New Age Islam
Wed Dec 01 2021, 06:42 AM

Urdu Section ( 11 Aug 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Maulana Abul Kalam Azad: The Man Who Knew The Future Of Pakistan Before Its Creation پاکستان کے مستقبل پر مولانا ابو الکلام آزاد کی پیشن گوئی


شورش کاشمیری ، مطبوعات چٹان ، لاہو ر

 

مولانا ابو الکلام آزاد 

-------

کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزاد نے اپریل 1946 میں لاہور سے شائع ہونے والا  اردو رسالہ ‘چٹان ’ کے لئے صحافی شورش کشمیری کو مندرجہ ذیل انٹرویو دیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب کابینہ مشن دہلی اور شملہ میں اپنی کارروائی کا انعقاد کر رہا تھا۔ آزاد نے انٹرویو کے دوران کچھ چونکا دینے والی پیش گوئیاں کیں، یہ کہتے ہوئے کہ مذہبی تنازعہ پاکستان کے ٹکڑے کر دے گا اور اس  کا نصف  مشرقی  حصہ اپنا مستقبل خود بنائے گا۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ پاکستان کے نااہل حکمران فوجی حکمرانی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔

شورش کشمیری کے مطابق، آزاد نے صبح کے ابتدائی اوقات اپنے لئے خاص کر رکھے تھے اور یہ انٹرویو دو ہفتوں کے دوران لیا گیا تھا۔ یہ انٹرویو اب تک کسی بھی کتاب میں شائع نہیں ہوا ہے - نہ ہی ان کی تحریر یا تقریروں پر مشتمل کتاب میں  اور نہ ہی  آزاد  سینٹینری کی جلدوں میں ۔ اگر لکھا بھی گیا تو صرف شورش کشمیری کی اپنی ہی کتاب‘‘ ابوالکلام آزاد ’’ میں ،  جس کی طباعت  مطبوعات چٹان لاہور نے کی تھی جو کہ اب  غیر فعال پبلشنگ ہاؤس ہے ۔ سابق مرکزی کابینہ کے وزیر عارف محمد خان نے کئی سالوں تک تلاش کرنے کے بعد کتاب دریافت کی اور انٹرویو کا ترجمہ کوبورٹ  COVERT کے لئے کیا۔

شورش کاشمیری کا انٹرویو مولانا ابو الکلام  آزاد  کے ساتھ

سوال۔‘‘ہندو مسلم مناقشات (اِختلافات) اس حد تک پھیل چکے ہیں کہ جانبین (مخالفین) میں مفاہمت کی دوسری تمام راہیں ناپید ہو کر پاکستان ناگزیر ہو چکاہے۔

جواب۔ ہندو مسلم مناقشات (اختلافات) کا حل پاکستان ہوتا تو میں خود اس کی حمایت کرتا۔ ہندوئوں کا ذہن بھی اسی طرف پلٹ رہا ہے۔ ایک طرف آدھا پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان اور دوسری طرف آدھا بنگال دے کر انہیں سارا ہندوستان مل جائے تو ایک بڑی سلطنت سیاسی حقوق کے ہر فرقہ وار قضیے سے محفوظ ہوجاتی ہے۔ اس طرح ہندوستان ایشیاء میں چین کے بعد لیگی اصطلاح کے مطابق ایک بڑی ہندو ریاست ہوگا۔ کسی حد تک عملاً بھی اور بڑی حد تک مزاجاً بھی۔

 یہ کوئی ارادی چیز نہ ہوگی بلکہ اس کے معاشرہ کا خاصا ہوگا۔ آپ ایک ایسے معاشرے کو جس کی آبادی نوّے فیصد ہندو ہو کسی اور سانچے میں کیونکر ڈھال سکتے ہیں جبکہ زمانہ قبل اَز تاریخ سے وہ اسی سانچے میں ڈھلی ہو اور اس کی سب سے بُری عصبیت (قرابت، رشتہ داری) ہو۔ وہ چیز جس نے اس معاشرے میں اسلام کی داغ بیل ڈالی اور اس کی آبادیوں میں سے اپنی ایک طاقتور اقلیت پیدا کی، اس تقسیمی سیاست کی پرزور نفرت کے باعث وہ چیز ہی رُک گئی ہے۔ اب ہندوئوں اور مسلمانوں کی سیاسی منافرت نے اشاعت اسلام کے دروازے اس طرح بند کردیئے ہیں کہ ان کے کھلنے کا سوال ہی نہیں رہا۔ گویا اس سیاست نے مذہب کی دعوت ختم کردی ہے۔ مسلمان قرآن کی طرف نہیں لوٹ رہے ہیں، اگر وہ قرآن و سیرت کے مسلمان ہوتے اور اسلام کی آڑ میں خود ساختہ سیاسی عصبیتوں کو استعمال نہ کرتے تو اسلام ہندوستان میں رُکتا نہیں، بڑھتا اور پھیلتا۔ اورنگزیب کے وقت میں ہم مسلمان ہندوستان میں غالباً سوا دو کروڑ تھے کچھ زیادہ یا اس سے کچھ کم۔ مغلیہ سلطنت ختم ہوئی، انگریز کا غلبہ ہوا تو مسلمان آج کا (1946)65 فیصد تھے۔

 غرض تحریک خلافت کے آغاز تک مسلمان بڑھتے ہی رہے۔ لوگوں نے اسلام قبول کیا، افزائش نسل ہوئی۔ اگر ہندو مسلم منافرت یا سیاسی مسلمانوں کے لب و لہجہ سے تند و تلخ نہ ہوتی اور سرکاری مسلمان انگریزوں کی سیاست کو پروان چڑھانے کیلئے ہندو مسلم نزاع کو وسیع و متحارب نہ کرتے تو عجب نہ تھا کہ مسلمانوں کی تعداد موجودہ تعداد سے ڈیوڑھی ہوتی۔ہم نے سیاسی نزع پیدا کرکے تبلیغ اسلام کے دروازے اس طرح بند کئے گویا اسلام اشاعت کے لئے نہیں سیاست کیلئے ہے۔ اُدھر انگریزوں کے ہتھے چڑھ کر کہ وہ مسلمانوں کی آبادی میں وسعت نہ چاہتے تھے ہم نے اسلام کو ایک محصور مذہب بنا دیا پھر یہودیوں، پارسیوں بلکہ ہندوئوں کی طرح ہم ایک موروثی ملّت بن گئے کہ یہودی، پارسی اور ہندو بنتے نہیں پیدا ہوتے ہیں۔

