New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 04:22 AM

Urdu Section ( 29 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

The Roots of Terrorism دہشت گردی کی جڑیں

 

سلطان محمود

18 مارچ 2013

(انگریزی سے ترجمہ ، نیو ایج اسلام )

گلوبل ٹیرورزم  ڈیٹا بیس کے سرسری جائزہ  سے پتہ چلتا ہے کہ پوری دنیا میں گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی سے سب سے زیادہ اموات پاکستان میں ہوئی  ہیں ۔

در اصل دہشت گردی کے مشترکہ واقعات میں مرنے والوں کی تعداد یورپ اور شمالی امریکہ دونوں میں زیادہ ہے۔ لہذا دہشت گردی کی سمجھ، اس کی تحریک ، اس کے اسباب، اس کے بڑھنے اور گھٹنے کے وجوہات پاکستان کے لئے  انتہائی اہمیت کےحامل ہیں۔

بدقسمتی سے، پاکستان میں پالیسی ساز، ارباب علم و ادب اور سیاست دان تیزی سے قیاس آرائی پر انحصار کرتے ہیں اور صرف یہی اس خطرے  سے نمٹنے کے لئے انکی آخری تدبیر ہے۔ اس مضمون کا مقصد اس تصور کو زائل کرنا ہے کہ صرف تعلیم اور اقتصادی ترقی میں اصلاحات ہی دہشت گردی کی سطح کو کم کر سکتی  ہیں۔

انتہائی  یقینی طور پر، تعلیم اور ترقی کی پالیسیوں کو ان کے اپنے حق میں اپنا یا جانا  چاہئے، لیکن یہ توقع رکھنا کہ یہ پالیسیاں دہشت گردی کو  کم کر دیں گی  خالص اٹکل پر مبنی ہے۔ بے شمار مطالعات دہشت گردی کی "روایتی حکمت" کے نقطہ نظر کے خلاف جاتے ہیں ۔ کہانی یہ ہے کہ وہ لوگ جو غریب، نوجوان، ناخواندہ ہیں اور جن کی  منفی  ذہن سازی کی گئی ہے اور جن کے پاس زندگی گزارنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں ۔ در اصل حقیقت سے بڑھ کر  کوئی بھی چیز نہیں ہو سکتی۔

جرم کو بے روزگاری کے ساتھ جوڑتے ہوئے  اور پر مقصد  سزا ؤں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے  گیری بیکر نے معاشیات میں نوبل انعام جیتا تھا۔ انہوں نے ظاہر کیا کہ  جرائم پیشہ افراد پکڑے جانے کے امکانات اور ممکن سزا کی شدت کے باجود "عقلمندی کے ساتھ  " جرائم کے ارتکاب کا فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ مزید اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ  اعلی بے روزگاری اور غربت کی شرح جرائم کی اعلیٰ  شرح سے بہت قریب ہے۔

لہذا دہشت گردی کے مطالعہ میں اس بات کا مطالعہ  فطری ہےکہ  کیا اعلی سطح کی غربت   نے دہشت گردی کی سطح میں اضافہ کیا ہے ۔ اس نظریہ کو  عالمی رہنماؤں اور ماہرین تعلیم کے ذریعہ افشاں کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر، سابق امریکی صدر جارج بش کا کہنا تھا: " ہم غربت کے خلاف لڑ رہے ہیں  اس لئے کہ امید ہے کہ یہ دہشت گردی کا جواب ہو ۔"

اسی طرح، ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ  کی جیسکا سٹرن نے یہ کہا : "(امریکہ) ریاستوں کی تنزلی  کو اب  برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔ نئے اسامہ عروج حاصل کرتےرہیں گے ۔" ان خیالات کا اظہار  بل کلنٹن، اردن کے شاہ عبداللہ کلیسا کے پادری اور ٹونی بلیئر جیسے لوگوں نے بھی  کیا ہے ۔

بہر حال، بہت سے ارباب علم و ادب  کی مایوسی کے  لئے،غربت اور (مادی) جرم کے درمیان سادہ مثبت تعلق کو  غربت اور دہشت گردی کے درمیان ایک مثبت ڈھانچا جاتی  تعلق پرقیاس نہیں کیا جا سکا۔

ایک بھی مطالعہ اس بات کو مستحکم نہیں کر سکا کہ دہشت گردی کی اقتصادی جڑیں تھیں ۔ ثبوت کی یہ کمی کے او ایف  سوئس اقتصادی انسٹی ٹیوٹ کے مارٹن گیسیبنر  اور سائمن لیوچنجر   کے ذریعہ  ادب کے ایک حالیہ جائزے میں منتج ہوئی۔

مصنفین نے 4 .13 ملین مختلف مساوات کا اندازہ 43 مختلف جائزوں اور دہشت گردی کے 65 لوازمات   کی بنیاد  پر یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے پیش  کئے ہیں  کہ اعلی سطح کی غربت اور ناخواندگی عظیم دہشت گردی کے ساتھ منسلک نہیں ہیں ۔ در اصل، صرف شہری آزادیوں میں کمی اور آبادی میں اضافہ درست طریقے سے دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی  سطح کی پیشن گوئی کر سکتا ہے۔

