New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 03:49 AM

Urdu Section ( 8 March 2012, NewAgeIslam.Com)

Madrasa Education Is a Clear Violation of the Human Rights of the Children مدرسہ کی تعلیم بچوں کے انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے

مدرسہ کی تعلیم بچوں کے انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے": سلطان شاہین کا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کہ وہ مسلم ممالک کو انکے وعدوں اور اعلانیہ کا پابند بنائے

سلطان شاہین، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کونسل، 19واں اجلاس،  مارچ 2012،  جینیوا  27 فروری‑ 23  مارچ 2012

ایجنڈا آئٹم 3:  ترقی کرنے کے حق سمیت تمام حقوق شہری، سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کا فروغ

یونائیٹڈ اسکولوں انٹرنیشنل کی جانب سے  سلطان شاہین،  ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام کا تقریری  بیان

9 مارچ، 2012

محترمہ صدر صاحبہ،

تیسری سالانہ رپورٹ میں بچوں کے خلاف تشدد پر سکریٹری جنرل (جنرل اسمبلی کی قرارداد /19765کے مطابق 13 جنوری 2012 کو کونسل کو پیش کی  گئی)، کے خصوصی نمائندے نے  اراکین ممالک سے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ دینے کے اقدام کے اپنے وعدے میں تجدید کرنے کو کہا ہے۔

لیکن بہت سے ملکوں خاص طور سے مسلم اکثریت والے ممالک میں، ان وعدوں پر مبہم اور زبانی عمل ہو رہا ہے اور یہ عالمی برادری کے زور دار مطالبے پر  توجہ نہیں دے رہیں ہے۔ مثال کے طور پر دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان بچوں کو مدرسہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ اس کا ایک نمونہ ہے۔

عرب ممالک سے  جاری ہونے والے دونوں * اعلانیہ مراقش 2010 اور قاہرہ2009، رپورٹ میں فراہم کئے گئے ہیں،جو بچوں کے حقوق کے تحفظ کے بلند بانگ قراردادوں سے پرہں ۔ یہ امیر عرب ممالک ہیں جو کہ مسلم دنیا کے تمام حصوں میں چلنے والے  مدرسوں کولاکھوں روپیوں کی مدد کرتے ہیں۔مدرسہ کی  تعلیم، آج جس طرح اس پر عمل ہو رہا ہے وہ مساوات،، وقار اور معیاریی تعلیم کے بچوں کے انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ مالی مددکے ساتھ ساتھ ان مدارس کے لئے پیٹرو ڈالر کی دولت سے مالا مال عرب ممالک بنیادی نصاب اور نصابی کتابیں فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کی  درس و تدریس ایک انتہا پسندانہ مذہبی نقطہ نظر کے لئے بنیاد فراہم کرتا ہے جو ان بچوں کو  دوسرے طبقوں یہاں تک کہ دیگر مسلم فرقوں سے بات چیت کرنے سے دور رکھتا ہے اور اس طرح انہیں ایک عام زندگی کےبھی ممکنہ مواقع سے محروم رکھتا ہے۔

ان اسلامی مذہبی اسکولوں میں داخل ہونے والے بچے زیادہ تر انتہائی غریب خاندانوں سے آتے ہیں۔ انہیں ان کے قدرتی ماحول سے باہر کر دیا جاتا ہے جہاں رہ کر وہ کچھ ہنر سیکھ سکتے تھے جو ایک بالغ کے طور پر  ان کے وجود کے لئے ضروری ہوتا۔ مدارس میں کچھ نیم تعلیمی ملاؤں کے ذریعہ زبردستی اپنے خیالات منوائے جاتے ہیں اورمدرسہ  کی تعلیم کے لئے ایک بار عرب ممالک سے فنڈ حاصل کرنے کی ان کی افادیت پوری ہوئی نہیں کہ انہیں اپنی بقاء کے لئے ضروری کسی ہنر  یا ذرائع کے بغیر مدارس سے یوں ہی باہر نکال دیا جاتا ہے۔ امیر اور متوسط ​​طبقے کے مسلمان اپنے بچوں کو مدارس میں اس لئے نہیں بھیجنے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مستقبل میں یہ بچے بہت کم تنخواہ پر گائوں کی مساجد میں کام کرنے والے امام، یا موذن ہی بن سکتے ہیں۔ تاہم، کچھ ممالک میں، جیسے کہ پاکستان میں ان کو دوسرے مواقع  بھی دستیاب ہیں۔ وہ خودکش انسانی بموں میں تبدیل ہو سکتے ہیں،  جو ان کے غریب خاندانوں ے لئے مختصر مدّت کی خوشحالی لاتا ہے، لیکن یہ سب ان کی اپنی زندگی کھونے اور دوسرے مذاہب یا دیگر اسلامی فرقوں کے ماننے والے معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے۔

