نیو ایج اسلام اسٹاف رائیٹر
1 مارچ 2025
رمضان کی آمد سے قبل کے جمعے کو پاکستان کے دہشت گردوں نے اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شدت لانے کا اشارہ دے دیا ہے۔ چونکہ یہ دہشت گرد تنظیمیں تکفیری نظریات میں یقین رکھتی ہیں اس لئے یہ اپنے سوا دوسرے تمام مکتب فکر کے مسلمانوں کو کافر اور واجب القتل اور ان کے قتل کو کارثواب قراردیتی ہیں۔ چونکہ رمضان کے مہینے میں نیکی کاثواب کئی گنا زیادہ ہوتا ہے اس لئے یہ دہشت گرد تنظیمیں زیادہ ثواب کے لئے رمضان میں قتل اور تشد کی سرگرمیوں میں شدت لے آتی ہیں ۔اسی عقیدے کے تحت جمعہ کے روز پاکستان کے خیبر پختونخوا کے اکوڑہ خٹک میں واقع مدرسے دارالعلوم حقانیہ کی مسجد میں نماز کے دوران ایک خودکش دھماکہ ہوا جس میں دارالعلوم کے سربراہ اور مسجد کے امام حامدالحق سمیت چھ نمازی ہلاک اور بیس سے زائد نمازی زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں کانشانہ حامدالحق تھے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان میں کسی عالم۔دین یا کسی مذہبی شخصیت کو دہشت گردوں نے ہلاک کیا ہے۔ یہ فہرست بہت لمبی ہے۔ دراصل ان معلموں اور مفتیوں نے ہی پاکستان میں تکفیری نظرئیے کو فروغ دیا ہے اور دوسرے مکتب فکر اور مسلکوں کے پیروکاروں حتی کے عالموں کے خلاف کفر کے فتوے جاری کئے ہیں اور دوسروں کو اپنے شاگردوں کے ہاتھوں قتل کروایا ہے۔لہذا ، خود بھی دوسرے مفتیوں کے شگردوں کے ہاتھوں ہلاک ہوتے ہیں۔
دارالعلوم حقانیہ طالبان کی نرسری کہلاتا ہے جہاں طالبان کے لیڈر ملا عمر طلبہ کو دہشت گردی کی تعلیم وتربیت دیتے تھے۔ اس ادارے کو یونیورسٹی آف جہاد بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کی وزیراعظم۔بے نظیر بھٹو کے قتل میں اسی مدرسے کے طلبہ کےملؤث ہونے کا الزام ہے اگرچہ دارالعلوم اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔ ۔ مولانا حامدالحق جمعیت علماء اسلام (سمیع) کےبھی سربراہ تھے جو جمعیت علماء اسلام (فضل ) کا حریف ہے۔ مولانا فضل الرحمن دوسرے گروپ کے سربراہ ہیں۔ حامدالحق نیشنل اسمبلی کے 2002 سے 2007ء تک ممبربھی رہے۔ اس طرح ان کی ایک سیاسی پہچان بھی ہے اور اس لحاظ سے وہ سیاسی مؤقف بھی رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ اہک اہسے دینی ادارے کے سربراہ ہیں جو افغان طالبان سے وابستہ ہے اس لئے دارالعلوم اور ان کے سربراہ کو پاکستان کی طالبان مخالف تنظیمیں طالبان کا حامی مانتی ہیں۔ اس لئے تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان کے طالبان سے رشتے خراب ہونے پر حامدالحق ان تنظیموں کے نشانے پر تھے۔ اس سے پہلےفضل الرحمن کے جمیعت علما پاکستان کے خلاف بھی داعش خراسان حملے کرچکا ہے۔2023ء میں جمیعت علماء پاکستان فضل گروپ کی الیکشن ریلی پر داعش خراسان نے خودکش حملہ کرکے 55 افراد کو ہلاک اور 200 سے زائد افراد کو زخمی کردیا تھا۔ 2022ء میں داعش خراسان نے جمیعت علما اسلام فضل الرحمن گروپ کے لیڈروں کے خلاف قتل کا فتوی جاری کیا تھا کیونکہ جے یو آئی پارلیمانی جمہوریت میں یقین رکھتی ہے ۔ اسی کے بعد جے یو آئی ایف کے لیڈروں پر داعش کے حملے شروع ہوگئے۔ داعش کے زیادہ تر حملے خیبر پختونخوا میں ہی ہوئے ہیں اور یہ حملہ بھی خیبر میں ہوا ہے ۔چونکہ جے یو آئی ایس بھی پارلیمانی جمہوریت میں یقین رکھتی ہے اور خود مولانا حامدالحق نیشنل اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں اس لئے ٹی وی چینل الجزیرہ اس حملے کے پیچھے بھی داعش خراسان کا ہاتھ مانتا ہے اگرچہ کسی تنظیم نے ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان بھی پارلیمانی جمہوریت میں یقین نہیں رکھتی اور وہ بھی خیبر پختونخوا میں مضبوط حالت میں ہے اس لئے قیاس ہے کہ وہ بھی اس حملے میں ملؤث ہوسکتی ہے۔
بہرحال ، مولانا حامدالحق کا قتل پاکستان کے علماء کے تکفیری نظریات کا ہی شاخسانہ ہے۔ اب تک یہ علماء قتل فتوی جاری کرکے عام مسلمانوں کا قتل کرواتے تھے اب مدرسے کے طلبہ خود انہیں کافر سمجھ کر قتل کررہے ہیں۔ شاید اب بھی پاکستان کے علما اورمفتیان اپنے تکفیری نظریات سے باز آجائیں ورنہ اس رمضان میں اگلا نمبر ان کا ہوسکتا ہے۔
-----------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/suicide-attack-pakistan-mosque-ramadhan-/d/134753
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism