New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 09:31 PM

Urdu Section ( 15 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

Muftis of Deoband Know Neither Islam nor Indian Customs دیوبند کے مفتیان کرام نہ تو اسلام جانتے ہیں اور نہ ہی ہندوستانی رسم رواج


سلطان شاہین، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

یہ پریشان کن ہے کہ دیوبند اسلامی احکامات کے مقابلے میں ہندوستانی رسم رواج کی زیادہ پرواہ کرتا ہے۔ دیو بند نے بیک وقت کئی شادیوں کی دلیل دینے والے اپنے پہلے کے ایک فتوی کو الٹ دیا ہے اور اب شریعت میں اجازت کے باوجود کہہ رہا ہے کہ دوسری / تیسری شادی سے گریز کرنا بہتر ہے، کیونکہ  عام طور پر ہندوستانی رسم رواج میں یہ قابل قبول نہیں ہے۔

دیوبند کے ہندوستانی رسم رواج کا احترام خوش آئند بات ہے۔

تاہم، موجودہ ہندوستانی رسم رواج داشتہ رکھنے کا ہے، اگر آپ یہ برداشت کر سکتے ہوں؛ میں کچھ لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے ملک کے تمام شہروں میں اپنی داشتا ئیں رکھ رکھی ہے جہاں وہ کاروبار کے سلسلے میں وقتاً فوقتاً دورہ کرتےرہتے ہیں۔ یہ ہندو قانون ہے جو کئی شادیوں سے روکتا ہے، لیکن یہ خواتین (بالواسطہ طور پر) کو کسی بھی حق کے بغیر داشتہ اور بچے کو  کوئی بھی خاندانی نام کے بغیر، ماں بننے کی اجازت دیتا ہے۔ ہندوستانی رسم رواج مسلم پرسنل لاء کو بیک وقت دو شادیاں یا کئی شادیوں کی اجازت دینے کے لئے ایک دلیل سے زیادہ کچھ نہیں ہے، جس میں دوسری عورت کو بھی کچھ حقوق حاصل ہوں گے۔

میرا ماننا ہے کہ اسلام میں بیک وقت کئی شادیوں کی اجازت عام حالات میں نہیں ہے۔ اس کی اجازت جنگ اور خواتین قیدیوں اور جنگ کے سبب بیوائوں کی بڑی تعداد سے نمٹنے کی ہنگامی صورتحال ،میں دی گئی تھی اور وہ بھی تمام معاملات میں تمام بیویوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کے سخت یا نانممکن شرائط کے تحت ۔

 لیکن، میرے خیال میں، ہندوستان میں رائج اینگلو محمڈن لاء بیک وقت کئی شادیوں کی اجازت دینے کے ساتھ ہی بیویوں کو اس معنی میں زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کراتا ہے کیوں کہ یہ مسلم مردوں کے لئے دوسری عورتوں کے ساتھ ایک حد سے آگے عشق کرنا مشکل بنادیتا ہے۔ اگر مرد ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ان کو ڈر ہوتا ہے کہ دوسری عورت ان سے شادی کرنے کا مطالبہ کرنے لگے گی اور ان کی دلیل ہوتی ہے کہ مسلم پرسنل لاء ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ دوسری جانب ایک ہندو عورت اس طرح کا مطالبہ نہیں کر سکتی ہے۔ اگر وہ کسی وجہ کی یا ضرورت  کے بناء پر  مرد کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، یہاں تک کہ کبھی کبھی پیار کے لئے بھی تو اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ داشتہ بننے کو قبول کر لے اور کئی خواتین ایسا کرتی بھی ہیں۔

بہر حال  دوسری یا تیسری یا چوتھی عورت کو بھی حقوق حاصل ہونے چاہئے۔ وہ بھی ایک عورت ہے۔ اور پہلی بیوی سے کسی بھی طرح کم تر نہیں ہے، جس کی شادی دونوں خاندانوں کے دبائو میں ہوئی ہو جیسا ہمارے یہاں اکثر ہوتاہے۔

مجھے معاف کریں اگر اس مسئلے پر  میری رائے کچھ غلط ہو جو  میرے کچھ ہندو دوستوں کی ذاتی معلومات پر مبنی ہے جن کی ہر جگہ داشتائیں ہیں اور ان خواتین کے ساتھ میری ہمدردی ہے۔ میں ان کے حالات کا موازنہ اس ایک مسلم خاندان سے نہیں کر سکتا ہوں جسے میں جانتا ہوں  جہاں ایک مسلمان حضرت  ہمیشہ چار بیویاں رکھنے پر اسرار کرتے ہیں اور کبھی بھی کچھ ماہ سے زیادہ جگہ خالی نہیں رکھتے ہیں۔

اگر میں دوبارہ کہوں تو میرا یقین ہے کہ اسلام ایک اصول کے طور پر بیک وقت کئی شادیوں کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ لیکن یہ کچھ حد تک ابہام ضرور چھوڑتا ہے، ترکیب کے لئے گنجائش چھوڑتا ہے، جو کہ  باقاعدہ ترتیب دئے گئے قانون کی صورت میں ناممکن ہوتا۔ قوانین سب پر لاگو ہونے کے لئے ہیں۔ شاید انسانی حدود اور مجبوریوں سے آگاہ، اسلام بڑے پیمانے پر غیر ذمہ دارانہ، غیر اعلان شدہ تعلقات کو ختم کرنے کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے، جو معاشرے کے لئے اور متعلقہ لوگوں کی صحت کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ شاید یہ عصمت فروشی کی برائی کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے جو تمام انسانی عمل میں سب سے زیادہ شرمناک ہے۔

لیکن بیک وقت کئی شادیاں  واضح طور پر اس کا جواب نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جن ملکوں میں کئی شادیاں کرنے کی اجازت ہے وہاں بھی قحبہ خانے ہیں۔ اور جہاں قحبہ خانے نہیں ہیں وہاں یہ عمل چھپ کر ہوتا ہے۔ ان کے مرد بیرون ملکوں میں جسے مضحکہ خیز طور پر  حلال عصمت کہا جاتا، خریدنے کے لئے جاتے ہیں۔

  میں کسی بھی طرح کثرت ازدواج کے لئے دلیل نہیں دے رہا ہوں، لیکن ہمیں اس طرح کے حساس مسئلہ پر کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل اس بات سے آگاہ ہونا ہوگا کہ  ایسے مسائل کے کئی پہلو ہیں۔ انسانی حالات میں وہ پیچیدگیاں ہوتی ہیں جن کا حل آسان نہیں ہے۔  ایک نئی پیچیدگی یہ پیدا ہو رہی ہے کہ بعض عرب عورتیں، صحافی اور دانشور،  یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ مردوں کی طرح عورتوں کو ایک سے زیادہ شادی کی اجازت ہونی چاہئے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانےمیں عورتوں کو ایک سے زیادہ شادی کی ممانعت اس لئے کی گئی تھی کہ اس صورت میں یہ جاننا ممکن نہیں تھا کے بچے کا والد کون ہے لیکن اب ڈی این اے ٹیسٹ کی ایجاد کے بعد یہ سورتحال بدل چکی ہے اس لئے عورتوں کو بھی کثرت ازدواج کی اجازت ہو نی چاہئے۔ اس طرح قوانین، چاہے وہ کتنے اچھے ہی کیوں نہ ہوں، ہر صورتحال کا خیال نہیں رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جن میں انسانیت ہو۔

ویسے بھی دیوبندی فتوی میں ایسا بہت کچھ نہیں ہوتا ہے جس کا نوٹس لیا جائے۔ اگر ہندوستانی  رسم رواج سے ان کا مطلب ہندوستانی قانون یا ہندوستان میں ایک عام سول سوسائٹی کے نقطہ نظر سے ہے، اور وہ اسی کا احترام کرنا چاہتے ہیں، جو قابل استقبال ہے۔ لیکن ہمارے ملاّ لوگ خواہ کسی بھی مکتبئہ فکر کے ہوں حقیقت میں نہ تو اسلام کو ،نہ ہی ہندوستانی رسم رواج اور نہ ہی اس کے مضمرات یا پیچیدگیوں کو ہی جانتے ہیں۔

ملاّ لوگ جیسے ہیں ہمیں انہیں ویسا رہنے دینا چاہئے اور ہمیں اپنا کام کرنا چاہئے۔ ہمیں ہمارے قوانین کو بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھنی چاہئے، اور  دنیا کے مختلف حصوں میں وقت وقت  پر ہمارے لئے خدا کی جانب سے آئی ہدایات سے  رہنمائی  حاصل کرنا چاہئے؛ لیکن ہمیں اس سے بھی واقف رہنا چاہئے کہ جب تک انسان محض انسان ہے، تب تک نہ تو  کامل قانون ہوگا اور نہ کامل معاشرہ ہوگا۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/from-the-desk-of-editor/sultan-shahin/deoband-muftis-neither-know-islam-nor-indian-customs/d/7066

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muftis-of-deoband-know-neither-islam-nor-indian-customs--دیوبند-کے-مفتیان-کرام-نہ-تو-اسلام-جانتے-ہیں-اور-نہ-ہی-ہندوستانی-رسم-رواج/d/7075

 

Loading..

Loading..