’’ ابوبکر ابراہیم البغدادی حقیقت میں ایک یہودی ہے اور اس کے والدین بھی یہودی ہیں۔ مختلف اطلاعات کے حوالے سے یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ اس کا اصلی نام سائمن الیٹ (Simon Elliot) ہے اور اسے موساد اور سی آئی اے (CIA) نے اس لئے میدان میں اتارا ہے تاکہ وہ عرب ممالک میں اسلامی خلافت اور خدائے واحد کی حاکمیت کے قیام کے بہانے مشرق وسطی میں ہنگامہ آرائی اور خونریزی کا ماحول بنانے میں کامیاب ہو جائے۔

سازشی نظریہ کے حامل چند لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہودی پس منظر سے آنے والے بہت سے 'نو مسلموں' نے ایک خاص مقصد کے تحت  القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ بہت سے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ شبہ اس  خبر کی بنیاد پر پیدا ہوا ہے کہ تقریبا 3,000 سے زائد برطانوی نو مسلم افراد سازشی نظریات کا شکار ہوکر داعش سے وابستہ ہو گئے ہیں، کیوں کہ وہ عرب ممالک میں امریکی اور دیگر یورپی طاقتوں کے جاری کھیل سے نالاں اور پریشاں ہیں۔      

ان میں سے کتنے امریکی اور برطانوی ایجنٹ ہیں، یہ معلوم نہیں ہے۔ اس ضمن میں امریکی مبصر رابرٹ سنوڈن کی اس رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جارہا ہے جس میں البغدادی کو مشرق وسطی میں سرگرم ایک امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے ہے کہ وہ ان کے سیاسی واقتصادی مفادات کو آگے بڑھانے اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔

 تاہم، ایک طرف اگر کچھ لوگوں کو اس نوعیت کے جدید سے جدید تر سازشی نظریات میں ذہنی وفکری سکون حاصل ہوتا ہے، تو دوسری جانب ایسے مسلمان بھی  مل جائیں گے جو ابوبکر بغدادی کی حمایت اور احترام کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ ایسے مسلمان یہ بھول جاتے ہیں کہ بغدادی بھی اسلام کا ایسا دشمن ہوسکتا ہے جس طرح کی دشمنی کی بو سعودی وہابی مملکت سے آتی ہے، جس نے اب تک اسلامی تاریخ کی تقریبا تمام علامات اور نشانیاں تباہ کردی ہیں۔   

فرنگی محل، لکھنؤ کے سرکردہ شیعہ عالم دین مولانا ابو العرفان فرنگی محلی کے قلم سے نکلا ہوا مندرجہ ذیل مضمون اس سلسلے میں ایک چشم کشا تحریر ہے۔ اس مقالہ سے واضح ہوجاتا ہے ہمارے یہاں کچھ نام نہاد اعتدال پسند مسلمان ایسے بھی جو اسلامی نظریات اور مسلم کمیونٹی کے اندر پنپ رہی انتہا پسندی کے وجود کا سرے سے ہی انکار کردیتے ہیں اور وہ اپنے اس انکار میں  کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ذیل میں دیئے گئے لنک کے ذریعہ مولانا کی سازشی تھیوری اور اس کے مصدر ومآخذ تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

