ڈاکٹرعدیس دریجا، نیو ایج
اسلام
انگریزی سے ترجمہ‑
مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)
میں نے اپنی اس پیش کش (موجودہ مضمون ) میں ترقی پسند مسلموں Progressive
Muslims کی اصطلاحPM))کا استعمال کیا ہے ،جیسا
کہ اس اصطلاح کا اجراء"ترقی پسند مسلمان" کے عنوان سے او۔ صفی کے ذریعہ لکھی گئی کتاب میں مضمون نگا روں کے ذریعہ استعمال کیا گیا ہے۔ کتاب "ترقی پسند
مسلمان" پندرہ معاونین کے ذریعہ تقریباً
پورے ایک سال تک بات چیت، مکالمے، کا نتیجہ
ہے۔ اس کتاب کی تخلیق و تدوین 11ستمبر ، 2001 کے سانحے کے بعد ہوئی جس کے بعد ہم (معاونین ) نے محسوس کیا کہ مکالمے
کی سطح کو بلند کرنے اور اسلام کی معذرت خواہانہ
پیش کش سے فوراً نجا ت حاصل کرنا ضروری ہے ۔
ایف ایزاک کےالفاظ کا استعمال
کرنا ،اسکے بہترین تجاویز میں سے ایک‘ ترقی
پسند مسلم (عالمی تناظر ) ، کی بہترین عکاسی ،ذمہ داری ، اور فرض شناسی کے کچھ معیار، اقدار، طرز عمل کے اظہار کے لئے ہے اور جن
کا اظہار کیا گیا اور جسے مختلف موضوعات
کے مصادر سے لیا گیا ہے۔
یہ سمجھنے کہ ایسے پسماندہ
اور مظلوم قوموں کے متعلق ایزاک کی ‘اصول یا
نبوی استحکام ’کی ا صطلاح کا مطلب کیا ہے ،
کے معیار اور معمولا ت میں سب سے اہم ذمہ داری
اور اس سے وابستگی ہے ۔ اوراس اصولی استحکا م کے تعلق سےکوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے اورایزاک کے ذریعہ بیان کردہ 'موزوں یا مواقعاتی اخلاقیات' اور 'مسلط مسلمانوں
کے موجودہ عوامی مباحثے ’کے درمیان تمیز پیدا کرنی چاہئے جو اسٹریٹجک،
مفید، اور کردار سے مطابقت رکھنے والا ہو۔
ایزاک کے الفاظ میں ترقی پسند مسلمانوں کے بنیادی مسائل جبر وتشددکے عالمی ڈھانچے سے تعلق رکھتا ہے، خواہ وہ اقتصادی ہو
یا جنسی وغیرہ، اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مظلوم ایک بار پھر تاریخ کے
برخلاف سرگرم ہو نے والے ہیں ۔ خدا کی قیادت والی ہماری (ترقی پسند مسلمانوں) کے اس جنگ
میں ، انسانوں کو الناس تصور کرنا،روح اللہ کا حامل ، آزادی کے پیغام
کے اسلام کو متصف کرنا شامل ہے۔
اس تناظر میں جدید آزاد معاشی
با زار اورسیاسی اور سماجی ڈھانچے، اداروں اور طاقتوں ("سلطنت") پر جن کا غلبہ ہے وہ یا تو اس کی حمایت کرتے ہیں یا اس کو برقرار رکھنے، یا
(ظالم) کی سختی سے مزاحمت نہیں کر رہے ہیں
اور ترقی پسند مسلمان اسے بشمول اسلام کے متعلق
اپنی فہم و فراست مجموعی تصور کا ئنات کو متضاد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اور یہ اس
لئے ہے کیونکہ "سلطنت" نے روح اللہ کے حامل انسان میں
تبدیلی اور تنزلی پیدا کی ہے، اور اسے بنیادی طور پر ایک اقتصادی صارفین میں
تبدیل کر دیا ہےاور جس کی وجہ سے جنوبی علاقوں میں رہنے والے غریبوں اور شمال میں رہنے