 ہندوستانی مسلمانوں نے دعوت اسلام کو منجمد کردیا پھر کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض فرقے استعماری پیداوار تھے ان سب میں حرکت و عمل کی جگہ جمود و تعطل پیدا ہوگیا اور وہ ذہنی طور پر اسلام سے محرومی کی زندگی میں داخل ہوگئے۔ ان کا وجود جہاد سے تھا لیکن یہی چیز ان کے وجود سے خارج ہوگئی۔ اب وہ بِدعات و سیاست کا شکار ہیں۔ وہ مسلمان ضرور ہیں لیکن ایک تو اپنے خودساختہ عقائد کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں، دوسرے دین کے نہیں سیاست کے مسلمان ہیں۔ انہیں قرآنی دین نہیں سیاسی دین پسند ہے۔

پاکستان ایک سیاسی موقف ہے اس سے قطع نظر کہ پاکستان ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلے کا حل ہے کہ نہیں؟ اس کا مطالبہ اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلام نے کہاں اور کب دین کے نام پر جغرافیائی تقسیم کا مطالبہ کیا اور کفر و اسلام کی بستیاں بسائی ہیں۔ کیا یہ تقسیم قرآن میں ہے کہ حدیث میں؟ صحابہ نے کس مرحلے میں اس کی نیو (بنیاد) اُٹھائی؟ فقہائے اسلام میں سے کس نے خدا کی زمین کو کفر و اسلام میں بانٹا؟ اگر اسلام میں کفر و اسلام کے اصول پر زمین کی تقسیم ہوتی تو اسلام ہمہ گیر ہوتا؟ مسلمانوں کی اتنی وسعت ہوتی؟ خود ہندوستان میں اسلام داخل ہوتا اور یہ مسلمان جو آج مسلمان ہونے کی بنا پر پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں ان کے اجداد مسلمان ہوتے؟

جغرافیائی تقسیم صرف لیگ کی اختراع ہے۔ وہ اس کو سیاسی موقف قرار دے تو اس طرح بحث و نظر کا جواز ہو سکتا ہے لیکن قرآناً یا اسلاماً جغرافیائی تقسیم کا جواز کہیں نہیں اور کوئی نہیں۔ مسلمان اسلام کی اشاعت کے لئے ہیں یا سیاست کی اساس پہ کفرواسلام کی جغرافیائی تقسیم کے لئے؟ پاکستان کے مطالبہ نے مسلمانوں کو اسلاماً کیا فائدہ پہنچایا، اب تک کچھ نہیں؟ پاکستان بن گیا تو اسلام کو کیا فائدہ پہنچے گا، اس کا انحصار اس علاقہ کی سیاست پر ہے کہ اسے کس سرشت کی لیڈرشپ ملتی ہے۔

ہم جس ذہنی بحران سے گزر رہے ہیں، دُنیائے اسلام کی جو حالت ہے اور مغربی ابتلأ نے جس طرح عالمی اذہان (ذہنوں) پر قبضہ کر رکھا ہے اس کے پیش نظر مسلم لیگ کی لیڈر شپ کے آب و گل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اس طرح تقسیم ہوا تو پاکستان میں اسلام نہیں رہے گا اور ہندوستان میں مسلمان نہیں ہوگا۔ یہ ایک سیاسی اندازہ ہے جو ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے لیکن پاکستان میں اولاً مذہبی تصادم پیدا کئے جائیں گے۔ ثانیاً وہاں اس قسم کے لوگ مسند اقتدار پر فروکش ہوں گے جن سے دین کو سخت دھچکا لگے گا۔ عجب نہیں کہ نئی پود پر اس کا ردعمل ہو اور وہ عصری تحریکوں کے لادین فلسفے کی ہو جائے۔ ہندوستان کے ہندو صوبوں میں مذہب سے جو لگائو یا دین سے جو شغف (لگائو) مسلمانوں کو ہے وہ پاکستان کے مسلمان صوبوں میں نہیں۔ پاکستان میں علماء کی مزاحمت کے باوجود دین کی طاقت کمزور رہے گی حتیٰ کہ پاکستان کی شکل بدل جائے گی۔

سوال:  ‘‘لیکن بعض علماء بھی تو قائداعظم کے ساتھ ہیں’’۔

جواب۔ علماء اکبر اعظم کے ساتھ بھی تھے، اس کی خاطر انہوں نے ’’دین اکبری‘‘ ایجاد کیا تھا، اس شخصی بحث کو چھوڑو، اسلام کی پوری تاریخ ان علماء سے بھری پڑی ہے جن کی بدولت اسلام ہر دور میں سسکیاں لیتا رہا۔

راست باز زبانیں چند ہی ہوتی ہیں۔ پچھلے تیرہ سو برس کی تاریخ میں کتنے علماء ہیں جنہیں تاریخ نے توقیر کے خانے میں جگہ دی ہے، احمد بن حنبل توایک ہی تھے اور ابن تیمیہ بھی واحد ہی تھے ، ہندوستان میں شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان ہی زندہ رہا باقی سب محو ہوگئے۔ الّاماشاء اللہ۔ مجدالف ثانی کی حق گوئی پائندہ ہے لیکن جن لوگوں نے شکایتوں کے انبار لگا کر انہیں گوالیار کے قلعہ میں ڈلوایا تھا وہ بھی علماء تھے، اب کہاں ہیں؟ ان کے لئے کسی زبان پر کلمۂ احترام ہے؟’’۔

سوال۔  ‘‘مولانا! پاکستان اگر سیاستاً قائم ہوجائے تو اس میں عیب کیا ہے؟ اسلام کا نام تو مسلمانوں کی ملّی وحدت کو محفوظ رکھنے کے لئے بولا جارہا ہے’’۔

جواب۔ ‘‘آپ اسلام کا نام ایک ایسی چیز کے لئے بول رہے ہیں جو اسلام ہی کی رو سے درست نہیں۔ جنگ جمل میں قرآن نیزے پر لٹکائے گئے وہ درست تھے؟ کربلا میں اہل بیت شہید کئے گئے ان کے قاتل مسلمان تھے۔ کیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حلقہ بگوشی کے دعویدار نہ تھے۔ حجاج مسلمان تھا اس نے بیت اللہ پر پتھرائو کرایا تھا کیا اس کا فعل صحیح تھا؟ کسی بھی مقصد باطل کیلئے کوئی سا کلمہ حق درست نہیں ہوتا۔

