New Age Islam
Wed Dec 01 2021, 08:20 AM

Urdu Section ( 29 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam and Hinduism: Spiritual Symbiosis – Part - 1 اسلام اور ہندو مت: دو عظیم روحانی مذاہب- حصہ اول

 

 

سلطان شاہین، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

09 اگست، 2014

تقریبا 14 صدیوں سے اسلام اور ہندو مت جیسے دو عظیم پر امن اور روحانی مذاہب ہندوستان میں زندہ و تابندہ مذاہب کی شکل میں موجود ہیں۔ پہلی 13 صدیوں تک یہ دونوں مذاہب اچھے پڑوسیوں کی طرح قائم رہے اور ان کے درمیان باہمی اختلاف و انتشار کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔ اس لیے کہ ویدوں کی تعلیمات یہ تھیں: "اپنے پڑوسی سے محبت کرو اس لیے کہ وہ تم ہو"۔ جس کی تائید و توثیق قرآن نے اس انداز میں کی:"اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے" (النساء 4:36)۔

لیکن 20ویں صدی میں سب کچھ بدل گیا۔ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی برطانوی استعماری پالیسیوں اور استعماری حکومت سے آزادی کے وقت ملک کی تقسیم اور ان دونوں برادریوں کی جانب سے ناقابل تصور ظلم و تشدد کی ہنگامی صورت حال کے نتیجے میں ملک بھر میں انتشار اور افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔

پہلے سے ہی متاثر مشرقی، مغربی اور شمالی ہندوستان کے علاوہ یہ تباہ کن رجحان دیہی علاقوں کے غیر متاثر طبقوں اور جنوبی ہندوستان میں اب بھی پھیل رہا ہے۔ جب تک ہم ان مشترکہ روحانی اقدار کی بازیافت نہیں کر لیتے جن کی وجہ سے یہ دونوں مذہبی برادریاں اتنے لمبے عرصے تک مکمل امن اور ہم آہنگی کے ساتھ ہندوستانی معاشرے میں موجود تھیں، اس بات کے غالب امکانات ہیں کہ ہم 21ویں صدی کو بھی افراتفری اور اختلاف و انتشار کے ہاتھوں کھو دیں۔

جیسا کہ اکثر قارئین ہندومت کی معنویت، گہرائی و گیرائی اور مجموعی نقطہ نظر سے کافی اچھی طرح واقف ہیں۔ لہٰذا میں اسلامی نقطہ نظر سے ان دونوں عظیم مذاہب کے درمیان مشترکہ روحانی اقدار کی بازیافت کو اپنی تحریر کا عنوان بناؤں گا۔ میرا ماننا ہے کہ یہی وہ مشترکہ روحانی اقدار ہیں کہ جن کی بناپر غزنیوں ، غوریوں ، اور برطانوی طاقتوں کے باوجود، جو کہ 'پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی کے لیے جانے جاتے تھے' اتنے لمبے عرصے تک ان دونوں مذہبی برادریوں کے درمیان پر امن اور ہم آہنگ تعلقات برقرار رہے۔

دیگر مذاہب سے اسلام کا سامنا انتہائی پر تشدد انداز میں ہوا تھا۔ ان صلیبی جنگوں کی تاریخ بہت مشہور ہے جو عیسائی طاقتوں نے شروع کی تھی۔ ہندومت ہی ایک ایسا واھد مذہب تھا جس نے اسلام کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے لیے ایک زرخیز زمین فراہم کیا جبکہ خود مقامی مذہب بدھ مت کو بھی ہندومت نے کئی صدیوں تک اس سے محروم رکھا۔ ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کا رویہ بھی خوشگوار تھا اور مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ اسلامی تعلیمات پر مبنی لکم دینکم و لی دین (تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین، قرآن -109:5) کا سلوک کیا۔ چونکہ ہندو مشرک اور بت پرست کے طور پر جانے جاتےتھے لہٰذا مسلمان ان کے ساتھ کفار اور مشرکین کے جیسا برتاؤ کر سکتے تھے۔ لیکن اس کے بجائے 711ء میں سندھ اور ملتان کا سب سے پہلا مسلم فاتح محمد بن قاسم نے انہیں اہل کتاب (وہ لوگ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے بنیوں کے ذریعہ لائی گئی آسمانی کتابوں پر عمل پیرا ہیں) کاخاص درجہ دیا جو کہ اس سے پہلے صرف عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے خاص مانا جاتا تھا۔ یہاں تک ہندوستان پر حملہ کرنے اور لوٹ مار مچانے والے وسطی ایشیائی ڈاکو بھی مسلم اور ہندوؤں کے درمیان پروان چڑھتے ہوئے ان روحانی روابط کو متاثر نہ کر سکے۔ ایک بڑی تعداد میں صوفیوں اور سنتوں نے اسلام کے پیغام کو عام کرتے ہوئے ہندوستان میں اپنی زندگیاں بتائی ہیں جس کا مطلب مکمل امن و سکون ہے جو کہ اللہ کی کامل اطاعت سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہندوستان سے لگاؤ تھا۔

برصغیر کے ممتاز شاعر اور فلسفی علامہ اقبال نے لکھا ہے؛

میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے ،

میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے۔

اہل کتاب کے طور پر ہندوؤں کی پہچان

اس سلسلے میں کچھ تو ایسا قدیم روحانی ربط رہا ہوگا۔ اس لیے کہ صرف مسلم علماء کرام نے یہ دریافت کیا ہے کہ ہندومت واقعی اہل کتاب کا وہ چوتھا سب سے بڑا گروپ ہے جس کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے۔ چند پراسرار وجوہات کی بنا پرقرآن میں یہ سوال مبہم ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔ قرآن میں "سابعین" نامی ایک بہت بڑی امت کا ذکر ملتا ہے جس میں ایک نبی کو آسمانی کتاب دیکر مبعوث کیا گیا تھا۔ قرآن میں حضرت ابراہیم، موسی، عیسی علیہم السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی ہم رتبہ ایک عظیم نبی حضرت نوح علیہ السلام کا بھی ذکر ہے۔ لیکن حضرت نوح علیہ السلام کے پیروکار کون لوگ تھے یہ قرآن میں واضح نہیں کیا گیا ہے۔

