New Age Islam
Thu Sep 16 2021, 11:02 AM

Urdu Section ( 11 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Truth behind Taliban's Fatwa Justifying Killings of Innocent Civilians Part-10 نوائے افغان جہاد فتویٰ اور اسکی حقیقت ۔(قسط10..

 

معصوم شہریوں پر دہشت گردانہ کارروائیوں کو جائز ٹھہرانے کی مذموم کوشش

سہیل ارشد ،نیو ایج اسلام

12 جنوری،  2013

اپنے مضمون کی ساتویں قسط میں یوسف العبیری نے سیدھے سیدھے تخریب کارانہ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کو ہی اسلامی شریعت کی روسے جائز ٹھہرانے کی کوشش  کی ہے جو انتہائی مذموم عمل ہے اور اسلام کے شبیہ کو بگاڑنے کی ایک اور نا پسندیدہ کوشش ہے۔

پچھلے اقساط میں تو العبیری  نے ان عورتوں او ربچوں کو  واجب القتل قرار دینے کی کوشش کی تھی  جو کسی بھی طرح دشمن کی اعانت کرتے ہیں  مثلاً جاسوسی کر کے یا مالی  اعانت کر کے یا مشورہ دے کر اور اس سلسلے میں احادیث مبارکہ اور علما ء کے اقوال کی غلط تعبیر  و تشریح کرکے  اپنے مؤقف  کو صحیح  ثابت کرنے کی کوشش کی تھی او رہم نے قرآن ، حدیث اور فقہہ کی روشنی میں ان کے اس مؤقف اور علمی  بد دیانتی  کا ردّ کیا تھا اس لئے اس موضوع پر مزید بحث غیر ضروری ہے۔

العبیری کےمضمون میں گوئبلز کے اس نظریئے کا اطلاق کیا گیا ہے کہ اگر ایک جھوٹ کو سوبار دہرا یا جائے تو وہ سچ بن جاتا ہے یا لوگ اس کو سچ سمجھ کر قبول  کرلیتے ہیں اس مضمون میں بھی بار بار قرآن احادیث اور علماء کے اقوال کو نقل کر کے اور ان کو غلط تناظر میں پیش کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ نعوذ باللہ اسلام  دشمن  کے بچوں بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا جائز سمجھتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا اسلامی اصول اور نظریہ حقوق العباد کے بالکل منافی ہے۔

اسلامی فوجوں نے جب بھی کسی دشمن کی فوج سے جنگ کی ہے تو صرف متحاربین (combatants) کو ہی نشانہ بنایا ہے جب کہ اس دشمن کی قوم کے بیشتر لوگ دشمن کی دل سے حمایت کرتے ہوں گے مگر قتل صرف انہیں  کیا جاتا تھا جو باقاعدہ ہتھیار اٹھاتے تھے ۔ لیکن یوسف العبیری کہتے ہیں کہ دشمن کی اعانت کرنے والوں میں وہ معصوم الدم ( بچے ، بوڑھے عورتیں وغیرہ) بھی شامل  ہیں جنہیں  آج کی اصطلاح میں عام شہر ی کہا جاتا ہے ۔

آگے چل کر وہ کہتے ہیں چونکہ امریکی عوام امریکہ کے صدر کو ووٹ دے کر صدارت کی کرسی عطا کرتے ہیں اور وہ ان کے اسلام مخالف منصوبو ں او ر پروگراموں سے پیشگی آگاہی رکھتے ہیں  اس لئے امریکی صدر اور افواج کے مظالم کے وہ بھی ذمہ دار ہوں گے اس لحاظ سے ان کا ( بچوں ، عورتوں او ر بوڑھوں کا ) تخریبی حملوں کے ذریعہ قتل کرنا (نعوذ باللہ ) اسلامی شریعت کے لحاظ سے جائز ہے۔

پہلا  نکتہ تو یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں بچوں کو ووٹ دینے کا اختیار  نہیں ہے اور نہ ہی وہ   اپنے ملک کے صدر کے پروگراموں او رمنصوبوں  کی جان کاری اور سمجھ رکھتے ہیں ۔اس لئے انہیں اس جواز کی بنیاد پر نشانہ بنانا بھی صحیح  نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ امریکہ یا کسی بھی ملک کا منتخب صدر عوام کے 50 سے 60 فیصد کے ووٹوں سے ہی صدر منتخب ہوتا ہے اور بقیہ آبادی مخالف پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیتی  ہے ۔ علاوہ ازیں عوام کسی بھی صدارتی امیدوار  کے صرف ایک پروگرام پر ووٹ نہیں دیتے  بلکہ اندرون  ملک  کےشعبوں ،تعلیمی ، معاشی ، طبیّ ، اقلیاتی ، دفاعی وغیرہ تمام شعبوں کے متعلق  اس کے پروگراموں  ،منصوبوں اور اسکیموں کی بنیاد پر بھی ووٹ دیتے ہیں  لہٰذا امریکہ  یا کسی بھی دوسرے ملک کے کچھ عوام اپنے صدارتی امیدوار کی خارجی یا بیرونی  عسکری پالیسی یا پروگراموں سے اتفاق نہ رکھتے  ہوئے بھی  روزگار ، طبّی  شعبہ ، تعلیمی  شعبہ یا اقلیاتی اسکیموں سے متاثر ہوکر اسے ووٹ دے سکتے ہیں کیونکہ  وہ منصوبے  او راسکیمیں  ووٹروں کی اپنی زندگی  میں اہمیت رکھتی ہیں ۔