تاہم، یاد رہے کہ اسی طرح کے سازشی نظریات اور تھیوریاں سعودی وہابی سامراج کے دونوں بانی محمد بن سعود اور محمد ابن عبدالوہاب نجدی کے متعلق بھی وضع کی گئیں۔ یہ مفروضہ تیار کیا گیا کہ دنوں بانیان وہابیت یہودی اور عیسائی نسب کے حامل اور برطانوی حکومت کے ایجنٹ ہیں۔ انہیں انگریزوں کا ایجنٹ قرار دیا گیا، بالکل اسی انداز میں جس طرح آج بغدادی کو اسرائیلی وامریکی ایجنٹ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ تاہم، مسلمانوں کے لئے ان ایجنٹوں کو اپنا رہنما اور لیڈر تسلیم کرنا کوئی مسئلہ نہیں تھا، حتی کہ انہیں خادم الحرمین الشریفین کا اعلی ترین درجہ بھی دے دیا گیا۔ اس سے بھی انہیں کوئی پرابلم نہیں ہوئی۔ ٹھیک اسی طرح اگر داعش یا دولت اسلامیہ عراق وشام اپنی نام نہاد اسلامی ریاست قائم کرلیتی ہے، جیسا کہ اس کے امکانات بھی نظر آنے لگے ہیں، تو غالب امکان ہے کہ آمریت پسند مسلم حکومتیں، امارات اور عالمی سطح پر خود بہت سی مسلم عوام اسے قیادت فراہم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گی۔      

اس قسم کی سازشی تھیوریوں نے نہ تو سعودی سلطنت کے لئے عام مسلمانوں کی حمایت کو کم کیا اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ آج کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی کی شرانگیزیوں کو ختم کرنے میں محسوس ہو رہا ہے۔ جو کام اس معاملے میں اس وقت مؤثر ہو سکتا تھا اور جو اب بھی کارگر ہے، وہ یہ ہے کہ مرکزی دھارے سے جڑے تمام مسلم مکاتب فکر مکمل ہم آہنگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ قدیم اور جدید خوارج کے انتہا پسندانہ مذہبی نظریات کی علمی وفکری تردید کریں۔

اسلامی تاریخ میں انتہاپسند نظریہ سازوں کا ایک گروہ ہمیشہ سے ہی رہا ہے۔ مجموعی طور پر ان سب کو سی آئی اے (CIAMI6 ، کے جی بی (KGB)  یا موساد (Mossad) کا ایجنٹ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان نظریہ سازوں کو عوام کے مابین کسی نہ کسی طور پر ہمیشہ مقبولیت حاصل رہی۔ مثال کے طور پر محمد ابن عبد الوہاب نجدی کے فکری استاذ، تقی الدین احمد ابن تیمیہ کو ہی لے لیجئے،  جب ان کا انتقال ہوا، تو باوجود اس کے کہ وہ جیل میں قید تھے اور ان پر الحاد کے سنگین الزامات عائد ہو چکے تھے، ہزاروں مسلمانوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لئے دعاء مغفرت کی۔  اور اتفاق سے ان کی تدفین ایک صوفی قبرستان میں ہوئی اور آج بھی بہت سے لوگ انہیں ‘‘شیخ الاسلام’’ کے لقب سے نوازتے ہوئے نظر آتے ہیں۔  

ہم مسلمان، یا کم ازکم ہم میں سے وہ افراد جو اپنی کمیونیٹی کو تباہی کے اس دلدل سے باہر لانا چاہتے ہیں جس میں ہم خودبہ خود گر چکے ہیں، اب اس حقیقت کا ادراک کر ہی لیں کہ ہم نظریاتی سطح پر ایک گمبھیر مسئلہ سے جوجھ رہے ہیں اور ہمیں خود اس کے حل کے لئے بھرپور جاں فشانی کرنی ہوگی۔ ہمارے مسائل کا حل اس بنیادی سوال کے جواب سے شروع ہوتا ہے کہ: آخر مسلمان کون ہے اور اس کی تعریف کیا ہے؟ ظاہر ہے جس قوم کے پاس اس سوال کا بھی جواب نہ ہو کہ اس کا حقیقی فرد کون ہے اور اس کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے کیا صلاحیت درکار ہے، اسے عہد حاضر کے تقاضوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایک طویل مسافت طے کرنے کی ضرورت ہے۔

اب ذیل میں مولانا ابو العرفان فرنگی محلی کا اردو مضمون ملاحظہ فرمائیں۔ جب میں نے پہلی دفعہ یہ مقالہ پڑھا تو میں اس ادھیڑ بن میں گم ہوکر رہ گیا کہ اس پر رووں یا ہنسوں؟؟؟؟؟ آپ بھی اس مضمون کو پڑھیں اور نیو ایج اسلام فورم پر ہمارے ساتھ اپنے تأثرات کو بھی شیئرکریں!

------ سلطان شاہین، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

----------- یہودی بشکل بغدادی

ابوالعرفان فرنگی محلی، قاضی شہر لکھنو

22 اکتوبر، 2014

ایک عرصہ سے اسلام دشمن طاقتیں اسلام کو نقصان پہنچا نے کے لیے لگاتار نصرانیوں او ر یہودیوں کو مسلمانوں کی شکل  میں اپنا ایجنٹ بنا کر مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہی ہیں اور پھر اُس  کے ذریعہ دونوں ہاتھوں سے تیل اور گیس  کی دولت کو لوٹ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی انگریز  جاسوس ہمفر ے تو کبھی  لارنس آف عربیہ تو کبھی  مُوساد کا یہودی ایجنٹ سائمن  الیاٹ ابوبکر  بغدادی  بن کر سیریا اور عراق میں داخل  ہوگیا ہے۔ جس کے ذریعہ برٹین ، امریکہ  اور اسرائیل دونوں ہاتھوں سے مسلم ممالک کی تیل اور گیس کی دولت کو لوٹ رہے ہیں ۔ ابو بکر بغدادی  جس کے بارے میں  اب یہ انکشاف ہوچکا ہے کہ اُس کا تعلق یہودی  مذہب سے ہے اور مسلمان بن کر مسلم ممالک کے لیے خطرہ  بناہوا ہے ۔ یہ شخص اپنے آپ کو پوری دنیا کے مسلمانوں کا خلیفہ  کہہ رہاہے اور اُس نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے جہاد کی اپیل کی ہے۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑر ہا ہے کہ لکھنؤ کے کچھ نام نہاد فتنہ پرست مولوی  بھی بغیر سونچے سمجھے اُسے اخباروں کے ذریعہ مبارک بادی پیش کرتے ہیں اور کسی نے بغدادی سے خوش ہوکر اپنی سوشل سائٹ پر اُس یہودی کی حکومت کے نقشہ کو لگا کر سبحان اللہ لکھ دیا ۔  جب یہ بات میڈیا  میں پھیلنے لگی تو وہ مولوی  طرح طرح کے رنگ بدلنے لگے ۔ کچھ بیوقوفوں نے کشمیر میں داعش  کی حکومت کا کالا جھنڈا لہرا دیا تو کچھ حاجیوں نے بغدادی  کواپنا خلیفہ  سمجھ کر حج کے دنوں میں  میدانِ عرفات پر بغدادی کی تنظیم کا کالا جھنڈا لہرا دیا۔ اس طرح کے بیوقوفیاں کرنے کی وجہ سے جہاں ایک طرف اسلام کا نام بدنام ہورہا ہے وہیں دوسری قومیں بے گناہ مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ  رہی  ہیں ۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جس طرح  سے ہمفر ے اور لارنس آف عربیہ کو دیر میں پہچاننے کی وجہ سے بہت نقصان ہوا، اُسی  طرح سے ابوبکر بغدادی جیسے یہودی کو نہ پہچاننے کی وجہ سے نقصان ہورہا ہے ۔ ہمفر ے اور لارنس  کے دور میں انٹر نٹ نہیں تھا، اس لیے ایسے لوگوں  کو پہچاننا  ضرور مشکل تھا ۔ لیکن انٹر نٹ   کے اس دور میں یہ کام بہت آسان ہے۔ جس کو بھی ابوبکر بغدادی  کے یہودی ہونے میں یا  اُس کے امریکہ،  اسرائیل  اور برٹین  کا ایجنٹ ہونے میں شک  ہے اُسے چاہئے کہ وہ انٹر نیٹ پر جاکر انگریز ی میں ابوبکر بغدادی از جیو  ( Abu Baqar Baghdadi is Jew ) ٹائپ کر کے ایڈورلڈ اسٹوڈن ( Edwarb Snow Den) کی رپورٹ دیکھ لے۔ جس میں صاف صاف لکھا  ہے کہ بغدادی کے ماں باپ یہودی ہیں اُس کا نام سائمن ایلیاٹ ہے۔یہ مُوساد کا ایجنٹ ہے اور اُس کے ذریعہ برٹین  ، امریکہ  اور اسرائیل  کی خفیہ ایجنسیاں  مڈل ایسٹ میں دہشت گردی کا بڑھا وا دے رہی ہیں ۔