پاکستان مسلمانوں کیلئے سیاستاً درست ہوتا تو میں اس کی حمایت کرتا لیکن خارجی اور داخلی کسی اعتبار سے بھی اس کے مضمرات مسلمانوں کے لیے خوشگوار نہیں، میں اپنی رائے پر اصرار نہیں کرتا۔لیکن میں جو دیکھ رہا ہوں اس سے پھرنا میرے لئے ممکن نہیں لوگ طاقت کی مانتے ہیں یا تجربے کی، جب تک مسلمان پاکستان کے تجربے سے نہیں گزریں گے ان کے لئے پاکستان کے بارے میں کوئی دوسری بات جو اس کی نفی پر ہو، قابل قبول نہ ہو گی ۔وہ آج دن کو رات کہہ سکتے ہیں لیکن پاکستان سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، ایک بات ہوسکتی ہے کہ سرکاری طاقت پاکستان بنانے سے انکار کردے اور وہ اس کے پلان پر راضی ہوجائیں یا خود مسٹر جناح ان کے ذہن کو پھیردیں اور سمجھوتے کی جو صورت سامنے آئے اس پر صاد کردیں۔

ہندوستان تقسیم ہوا، جیسا کہ مجھے ورکنگ کمیٹی کے بعض رفقاء کی ذہنی روش سے محسوس ہورہا ہے تو ہندوستان ہی کا بٹوارہ نہ ہوگا، پاکستان بھی بٹے گا۔ تقسیم آبادی کے اعتبار سے ہوگی، ان میں قدرتی حدبندی کیا ہوگی؟ کوئی دریا کوئی پہاڑ، کوئی صحرا؟ کچھ نہیں۔ ایک لکیر کھنچ جائے گی۔ کب تک؟ کچھ کہنا مشکل ہے

 لیکن جو چیز نفرت پر ہوگی وہ نفرت پر قائم رہے گی اور نفرت ان کے مابین ایک مستقل خطرہ ہوگی، اس صورت میں کسی بڑی تبدیلی، تغیر یا کاٹ کے بغیر پاکستان اور ہندوستان کبھی دوست نہ ہوں گے۔ دونوں کے دل میں تقسیم کی فصیل ہوگی۔ تو سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو سنبھالنا پاکستان کے لئے مشکل ہے کہ اس کی زمین اس کی متحمل ہی نہیں ہوسکتی لیکن مغربی پاکستان میں ہندوئوں کا ٹھہرنا ممکن نہ ہوگا وہ نکالے جائیں گے یا خود چلے جائیں گے، ان دونوں صورتوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی نگاہ پاکستان پر ہوگی پھر اس حالت میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے تین راستے ہوں گے۔

1۔وہ لٹ لٹا یا پٹ پٹا کر پاکستان چلے جائیں لیکن پاکستان کتنے مسلمانوں کو جگہ دے گا

۔2۔ وہ ہندوستان میں اکثریت کے بلوائی ہاتھوں سے قتل ہوتے رہیں۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ایک طویل مدّت تک قہر و غضب کی قتل گاہ سے گزرے گی تاآنکہ تقسیمی تلخیوں کی وارث پود عمر طبعی گزار کر ختم ہوجائے۔

3۔ مسلمانوں کی ایک تعداد ابتری، سیاسی درماندگی اور علاقائی غارت گری کا شکار ہو، وہ اسلام چھوڑ کر مُرتد ہوجائے۔

وہ مسلمان جو لیگ کے حلقوں میں نمایاں ہیں پاکستان چلے جائیں گے۔ وہاں معاشی مسلمان صنعت و تجارت کو ہاتھ میں لے کر پاکستان کی معاشیات کے اجارہ دار ہوجائیں گے لیکن ہندوستان میں تین کروڑ کے لگ بھگ مسلمان رہ جائیں گے، لیگ کے پاس ان کے مستقبل کی ضمانت کیا ہے؟ کیا محض کاغذی معاہدہ ان کے لئے کافی ہوگا؟ ان کے لئے وہ حالت تو اور خطرناک ہو گی جو ہندوئوں اور سکھوں کے مغربی پاکستان سے نکل آنے کے بعد ہندوستان میں پیدا ہوگی۔ پاکستان کئی ابتلائوں کا شکار ہوگا۔ سب سے بڑا خطرہ جو محسوس ہوتا ہے وہ اندرخانہ عالمی طاقتوں کا اس پر کنٹرول ہوگا اور ہمہ قسم تغیرات کے ساتھ اس کنٹرول میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ ہندوستان کا بھی اس سے اتفاق ہوگا کیونکہ وہ پاکستان کو اپنے لئے خطرہ گردان کر عالمی طاقتوں سے سیاسی جوڑتوڑ کرے گا لیکن پاکستان کا خطرہ شدید اور نقصان عظیم ہوگا۔

ابھی تک مسٹر جناح نے شاید اس پر غور نہیں کیا کہ بنگال  اپنے سے باہر کی لیڈر شپ کو کسی نہ کسی  مرحلے میں مسترد کردیتا ہے۔ دوسری جنگ  عظیم  میں مسٹر اے کے فضل الحق نے مسٹر جناح سے بغاوت کی اور لیگ  سے نکال دیئے گئے مسٹر حسین شہید سہر وردی  بھی مسٹر جناح  کے متعلق  چنداں خوش رائے نہیں، لیگ کو چھوڑ و، کانگریس ہی کی پوری  تاریخ  پر نظر  ڈالو،  سبھاش  چندر بوس کی آخری  بغاوت سب کے سامنے  ہے۔ گاندھی  جی ان کی صدارت  سے مطمئن نہ تھے ۔ انہوں نے  راج کوٹ میں مرن برت رکھ کر سارے ملک کو اپنی  طرف پھیر لیا ، سبھاش بوس لڑکر کانگریس سے  الگ ہوگئے ۔ بنگال  کی آب  ہوا کا خاصہ  ہے کہ وہ بیرونی لیڈر شپ سے گریز  کرتا اور اپنی لَے پر قائل رہتا ہے اور جب اس  کے حقوق و مفادات  مجروح ہوں تو بہر نوعی بغاوت  کے لئے تیار ہوتا ہے ۔

 مسٹر جناح یالیاقت علی تک تو مشرقی پاکستان کا اطمینان  ڈانو اڈول نہیں ہوگا کہ پاکستان کی تازگی  ان کے اتحاد  کا باعث ہوگی لیکن ان کے بعد مشرقی پاکستان میں اس قسم کے آثار کا پھوٹنا یقینی  ہے جو مغربی پاکستان سے اس  کے بد ظنی  اور آخر کار علیحدگی کا موجب ہوں گے مجھے شبہ  ہے کہ مشرقی پاکستان زیادہ دیر مغربی پاکستان کے ساتھ رہ  سکے گا؟ دونوں حصوں  میں مسلمان کہلانے کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں لیکن مسلمان کہلانا کبھی  ریاستوں کے دائمی اتحاد کا باعث نہیں ہوا۔

