New Age Islam
Tue Jan 18 2022, 09:34 AM

Urdu Section ( 13 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Importance of Serving the Guests in Islam اسلام میں مہمان نوازی کی اہمیت و ٖفضیلت

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

13 جنوری،2022

دنیا کے تمام قدیم و جدید معاشروں میں مہمان نوازی کو کافی اہمیت دی گئی ہے۔ مہمانوں کا گرم جوشی سے استقبال کرنا ، ان کے قیام و طعام اور انکے آرام کا خیال رکھنا میزبان کا اہم فریضہ قراردیاگیاہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں مہمانکے ساتھ حسن  سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ ہندو مذہب میں تو مہمان کو خدا کا روپ کہاگیاہے۔ اتتیتھی دیو بھوا (مہمان بھگوان ہوتاہے )۔

تویرت اور انجیل میں بھی مہمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی اچھی طرح خاطر تواضع کرنے کا حکم دیاگیاہے۔انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نےکسی اجنبی کا ستقبال کیا اس نے گویا میرا استقبال کیا۔

قرآن میں حضرت ابراہیم اور فرشتوں کا واقعہ بیان کیاگیاہے ۔ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو تباہ کرنے سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس انسانی شکل میں آئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرشتوں کا مہمان سمجھ کران کا استقبال کیا اور ان کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے۔

ـ’’بے شک ہمارے پیغامبرابراہیم کے پاس خوش خبری لاے۔ اور ان کو سلام کیا۔ ابراہیم نے بھی سلام کا جواب دیا اورفوراً ان کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے۔‘‘(ہود:۶۹)

 اس واقعے سے بھی یہ ظاہر ہوتاہے کہ اسلام سے قبل کے مذاہب میں بھی مہمانوں کے استقبال اور ان کی ضیافت کو مذہبی فریضہ سمجھا جاتاتھا۔

حدیثوں میں بھی مہنان نوازی کو ایک اہم ملی فریضہ قراردیاگیا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی موقعوں پرمہمانوں کے استقبال اور ان کی خدمت کرنے کی تلقین کی ہے۔ صحیح بحاری کی ایک حدیث  یوں ہے :

ابوہریرہ رض نے روایت کی کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتاہو وہ اپنے مہمان کی خاطرداری کرے اور جو شخص اللہ  اور قیامت  پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ناطہ والوں سے سلوک کرے اور جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتاہو وہ منہ سے نیک بات نکالے یا خاموش رہے۔ (باب ۶۳۷ اکرام الضیف ۱۰۷۱)

حدیث کے مطابق مہمان کی ایک دن رات کی خاطرداری لازم ہے اور تین دن کی مہمان نوازی افضل ہے اس کے بعد صدقہ ہے ۔ ایک حدیث ہے :

’’ہم سے عبداللہ  بن یوسف نے بیان کیا کہا اہہم کو امام مالک نے خبر دی  انہوں نے سعدی بن مقری  سے انہوں نے ابو شریح کعبی سے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالی  اور قیامت پر ایمان رکھتاہو اس کو اپنے مہمنا کی خاطر داری کرنا ضرور ہے  ایک دن رات تو مہمانی لازم ہے  اور تین دن  تک افضل ہے  اس کے بعد  صدقہ ہے ۔ مہمان کو بھی نہین چاہئے  کہ میزبان پا س پڑا رہے ۔ اس کو تنگ کرڈالے۔ (باب ۶۳۷ اکرام الضیف ۱۰۶۷)

مہمان کے لئے نفل روزہ توڑ ڈالنا

ایک حدیث میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ مہمان کے لئے میزبان کو نفل روزہ بھی توڑدینا چاہئے کیونکہ مہمان کا حق میزبان پر مقدم ہے۔

صحیح بحاری کی ایک حدیث اس ضمن میں یوں ہے:

’’ہم سےے محمد بن بشار نے بیان کیاکہا کہ ہم سے جعفر بن عون  نے کہا ہم سے ابو العمیس نے انہوں نے  عون بن ابی جحیفہ  سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے کہا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی  اور ابوالدردا کو بھائی بھائی بنا دیاتھا تو سلمان  ابوالدردا کی ملاقات کو گئے  کیا دیھکتے ہیں کہ ان کی بی بی ام دردا میلے کچیلے کپڑے پہنے ہیں ۔ سلمان نے پوچھا  کیوں (بھاوج) کیا حال ہے انہوں نے کہا تہمارے بھائی  ابوالدردا میں دنیا داری نہیں رہی۔ اتنے میں ابوالدردا آئے انہوں نے سلمان کے لئے کھانا تیارکیا اور ان سے کہنے لگے تم کھاؤ میں تو روزےسے ہوں۔ سلمان نے کہا  مین تو نہیں کھانے کا جب تک تم نہیں کھانے کے۔ابوالدردا نے (روزہ توڑ ڈالا) سلمان کے ساتھ کھانا کھالیا۔ جب رات ہوئی تو ابوالدردا  (تہجد کے لئے ) اٹھنے لگے۔ سلمان نے کہا ابھی سوجاؤ وہ سورہے، پھر اٹنے لگے۔ توسلمان نے کہا ابھی سوجاؤ۔ وہ سورہے۔ جب اخٰر رات ہوئی  تو سلمان نے کہا اب اٹھو۔ خیر دونوں نے تہجد کی نماز پڑھی پر سلمان نے ابولدردا سے کہا (بھائی صاحب) تمہارے پروردگار کا تم پر حق ہے اور تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری  جورو کا بھی تم پر حق ہے تو ہرایک کا حق والے کا حق  ادا کرو۔  ابوالدردا یہ سن کر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلیم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا سلمان سچ کہتاہے  ابوجحیفہ کا نام وہب سوائی ہے ان کو وہب الخیر بھی کہتے ہیں ۔(باب ۶۳۸۔۱۰۷۲ صحیح بخاری)

مہمان نوازی کے آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ میزبان یا گھر کے لوگ مہمان کی موجودگی میں تلخ کلامی نہ کریں ۔اور جب مہمان رخصت ہونے لگے تو اسے دروزاے تک چھوڑنے کے لئے جائے ۔ مہمان کے پیچھے دروازے کو زور سے بند نہ کرے۔

مختصر یہ کہ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام میں بھی مہمان نوازی کو کافی اہمیت دی گئی ہے اور مہمان نوازی کو رحمت و برکت کا باعث خیال کیاجاتاہے۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/importance-guests-islam/d/126155

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..