والے امیروں کے درمیان عظیم اقتصادی خلاء پیدا ہو گیا ہے۔ صفی کے مطابق، یہ سلطنت کئی طاقتوں پر مشتمل ہے اور جن کے درمیان ظالم وجابر اور ماحولیاتی تباہی پیدا کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جن کے مفادات آج نو شاہی اوریک طرفہ حکومتوں سے منسلک ہو گئے ہیں ،اور جو انسانی حقوق پر اپنے
فائدے کو ترجیح دیتے ہیں اور " ہر انسان کے وقار اور عزت سے پہلے ان کا اپنا اسٹریٹجک
مفاد ہے۔
مزید برآں، ترقی پسند مسلمان
مرکزیت، انفرادیت سطح پر ہر ایک انسان میں پیدائشی
طور پر موجود قابلیت اور روح اللہ کے حامل کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ اس نظریے کی عکاسی شاید صفی
کے آنےوالے بیانات میں بہترین طور پر
ہوسکے ، ایک ترقی پسند مسلم کے دل کی ترجمانی اب عام طور پر ایک بنیاد پرست نظریہ ہے: ہر انسانی زندگی، مرد
یا عورت، مسلم اور غیر مسلم، امیر یا غریب، شمالی یا جنوبی کا پیدائشی
حق برابر ہے۔
اور ایک ترقی پسند مسلم کا ایجنڈاس تصور پر ہے کہ تمام انسانوں کا پیدائشی
حق برابر ہے کیونکہ، جیسا کہ قرآن ہمیں یاد
دلاتا ہے کہ ، ہم میں سے ہر ایک کے وجود کی بقاءخدا کی عطا کردہ سانس سے ہے ۔
سلطنت کے مراکز کے جغرافیائی خطوں سے جمہوریت اور انسانی
حقوق پر ہونے والی گفتگو کو شک و شبہات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ اسے اکثر نوآبادیاتی عمل کے اپنے ہی اندر موجود شمنوں کے
طور پر کام کرنے والا تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں اس لئے بھی شک کی نظر وں سے دیکھا جاتا
ہے کیونکہ ایسا مانا جا تا ہیکہ یہ اپنے ہی اخلاقی معیار کو پورا نہیں کرتے ، خاص کر
براہ راست مسلمانوں (صرف انہیں ہی نہیں) پر اثر انداز ہو نے والے مسائل کے معاملے میں۔
ایک ترقی پسند مسلمان ہونے
کے ناطے اس سلسلے میں کے ایک اہم پہلو اور مقصد کے بارے میں ایزاک دلیل دیتے ہیں کہ،
"سچ بول کر بلندی پر پہنچنا" i.) خود کو زبردست تنقید کے
ذریعے ترقی پسند مسلمانوں کے نظریات کے حاملین
کو اس طرح ایک انصاف پر مبنی ایک معیاری سماج کے قیام کے لائق بناتا ہے ،جو انہیں کسی کے ایجنڈے میں سر گرم عمل یا سلطنت کی توسیع سے روکتا ہے، کیونکہ ان کا بنیادی مقصد اسلام سے مربوط ہونا ہے۔II)) ۱)کی
روشنی میں ان کی فطری انسانیت کو خطرے میں
ڈالے بغیر۔اور سوم) اور داخلی سطح پر امّت
کے ان لوگوں سے مقابلہ جو مسلم معاشرے
کی حفاظت کے نام پر مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ترقی
پسند مسلمان متعدد تنقیدوں سےگھرے ہوئے ہیں
، جس کے لئے "ایک متعددالجہات نقطہ نظر
شرط ہے جس پر بیک وقت بہت
سارےفرقے اور ترقی پسند مسلم بحث و
مباحثہ کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ نظریاتی اور نسلی ڈھانچے سے قطع نظر ناانصافی کی مزاحمت کرنااور اسے تخت و تاراج کی کوشش کرنا ہے۔