عرب دنیا ہمارے سامنے ہے وہاں  ایک نہیں کئی چیزیں  مشترک ہیں، عقائد  میں یک رنگی  ہے، تہذیب یکساں  ہے ، ثقافت ایک ہے،  زبان واحد  ہے حتیٰ کہ جغرافیائی حد و د تک مشترک ہیں لیکن ان میں سیاسی و حدت  نہیں ان کے نظام ہائے حکومت  مختلف  ہیں  اور اندر خانہ  ایک دوسرے سے تصادم  کی فضا موجود ہے ۔ مشرقی پاکستان کی زبان، رہن سہن، تہذیب، ثقافت اور بعض دوسری چیز  یں مغربی پاکستان سے قطعی  مختلف  ہیں، پاکستان کا تخلیقی  شعلہ  سرد پڑتے ہی ان تضادات  کا ابھر نا ایک بد یہی  امر ہے۔ پھر عالمی طاقتوں کے مفادات  کا ٹکراؤ ان کی علیحدگی کا متحرک ہوسکتا ہے۔

خدانخواستہ مشرقی پاکستان الگ ہوگیا تو مغربی پاکستان تضادات و تصادِ مات کا مجموعہ بن جائے گا ، پنجابی، سندھی، سرحدی او ربلوچی  اختلافات و  سوالات پیدا کئے گئے تو پاکستان ذہنی  انتشار  اور عالمی مفاد کی آماجگاہ بن جائے گا۔ آج جو نسل پاکستان بنائے گی ، ممکن ہے اس کے اٹھتے ہی صوبائی  عصبیتوں کاسوال اُبھر ے اور عالمی طاقتیں  پاکستان کی مختلف الفکر لیڈر شپ  کو ہاتھ میں لے کر ایک ایساکھیل  رچائیں  کہ مغربی پاکستان بلقانی ریاستوں  یا عرب ریاستوں کی طرح کئی ایک ریاستوں میں بٹ  جائے؟  تب یہ سوال ممکن ہے، بعض  ذہنوں  میں پیدا ہوکہ ہم نے پایا کیا اور کھویا کیا؟

ایک دوسرا سوال جو بر اعظم کی تقسیم سے وابستہ  ہے وہ افریشیائی ملکوں  میں عالمی طاقتوں کی مداخلت  کامسئلہ ہے۔ افریشیائی  ممالک  زیادہ تر مسلمان ریاستوں ہی کا ایک مجموعہ ہیں ان کے لئے ایک ہندوستان ہی زیادہ  سے زیادہ مفید ہوسکتا ہے لیکن پاکستان  کا ہندوستان سے اور ہندوستان کا پاکستان سے ٹکراؤ ، نہ صرف ہندوستانی عوام کو مسلمانوں سے بدظن  کردے گا بلکہ مسلمان ریاستوں کے ابتلاء میں  بھی ہمدردی  و اعانت کے وہ جذبات پیدا نہ ہوں گے جو مشترکہ ہندوستان میں پیدا ہوسکتے ہیں۔

اصل سوال دین کا نہیں  معاش کا ہے ۔ مسلمان امراء نے اپنی  معاشی  کمتری  اور اقتصادی  فروتری کے خوف و انحطاط  کو دو قومی نظریہ  کی شکل دے کر فرقہ  وار  مسائل کو اس انتہا تک پہنچادیا ہے کہ اب انہیں  ایک ہندوستان  میں اپنے معاشی اقتدار کے لئے  کوئی جگہ نظر نہیں آتی وہ  ایک اسلامی ریاست میں بلا شرکت  غیرے  معاشیات کے واحد مالک ہوں گے لیکن کب تک مسلمانوں کو نظریاتی سحر میں مبتلا رکھ سکیں گے یہ غور طلب سوال ہے۔ پاکستان کے سر پہ کئی چیزیں سوار ہو ں گی، مثلاً:

1۔ سیاست دانوں کی ویرانی پر مسلمان ملکوں کی طرح فوجی انقلاب کے خطرے۔

 2۔ غیر ملکی  قرضوں کا اندھا دھند بوجھ ۔

3۔ ہمسایہ  ملکوں  سے جنگ کا خدشہ ۔

4۔ اندرونی تضادات کے تصادمات ۔

5۔ پاکستان کے نو دولت  سرمایہ داروں  اور نو ساختہ صنعت کاروں کی لوٹ ۔

6۔  اس استحصال  سے طبقاتی جنگ  پیدا ہونے کے امکانات ۔

7۔ اسلام سے نئی پود کابہمہ  و جوہ  گریز و فرار  بالفاظ دیگر نظریہ پاکستان کا سقوط ۔

8۔ عالمی طاقتوں کی پاکستان کے بارے میں  مختلف سازشیں۔

ادھر ان حالات میں پاکستان مخدوش ہوگا اُدھر اسلامی ملک اس قابل نہیں ہوں گے کہ پاکستان کی اس طرح مدد کرسکیں جس طرح دوسری جنگ  عظیم میں اتحادی  ایک دوسرے کے معاون تھے ، غیر اسلامی ملکوں نے پاکستان کی مدد کی تو وہ ان کے مفادات کا ریلا لے کر آئے گی، جس سے  پاکستان میں نظریاتی اور جغرافیائی خلل  کا پیدا ہونا یقینی  ہے ۔

سوال ۔ ‘‘لیکن ایک ہندوستان میں مسلمان اپنی اصل انفرادیت کیونکر قائم کرسکتے ہیں اور ان میں ایک اسلامی ریاست کے مسلمانوں  کی خصوصیتیں کیونکر  پیدا ہوسکتی ہیں؟’’

جواب ۔‘‘ محض الفاظ کے سہارے حقائق کو جھٹلا یا نہیں  جاسکتا ورنہ سوالات کا رُخ پھیر کر جوابات میں کجی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ حقائق کو ا س قسم کے سوالات یا جوابات سے توڑ نایا موڑ نا غلط بحث ہے۔ مسلمانوں کی ملّی انفرادیت سے مراد کیا ہے؟ اگر انگریزوں کے عہد  میں  وہ ملّی انفرادیت قائم رہی ہے تو آزاد  ہندوستان میں جن کے حصے دار مسلمان بھی ہوں گے اس انفرادیت کا ضائع ہوناکیونکر ممکن ہے؟ مسلمان ریاستوں کی وہ کون سی خصوصیتیں  ہیں جنہیں آپ یہاں  پیدا کرنا چاہتے ہیں؟

 اصل چیز دین اور اس کے لوازم ہیں ، انہیں اختیار کرنے اور ان پر چلنے سے کون روک سکتا ہے؟ کیا نو کروڑ مسلمان آزادی کےبعد اس قدر بے بس  ہوجائیں گے کہ دین اور اس کے لوازم ان سے چھن جائیں گے ، انگریز ایک عالمی عیسائی طاقت ہونے کے باوجود ان سے اسلام چھین  نہیں سکا تو ہندوؤں میں وہ کون سی طاقت، کشش یا سحر ہے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام سے محروم کردیں گے؟  یہ سوالات عموماً ان لوگوں کے پیدا کردہ ہیں جو خود انگریزی تہذیب سے مغلوب  ہوکر اسلام سے دستبردار ہوچکے اور اب سیاسی طور پر ٹامک ٹوئیاں  مارر ہے ہیں۔