چوتھی سب سے بڑی اہل کتاب قوم کی دریافت میں دقت نظر کے ساتھ تحقیق و تفتیش کا کام جاری ہے۔ اور اس سلسلے میں حضرت شاہ ولی اللہ، مولانا سلیمان ندوی اور مولانا عبید اللہ سندھی سے لیکر اتر پردیش کے ایک معاصر عالم دین مولانا شمس ندوی عثمانی تک ایک بڑی تعداد میں برصغیر کے علماء کرام کا تعاون بھی شامل ہے۔ لیکن اب یہ امر واضح ہو چکا ہے کہ ہندو قوم یقینا نوح علیہ السلام کی کھوئی ہوئی امت ہے جو انہیں مہا نوو کے نام سے جانتے ہیں۔ اس تحقیق میں مرکندیہ پوران، مختلف وید، اور 'جل پرلے' (سیلاب کی وجہ سے تباہی، جیسا کہ اس کا ذکر طوفان نوح کی کہانیوں میں بائبل اور قرآن میں ہے) کا واقعہ اہم معاون ثابت ہوا۔

تاہم یہ جاننے کے لیے کہ یقینا ہندو ایک بڑی اہل کتاب قوم ہے مندرجہ بالا تحقیق کی صداقت اور قطعیت کو کسی کو قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن مجید کے مطابق اس دنیا میں ایک بھی قوم ایسی نہیں ہے کہ جن میں رسول نہ بھیجا گیا ہو: "اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے والا نہ گزرا ہو"(35:24)۔

"اور ہر امت کے لیے ایک رسول ہے" (10:47)۔

"تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر ہم نے بھیجے سبھی مرد تھے جن کی طرف ہم وحی اتارتے تھے" (21: 7)۔

مزید ہمیں یہ بھی بتا یا گیا  ہے کہ قرآن پاک میں مذکور نبیوں کے علاوہ بھی دوسرے انبیاء ہیں جنہیں دوسری قوموں میں مبعوث کیا گیا تھا: "اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کئے ہیں اور بہت سے رسولوں کے نہیں بھی کئے" (4:164)۔

در اصل اس کا ذکر ایک مشہور حدیث میں بھی ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً 000،124ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے جبکہ قرآن مجید میں ان میں سے صرف پچیس انبیاء کا ہی ذکر جن میں سے کئی کا تعلق نبی اسرائیل سے ہے۔ ہود اور صالح (علیہم السلام) عرب میں تشریف لائے، لقمان (علیہ السلام)ایتھوپیا میں تشریف لائے، موسی (علیہ السلام) کے ایک معاصر پیغمبر (جنہیں عام طور پر خضر کے نام سے جانا جاتا ہے) سوڈان میں تشریف لائے، ذوالقرنین (دارا اول، وہ بھی ایک بادشاہ تھے) کی آمد فارس میں ہوئی؛ جن میں سے ہر ایک عمومیتِ نبوت کی اصول کے مطابق ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ اور چونکہ قرآن کا صاف بیان ہے کہ تمام قوموں میں نبیوں کو مبعوث کیا گیا ہے جبکہ قرآن میں تمام انبیاء کے ناموں کا ذکر نہیں ہے جو کہ در اصل غیر ضروری اور غیر ممکن بھی ہے۔ لہٰذا زبان و بیان کی اصطلاحات اور الفاظ سے قطع نظر ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان شخصیات کو انبیاء کی حیثیت سے قبول کرے جنہیں دوسرے مذاہب نے ہادی اور نبی تسلیم کیا ہے۔

تاہم، قرآن نے نہ صرف یہ کہ یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ ہر قوم میں نبیوں کو مبعوث کیا گیا ہے بلکہ ان تمام انبیاء پر ایمان لانا تمام مسلمانوں کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ بالکل ابتداء میں ہی ہمیں بتا دیا گیا ہے کہ "اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لاے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیئے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں (2:136)"۔ قرآن کی آیت میں لفظ "انبیاء" سے واضح طور پر دوسرے قوموں کے انبیاء مراد ہیں۔

مختلف سیاق و سباق کے تحت قرآن بار بار مسلمانوں کے بارے میں یہ کہتا کہ یہ صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی ایمان نہیں رکھتے بلکہ خدا کے تمام نبیوں کو مانتے ہیں:

"حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو(2:177)"۔

اسی سورت میں ایک اور مقام پر اللہ کا فرمان ہے: " رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے۔ (2:285)

(جاری۔۔۔۔۔۔)

بشکریہ: ایشیا ٹائمز آن لائن اور دی ٹائمز آف انڈیا۔ اس مضمون کا مکمل متن سب سے پہلے دسمبر 2003میں ایشیا ٹائمز آن لائن میں شائع کیا گیا تھا۔ اس تحریر کا ایک مختصر خلاصہ دی ٹائمز آف انڈیا میں بھی شائع ہوا تھا۔

URL for English article:

 http://newageislam.com/islam-and-pluralism/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/islam-and-hinduism--spiritual-symbiosis---part-1/d/98486

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/islam-and-hinduism--spiritual-symbiosis-–-part---1--اسلام-اور-ہندو-مت--دو-عظیم-روحانی-مذاہب--حصہ-اول/d/98806

 

Loading..

Loading..