ہر ایک انسان کے وقار پر زور دیتے
ہوئے سماجی اور صنفی انصاف، اور ناقابل تخفیف مذہبی تکثیریت کا محرک ترقی پسند مسلمانوں
کے اخلاقی و مذہبی نقطہ نظر کے پیچھے اہم وجہ ہے۔ جیسا کہ ایک ترقی پسند مسلمان اسلام میں رہتے ہوئے اس کی تنقید
، سماجی انصاف، انسانی حقوق کی بنیاد صنفی مساوات، مذہبی اور نسلی تکثیریت ، اور پر
امن مزاحمت کے زریعہ ایک انصاف پر مبنی مشترکہ
معاشرے کے لئے جہد مسلسل کی علامت ہے ۔
خاص کر ترقی پسند مسلمانوں کے معاملے میں اجتماعی صنفی انصاف اور مساوات، بہت اہم کردار ادا کرتےہیں،
کیونکہ یہ "سماجی انصاف اور تکثیریت کے
وسیع تر خدشات کے لئے پیمائش کا آلہ تصور کیا جاتا ہے ۔ اور اس طرح ایک ترقی پسند مسلمان
شمار کئے جا نے کیلئے صنفی انصاف ومساوات ایک
لازمی اور بنیادی خصوصیت تصور کی جاتی ہے۔
صافی کے الفاظ میں
... مجموعی طور پر مسلم معاشرہ
اس وقت تک انصاف حاصل نہیں کر سکتاجب تک کہ مسلمان عورتوں کے ساتھ انصاف کی ضمانت نہ دی جائے۔ مختصر اً اسلام کی کوئی بھی ترقی پسند تشریح صنفی انصاف کے بغیر نہیں ہو سکتی
ہے۔ صنفی انصاف بہت اہم، ناگزیر اور لازمی ہے۔ طویل مدت میں کسی کے بھی ترقی پسند مسلمان ہو نے کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جائیگا کہ وہ چھوٹے اور بڑے طبقات میں یہ کس حد تک صنفی
انصاف میں تبدیلی کرنے کے قابل ہے ۔
اس طرح قانونی طور پر تسلیم
شدہ اسلامی تحریک نسواں کے لئے کے ترقی پسند مسلمان کوشش کرتے ہیں۔
ترقی پسند مسلمان ' کاآفاقی
نظریہ ' میں روحانیت اور آپسی تعلقات پر خاص
زور دیا گیا ہے جو اپنے ہم عصر انسانوں کے
ساتھ"رومانٹک یا معیاری"اور بعض اصفیاءکے اخلاقی تعلیمات کی بنیاد پر مبنی ہے جو ہمیشہ ایک دوسرے میں خدا کی موجودگی اور خصوصیات کو یاد
کر تے اور اس کی عکاسی کرتے ہیں۔ ترقی پسند
مسلمان کے نقطہ نظر کو حقیقی طور پر صوفی تہذیب
کے عرفان کی ایک دانشورانہ شکل کہا جا سکتا ہے۔
ترقی پسند مسلمان کے افکار ونظریات کا ایک اور اہم پہلو بنیادی سطح پر وہ سرگرمی ہے
جو اس کے معیار اور اقدار کی نمائندگی کرتی ہے۔
صفی کے الفاظ میں،
ایک ترقی پسند عزم کا مطلب سماجی انصاف کے مسائل میں مصروف رہنا ہے ، کیونکہ یہ بنیادی سطح پر مسلم اور غیر مسلم طبقات کے حقائق کو
آشکارہ کرنے کی خواہش پر مبنی ہے۔ اور اس کے لئے حکمت وبصیرت
اور سرگرمی دونوں ضروری ہیں۔حکمت و
بصیرت کے بغیر کسی بھی سرگرمی کا کوئی خاص مطلب نہیں ہےاور اسی طرح سر گرمی کے بغیر حکمت و بصیرت کو بے معنی ہو نے
میں دیر نہیں لگتی ہے۔
مسلم اور غیر مسلم دنیا میں ترقی پسند مسلمان کے نظریات کے حامی پھیل جائیں۔ کئی معروف ترقی پسند مسلمان
دانشور مغرب میں رہتے ہیں اور مغربی یونیورسٹیوں
میں تعلیم دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے ان اداروں سے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری
حاصل کی ہے، اور بعض صورتوں میں، اسلامی علوم میں بھی روایتی تربیت حاصل کی ہے. صفی
کے الفاظ میں:
اپنے آزاد خیال مسلمان آباؤ
اجداد کے برعکس، ترقی پسند مسلمان مسلم خاتون اور مرد سرگرم کارکنوں اور دانشوروں کے
ایک وسیع تر امتزاج کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ترقی پسند مسلمانوں کی مہم کی نمایاں خصوصیات
میں اسلام کی تجدید کاری کے علم بردار کے طو ر پر بڑی تعداد میں خواتین کی شراکت
داری اور ساتھ ہی ساتھ انسانی حقوق
کے تعلق سے ایک وسیع تر سرگرمی کے حصہ
کے طور پر عورتوں کے حقوق کو اجاگر کرنے کا
اقدام شامل ہے۔
حالانکہ ترقی پسند مسلمانوں
کی فکر کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی روایت کے کچھ سماجی اور ثقافتی پہلو ں کو اہمیت
عطا کیا ،علاوہ ازیں اسلامی تعلیمات کے منبع وسر چشمہ قرآن اور سنّت کی تشریح کا سب سے بڑا ذریعہ مذہبی ‑ اخلاقی بنیادیں ہیں۔ مثلاً ترقی پسند فکر کی خصوصیت
"اسلام کے دانشورانہ ورثے کے اخلاقی اور انسانی پہلو کی تلاش جواسکی اخلاقی غفلت
کے خلاف ایک قوت ہے جو اس میں سرایت کر گئی ہے۔ " ترقی پسند فکر کے ایک اور
اہم حامی الفضل اس کے بنیادی رہنما
اصول کے طور پر دلیل دیتے ہیں کہ اسلام کے
وسیع اور زرخیز اخلاقی روایت کی خوبصورتی کو دوبارہ حاصل کرنا اور اس
کی اخلاقی ضروریات کو دریافت کرنا ہے "۔ اس نقطہ نظر کی بنیاد پر ترقی
پسند فکر یہ مطالبہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کے
قانونی اور اخلاقی فلسفہ کے انتہائی پیچیدہ اور بنیادی مفروضات کا محتاط تجزیہ کرنا اور فلسفہ کی معمولاتی مثالوں میں تبدیلی ضروری ہے ، جسے موسی سلطنت کے بعد کے اسلام کا سیاق و سباق کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں
ترقی پسند افکارونظریات وہابی(صرف وہابی ہی نہیں) نظریہ کے ماننے والوں کے ذریعہ دین میں بہت بڑی
فکری کمزوری پیدا کرنے کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں "۔
بلآ خر، ترقی پسند
فکر مذہبی صحیفوں کی تفسیروتشریح میں ناقابل تخفیف مذہبی اور نسلی تکثیریت پر زور دیتا ہے اور مذہب
پر مبنی تجربات کو ایک
معیار اور تمام انسانوں کے خالق کی مرضی کے طور پر باور کراتا ہے ۔ لہذا
ہر مذہب منفرد مانا جاتا ہے اور اپنے وسیع
تر تصور کے اندر ہی ایک خود کفیل
اور مکمل طور پر منظم تصور کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ادس ددریجا میلبورن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ریسرچ
ایسوسی ایٹ ہیں۔
URL
for English article: https://newageislam.com/islam-pluralism/salient-features-progressive-muslim-thought/d/7163
URL
for this article: https://newageislam.com/urdu-section/social-gender-justice-/d/7197