 ہندوستان کی تاریخ اجتماعی  طور پر مسلمانوں کی تاریخ ہے ۔ مسلمان بادشاہوں  نے ہندوستان میں اسلام کی خدمت کی ہوتی تو آج تین چوتھائی ہندوستان ضرور مسلمان ہوتا لیکن ان بادشاہوں  نےاسلام سے ظواہر کا واسطہ رکھا، وہ اسلام کے داعی نہ تھے وہ حکومت چاہتے  اور حکومت  کرتے تھے ۔اسلام یہاں صوفیوں  کی بدولت پھیلا، مسلمانوں  کا سوادِ اعظیم ان اہل اللہ کا مرہون ہے، اسلام کی دولت انہی کی معرفت ملی ہے۔ کئی بادشاہوں نے ان کے ساتھ بہیمانہ  سلوک کیا اور اپنے  گردوپیش اس قسم کے علماء پیدا کئے جو اشاعت اسلام کی راہ  میں ایک بڑی روک تھے ۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے اس وقت  کی مہذب دنیا کو مغلوب  کیا اور حجاز  کے گردو پیش کےبیسیوں ملک کو مِلاً اسلام کی آغوش میں آگئے لیکن ہندوستان میں صحیح  اسلام نہ آسکا ۔ مسلمان یہاں کے رسومات  سے اس قدر متاثر ہوئے اسلام کی حقیقی روح سے محروم ہوگئے ۔ ایک دوسری وجہ  یہ تھی کہ اسلام یہاں عجم  کی معرفت آیا تھا لیکن اس کے باوجود ہندوستان کی بارہ سو برس کی تہذیب پر مسلمانوں  کی چھاپ لگی ہوئی ہے اور اس کامعاشرہ اسلامی نقش و نگار کر مرہون  ہے، ہندوستان کے آرٹ،ہندوستان کی موسیقی ، ہندوستان کے تمدن،  ہندوستان کی ثقافت، ہندوستان کے فن تعمیر اور ہندوستان کی زبان میں نصف  سے زائد  حصہ اسلامیات سے فیضیاب  ہے، ان کے خزانے  عربی، عجمی ، ترکستانی اور ایرانی مسلمانوں کی بود و باس اور رنگ و آہنگ سے لدے پھندے ہیں ۔

 آج ہندوستان  کے تہذیبی  شہر مثلاً لکھنؤ اور دہلی کن محاسن  کا مجموعہ  ہیں؟ کیامسلمانوں  کی تہذیب ان کی روح رواں نہیں؟ مسلمان ہندوستان کو اتنا کچھ دے کر بھی خطرہ  محسوس کریں اور انہیں وہم ہوکہ وہ انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہونے کے فوراً بعد ہندوؤں کے غلام ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہی  دُعا کی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں کو استقامات ایمان عطا ہو، آدمی بد دل ہوتو اس کے دل کو سنبھا لا دیا جاسکتا ہے اور اس میں حرکت  کے آثار واپس لائے جاسکتے ہیں لیکن آدمی بزدل ہوتو اس کے دل کو سنبھالا دینا  اور اس کے حوصلے کو ثبات کی سمت لوٹا نامشکل ہے، مسلمان اجتماعی  طور پر بزدل ہوچکے ہیں۔ وہ خدا سے نہیں  ،ڈرتے انسانوں  سے ڈرتے ہیں اور اس ڈر ہی سے انہیں  اپنا وجود آزاد ہندوستان میں خطروں کا صید محسوس ہوتا ہے۔

انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو کیا مسلمانوں  کو مٹانے کی ہر بہیمیت  کے باوجود مٹا سکے؟ مسلمان جبر  سہتے  او ربڑھتے گئے ، ہندوستان کی مردم شماری کے مختلف ادوار کا نقشہ ان کے علم میں ہوتو مسلمان شاید محسوس کریں کہ ان کے ذہنی  خطرے بے اصل  ہیں اور ہر دور میں پھیلتے رہے ہیں اور اس کی وجہ ان کے معاشرے کا سحر و کشش  ہے۔ ہندوستان  کے تین طرف اسلامی دنیا پھیلی  ہوئی ہے،  ہندوستان کی اکثریت  مسلمانوں کو مٹا کر  کیونکر پنپ سکتی ہے ۔ کیا نو کروڑ مسلمانوں کو مٹانا  آسان ہے؟ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہماری تہذیب اور ثقافت میں ایک ایسا جادو ہے کہ شاید آئندہ پچاس سال میں ہندوستان کی سب سے بڑی آبادی مسلمان ہو۔ دنیا کو پائیدار امن کی تلاش کے علاوہ  ایک فلسفہ  پر زندگی  کی ضرورت ہے ۔ اگر ہندو کا رل مارکس  کے پیچھے دوڑ سکتے اور فلسفہ زندگی  کی تلاش  میں یورپ  کے علم و دانش کا کھنگال  سکتے ہیں  تو اسلام  سے انہیں  کد نہیں  ، وہ اس کے سوانح سے آگاہ ہیں ۔ ان کا دل اعتراف   کرتا ہے کہ  اسلام کی عصیبت  کا نام نہیں  اور نہ استبدادی فلسفہ  ہے ۔

 اسلام ایک عالمگیر معاشرے کی دعوت  ہے ایک عالمی امن کی اساس ہے۔ ایک پروردگار کی خدائی کا اقرار ہے اور ایک ایسے  شخص  کی رسالت کا اعلان ہے جو اپنی  پوجا کے لئے نہیں خدا کی عبادت کے لئے نوع انسان کو پکارتا ہے اور جس نے تمام معاشی  و مجلسی  امتیازات مٹا کر صرف تقویٰ ، دیانت او رعلم کے عناصر ثلاثہ  پر معاشرے کی بنیاد رکھی ۔ ہم نے اپنے اعمال  کی تعدیوں سے نا مسلمانوں کو اسلام سے برگشت کیا ہے۔ ہم اگر اسلام کو اپنے اغراض  کی سیاہی سے داغدار نہ کرتے تو مضطرب الحال  دنیا اسلام کے آغوش میں ہوتی ۔ پاکستان اسلام نہیں ، ایک سیاسی مطالبہ ہے جو ہندوستانی مسلمانوں  کا مسلم لیگ کے الفاظ میں قومی نصب العین ہے ۔ میرے نزدیک یہ ان مسائل  کا حل نہیں  جو مسلمانوں  کو درپیش ہیں ۔ یہ اور کئی  مسئلوں  کو جنم دے گا اور جو مسائل  موجود ہیں ان کا حل نہ ہوگا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ‘ خدا نے میرے لئے  تمام دنیا کو مسجد بنایا’ او رہم کسی  حال میں بھی مسجد کی تقسیم کے مجاز نہیں ۔نوکروڑ ہندوستانی مسلمان تمام صوبوں  میں اقلیتوں  کی طرح منتشر ہوتے تو ان کی یکجائی  کے لئے ایک دو صوبوں  میں ان کے اکثریتی  اتحاد کا مطالبہ کیا جاسکتا تھا، گو یہ مطالبہ بھی اسلامی نہ ہوتا ۔ لیکن مسلمانوں کے عمومی تحفظ کی خاطر کسی حد تک  یکسر مختلف  ہے۔