اسی طرح  نریندر مودی کے حامی اور ان  کے مخالفین گجرات کے سبھی ہندو نریندر مودی کی مسلمانوں کی نسل کشی کی  پالیسی  میں نہ صرف یہ کہ  یقین نہیں رکھتے  بلکہ  اس سے نفرت بھی کرتے ہیں مگر ان میں سے بیشتر انہیں   علاقائی ، سماجی اور معاشی وجوہات، مجبوریوں   اور خصوصی رعایتوں کے وعدوں کی بنیاد پر ہی  ووٹ دیتے ہیں۔ لہٰذا ان کی یہ منطق بھی ناقابل قبول ہے۔

جنگ کے دوران دشمن کے کھجور کے درختوں ، فصلوں او ر عمارتوں کو تباہ کرنے اور جلانے کی ممانعت کی حمایت میں حدیثیں  اور خلفاء راشدین کے اقوال و احکام پہلے بھی  نقل کئے گئے ہیں لیکن اس قسط میں  بھی العبیری  اسی موضوع کو پھر سے اٹھاتے ہیں اور اسے جائز ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں طالبان چونکہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور  اس کی جنگی حکمت عملی دہشت گردانہ حملوں اور تخریبی  کارروائیوں پر مبنی ہے اس لئے العبیری  جنگ سےمتعلق انہیں پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں جہاں انہیں اپنی تخریبی کارروائیوں اور دہشت گردانہ حملوں کی حمایت میں ہلکا سا جواز بھی  نکلنے کا امکان ہو۔ جنگ  کے دوران مختلف  اوقات میں مختلف  حالات ہوتے ہیں جب فوج کو  اپنے دفاع   میں سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں  مگر ان مخصوص حالات میں اٹھائے گئے اقدامات جنگ کے زریں اصول نہیں بنتے  اور خاص کر اسلامی شریعت  میں تو یہ اور بھی ممنوع ہے ۔ قرآن پاک، حدیثوں اور  خلفائے  راشدین  کے احکام اس معاملے  میں با لکل  واضح ہیں اور انہیں  گذشتہ  اقساط میں نقل کردیا گیا ہے۔

یوسف العبیری امام حجر کا قول نقل کرتے ہیں  جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ‘‘ جمہور ’’ نے   دشمن کے کھجور کے درختوں  اور گھروں کو جلانے کے جواز کو اپنا یا ہے جب کہ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ،  اللیث رحمۃ اللہ علیہ ،ابوثور رحمۃ اللہ علیہ نے اسے مکر وہ جانا اور انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی اپنے لشکروں کو کی جانے والی اس وصیت کو دلیل بنایا کہ وہ ان میں سے کوئی کام نہ کریں۔’’

خود  اوپر منقول اقتباس سے ظاہر  ہے کہ علماء جمہور نے درختوں اورگھروں کو جلانے کو ناپسند دیدہ قرار دیا ہے اور اس سلسلے  میں حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کی وصیت کو ہی قابل تقلید مانتے ہیں اور ان کی یہ رائے قرآن اور حدیث  کی تعلیمات کے عین  مطابق ہے ۔ یوسف العبیری ایک اورجگہ  تضاد کے شکار ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ‘‘ دشمن کو جلانا بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگ کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے ’’ ۔ اس سلسلے میں وہ ایک حدیث  کا حوالہ دیتے ہیں جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ‘‘ ان پر (دشمن پر )صبح کے وقت حملہ کر اور آگ لگا۔’’لیکن پھر خود ہی ایک دوسری حدیث نقل کرتے ہیں جس میں  حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں  کہ ‘‘اگر تم فلاں آدمی کو پکڑ لوتو اسے آگ سے جلاڈالو۔’’ مگر پھر جب وہ جانے کیلئے مڑتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں  آواز دےکر بلاتے ہیں اور فرماتے ہیں ‘‘ کہ اگر تم فلاں شخص کو پکڑ لوتو اسے قتل کر ڈالو مگر جلانا نہیں کیونکہ  آگ سے سوائے رب کے کوئی نہیں  جلاتا ۔’’

لہٰذا العبیری خود اپنے  ہی مؤقف کی تردید اپنی  ہی نقل کی  ہوئی  حدیثوں سے کرجاتے ہیں  کہ دشمن کو جلانا نعوذ باللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگ کے طریقوں میں سے ایک ہے ۔’’

 بہر حال انہوں نے اس حدیث کونقل کر کے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘ ان پر صبح  کے وقت اچانک حملہ کر اور آگ لگا ۔’’ اپنے ہی  جھوٹ کی قلعی  کھول دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  رات کے وقت دشمن پر بے خبری  پر حملہ کرنے  کو جائز سمجھتے تھے ۔ پچھلی  قسطوں میں انہوں  نے یہ ثابت  کرنے کی کوشش کی تھی کہ رات کو آبادیوں پر بے خبری  میں حملہ کرنا جائز ہے ۔ مگر انہوں نے اپنے مضمون میں جو حدیث  نقل  کی ہے  اس میں یہ کہا گیا ہے کہ  صبح کے وقت اچانک حملہ کر یعنی  صبح ہونے تک انتظار کر

Loading..

Loading..