 مدرسہ کی تعلیم دہشت گردوں کے لئے آسان شکار بن گئی کیونکہ وہ ایسی تعلیم دیتےہیں جو نہ تو اس دنیا میں زندگی کی قدر کرتا ہے اور نہ ہی انہیں دوسرے مذاہب، تہذیبوں کا احترام سکھاتا ہے۔ بے شک، یہ ان کو مقدّس قرآن کی تمام آیات کی عالم گیر اہمیت کا تصور کرنا سکھاتی ہے، اگرچہ قرآن حالات  کے مطابق آیات کا تالیف ہے، جن میں سے کچھ ان مخصوص حالات کے لئے ہدایات فراہم کرنے کے لئے نازل ہوئیں تھیں۔

لیکن دنیا میں کہیں بھی مدرسے کا نصاب طالب علموں کو عالمگیر اور عارضی اہمیت کی آیات کے درمیان تمیز کرنا نہیں سکھاتا ہے، جیسے کے نبی کریم ﷺ کو جو دفاعی جنگیں لڑنی پڑیں اس دوران نازل ہوئی آیتیں۔ اور نہ ہی بقائے باہم کا قرآنی پیغام اس کی صحیح روح میں ان تک پہنچا۔

 میں اس لئے، کونسل سے درخواست کروں گا کہ وہ ایسے طریقہ کار تلاش کرے جو  ان ملکوں کو ان کے ذریعہ کئے گئےوعدوں اور  اعلانیہ پر عمل پیرا کرے تاکہ وہ بین الاقوامی رواداری  کاحصہ نظر آ سکیں۔ کونسل کو ڈربن اعلانیہ کے مقصد،  تہذیبوں کے درمیان بغیرکسی بھی امتیاز کے  تعلیم کے ذریعےمذاکرات، کا بھی اعادہ کرنا چاہئے۔ مسلم معاشروں میں تمام طالب علموں کو  اچھی معیاری تعلیم کی فراہمی ،عالمی امن اور  خوشحالی دونوں کے لئے سازگار ہوگا۔

کوئی بھی بچوں کے خلاف تشدد پر سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کی تیسری سالانہ رپورٹ کے نتیجہ سے غیر متفق نہیں ہو سکتا ہے جس کے مطابق، "ایک ایسی دنیا کے خواب کو یقینی بنانے کے لئے اس میں شامل تمام لوگوں کا تجدید عزم ضروری ہے جہاں بچے صرف بچے رہیں اور محفوظ طریقے سے رہ سکیں، کھیل سکیں اور اپنی صلاحیتوں کومکمل کو فروغ دے سکیں اور موجودتمام مواقع کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر سکیں۔ " وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری ایسے طریقہ کار کی تلاش کرے جواسلامی بادشاہتوں، جمہوریتوں اور مسلم اکثریت والے ممالک کو اس بات کا قائل کرےکہ انہیں، اپنے وعدوں کا پاس رکھنے اور اپنے بچوں کا خیال رکھنا  ضروری ہے۔ اگر وہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کا احترم نہیں کر سکتے ہیں جس کا کہ ان لوگوں نے  وعدہ کیا ہے، تو کم از کم انہیں قرآنی آیات میں موجود انسانی حقوق کے  متعلق  ہدایات پر غور کریں۔ اسلام حقوق العباد کو حقوق اللہ سے اوپر رکھتا ہے۔

* خصوصی نمائندے کی رپورٹ:  ‘بچوں کے خلاف تشدد پر اقوام متحدہ کے جائزےکی سفارشات کو پیروی کے عمل کے فریم ورک میں بچوں کے خلاف تشدد کی روک تھام اور اس سے نمٹنے کے لئے علاقائی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے کئے گئےسیاسی وعدے’  کے عنوان میں یہ بھی منسلک ہے۔ یہ عرب ممالک سے دو اعلانیہ کو پیش کرتا ہے۔

1 * ۔ چوتھے بچوں کے حقوق پر اعلی سطحی کانفرنس سے منظور مراقش اعلانیہ ، دسمبر 2010 ء

2 ۔ بچے کے حقوق اور اسلامی فقہ پر کنونشن پر قاہرہ اعلامیہ، نومبر 2009 ء

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/“madrasa-education-is-a-clear-violation-of-the-human-rights-of-children”--sultan-shahin-asks-unhrc-to-make-muslim-countries-stick-to-their-pious-declarations/d/6814

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/madrasa-education-is-a-clear-violation-of-the-human-rights-of-the-children--مدرسہ-کی-تعلیم-بچوں-کے-انسانی-حقوق-کی-واضح-خلاف-ورزی-ہے/d/6817

 

Loading..

Loading..