ہندوستان کے سرحدی صوبوں  میں مسلمانوں  کی اکثریت  ہے اور ان سے ملحق  خود مختار اسلامی ریاستیں ہیں ۔ وہ کون سی طاقت  ہے جو انہیں مٹا سکتی ہے یا مٹادے گی۔ ہم تقسیم  کا مطالبہ  کر کے مسلمانوں کی ہزار  سالہ تاریخ کے علاوہ  ساڑھے تین کروڑ  مسلمانوں  کو خود ہندو راج  کے حوالے  کر رہے ہیں ۔ وہ مسئلہ  جو آج ہندو مسلم  آویزش  کی شکل  میں مسلم لیگ اور کانگریس  کا تنازع  ہے کل دو ریاستوں  کا تنازع ہوجائے گا۔اور یہی تنازع عالمی استعمار کی معرفت  کسی دن میں جنگ کاموجب ہوگا ۔

 رہا یہ سوال  کہ پاکستان مسلمانوں  کے لئے نقصان دہ ہے تو ہندو اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ تو یہ سوال فی الواقعہ دلچسپ  ہے ۔ جنہیں آزادی  کی لگن  ہے او رملک  کی یکجہتی  کے شیدائی  ہیں وہ  عالمی سامراج  کی ریشہ  دو انیوں  سے محفوظ  رہنے کے لئے بٹوارے کی مخالفت کرتے  ہیں کچھ خام دماغ  اس کی مخالفت سے مسلمانوں  کو پاکستان کے لئے پکّا کررہے ہیں  کہ اس طرح پاکستان کو تسلیم  کر کے وہ بلا شرکت  غیرے ہندوستان کے مالک  بننا  چاہتےہیں۔

مسلمانوں کو حق حاصل ہے کہ اپنے لیے آئینی تحفظات کا مطالبہ کریں ، مثلا ملک کا آئینی وفاق ہو اور صوبوں کو زیادہ کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری حاصل ہو ، اس طرح ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہتا ، ان کے پاس صوبوں کے لازمی معاملات ہوں گے ۔اس کے علاوہ اختیاری معاملات بھی سنبھال سکتے ہیں اور مرکز کے پاس صرف تحفظاتی امور رکھے جا سکتے ہیں ۔لیکن  تقسیم میں مسلمانوں کا تحفظ نہیں ، ایک سایسی آویزش کا غیر سیاسی حل ہے ۔ہندوستان کے آئندہ مسائل فرقہ واری نہیں طبقہ واری ہیں۔آئندہ تصادم مسلمانوں اور ہندووں میں نہیں سرمایہ و محنت میں ہوگا۔کانگرس کے دوش بدوش سوشلزم اور کمیونزم کی تنظیمیں اور تحریکیں پیدا ہو چکی ہیں ۔انہیں آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، مسلمانوں کو جس ہندو سرمایہ سے ڈرایا جارہا ہے ، یہ تحریکیں اور تنظیمیں اس کے خلاف صف آرا ہوں گی ، مسلمان سرمایہ داروں اور مسلمان جاگیرداروں نے ان تحریکوں کے قدرتی نتائج سے خوفزدہ ہوکر اپنے اغراض ومصالح کو اسلام کا رنگ دیا اور معاشی مسئلے کو ہندووں اور مسلمانوں کا مسئلہ بنا دیا ہے لیکن اس کی تنہا ذمہ داری مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی ۔انگریزوں نے اپنے ابتدائی دور میں اس مسئلے کو جنم دیا ، پھر سر سید کی تعلیمی جد وجہد کے سیاسی ذہن نے اس کو پروان چڑھایا ، آخر ہندووں کی من حیث الجماعت تنگ دلی اور کوتاہ نظری نے اس مسئلے کو تقسیم کی اس منزل تک پہنچادیا کہ ملک کی آزادی بٹوارے کے یقینی موڑ تک آپہنچی ہے ۔

مسٹر جناح ایک زمانے میں ہندو ومسلم اتحاد کا مظہر تھے، اور ان کے لیے یہ لقب کانگرس کے سالانہ اجلاس میں خود سروجنی نائیڈو نے تجویز کیا تھا ، وہ دادا بھائی ناروحی کے شاگرد تھے، مسلمانوں کا مشہور وفد ۱۹۰۶ ء میں ترتیب پایا تو مسٹر جناح نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا ۔

یہی وفد تھا جس نے مسلم لیگ کی فرقہ وار سیاست کا آغاز کیا تھا ۔۱۹۹۰ء میں جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے روبرو ایک نیشنلسٹ مسلمان کی حیثیت سے بیان دیتے ہوئے مسٹر جناح نے مسلم مطالبات سے اتفاق نہ کیا ، انہوں نے ۳ اکتوبر ۱۹۲۵ء کو ٹائمز آف انڈیا میں مراسلہ لکھا جس میں اس کا رد کیا کہ انڈین نیشنل کانگرس ایک ہندو جماعت ہے ۔

۱۹۲۵ء اور ۱۹۲۸ء میں آل پارٹیز کانفرنسیں ہوئیں تو مسٹر جناح مخلوط انتخاب کے حق میں تھے۔۱۹۲۵ ء میں مرکزی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا  : ‘‘میں اول و آخر نیشنلسٹ ہوں ، میں اسمبلی کے ارکان سے ایک پر زور اپیل کروں گا کہ خواہ آپ ہندو ہوں خواہ مسلمان ، خدا کے لیے اس ایوان میں فرقہ وار مسئلوں پر بحث نہ چھیڑیے ، ہم جانتے ہیں کہ یہ اسمبلی حقیقی معنوں میں قومی پارلیمان بن جائے ’’

۱۹۲۸ ء میں سائمن کمیشن کے بائیکاٹ میں جناح کانگریس کے ساتھ تھے۔غرض ۱۹۳۸ء سے پہلے جناح تقسیم ہند کی طرف مائل ہی نہ تھے، وہ طلبہ کی مشترکہ انجمنوں کو پیغام دیتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کی تلقین کرتے ، لیکن کانگریس نے صوبجاتی خود مختاری کے بعد ہندوستان کے سات صوبوں میں اکثریت پاکر وزارتیں بنائیں تو لیگ کے نظر انداز کیے جانے پر انہیں ملال ہوا او روہ مسلمانوں کے سیاسی انحطاط کو محسوس کرتے ہوئے مارچ ۱۹۴۰ ء میں پاکستان کے مطالبے پر جم گئے ۔ پاکستان فی الجملہ مسٹر جناح کے سیاسی تجربات کا رد عمل ہے ۔وہ میرے بارے میں جو رائے بھی قائم کریں انہیں حق پہنچتا ہے لیکن مجھے ان کی ذاتی ذہانت کے بارے میں کوئی شک نہیں ، انہوں نے ایک سیاست دان کی حیثیت سے مسلمانوں کی عصبیت کو مضبوط کیا اور پاکستان کو اٹل بنا دیا ، اب یہی چیز ان کی انا ہو گئی ہے اور وہ کسی قیمت پر یا کسی حالت میں اس انا سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ’’۔

سوال: ان حالات میں مسلمانوں کا مطالبہ پاکستان سے ہٹنا یا مڑنا ممکن نہیں رہا ، اور نہ انہیں کوئی سی خطابت اس کا سحر یا  استدلال الٹا سکتا ہے ؟

جواب : عوام کے اشتعال سے لڑنا مشکل کیا ناممکن ہوتا ہے ۔لیکن ضمیر کے ارتحال کو برداشت کرنا موت ہے ۔اس وقت مسلمان چل نہیں رہے بہہ رہے ہیں بعض وجوہ کی بنا پر  مسلمانوں نے دوڑنا سیکھا ہے یا بہنا ، وہ چلنا جانتے ہی نہیں ۔جب قومیں اعتماد نفس سے محروم ہو جاتی ہیں یعنی انہیں عرفان نفس اور تعین ذات کا احساس نہیں رہتا تو پھر ان میں یمین ویسار کا تذبذب پیدا ہوتا ، اور ان کا دماغ خطرے سے ڈھالنے لگتا ہے تب وہ مفروضوں سے ہراساں ہوتی ہیں ، قوموں کی معنوی زندگی کا انحصار تعداد پر نہیں اس کا مدار استقامت وایمان اور سیرت  وعمل پر ہے ۔

انگریزی سیاست نے مسلمانوں کی ذہنی زمیں میں بہت سے خوف بو دئیے ہیں اور اب وہ ان سے لرزہ براندام ہیں ، انہیں اپنی ذات پر اعتماد ہی نہیں رہا ، چیخ رہے ہیں کہ انگریز چلا گیا تو مٹ جائیں گے ، وہ انگریزوں سے کہتے ہیں جاو لیکن ملک تقسیم کرکے ۔اب غور کرو کہ جو خطرے ان کے جسموں کو ہیں وہ ان کی سرحدوں کو نہ ہوں گے ، آخر ان سرحدوں کو کہاں سے جائیں گے جو ایک دوسرے سے ملتی ہوں گی اور تقسیم کے بعد جن کے افق پر جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے ’’۔

سوال : ہندو اور مسلمان بہر حال دو مختلف قومیں ہیں ، اور یہ اجتماع ضدین کیونکر ہو سکتا ہے ؟

جواب : یہ ایک پامال بحث ہے ، کئی سال پہلے علامہ اقبال اور مولانا مدنی کے مابین اس مسئلے پر جو بحث ہوئی تھی ، میں نے بالاستیعاب دیکھی اور پڑھی ہے ۔قوم کا لفظ قرآن میں محض امت کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ جماعت انسانی کے لیے بھی استعمال ہوا ہے ، آخر ملت ، قوم ، اور امت کے الفاظ کی بحث چھیڑ کر ہم کیا چاہتے ہیں ؟ ہندوستان میں مذہب ایک نہیں کئی قومیں بستی ہیں ، ہندو ہیں ، مسلمان ہیں ، عیسائی ہیں پارسی ہیں سکھ ہیں ، مسلمانوں اور ہندووں میں دینی اعتبار سے بہت بڑی مغائرت ہے ، لیکن اس مغائرت کے باعث ہندوستان کی آزادی رد نہیں کی جاسکتی ، اور نہ دو قومی نظریہ وحدت ہندوستان یا ملت ہندوستانی کی نفی کرتا ہے ۔سوال تو آزادی کا ہے کہ ہم ایک غیر ملکی طاقت سے کیونکر آزاد ہوں اور آزادی ایک ایسی نعمت ہے کہ مذہبا تقسیم نہیں ہو سکتی ، انسان کی مشترکہ میراث ہے ۔

مسلمانوں کو محسوس کرنا چاہیے کہ ان کا ملی وجود ایک عالمی دعوت ہے وہ کوئی نسل نہیں جس کی علاقائی حد بندیوں میں کوئی دوسرا داخل نہیں ہو سکتا ۔اپنے حزبی عقائد کی رنگارنگی کے باعث مسلمان ہندوستان میں ملت واحدہ نہیں رہے ، عملا کئی قوموں کا منتشر مجموعہ ہیں انہیں ہندووں سے عداوت کی اساس پر تو جمع کیا جا سکتا ہے لیکن اصل اسلام پر متحد کرنا مشکل ہے ۔

اسلام کے نام پر ان کے اندر بیسیوں فرقے جاگ اٹھتے اور عقائد کی دھما چوکڑی مچ جاتی ہے ۔وہابی ، سنی ، شیعہ کے علاوہ دسیوں شاخیں ہیں۔مثلا ایک وہ جماعت ہے جو مغربی افکار سے پیدا ہوئی اور یورپ کے اتباع میں مذہب وسیاست کی جدا گانہ بستی کا ذہن رکھتی ہے ۔اس کے نزدیک مذہب انسان کا نجی معاملہ ہے پھر ہندوستان کے اسلامی فرقے یا طائفے ہیں نہیں ، مثلا بریلوی ہیں چکڑالوی ہیں، دیوبندی ہیں ان کی مختلف شاخیں ہیں ۔ان فرقوں کے علاوہ بے شمار خانقاہی سلسلے اور مشائخ کی حلقہ بندیاں ہیں ان میں عقائد کی متحارب رنگارنگی ہے غرض ہندوستانی مسلمانوں کے عقائد سرائے میں داخل میں داخل ہو جاو معلوم ہوگا کہ بھڑوں کا چھتہ پھیلا ہوا ہے ۔