تو کیا پاکستان کے ساتھ بھی یہی رشتہ ہے ؟ لگتا ہے کہ معاملہ ایسا ہی ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے کرسٹین فیئر نے پاکستان کے ایک ایسے ہی  رجحان کے دستاویز تیار کئے ہیں۔ 141 ہلاک کئے گئے عسکریت پسندوں  کی تفصیلات  کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندمتوسط  طبقے اور اچھی طرح تعلیم یافتہ خاندانوں سے بھرتی کئے گئے ہیں ۔ اس کی مزید تصدیق پرنسٹن یونیورسٹی کے گریم بلیئر اور دوسروں کے ذریعہ کی گئی ہے۔

انہون نے بھی دہشت گردی کی بڑی حمایت کی بنیاد پاکستان میں ان لوگوں کو پایا ہے جو نسبتا امیر ہیں ۔ پاکستان بھر میں چھ ہزار  افراد پر مشتمل  ایک مضبوط سروے میں یہ پایا گیا  ہے کہ در اصل غریب متوسط طبقے کے شہریوں کے مقابلے میں  انتہا پسند تشدد کے 23 گنا زیادہ خلاف ہیں۔

خود میرا کام بھی اسی طرح کے ایک نتیجے تک پہنچتا ہے۔ گرینجر کاؤزیلیٹی کے اقتصادی  نظریہ کو استعمال کرتے ہوئے  اور پاکستان میں 1973سے 2010 تک کی تفاصیل کو بنیاد بناتے ہوئے ، میں دہشت گردی سے جی ڈی پی ، سرمایہ کاری اور برآمدات تک ایک یک طرفہ  حادثاتی  دستاویز تیار کرتا ہوں۔

نتائج اس بات کی طرف  اشارہ کرتے ہیں  کہ دہشت گردی کے بڑے واقعات سے  جی ڈی پی، سرمایہ کاری اور برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، اعلی مجموعی ملکی پیداوار، برآمدات اور سرمایہ کاری نے دہشت گردی کو کم نہیں کیا۔

سب سے آخری   میں: جب معیشت کی  کار کردگی اچھی نہیں تھی  تو دہشت گردی میں اضافہ نہیں ہو  اور اس کا بر عکس ۔

موجودہ تناظر میں گرینجر کاؤزیلیٹی ٹسٹ یہ بتاتی ہے کہ سب سے پہلے مسلسل کیا ہوتا ہے یعنی کیا بڑی آمدنی مستقبل میں دہشت گردی کو کم کر سکتی ہے، اور کیا  اس کے بجائے اعلیٰ دہشت گردی مستقبل میں آمدنی میں کمی کر رہی  ہے اور اس کا برعکس ؟

ایسا لگتا ہے کہ پرنسٹن یونیورسٹی سے ایلن ئدنسوگر کے پاس اس "انسداد بدیہی" رجحان کی کوئی  وضاحت ہے۔ وسیع پیمانے پر مائیکرو اور میکرو سطح کی تفصیلات  کا تجزیہ کرنے کے بعد، انہوں نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا کہ در حقیقت دہشت گرد نسبتا زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور امیر خاندانوں سے شامل  کئے گئے ہیں۔

لیکن وہ ڈیٹا میں کسی اور نظیر کا مشاہدہ کرتے ہیں: سیاسی ظلم و ستم اور  اور دہشت گردی کے بڑے  واقعات کے درمیان ایک منظم تعلق۔

انہوں نے دہشت گردی کو ووٹنگ کے رویے سے متعلق کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دہشت گردی ایک "سیاسی رجحان ہے، اقتصادی نہیں " ۔ انہوں نے اس تفصیل کے ذریعہ اپنے نتائج کا دفاع کیا ہے کہ  سیاسی مسائل میں ملوث ہونے کے لئے ان مسائل کے بارے کچھ افہام و تفہیم کی ضرورت ہوتی ہے، اور ان مسائل کے بارے میں  سیکھنا ان لوگوں  کے لئے ایک سستی کوشش جو بہتر تعلیم  یافتہ ہیں۔

جس طرح زیادہ تعلیم یافتہ کو ووٹ ڈالنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اسی طرح انہیں سیاسی طور پر دہشت گردی کے ذریعے خود کو ظاہر کرنے  کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ لہذا، سیاسی جبر و تشدد  لوگوں کو دہشت گردی کی طرف لے جاتا ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ دہشت گردی کے اسباب کیا ہیں ، کسی کو یہ  پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کتنی آبادی ناخواندہ یا غربت کاشکار ہے۔ بلکہ یہ پوچھنا چاہئےکہ دہشت گردی کے ذریعے خود کو  مسلط کرنے کے انتہائی  مضبوط سیاسی نظریہ کا حامل کون ہے ۔

مسئلہ ایسا نہیں ہے کہ دہشت گردوں کے پاس جینے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ ا سکے بجائے وہ  اعلی صلاحیت کے مالک اور تعلیم یافتہ سیاسی لوگ ہیں جو ایک مقصد پر اس سختی کے ساتھ یقین کرتے ہیں  کہ وہ اس کے لئے مرنے کو بھی تیار ہیں۔ دہشت گردی کا حل زیادہ ترقی نہیں بلکہ  زیادہ آزادی ہے۔

سلطان محمود میکرو اکنامک پالیسی پر ڈچ حکومت کے مشیر ہیں۔ ان کی تحقیق دہشت گردی کے محرکات کو شامل ہے۔

ماخذ:

http://dawn.com/2013/03/18/the-roots-of-terrorism-2/

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/sultan-mehmood/the-roots-of-terrorism/d/10819

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/sultan-mehmood,tr-new-age-islam-سلطان-محمود/the-roots-of-terrorism--دہشت-گردی-کی-جڑیں/d/12813

 

Loading..

Loading..