اس شخص  کی بہت سی پرانی تصاویر بھی انٹر نیٹ پر موجود ہیں ۔ اس لیے اس وقت  بغدادی جیسے یہودی کو پہچاننا  بہت آسان ہے۔ لیکن یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو دہشت گردوں اور انسانی خون سے ہولی کھیلنے والوں سے نفرت کرتے ہوں گے ۔ مگر جنہیں  جھگڑا اور فساد کروانے میں مزا آتا ہے یا پھر  وہ سعودی  عرب یا قطر جیسی وہابی حکومتوں یا امریکی و اسرائیلی  حکومتوں کے ایجنٹ ہیں  وہ ایسا کام کبھی  نہیں کریں گے اس لیے میں اُن ایجنٹوں  سےنہیں بلکہ اُن لوگوں سے جو بغدادی       کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں اُن سے یہ کہوں گا کہ وہ انٹر نیٹ کے ذریعہ حقیقت دریافت کرلیں تو انہیں پتہ چل  جائے گا کہ ابوبکر بغدادی   مسلمان  ہی نہیں ہے بلکہ وہ یہودی ہے اور وہ بھی لارنس  اور ہمفرے کی طرح برٹین، امریکا اور اسرائیل کا ایجنٹ ہے جسے سعودی عرب اور قطر نے مل جل کر تیار کیا ہے اور وہ یہودی مسلمان بن کر اسلام کو بد نام کررہا ہے اور اتنا ہی نہیں  بلکہ وہ اسلام ، انسانیت اور امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ اس لیے ہر ایک ذمہ دار شخص کو چاہیے  کہ وہ ابو بکر  بغدادی  جیسے یہودی اور یہودی ایجنٹ  کو خلیفۃ اللہ سمجھنے کے بجائے لعنت  اللہ سمجھیں اور بغدادی جیسے دہشت گردوں کے  ذریعہ چلائی  جانے والی آئی ایس آئی  ایس، القاعدہ، بوکو حرام، النصرۃ، طالبان اور لشکر  جیسی تنظیموں اور ان کو پیدا کرنے والوں یا اُن کی کسی بھی طرح کی مدد کرنے والوں کی مخالفت کریں اور ساتھ ہی ساتھ  بیوقوف  اور جاہل قسم کے فسادی مولویوں سے اپنے آپ  کو دور ہی رکھیں ۔

22 اکتوبر، 2014  بشکریہ :روز نامہ صحافت ، لکھنؤ

URL for English article:

 https://newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/muslim-denial-knows-no-bounds--one-way-of-dealing-with-self-styled--khalifa--baghdadi-is-to-call-him-a-jew-and-a-mossad-agent,-as-does-maulana-abul-irfan-firangi-mahli,-but-will-it-work?/d/99675

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/muslim-denial---مسلمانوں-کی-منفی-ذہنیت--خود-ساختہ-خلیفہ-بغدادی-سے-نمٹنے-کےلئے-اسے-ایک-یہودی-اور-موساد-کا-ایجنٹ-سمجھا-جائے،-بقول-مولانا-ابو-العرفان-فرنگی-محلی،-لیکن-کیا-یہ-طرز-فکر-کارگر-ہے؟/d/99706

 

Loading..

Loading..