انگریزوں کی آمد کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ باہمی نزاع کا ایک وحشت خانہ ہے ۔ مشائخ وعلما کی ایک بہت بڑی جماعت نے کیا نہیں کیا؟ جہاد کو منسوخ ومتروک قرار دیا ۔پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کو مجرم ٹھہرایا کہ وہ فساد فی الارض کے مجرم ہیں ۔چھوٹے چھوٹے مسئلوں کا طوفان اٹھا دیا ۔رفع یدین ، آمین بالجہر ، قبروں پر سجدہ اور اس قسم کے دسیوں مسائل پیدا کرکے مسلمانوں کو آپس میں بھڑا دیا ۔مختلف شاخوں نے کافر سازی کی تلوار نکال لی ،پہلے وہ کافروں کو مسلمان بناتے تھے اب مسلمانوں کو کافر بنانے لگے ،بڑے بڑے لوگ کافر قرار پائے ۔ان مشکلات کا اندازہ کرنا سہل نہیں، ہوشربا حالات سے اللہ تعالی کی پیغمبر ہی نمٹ سکتے تھے ۔انہیں بھی ابتلا وآزمائش کی ایک عمر گزارنی پڑی ۔جب عقلیں گمراہ ہو جائیں ، دلوں کو تالے لگ جائیں اور طبیعتیں منجمد ہوں تو معلمین ومصلحین کے لیے انسانوں کو اس جماعت سے عہدہ بر آہونا دشوار ہوتا ہے ۔آج تو مسئلہ ہی دوسرا ہے ،ہماری قوم سیاسی تعصبات میں پختہ ہو چکی ہے کہ وہ دین پر سیاست کو ترجیح دیتی اور اپنی ضرورتوں کے انبار کو اسلام سمجھتی ہے ۔ المختصر ہر دور میں قوم نے استقامت کی تصویریں کو ہمیشہ اپنے قہقہوں میں اڑایا ۔قربانی کی شمعیں گل کیں اور ایثار کے پرچم پھاڑے ہیں ۔ہم تو خیر انسان ہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسی علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وقت کے وقت کے انسانوں نے کیا سلوک نہیں کیا۔ جب اللہ کے پیغمبروں سے جماعت انسانی کی سرکشی کا حال غضب ناک رہا تو کسی اور کے لیے اس غضب سے بچاو کا سوال کہاں ؟

سوال : آپ نے الہلال (میگزین)  کی دینی آواز غالبا اسی لیے بند کر دی کہ مسلمانوں کا ذہنی ویرانہ اس کا متحمل نہیں رہا تھا  یا آپ محسوس کرتے تھے کہ لق ودق صحرا میں آپ اذان دے رہے ہیں’’

جواب : ‘‘میں الہلال کی آواز اس لیے ترک نہیں کہ اس آواز کی صداقت سے مایوس ہو گیا تھا ۔اس آواز نے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی جماعت میں اسلام کا ولولہ آزادی کی لگن او رعمل میں استقامت پیدا کی ، خود میرے اندر ایک ایسی روح پیدا ہو گئی جو صحبت یافتگان رسالت کا امتیاز وجوہر تھا ۔میں اپنی اس آواز میں قفص کی طرح مست ہو کر بھسم ہو گیا ۔الہلال کے مقاصد جہاں تک ان کے معنوی مضمرات کا تعلق تھا ، اپنا اعجاز  دکھا چکے تھے اور مسلمانوں کا ایک نیا دور انگڑائی لے رہا تھا ، میرے سامنے تجربات کا ایک ڈھیر تھا ، میں نے سفر میں ترتیب پیدا کی اور اس صراط مستقیم پر قدم جما دیے جو اس ملک کی آزادی کے حصول کا صحیح راستہ تھا ، میرے اعتقاد میں یہ بات داخل ہو گئی کہ ایشیا اور افریقہ کی آزادی کا انحصار ہندوستان ہی کی آزادی پر ہے اور ہندوستان کا  آزادی کا صحیح صحیح نقشہ ہندو مسلم اتحاد ہی سے بن سکتا ہے ۔یہ دونوں جماعتیں ہندو ومسلم ، جو مذہب واعتقاد کے معاملے میں مختلف اوضاع واطوار رکھتی ہیں ۔جب تک متحد العمل نہ ہوں گی ہندوستان کی آزادی میں الجھاو پیدا ہوں گے اور اس طرح ایک ایسی برائی راہ پائے گی کہ سینکڑوں خرابیاں یکے بعد دیگرے جنم لیتی رہیں گی ۔

میں نے پہلی جنگ عظیم سے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا کہ ہندوستان ضرور آزاد ہوگا اور اس کی آزادی کسی عنوان سے رک نہیں سکتی ، میرے سامنے مسلمانوں کے مقام کا تعین بھی تھا ۔میں ہمہ جہت غور وفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ مسلمان اپنے وطنی بھائیوں کے ساتھ چلنا سیکھیں اور تاریخ کو یہ کہنے کا موقع نہ دیں کہ جب اہل وطن ہندوستان کی آزادی کے لیے سرگرم عمل تھے تو مسلمانوں نے موجوں سے لڑنے کی بجائے کناروں پر تماشا دیکھنے کی عادت ڈالی اور وہ پر جہد کشتیوں کے ڈوبنے پر خوش تھے ’’۔

 URL for English: https://newageislam.com/books-and-documents/maulana-abul-kalam-azad--the-man-who-knew-the-future-of-pakistan-before-its-creation/d/2139

URL  of English Article:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/shorish-kashmiri-matbooat-chattan-lahore/maulana-abul-kalam-azad-the-man-who-knew-the-future-of-pakistan-before-its-creation/d/2139

 

URL of First Part :   https://www.newageislam.com/urdu-section/shorish-kashmiri-شورش-کاشمیری/maulana-abul-kalam-azad-the-man-who-knew-the-future-of-pakistan-before-its-creation-مولانا-ابوالکلام-آزاد-اور-پاکستان-پہلی-قسط/d/35655

 

URL  of Second Part:  https://www.newageislam.com/urdu-section/shorish-kashmiri-شورش-کاشمیری/maulana-abul-kalam-azad-the-man-who-knew-the-future-of-pakistan-before-its-creation-مولانا-ابوالکلام-آزاد-اور-پاکستان-دوسری-قسط/d/35663

 

URL of Third Part :  https://www.newageislam.com/urdu-section/shorish-kashmiri-شورش-کاشمیری/maulana-abul-kalam-azad-the-man-who-knew-the-future-of-pakistan-before-its-creation-مولانا-ابوالکلام-آزاد-اور-پاکستان-تیسری-قسط/d/35695


URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-abul-kalam-azad-man/d/122599


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..